عقل سلیم
اس کے معنی ہیں ذہانتِ مُفید، صحیح الدّماغ ہونا، صحیح غور و فکر کا مادّہ، ایسا احساس جو چیزوں اور معاملات کو بہتر طریقے سے سمجھنے کی صلاحیت دے۔ پوری عقل، بہتر عقل و شعور اور فہم رکھنے والا دماغ۔
انسانی دماغ دنیا کا سب سے بڑا عجوبہ ہے۔ ساخت کے لحاظ سے یہ دنیا کی پیچییدہ ترین مشین ہے اور صلاحیتوں اور کارکردگی کے نقطۂ نظر سےاس کا کوئی ثانی نہیں ہے۔
دماغ مندرجہ ذیل امور انجام دیتا ہے:۔
یاد داشت: دماغ اپنے ارد گرد کے ماحول ، حالات اور واقعات کا مشاہدہ کرتا ہے اور نتائج اخذ کرتا ہے۔اور ان کو اپنے مختلف حصوں میں محفوظ کرتا ہے۔
تجزیہ کرنا: انسانی دماغ کی صلاحیت ہے کہ وہ معلومات دماغ میں جمع کرتا ہے اور اپنی تجزیہ کرنے والی صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے معلومات کا بغور جائزہ لیتا ہے، ان معلومات پہ غور و فکر کرتا ہے ، درپیش مسائل، معاملات، مشکلات اور سوالات کے لئے بہترین حل کی تلاش کے لئے کوئی تدبیر نکالتا ہے۔
اشرف المخلوقات کا امتیاز: انسانی دماغ کی ایک خاص صلاحیت ہے کہ وہ اسے اشرف المخلوقات کے مقام پہ متمکن رکھنے کے لئے انسان کے اندر اخلاقی اقدار کا تصور اجاگر کرتی ہے۔جس کے ذریعے انسان کے اندر صحیح و غلط، جائز و ناجائز، اچھے اور برے، حرام و حلال، رحم و ظلم اور انصاف و بے انصافی میں تمیز کرنے کی خوبی پیدا ہوتی ہے۔
منبع جذبات و احساسات: انسانی دماغ کی ایک صلاحیت یہ بھی ہے کہ وہ لوگوں کے رویوں، ان کی گفتگو، ان کے جھوٹ سچ بیانات اور حقوق کے سلب ہونے پر ردعمل کرتا ہے اور انسانی جذبات برانگیختہ کرتا ہے، احساسات بیدار کرتا ہے، ہیجانات اور محسوسات اجاگر کرتا ہے۔ جس میں خوشی، غمی، جوش جذبہ، ولولہ، خوف، بے خوفی، دلیری، قوت برداشت، عدم قوت برداشت، بے صبری، غصہ، محبت، عشق، لگاؤ، نفرت، دشمنی، کینہ پروری، انتقام وغیرہ قابل ذکر ہیں۔
فطری و مذہبی میلانات: انسانی دماغ میں یہ صلاحیت ہے کہ وہ آپ کے اندر فطری اور مذہبی رجحانات پیدا بھی کرتا ہے اور اسے کنٹرول بھی کرتا ہے۔ فطری میلانات میں نیکی ، رحم، ایثار، قربانی، دوستی، اخوت، امن پسند، عدل و انصاف، قانون کا احترام، قوم اور انسان پرستی، انسانوں کی فلاح، بدی، ظلم، بربریت، لوٹ مار، دشمنی، دہشت گردی، بے انصافی، قانون شکنی، طمع، لالچ، ہوس، حرص، ذات و کنبہ پرستی وغیرہ شامل ہیں ۔ جبکہ مذہبی رجحانات میں اللہ رب العزت سے عشق ، حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قربت، حضرت علی کرم اللہ وجہہ سے مناسبت، شیطان سے دوستی اور جنت کا حصول وغیرہ۔
صنف مخالف کی خواہش: یہ دماغ ہی ہوتا ہے جو انسان میں جنسی خواہشات بیدار کرتا ہے۔ اور صنف مخالف کے خد و خال پیدا کرتا ہے اور انھیں کنٹرول کرتا ہے۔ اگر ایک انسان کا دل کسی گدھی پہ آگیا ہو تو اسے حور پری بھی دیں تو وہ انکاری ہوتا ہے۔
بقائے حیات کی پلاننگ: انسانی دماغ میں ایک اہم اور منفرد صلاحیت موجود ہے جسے منصوبہ بندی کہتے ہیں۔ اس صلاحیت کو بروئے کار لاتے ہوئے انسان اپنی بقاء کی ضروریات، جبلی و فطری تقاضوں کی تکمیل کے لئے مناسب حکمت عملی اور تدابیر اختیار کرکے خود کو مالی و معاشی اور دیگر مشکلات سے باہر نکال لاتا ہے۔
عقل کی اہمیت اور افادیت: کائنات میں عقل سے زیادہ اچھی کوئی چیز پیدا نہیں کی گئی ہے ۔ عقل کے ذریعے ہی انسان کو ہرچیز ملتی ہے اور عقل کے ذریعے ہی وہ کسی چیز سے محروم رہتاہے۔ مگر حیرت کی بات ہے کہ ہم عقل کے بارے میں ہم بہت کم سوچتے ہیں۔
عقل افراد اور اقوام کی تقدیر رقم کرتی ہے ، اُن کے عروج و زوال کا تعین کرتی ہے۔
عقل مذہب اور اخلاقیات کی اقدار کے ادراک میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔
عقل انسان کا سب سے بڑا اثاثہ ہے ، ایک عظیم اور لاثانی تحفہ ہے۔انسان کا ہر شعوری کام اُس کی عقل کی پیدوار ہوتا ہے۔عقل کے بغیر کسی کام کا تصور کیا جاسکتا ہے نہ ہی سر انجام دیا جا سکتا ہے۔یوں انسان پیدائش سے لیکر موت تک جو بات سوچتا ہے اور جو کام سر انجام دیتا ہے وُہ سب عقل کی کرشمہ سازی ہے۔
عقل کا بنیادی عنصر اور منبع دماغ ہے۔ دماغ کی بے شمار صلاحیتوں کو استعمال کرتے ہوئے انسانی عقل اپنے لئے جو راستہ اختیار کرتی ہے وہ اس کے مستقبل کا تعین کرتا ہے۔
ایک عقل مند انسان اپنی یاد داشت میں محفوظ واقعات و تجربات کی روشنی میں معاملات کا تجزیہ کرتا ہے، اور اپنے ارد گرد کے ماحول پر غور کرتا ہے، مشکلات کا سدباب کرتا ہے اور اپنے وسائل اور صلاحیتوں سے ایسا راستہ اختیار کرتا جو اسے مصائب سے نجات دلائے اور خوشیوں کا پیام لائے۔ مختصر الفاظ میں حکمت، ذہانت، دانش، خرد، دانائی اور تجربہ کاری کی بنیاد پر فیصلوں کو عقل کے زمرے میں لیا جاتا ہے۔
عقل کی اقسام: عقل کی تین اقسام ہیں۔ جس میں عقل معاش، عقل معاد او ر عقل سلیم شامل ہیں۔
عقل معاش: یہ عقل فقط اور فقط دنیا کے حصول کے لئے ہوتی ہے جس میں مادی ضروریات، دنیوی امور شامل ہوتے ہیں ۔ اس عقل کا مقصود صرف اور صرف دنیا کی عزت ، دنیا کا مال اور دنیا کی شان و شوکت ہوتے ہیں۔ اس عقل والے دین کو بھی دنیا کے حصول کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
عقل معاد: یہ وہ عقل ہوتی ہے جو ہر کام میں آخرت کی کامیابی کو دیکھتی ہے۔ آخرت کی کامیابی کو اصل کامیابی سمجھتی ہے۔ اس عقل والے لوگوں کے سامنے دنیا کی بھی بات کرو تو یہ دنیا کی باتوں میں سے بھی آخرت کا پہلو نکال لیتے ہیں۔ اس عقل والے میں دینی اخروی، حقیقی اعتقادی اور شرعی امور کارفرما ہوتے ہیں۔
عقل سلیم: عقل کے ساتھ ساتھ علم بھی بہت بڑی نعمت ہے جو انسان کو بلندیوں پہ فائز کرنے میں عقل کی مدد کرتی ہے۔ علم ایک روشنی کی طرح انسان کو اندھیروں سے اجالوں کی طرف لے جاتا ہے۔
تدبر اور فکر کرنا، عقل اور علم کا صحیح استعمال کرنا، اللہ تعالی کی نشانیوں پر غور و فکر کرنا عقل سلیم والوں کی نشانی ہے۔ اور یہ کر ہی وہ سکتاہے جس کے پاس اللہ تعالی کی دی ہوئی دانست ہو۔
عقل اس وقت تک عمدہ فیصلہ کرنے کی اہلیت نہیں رکھتی جب تک علم کے ساتھ ساتھ ادب نہ ہو۔ کیونکہ ادب کے بغیر سینہ روشن نہیں ہوتا۔
اسی طرح اللہ کا ذکر بھی آپ کے سینے کو روشن کردیتاہے اور جس وقت آپ کو ذکر نصیب ہوگیا، Qualification آگئی، مراقبہ کرنے کی آپ کے اندر صلاحیت اور فراست پیدا ہوگئی اور عقل اور علم کا درست استعمال آگیا تو پھر آپ تفکر کی منزل میں آئیں گے۔ جب آپ غور و فکر کررہے ہوں گے تو زمین و آسمان اور دن اور رات ان کا پھر پھر کرآنے پر آپ ذکر کررہے ہوں گے تو ہر گھڑی عبادت میں گزرے گی جیسے حضور دن میں 24 گھنٹے کی ہر گھڑی میں اللہ کا ذکر فرماتے۔
عقلِ سلیم کسی آدمی کو فکری جدوجہد کے ذریعے حاصل ہوتی ہے اور اس کی عقل کا پیمانہ بہت وسیع ہوجاتا ہے۔ ایسا آدمی آخری حد تک سنجیدہ ہوجاتا ہے۔ وہ اِس قابل ہوتا ہے کہ افکار ومعلومات کے جنگل میں سچائی کو دریافت کرسکے۔ وہ اِس قابل ہوتاہے کہ چیزوں کا تجزیہ کرکے اُن کو سارٹ آؤٹ (Sort Out) کرسکے۔ وہ اِس قابل ہوتا ہے کہ چیزوں کو صحیح زاویۂ نگاہ سے دیکھ سکے۔
اصل ہوشیار شخص وہ ہے جو اپنی عقل کو استعمال کرکے آخرت سنوار لے۔ صاحب عقل وہ ہے جو اپنے کئے ہوئے کو محفوظ کرنا جانتا ہو۔اسے بچانا جانتا ہو۔ ایک ہے ذکر دوسرا ہے فکر۔ تذکر اور تفکر۔ ایک لمحے کا تفکر ساٹھ سال کی عبادت سے بہتر ہے۔
عقل سلیم وہ ہے جو دنیا اور آخرت کو حسنۃ بنانے کے لئے کارفرما ہوجائے۔ وہ عقل معاش کے ساتھ ساتھ عقل معاد پر ناصرف کاربند ہوتے ہیں بلکہ وہ دونوں حصوں کو صحیح طریقے سے استعمال کرنا جانتے ہیں۔
عقل سلیم والے لوگ ایسے فیصلے کرنے میں بھی تردد اور تذبذب کا شکار نہیں ہوتے جس میں ان کا اپنا خسارہ اور سامنے والے کافائدہ ہورہا ہو۔ مگر رضائے الہی کے تمام تقاضے پورے ہورہے ہوں۔
اس کے علاوہ عقل سلیم والے قدرت کے اس فیصلے کو بھی سر ِخم تسلیم سمجھ کر قبول کرلیتے ہیں جس میں انھیں سنگین مالی نقصان ہو یا شدید جذباتی ہیجان ہو۔
عقل سلیم والے لوگ کسی پروفیشن میں ہوں، یا کسی کاروبار میں ہوں، وہ کبھی ایسی روش اختیار نہیں کرتے میں جس میں کسی کا نقصان ہو، بلکہ وہ اپنی کامیابی میں اپنے ہم منصب لوگوں کو بھی کامیاب و کامران بنانے میں کوئی کسر نہیں اٹھا رکھتے۔
عقل سلیم والے لوگ سب سے زیادہ سماجی اور فلاحی کام سرانجام دیتے ہیں۔ اور اکثر عقل سلیم والے حضرات کے کارہائے نمایاں گمنام ہوتے ہیں۔
سراسیمگی کا عالم ہو، انتہائی خطرناک حالات ہوں، جنگی صورت حال ہو، طوفان و باراں میں پھنسی کشتی میں سوار تمام مسافروں میں اگر کوئی بلند حوصلہ ہوسکتا ہے ، ہشاش بشاش ہوسکتا ہے اور چہرے پہ مسکراہٹ سجائے ہوئے ہو سکتا ہے تو وہ یقینا ایک عقل سلیم والا شخص ہی ہوسکتا ہے۔ کیونکہ اسے قدرت پہ پورا یقین ہے کہ قدرت کے تمام فیصلے انسانوں کی بھلائی کے لئے ہوتے ہیں اور اللہ تعالی کسی انسان کو اس کی استطاعت سے بڑھ کر آزمائش میں نہیں ڈالتا۔
تبصرے