یاد، حافظہ، روزنامچہ، وہ بیاض جس میں یاد رہنے کو کچھ لکھ دیں، یاد دہانی کا خط۔۔ گزرے ہوئے وقتوں کی شبیہ، واقعات اور حالات جو ذہن کے پردے پہ محفوظ رہ جائیں انھیں یاد داشت کہتے ہیں۔ یہ واقعات خوشگوار بھی ہوتے ہیں اور تلخ بھی۔ خوشگوار یادیں انسان کی زندگی میں بہت اہم رول ادا کرتی ہیں اور ہر مشکل میں امید کی کرن بن کے ذہن میں ابھر آتی ہیں جبکہ تلخ یادیں انسان کو پژمردہ کرتی ہیں۔ بچپن کے ایام اور یاد داشت: اکثر لوگوں کی زندگی میں بچپن کی یادیں ایک حسین اور دلکش نقوش کی آئینہ دار ہوتی ہیں۔اپنے بچپن کے ساتھیوں سے ملنے جلنے اور یاد ماضی کو دہرانے سے ان یادوں کے نقوش مزید گہرے ہوجاتے ہیں اور آپ خود کو بہت آرام دہ، خوش کن اور مسرور پاتے ہیں۔ بار بار پرانی باتوں کو دہرانے سے آپ کی یاد داشت پختہ ہوتی ہے۔ جن لوگوں کے والدین حیات ہیں، انھیں چاہیے کہ ان سے اپنے بچپن کی باتیں پوچھیں تاکہ آپ کی یاد داشت تازہ ہوجائے۔ اس طرح آپ کے والدین، آپ سے متعلق پرانی باتوں کے تذکرے سے خوش ہوجائیں گے اور آپ کو ان کی محبت ان کے چہرے پہ عیاں ہوتی دکھائی دے...