موبائل فون


موبائل فون نے لوگوں کی زندگی کو مکمل طور پر بدل کر رکھ دیا ہے۔   پہلے زمانے میں لوگوں کو ایک دوسرے سے رابطے میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا تھا،  ایک دوسرے کی خیریت دریافت کرنا یا کسی ضروری بات کی اطلاع دینے کیلئے کئی کئی دن انتظار کرنا پڑتا تھا۔   تصویریں  کھینچنے  کے لیے ایک خطیر رقم خرچ کر کے کیمرا خریدنا پڑتا تھا اور پھر تصویریں دیکھنے کیلئے بھی کئی دنوں تک انتطار کرنا پڑتا تھالیکن آج ایسی بہت سی سہولتیں ہمیں ایک ہی جگہ مل جاتی ہیں ایک ہی  ڈیوائیس کے اندر ایسے بہت سے مسائل کا حل موجود ہے۔ موبائل فون کو سیل فون بھی کہتے ہیں۔ یہ فون بغیر کسی تار کے  آذانہ اور دورانِ سفر  استعمال کیا جاسکتا ہے۔  

موبائل کی اہمیت:  موبائل فون ہماری زندگی کا اہم جزو بن گیا ہے۔  اس کے ذریعے ہم ایک دوسرے کی خیریت گھر بیٹھے حاصل کرلیتے ہیں، اس کے علاوہ کہیں اسپتال میں ہوں یا شاپنگ مال میں دفتر میں،  اسکول،  کالج میں پکنک وغیرہ میں اگر کوئی ایمرجنسی وغیرہ ہو تو فوراً   ہم کا ل یا میسج کرکے بتادیتے ہیں تا کہ گھر والے فکر مند نہ ہوں۔ موبائل کی وجہ سے بڑی آسانی ہوگئی ہے۔

موبائل فون میں  انٹرنیٹ بمع برقی خط و کتابت  اور رابطہ کے دیگر پروگرام  وغیرہ کی سہولیات میسر ہیں۔ اس کے علاوہ  تصویر رسانی ،  کیمرہ اور ویڈیو بنانے کی خصوصیات بھی موجود ہیں۔  آنے والے وقتوں میں موبائل فون بلوں کی ادائیگی، رقم کی ترسیل، خریدو فروخت  اور ديگر بے شمار اہم امور کی انجام دہی کے لئے استعمال ہوگا۔

 بچے اور موبائل:  والدین بچوں سے رابطہ میں رہنے کی غرض سے  اسکول جانے والے چھوٹے بچوں کے ہاتھ میں موبائل تھما دیتے ہیں۔مگر بچے والدین سے رابطے کو یکسر بھول جاتے ہیں اور اپنی تمام توانائیاں موبائل کے بے جا استعمال میں صرف کردیتے ہیں۔

چھوٹی عمر میں بچوں کو تعلیم کی طرف راغب کرنا چاہیے اور ان کی تعلیمی سرگرمیوں سے متعلق جو مواد چاہیے وہ ضرور پورا کریں مگر کمپیوٹر گیمز، ویڈیو اور دیگر تفریحی سرگرمیوں میں زیادہ وقت خرچ کرنے سے منع کرنا چاہیے۔

موبائل پر کھیلی جانے والی تفریحی گیمز چونکہ کمپیوٹر پروگرامنگ کی بنیا د پر ہوتی ہیں جنھیں جیتنا بہت مشکل ہوتا ہے اور بچہ اپنی تمام طاقت اس گیم کو جیتنے میں ضائع کردیتا ہے۔  اس طرح بچہ ناصرف جسمانی سرگرمیوں سے محروم رہتا ہے بلکہ تعلیمی سرگرمیوں میں بھی وقت نہیں دے پاتا۔

میٹرک سے پہلے کسی بچے کو ایسے مشاغل سے دور رکھیں جس سے وقت کا زیاں ہو اور تعلیم نامکمل رہ جائے۔

موبائل گردی:  ایک وقت تھا کہ رات کے عشایئے میں گھر کے سبھی لوگ اکٹھے کھانا تناول کیا کرتے تھے اور دن بھر کی مصروفیات ایک دوسرے سے شیئر کرتے تھے۔ یوں ایک گھرانے میں سبھی لوگوں کا ایک دوسرے سے بہت مضبوط اور صحت مند رابطہ قائم تھا۔

پھر ٹی وی آنے کے بعد یہی فیملی کے لوگ سارا سارا وقت ٹی وی کے آگے خاموشی سے گزارنے لگے۔ اور موبائل کی وجہ سے نا تو کسی کو ٹی وی دیکھنے کی فرصت ہے، نا ہی کھانے کی فکر ہے اور نا ہی فیملی کے ساتھ اکٹھے کھانا کھانے کی عادت باقی رہی۔

موبائل گردی کا یہ عالم ہے کہ اسے استعمال کرنے والے خود کو دنیا و مافیا سے علیحدہ کرلیتے ہیں مگر موبائل سے ایک پل دوری گوارہ نہیں۔ گھر والوں اور رشتوں ناتوں سے تعلق برائے نام ہی رہ گیا۔ گھر میں ماں باپ اور بچوں میں فاصلہ اتنا بڑھ گیا ہے کہ آج ماں باپ بچوں سے بات کرنے کو ترس گئے ہیں۔ آپس کا پیار و محبت ختم ہوگیا، ایک دوسرے سے رابطہ نہیں، گھر میں موجود ہو کر بھی غیر حاضر رہنا، ایک الگ ہی دنیا میں مگن نظر آتے ہیں۔

موبائل فون کے  منفی اثرات:   کسی چیز کا استعمال صحیح طرح نہ ہو تو پھر خرابیاں پیدا ہوتی ہیں۔ نئی نسل  (لڑکے اور لڑکیوں ) نے  موبائل  کا ناجائز استعمال شروع کردیا  ہے۔   

کچھ گھنٹہ پیکیج اور رات بھر فری کال نے نہ صرف اپنا اثر ڈالا ہے بلکہ اس کی وجہ سے بچے پڑھائی سے دور بے حیائی و برائی میں ملوث نظر آتے ہیں۔  کم قیمت پر نیٹ اور فون کالز فری ہونے سے بچوں کی تعلیم پر اور کردار پر بُرا  اثر پڑا ہے۔ وقت سے پہلے بچپن ختم ہوجاتا ہے،  جوانی کی نادانیاں عروج پر نظر آرہی ہیں،  شرم و حیا ختم،  اخلاق  تہذیب ختم،  رشتوں کا تقدس ختم،  بڑوں کا احترام ختم،  رشتہ داریاں ختم، پیار، محبت اور انسانیت معاشرے سے ختم ہوتی نظر آرہی ہیں۔ موبائل کے ناجائز استعمال سے  بگاڑ پیدا ہورہا ہے ۔ تفریح کے لیے استعمال کرنا سوائے بربادی کے اور کچھ نہیں۔

 موبائل فون کے مثبت اثرات:  اگردانشمندی سے استعمال کیا جائے تو  موبائل  ہماری زندگی میں بہت مفید ثابت ہو سکتا ہے اور ہماری زندگی میں کافی آسانیاں پیدا کرتا ہے۔ یہ ہمیں اپنے رشتہ داروں اور دوستوں کے ساتھ رابطے میں رکھتا ہے۔اس کے ذریعے دنیا کے کسی حصہ سے رابطہ کیاجا سکتا ہے۔ ایک دوسرے کی آواز بھی سنی جا سکتی ہے اور تحریری پیغام بھی بھیجے جا سکتے ہیں۔ موبائل فون ہمیں دنیا کی ہر طرح کی معلومات فراہم کرنے کا  ذریعہ ہے۔ موبائل فون کے ذریعے طلبہ اپنی پڑھائی میں کافی مدد حاصل کر سکتے ہیں۔ اس کا صحیح استعمال طلبہ کی تعلیم میں بہت مفید ثابت ہوتا ہے۔موبائل فون کے ذریعے ہم پوری دنیا کے حالات سے باخبررہ سکتے ہیں۔ انٹرنیٹ کے ذریعے ہم پوری دنیا میں ہر طرح کی اہم معلومات حاصل کرتے ہیں۔ موبائل فون ایک تفریح کا بھی بہت اچھا ذریعہ ہے۔ ویڈیو گیمز اور موسیقی سے لطف اندوز ہوتے ہیں۔کیمرہ کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ کاروباری لوگ انٹرنیٹ کے ذریعے اپنے کاروبار کو فروغ دینے اور اشیاء کی خرید و فروخت کر سکتے ہیں۔دفتروں میں کام کرنے والے لوگ بھی اپنے معاملات میں آسانیاں پیدا کرتے ہیں۔ غرض موبائل فون ہماری زندگی میں بہت اہم کردار ادا کرتا ہے۔ 

موبائل فون کا غلط استعمال:  ہمیں چاہیے کہ جو چیز بھی استعمال کریں، اسے  بامقصد استعمال کریں۔  جیسے موٹر بائیک ہمارے بہت سے کام سرانجام دینے میں ہماری مددگار ہے۔  اس پہ تین یا چار افراد نہ بٹھائیں۔  اسی طرح موٹر بائیک کو ون وہیلنگ کے لئے استعمال نہ کریں کیونکہ یہ غیر فطری اور غیر تینکیکی عمل ہے جو انتہائی خطرناک بھی ہوسکتا ہے۔  

موبائل فون رابطوں اور معلومات کا ذریعہ ہے ۔ موبائل فون پر سلام دعا کے بعد مختصر اور کام سے متعلق گفتگو کریں، گپ شپ کے لئے علیحدہ ملاقات طے کرلیں۔

موبائل فون اگر ذاتی استعمال کے لئے ہے تو اتنا ہی لوڈ کروائیں جو آپ آسانی سے برداشت کرسکیں۔

قیمتی موبائل کو تفریح کے لئے استعمال  کرنے سے موبائل کی عمر کم ہوجاتی ہے اور جلد ہی اسے اصلاح کے لئے ورکشاپ کی ضرورت ہوسکتی ہے۔

موٹر بائیک،  گاڑی یا سڑک پر چلتے ہوئے موبائل استعمال نہ کریں۔  کیونکہ جب انسان محو گفتگو ہوتا ہے تو ارد گرد سے بے خبر ہوجاتا ہے۔   ایسے میں بڑے حادثے کا احتمال رہتا ہے۔

اگر آپ تھوڑی دیر کے لئے کہیں جارہے ہیں، جیسے پارک میں واک کے لئے ، مسجد میں نماز کے لئے یا قریب دکان پہ گھر کے سامان کے لئے تو موبائل گھر پر چھوڑ کر جانے کی عادت اپنائیں تاکہ موبائل ضرورت ہی رہے ناکہ علت بن جائے۔

موبائل کے استعمال میں احتیاطی تدابیر:

فون کو اپنے جسم سے دور رکھیں۔
موبائل فون کم استعمال کریں جب سگنل کمزور ہوں۔
موبائل پر آڈیو یا ویڈیو سٹریمنگ کم کریں یا بڑی فائلیں اپ لوڈ یا ڈاؤن لوڈ نہ کریں۔
رات کے وقت فون کو اپنے بستر سے دور رکھیں۔
جب فون پر بات نہیں کر رہے ہوں تو ہیڈ سیٹ اتار دیں۔

اس کے علاوہ اپنی عمومی زندگی میں  گھر سے نکلتے ہوئے سوچیں  کہ کتنی دیر تک باہر رہنا ہے اور کتنی دور جانا ہے۔ پھر اس کے مطابق طے کرلیں کہ موبائل لے جانا ہے یا گھر پہ چھوڑ کر جانا ہے۔

نماز کے لئے مسجد جاتے ہوئے موبائل گھر پہ چھوڑ کر جائیں اسی طرح اگر کوئی اعتکاف میں اللہ تعالی  کی خاطر خود معتکف کرنا چاہتا ہے تو اسے بھی موبائل گھر پر چھوڑنا چاہیے۔

چلتے ہوئے اور خود گاڑی یا بائیک چلاتے ہوئے موبائل نہ سنیں۔  اگر بہت ضروری محسوس ہو تو رک کر بات کریں۔ 

سونے سے پہلے چیک کرلیں اگر موبائل کو ریچارج کی ضرورت ہے تو اسے چارجنگ پہ لگا دیں۔

اگر آپ موبائل پہ واجبی گفتگو کرنے والے ہیں تو ماہانہ تین سو کا لوڈ آپ کے لئے کافی ہونا چاہیے۔

موبائیل کو براہ راست سورج کے سامنے، گاڑی کے ڈیش بورڈ کے اوپر یا چولہے یا ہیٹر کے قریب نہ رکھیں۔

بائیک چلاتے ہوئے، غسل خانہ میں جاتے ہوئے اور وضو کرتے ہوئے موبائل کو اوپر کی جیب میں نہ رکھیں۔
موبائل چوری ہونے کی صورت یا کسی کے چھیننے کی صورت میں متعلقہ محکموں میں فوری اطلاع دیں ۔

موبائل کو ٹیلی فون کی طرح بات چیت کرنے والی مشین کی طرح  رکھیں، موبائل سے دوستی اچھی نہیں، کیونکہ مشینین کبھی نہیں تھکتیں اور جذبات سے عاری ہوتی ہیں۔

رات دیر تک موبائل کا استعمال اور دن بھر کثرت سے استعمال جہاں اخراجات میں اضافے کا باعث ہے وہیں آپ کی صحت کے لئے بھی مضر ہے۔
 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

ماحول