ماحول
ماحول کے معنی ہیں گردو پیش، اطراف، گردو نواح، جو کسی کو متاثر کریں، گرد و پیش کے وہ تمام طبعی، سماجی اور ثقافتی عوامل جو مجموعی طور پر انسانی زندگیوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ معاشرتی ماحول اور ہمسائے میں واقع اشیاء وغیرہ۔
جبکہ ماحول کے لغوی معنی ارد گرد ہیں۔ یعنی ہر وہ چیز جو ذی روح انسانوں پر اپنا اثر و رسوخ رکھتی ہو۔
انسانی بقاء کے لئے ہوا، پانی اور زمین بنیادی جزو ہیں۔ یہ وہ عوامل ہیں جہاں انسانی زندگی کا قیام ممکن ہوتا ہے۔ زمین ہمارے لئے فرش ہے جس پہ ہم دیواریں چن کر اپنی چھت کا انتظام کرسکتے ہیں، پانی ہماری زندگی کا اہم جزو ہے۔ جو ہماری ذراعت، شجرکاری اور دیگر گھریلو ضروریات کے لئے انتہائی ضروری ہے۔ جبکہ ہوا ہمارے جینے اور فصلوں کی پرورش میں نہایت اہم کردار ادا کرتی ہے۔
تاریخ کا مطالعہ کریں تو ابتدائی تہذیبیں وہیں قائم ہوئیں جہاں ذرخیز زمین، خوش ذائقہ پانی اور صاف ستھری ہوا کی سہولت موجود تھی۔ جیسے دلی شہر دریائے جمنا کے کنارے، لاہور دریائے راوی کے کنارے، پشاور دریائے کابل کے قریب، بغداد دریائے دجلہ کے کنارے، دمشق میں دریا بانہ اور فرفر ہیں وغیرہ وغیرہ۔
زمین اور پانی کے علاوہ صحت بخش ہوا بھی انسانی زندگی کے لئے ضروری ہے۔ انسانی صحت کی بحالی کے لئے بنائے گئے اسپتالوں کے لئے مناسب جگہ کا انتخاب کیا جاتا ہے جس میں سب سے اہم چیز جس کو مد نظر رکھتے ہیں وہ ہے تازہ اور صاف ہوا۔
جوں جوں انسانی تہذیب اور تمدن نے معاشرتی اور سماجی اقدار کو جنم دیا وہیں معاشرے کا اخلاقی اقدار وجود میں آیا۔ کسی معاشرے کی اخلاقی اقدار وہاں کا اخلاقی ماحول کہلاتا ہے۔ جس جگہ جیسے لوگ بستے ہیں وہاں کا اخلاقی ماحول بھی انھی لوگوں کے اخلاقی اقدار کا آئینہ دار ہوتا ہے۔
جیسے جیسے انسانی علم میں اضافہ ہوتا گیا اور مالی استحکام ہوا، مختلف تہذیبوں نے نئی نئی بستیاں قائم کیں۔ جس میں بہت سی گلیاں اور کئی محلے تھے۔ پھر یہی بستیاں ترقی کرتے کرتے شہر بن گئے اور ہر شہر میں آج کئی نئے ٹاؤن بن گئے ہیں۔ جہاں ہر جگہ کا ماحول ایک جگہ سے مختلف ہوتا ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ جس جگہ جیسے لوگ ہوتے ہیں ویسا ہی ماحول پروان چڑھتا ہے۔
اس کے علاوہ ایک قدرتی ماحول ہوتا ہے۔ جس سے مراد، زمین پر یا زمین کے کسی حصے پر موجود وہ تمام جاندار اور بے جان اشیاء جو قدرتی طور پر موجود ہوں۔ یہ ماحول کی ایک قسم ہے۔ جس میں جانداروں اور بے جان چیزوں، موسم، آب و ہوا اور قدرتی وسائل کا آپس میں تعلق ہوتا ہے۔ اسی سے انسانی بقاء اور اس کی معیشت کا دارو مدار ہوتا ہے۔ اس کی مثال ہے کوہ مری، جھیل سیف الملوک اور چھانگا مانگا کا جنگل وغیرہ۔
موجودہ دور میں ہر انسان کی یہ خواہش ہوتی ہے وہ ایسے مقام پہ رہے جہاں موسم معتدل ہو، آب و ہوا صاف ستھری ہو، جہاں قدرتی وسائل دستیاب ہوں، تعلیمی ادارے ہوں، طبی مراکز کی سہولت ہو، آب رسانی کی سہولت ہو، نکاسی آب کا انتظام ہو، کوڑا کرکٹ تلف کرنے کا نظام ہو، صفائی ستھرائی ہو، روزگار و تجارت کے وافر مواقع موجود ہوں اور امن و امان کی ضمانت ہو۔
اسی طرح ایک گھر کا ماحول بھی صحت مند اور خوش کن ہونا چاہیے۔ جس طرح پھول پانی کے بغیر مرجھا جاتے ہیں اسی طرح انسان توجہ اور پیار کے بغیرمرجھا جاتے ہیں۔ انسانی پرورش کے لئے پیار اور محبت کی اشد ضرورت ہے۔ انسان کی صحت پر سب سے بڑا اثر اسی بات سے ہے کہ آیا اسے متوازن محبت ملتی ہے کہ نہیں۔ جس کی وجہ سے گھروں میں تناؤ اور کھنچاؤ پایا جاتا ہے۔ جس کی وجہ سے لوگ خود غرض ہوگئے ہیں اور خود کو دوسروں سے غیر منسلک رکھتے ہیں۔
اسی طرح آفس وغیرہ میں کچھ باس ایسے ہوتے ہیں جو ملازمین کی تضحیک سے خوش ہوتے ہیں۔ ان کی موجودگی سے دفتر کا ماحول انتہائی ناقابل یقین ہوجاتا ہے۔ لوگ خوف و دہشت کے ماحول میں ایک دوسرے کو اشاروں سے پوچھتے ہیں کہ باس کا موڈ کیسا ہے؟ ایسے ماحول میں اچھے بھلے انسان کے چہرے کے نقوش اثر بد کی وجہ سے بھدے لگنے لگتے ہیں۔
انسان کی ذات، حرکات، سکنات، عادات اور خیالات پر ماحول کا انتہائی گہرا اثر ہوتا ہے۔ اس لئے کوشش کرنا چاہیے کہ ایسے لوگوں کے درمیان رہیں جو ایک دوسرے کی عزت کریں، ایک دوسرے کا خیال رکھیں، مہر و وفا کی پاسداری کریں اور اچھے کاموں میں ہماری مدد کریں اور برائی سے دور رہیں۔
ماحول کے بارے میں حکومتی سطح پر فضائی آلودگی کو کنٹرول کرنا ہے، کوڑے کو تلف کرنے کا بندوبست کرنا، نکاسی آب اور آب رسانی کا بہتر انتظام کرنا شامل ہیں۔ اس کے علاوہ سیلاب کی صورت حال سے نبٹنے کے لئے مناسب انتظامات کی ضرورت ہے اور تعلیمی سرگرمیوں و تفریحی سرگرمیوں کے لئے اسکول، کالج اور پارک وغیرہ تعمیر کریں، جبکہ عوام الناس کی ذمہ داری ہے کہ اپنے جسم کا خیال رکھیں، اپنے گھر اور اپنے گھر کے قرب و جوار میں صفائی ستھرائی کا خیال رکھیں۔ ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔ اپنے علاقہ میں ذیادہ سے ذیادہ درخت لگائیں اور پانی کو ضائع نہ ہونے دیں۔ اور عبادت گاہوں کو آباد رکھیں۔

تبصرے