موج مستی


اس کے معنی ہیں خوشی و خرمی،   رنگ رلیاں،  موج مستی کرنا،   چھوڑنا،  معاف کرنا،   درگزر کرنا،  خوشی کی حرکتیں،  بے پروائی،  بے خودی، شہوت کا جوش، سیر سپاٹا،  استغراق،  بے ہوشی، تکبر،  جوش، سرشاری، سرور، غرور، غفلت، متوالا پن، مدہوشی، مسرت، نشہ، کیف، ہیجان۔

موج مستی ایک قلبی کیفیت ہے:  موج مستی ایک قلبی کیفیت ہے جسے اپنے اظہار کے لئے کہیں دوستوں سے چھیڑ خوانی کرنا پڑتی ہے، کہیں ایسا لباس زیب تن کرنا پڑتا ہے جو سب کی توجہ اپنی طرف مبذول کرلے اور کہیں ایسی حرکتیں اور کھیل کود  کے ذریعے خوشی اور بے فکری کا اظہار کیا جاتاہے۔ جو ماحول کے سکوت کو توڑتے ہوئے قہقہے اور مسکراہٹیں بکھیر دے۔

موج مستی ذہنی بے فکری ہے:  موج مستی انسانی ذہن کی بے فکری اور آذادی کی عکاسی کرتا ہے۔ جس میں  نا تو کوئی معاشی بوجھ انسان کے سر پہ سوار ہوتا اور نہ ہی معاشی ذمہ داریوں میں بندھا ہوتاہے۔  بلکہ انسان مکمل طور پر اپنی مرضی کی زندگی گزار رہا ہوتا ہے۔  بلکہ مالی آسودگی خود بڑھ کر اعلان کررہی ہوتی ہے کہ آؤ یارو کچھ ایسا کریں،  کچھ ویسا کریں،  کچھ نیا کریں اور کچھ علیحدہ کریں۔

موج مستی  غربت اور ثروت سے بالاتر ہوتی ہے:   خوشی میں ناچنے ، مستی میں جھومنے، اور فرصت کے لمحات کو رنگین اور یادگار بنانے کا حق صرف اہل ثروت کو ہی نہیں  حاصل ہوتا ،       بلکہ غریب   بھی اسے بھرپور طریقے سے منانے کا حق رکھتے ہیں۔

یہ خوشی چاہے کسی انسان کے امتحان میں پاس ہونے کی ہو، سالگرہ منانے کا شوق ہو، بسنت منانے کا ذوق ہو،   یا پھر کو ئی شادی بیاہ کی تقریب ہو ،    کوئی مذہبی  یا   قومی تہوار منایا جارہا ہو۔ ہر ایک انسان جو پرجوش ہے،     زندگی کو اس کے پورے رنگوں کے ساتھ گزارنے کا خواہاں ہے ،  غموں و پریشانیوں کو زندگی کا حصہ تصور کرتا ہے اور چھوٹی چھوٹی خوشیوں کو بھر پور انداز سے منا کر زندگی کو زندہ دلی کا نمونہ بنانا چاہتا ہے۔ 

اپنی خوشیوں کو اپنے انداز سے منانا ہی موج مستی ہے۔  موج مستی زندگی کی نشانی ہے۔ موج مستی  صحت مند اور حسین مصروفیت کا نام ہے۔ اس کے لئے کسی بڑے سرمایے کی ضرورت نہیں ہوتی۔بچے بارش کے موسم میں گلی کوچوں میں نہاتے نظر آتے ہیں۔ یہ بھی ان کی موج مستی ہے، گرمی میں یہی بچے نہر میں ڈبکیاں لگاتے نظر آتے ہیں۔ نہر کے ٹھنڈے پانی میں نہانا، ٹیوب کرائے پر لیکر اس پہ تیراکی   سیکھنا اور ممکن ہوتو تربوز کو پانی میں ڈبوئے رکھنا اور ٹھنڈا ہونے پر مل جل کرکھانا بھی موج مستی ہے۔

بچپن کی موج مستیاں تاحیات ہمارا سرمایہ بن کر ذہن میں تازہ رہتی ہیں:  ہماری زندگی حسین یادوں سے عبارت ہے۔  ہمیں اکثر وہی باتیں یاد رہتی ہیں جو ہم سب کے ساتھ مل جل کر  گزارتے ہیں۔  ہنسی مذاق اور چھیڑ خوانی  میں کہے گئے جملے،  شرارتیں اور کھیل کبھی نہیں بھولتے۔

بلکہ اپنے حسین بچپن کے گزرے ہوئے لمحات  جب کسی اپنے قریبی جاننے والے سے برسوں بعد بھی ملاقات ہوجائے تو انھیں یاد کرکے خوشی اور مسکراہٹ سے چہرے کھل جاتے ہیں۔ اور پھر بات سے بات نکل آتی ہے ایسے لوگوں کا ذکر بھی تازہ ہوجاتا ہے جو کبھی ہمارے بہت قریب ہوتے تھے۔

موج مستی میں  نقصان  سے بچیں:  موج مستی میں شرارتیں بھی ہوتی ہیں لیکن ایسی کوئی شرارت جس سے کسی کی زندگی کو خطرہ ہو یا کسی کا بہت سنگین نقصان ہونے کا اندیشہ ہو، ایسی موج مستی سے دور رہنا چاہیے۔ کیونکہ اچھی یادیں ہمارا سرمایہ ہوتی ہیں اور اسی طرح بری یادیں ہمیں کچوکے لگا اندر سے توڑ دیتی ہیں۔  

موج مستی میں کسی کے جذبات کو اس حد تک نہ بھڑکائیں کہ وہ گہرے پانیوں میں کود جائے یا کوئی ایسی حرکت جس کی بہت بڑی قیمت چکانا پڑے۔ اس لئے بہتر ہے کہ ایسا کوئی خیال جو نقصان دہ ہو اسے فوری ترک کردیں۔

موج مستی کے لئے عمر کی کوئی قید نہیں ہوتی:  اگرچہ موج مستی کرنا بچوں اور جوان لوگوں میں دیکھنے کو ملتا ہے لیکن بڑی عمر کے بوڑھے بھی بہت زندہ دل ہوتے ہیں جو اپنی مسکراہٹ، اپنی شرارتی باتوں اور اپنے مسخرے پن  اور اپنے کمال فن میں یکتا ہوتے ہیں اور معاشرے میں مقبول ہوتے ہیں۔

یہ بات سچ ہے کہ ہر انسان کے اندر ایک بچہ چھپا  ہوا ہوتا ہے اور جب اسے انگڑائی لینے کا خیال آتا ہے تو موج مستی سوجھتی ہے۔ بوڑھے لوگوں کے لئے صلاح ہے کہ وہ اپنی موج مستی میں کسی جوان کو ایسی بات نہ کہیں جو اسے اچھی نہ لگے۔ کیونکہ موج مستی میں رلایا نہیں جاتا بلکہ اداس چہروں پہ مسکراہٹ کے پھول کھلائے جاتے ہیں۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

تدبیر

ماحول