تدبیر


تدبیر کے معنی ہیں جوڑ توڑ، سوچ بچار، عاقبت اندیشی، غور و تامل، فکر و اندیشہ، کسی کو زِک پہنچانے یا تکلیف دینے کا بندوبست کرنا۔نصیحت، حکمت، جتن،  چارہ،   درمان، طریقہ،  خیال،  رائے،  علاج،   فکر، منصوبہ،  احتیاط، انتظام،  اندیشہ،  بندوبست، پیش بندی اور تدارک وغیرہ۔

تدبیر عربی زبان کا لفظ ہے جس کے معنیٰ سوچ بچار، عاقبت اندیشی، غور و فکر اور انجام بینی کے ہیں۔ اصطلاحاً  اس سے مراد کسی کام کے کرنے سے پہلے اس کے نتائج پر غور و فکر کرنا تدبیر کہلاتا ہے۔ تدبیر کی بنیاد منصوبہ بندی،   معاملہ فہمی اور زمینی حقائق پر ہوتی ہے۔   

انسانی زندگی  پھولوں کی سیج نہیں ہے۔  بلکہ یہ مسائل، مشکلات، آزماشوں اور آشوب سے پُر ہے۔  عملی زندگی میں قدم قدم پہ انسان کو ایک نئے امتحان کا سامنا ہوتا ہے۔   کہیں لوگوں سے تعلقات میں دراڑ پڑنے کا خطرہ منڈلا رہا ہوتا ہے، کہیں نوکری داؤ پہ لگی ہوئی ہوتی ہے اور کہیں مالی و معاشی مسائل کے انبار لگے ہوئے ہوتے ہیں۔ اور کہیں گھریلو ناچاتیاں سنگین صورت حال اختیار کرلیتی ہیں۔

ایسی صورت میں جہاں صبرو استقامت کا دامن تھامنے کا حکم ہے وہیں غور و فکر یعنی تدبر اختیار کرنے کو کہا گیا ہے۔  انسان جب عمیق مطالعے کے بعد کسی مشکل کا حل تلاش کرنے کے لئے تدبر سے کام لیتا ہے تو یقیناً  اس مشکل کا حل نکل آتا ہے۔ اس حل کو تدبیر کہتے ہیں۔ تدبیر وہ چابی ہے جو مسائل اور رکاوٹوں کے دروازے کھولنے کا کام کرتی ہے۔ 

انسان کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہیں کہ وہ امُورِ دُنیا کی انجام دہی کے  لئے اپنی عقل اور تجربے کی روشنی میں تدابیر اختیار کرے۔ لیکن یہ یاد رہے کہ ہر تدبیر کی کامیابی اللہ تعالی کے اذن اور حکمت کی مرہونِ مِنّت ہے۔  انسان تدبیر کا مکلف ہے لیکن انسان کا توکل اپنی تدبیر کی بجائے  خدا پر ہونا چاہیے۔

نظریہ  تدبیر کی حقانیت کا اعلان، اللہ تعالی نے قرآ ن مجید میں یوں فرمایا ہے کہ اﷲ کسی قوم کی حالت نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنی حالت نہ بدلے۔

اس کی مثال یہ ہے کہ دو بھائی ایک ہی جماعت میں پڑھتے ہیں ۔  دونوں میں سے ایک پڑھائی پہ بہت توجہ دیتا ہے، اپنی کلاس میں باقاعدگی سے جانا، گھر آکر پڑھنا اور جہاں کوئی سوال سمجھ نہ آئے اساتذہ اور بڑوں سے پوچھنا اس کی عادات میں شامل تھا۔  اور امتحان کے دنوں میں تو گھر سے باہر نکلنے کا بھی روا دار نہ تھا۔  جبکہ دوسرا بھائی اکثر چھٹیاں کرلیتا اور پڑھائی کی بجائے کھیل کود اور دوستوں میں وقت گزاری کرتا تھا۔  ایک بھائی اپنے امتحانات کی تیاری کے لئے ضروری تدابیر اختیار کرتا  جبکہ دوسرا بھائی صرف اللہ تعالی کی رحمانیت پر یقین رکھتا تھا کہ اللہ نے چاہا تو میں بغیر پڑھے ہی پاس ہوجاؤں  گا۔ غیرذمہ دار بھائی چھوٹی جماعتوں میں تو پاس ہوجاتا تھا مگر جب بورڈ کے امتحان آئے تو بہت بری طرح فیل ہوگیا اور دوسرا بھائی اچھے نمبروں سے پاس ہوا۔

عملیت پسند لوگ ہمیشہ تدبیر پر تکیہ کرتے ہیں۔  جبکہ رومانوی اور افسانوی  لوگ  مافوق الفطرت معجزات و کرامات و توہمات کی دنیا  میں رہتے ہیں۔

اللہ تعالی نے انسان کو عقل وشعور دیا ہے تاکہ ہم اپنے دنیاوی معاملات عقل اور علم کی روشنی میں حل کریں۔ہم اپنی تدبیر سے اپنے معاشی اور معاشرتی مسائل حل کرسکتے ہیں۔  

یہ دنیا امتحان کے اصول پر قائم ہے اور یہ ضروری نہیں کہ ہمارے تمام معاملات ہماری تدبیر سے حل ہوجائیں۔ کیونکہ کچھ کام ایسے ہوتے ہیں جسے ہم اپنی تدبیر سے حل کرنے کی کوشش کرتے ہیں لیکن ہمیں  پس  پردہ نہیں معلوم ہوتا کہ ہماری تدبیرکسی بڑے نقصان کا شاخسانہ ثابت ہوسکتی ہے۔اس لئے کہیں ہماری تدبیر کارگر ہوتی ہے اور کہیں ہم ناکام ہوجاتے ہیں۔  اس کی وجہ اللہ تعالی کی اعلی حکمت عملی ہے کیونکہ اس دنیا کا نظام اللہ تعالی کے پاس ہے۔

جیسے قرآن مجید میں حضرت خضر علیہ السلام کا واقعہ بیان کیا گیا ہے کہ ایک کشتی جو سفر کررہی تھی وہ ٹوٹ جاتی ہے۔  کشتی کا مالک اس سے بے خبر ہوتا ہے کہ ایسا کیوں ہوا اور کیسے ہوا۔ لیکن اللہ تعالی کو علم تھا کہ کچھ فاصلے پر بادشاہ تمام کارآمد کشتیوں کو اپنے قبضے میں کررہا ہے۔  اس لئے غریب آدمی کی کشتی میں نقص پیدا کردیا کہ بادشاہ اپنے قبضے میں نہ کرسکے۔

اللہ تعالی مُسبّب لاسباب ہیں اور جو ہمارے لئے بہتر ہوتا ہے ہمیں عنایت کردیتے ہیں۔  لیکن ہمیں اس دنیا میں بہتر زندگی گزارنے کے لئے غور و فکر اور سوچ و بچار سے کام لینا چاہیے۔
 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

ماحول