عذاب بیوی


ایک عورت جب کسی گھر میں بیاہ کے  جاتی ہے تو  یہی اس کی جنت اور جہنم  ہے۔  کیونکہ ایک گھر بنانے اور گرانے میں عورت کا  بہت اہم کردار ہے۔  اگر کوئی عورت اپنی ازدواجی زندگی کو جنت نظیر بنانا چاہتی ہے تو اسے نئے گھر کی    عادات اور اطوار اپنانا ہوں گے۔   اس سے ناصرف اس کے سُسرال والے اس کے گرویدہ  ہو ں   گے بلکہ اس کی آنے والی زندگی بھی پُرسکون اور پُرمُسّرت ہو گی۔ جب کہ  اس کے برعکس کچھ ناسمجھ عورتیں اپنے سُسرال میں  ،  جہاں موقع ملے اپنی من مانیاں کرتی ہیں ۔  اس کا  عارضی  فائدہ عورت  کی اَنا کی  وقتی تسکین  کی شکل میں پورا ہوجاتا ہے  مگر سُسرال والوں کے کان  ضرورکھڑے ہوجاتے ہیں۔  

ایسی عورت اپنی ذاتی  اَنا،  اور ذاتی پسند کی زنجیروں میں ایسی جکڑی ہوئی ہوتی ہے کہ اپنے سُسرال کی خاموشی اور صرفِ نظر کو اپنی کامیابی گردانتے ہوئے اوپر تلے غلطیاں دوہراتی رہتی ہیں۔  جس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ سُسرال والے نئی بیاہتا دلہن کو  اپنے گھرانے کی  عِزت اور وقار کی حد تک  تو برداشت کرتے ہیں، لیکن   دلہن سے  لامحالہ ایک  خاص   فاصلہ قائم ہوجاتا ہے۔

یہی دوری اور فاصلہ دلوں میں نفرت کے بیج بونے کے لئے کافی ہوتا ہے اور عورت کے مستقبل کے لئے خطرناک تنائج کا پیش خیمہ ہوتا ہے۔ 

وقت کے ساتھ ساتھ کج فہم عورت کی بچگانہ عادتیں پختہ ہوجاتی ہیں، لیکن اس عورت اور اس کے شوہر کے درمیان  قربت   ہوتی ہے اور نا ہی کوئی  اُلفت کی کوئی وجہ ہوتی ہے۔بالآخر عورت اپنی حرکتوں کی وجہ سے اپنا مقام کھو چکی ہوتی ہے اور کبھی کبھی نتائج   طلاق پہ آکر منتج ہوتے ہیں۔

کہتے ہیں اگر دریا میں رہنا ہے تو مگر مچھ سے دُشمنی نہیں کرتے۔  اسی طرح  نَو بیاہتا دلہن  کو اگر اچھا اور پُرسکون مستقبل  چاہیے تو اسے اپنے سسرال کو اپنا نیا گھر تصور کرنا چاہیے اور دل و جان سے سسرال کے سبھی لوگوں کا دل جیتنا  چاہیے۔

ایک عقل مند اور باشعور عورت اپنی سوچ ، فہم اور صبر و برداشت کے ذریعے آہستہ آہستہ سسرال میں وہ مقام بنا لیتی ہے کہ سبھی اس کی محبت، توجہ اور  اچھے کردار کے باعث  اس کے سر پر اپنی محبت کا تاج سجاتے ہیں  اور وہ خود کو سب کی آنکھ کا تارا بنا لیتی ہے۔ 

جبکہ ایک  ناسمجھ،  کم عقل ، بے وقوف، خُود سَر اور جاہل بیوی  اپنی کَج روی کے باعث گھر اور گھر کا ماحول غارت کردیتی ہے اور کبھی کبھی گھر بھی   اُجڑنے سے محفوظ نہیں رہتے۔  ایسی بیوی میں  اور بھی کئی گُن ہوتے ہیں جس کی تفصیل درج ذیل ہے:-

1۔   سُسرال سے نفرت کرنا:  

اگر  کوئی عورت یہ سمجھتی ہے کہ شادی کا مقصد صرف اور صرف شوہر کی دلجوئی کرنا اور اس کی خدمت کے ذریعے اس کا دل جیتنا ہے تاکہ اچھی زندگی کا حصُول ممکن ہوسکے۔  یقیناً    یہ سوچ اچھی ہےمگر  ادھُوری ہے۔ کیونکہ شادی دو گھرانوں میں ایک نئے رشتہ کی بنیاد ہے۔  جس میں شوہر کو اپنے سُسرال میں یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ ایک وفا  شُعار اور محبت کرنے والا  شوہر ہے جو اپنی عائلی  ذِمّہ داریوں سے باخبر بھی ہے اور اسے نبھانے کے لئے پابند ہے۔  جبکہ بیوی کو اپنے سُسرال میں اپنے طرز ِعمل سے یہ ثابت کرنا ہوتا ہے کہ وہ  اس گھرانے کی عِزت و توقیر میں اضافے کا باعث بنے گی بلکہ اس خاندان  کے نام کو  رُسوا نہیں ہونے دے گی۔

لیکن  ایک  ایسی بیوی جس کی تربیت میں کمی رہ گئی ہو، جس نے بچپن میں اپنے رشتہ داروں کے مابین رشتوں کی شکست و ریخت دیکھی ہو،   یا والدین نے اس کی غلط  سوچ پر اس کی سرزنش کی بجائے اس کی حوصلہ افزائی  کی ہو۔  اور شادی سے پہلے اسے شادی کے بارے میں تعلیم نہ دی ہو تو ایسی کج فہم بیویاں  شادی  کے بعد   ہمیشہ اپنے شوہر کے رشتے داروں ، عزیز و اقارب،  اور ملنے ملانے والوں سے نفرت کرتی  ہیں۔  اور ان کے ساتھ گھُل مل کررہنے کی بجائے ایک مناسب فاصلہ برقرار رکھنے کو باعثِ افتخار سمجھتی ہے۔  خود کو جھکانے،  انکساری اور برداشت کا مظاہرہ کرنے کی بجائے، شوہر کے ماں باپ اور بہن بھائیوں کے ساتھ کبھی خُوش دلی سے پیش نہیں آتی اور معمولی باتوں پر سُسرالیوں سے لڑ جھگڑ کر گھر میں تناؤ کی کیفیت پیدا کرلیتی ہے۔ 

2۔ شوہر کو اہمیت نہ دینا:

ایک عورت کا شوہر اس کے سر کا تاج ہوتا ہے۔  حقیقی بیوی اپنے شوہر کا دل جیتنے کے لئے اپنے آپ کو شوہر کے مزاج کے مطابق ڈھال لیتی ہے۔  اور اس کی ملازمت یا کاروباری مصروفیات میں اس کے شانہ بشانہ کھڑی نظر آتی ہے ۔  اس کی گھر میں ایسی  خاطر مدارت کرتی ہے  تاکہ وہ گھر سے روانہ ہوتے ہوئے  ہشّاش بشّاش رہے اور دنیا کی آزمائشوں اور مشکلات کا سامنا  جواں مردی سے کرسکے۔    جبکہ ایک جاہل بیوی کی  نشانی یہ بھی ہے کہ وہ کبھی شوہر کو وہ اہمیت نہیں دیتی جس کا وہ حق دار ہے۔  ایسی اکثر بیویاں شوہر کو محض پیسہ کمانے کی مشین سمجھتی ہیں اور شوہر کا خیال رکھنے کی بجائے اس کی آمدنی پر زیادہ توجہ مرکوز  رکھتی ہیں۔ہر   شوہریہی چاہتا ہے کہ اس کی بیوی اسے توجہ دے،  اس کی ضروریات کا خیال رکھے اور اس کے کام،  ملازمت اور کاروبار میں اس کا ہاتھ بٹائے۔    مگر کوئی بیوی اس کے برعکس برتاؤ کرے  اور اپنی ذمہ داریوں سے غفلت برتے  تو یقینا ً فاصلے پیدا ہوجاتے ہیں۔ محبت و پیار کے اس رشتے میں ناقابل تلافی گڑھے پڑنا شروع ہوجاتے ہیں۔

3۔ گھر پہ توجہ نہ دینا:

ہر انسان کا گھر اس کی جنّت ہوتا ہے۔  غریب سے غریب انسان بھی چاہتا ہے کہ اس کا گھر صاف ستھرا ہو۔   بیٹھک یا مہمان خانہ آراستہ  اور آرام دہ ہوں۔  الماریوں  میں  کپڑے  ترتیب سے تہہ کئے ہوں ،  بستر آرام دہ ہو، گرد و غبار اچھی طرح سے صاف کیا گیا ہو،  باورچی خانہ  میں برتن  صاف شدہ ہوں،  غسل خانہ نِکھرا ہوا  ہو تاکہ غسل اور دیگر حاجت پوری کرنا   آسان ہو۔

جبکہ  ایک  جاہل بیوی  کی نشانی یہ ہے کہ وہ  اپنے گھر پہ توجہ نہیں دیتی۔    ایسی بیوی گھریلو معاملات سے لاپرواہ سی نظر آتی ہے۔  حتی کہ گھر کے ضروری کام کاج اور اہم معاملات بھی جو ایک عورت ہی کی توجہ کے متقاضی ہوتے ہیں ادھُورے پن کا شکار نظر آتے ہیں۔  ایسی خاتون کا گھر صفائی  ستھرائی  سے عاری نظر آتا ہے۔  یہ ماحول آہستہ آہستہ گھر کے افراد کے رویوں میں بھی  رَچ بس جاتا ہے اور معیارِ زندگی کو زوال کا شکار بنا دیتا ہے۔
 
4۔ بچوں پر توجہ نہ دینا: 

ایک اچھی  اور  سمجھدار  بیوی   دنیا کی اُونچ نیچ کو اچھی طرح سے سمجھتی ہے۔    اسے  جہاں اپنا گھر،  اپنا شوہر،   اپنے بچے بہت عزیز ہوتے ہیں ۔ وہیں وہ اپنے بچوں کے سنہری مستقبل کے خواب سجائے ہوئے رہتی ہے۔  اور انھیں  پائے تکمیل کے لئے جہاں وہ اپنے کنُبے کی صحت کا خیال رکھتے ہوئے اچھے پکوان تیار کرتی ہے،  وہیں وہ اپنی اولاد کی تربیت پر بھی پوری توجہ اور انہماک سے کاربند ہوتی ہے۔ کیونکہ حالات کیسے بھی ہوں اگر تربیت اچھی ہے تو انسان ہر مشکل کو پار کرنے کی راہیں خود ہی  نکال لیتا ہے۔ 

لیکن ایک جاہل اور لاپرواہ مزاج کی حامل بیوی گھر کے ساتھ ساتھ بچوں کے معاملات  میں بھی بے توجہی برتتی ہے۔  وہ نہ تو خود زندگی کےدرست طور طریقوں کو اہمیت دیتی  ہے اور نہ ہی بچوں کو ان کا درس دیتی نظر آتی ہے۔  اس ماحول میں پلنے والے بچے کبھی بھی زندگی کی صحیح اقدار سے آگاہ نہیں             ہوپاتے کیونکہ بہرحال ایک بچے  کی پہلی درس گاہ   ماں کی گود ہی ہوتی ہے۔  بچوں کے معاملے میں  اس فرض  اور  اس   کوتاہی سے پہلو تہی ،    میاں بیوی کے درمیان  شکوے شکایتوں کی دیوار کھڑی کر دیتی ہے۔  اور بچے دنیا کی حقیقت سمجھنے سے قاصر رہتے ہیں۔     

5۔ وقت کی پابندی نہ کرنا:

نظم و ضبط  انسان کو چوکس اور چوکنا بناتا ہے۔  انسانی زندگی میں تنظیم کی وجہ سے ناصرف وقت ضائع ہونے سے بچ جاتا ہے بلکہ ہر کام انجام دینے میں سہولت ہوتی ہے۔یہ جذبہ انسان کو فضولیات، لغویات اور بے کار کی مصروفیات سے  بعض  رکھتا  ہے اور اس کے علاوہ سُست اور آوارہ مَنش لوگوں کی صُحبت سے دور بھی رکھتا ہے۔   ایک سمجھدار بیوی جسے پورے گھر کی انتظامیہ سنبھالنی ہے  اسے نظم و ضبط کا بہت خیال رکھنا چاہیے تاکہ تمام امور احسن طریقے سے انجام پاسکیں اور خاتون خانہ اپنی ذمہ داریوں کو بہتر طریقے سے سرانجام دیکر سُرخُرو ہوسکیں۔ 

ایک سمجھدار بیوی اپنے سُسرال میں بزرگوں کو بروقت دوا دینا نہیں بھولتی۔  بچوں کی تعلیمی ضروریات،  ہوم ورک اور ان کے کھانے پینے  کے لئے پہلے سے تیاری کئے رکھتی ہے۔  اسی طرح شوہر کے لئے ناشتہ،  ان کے ضروری سامان کو اپنی جگہ پر رکھنا، اور شوہر کو آفس سے واپسی پر  گھر کے لئے کون سا  سامان خریدنا ہے اس کی ایک فہرست تیار کرکے صبح  اُن کے حوالے کردیتی ہے۔  جلد سونے کی عادت اور جلد اٹھنے کی عادت سمیت  اور تمام امور اس طرح انجام دیتی ہیں کہ  کوئی بھی اپنے کام سے لیٹ نہ ہوسکے۔ 

اس کے مقابلے میں ایک جاہل بیوی کو وقت کی اہمیت کا قطعاً  ادراک نہیں ہوتا۔  اس کے بچے سکول اور شوہر آفس ہمیشہ  لیٹ ہی پہنچتا ہے۔  ناشتہ،  دوپہر کا کھانا یا عشائیہ وغیرہ کے کوئی اوقات مقرر نہیں ہوتے۔  اس خاتون کے گھریلو امور افراتفری کا شکار رہتے ہیں۔  مناسب ٹائم مینیجمنٹ  کی عدم موجودگی  افراد خانہ کے مزاج میں چڑچڑے پن کو جنم دیتی ہے اور گھر کا پرسکون  ماحول بدنظمی کی نظر ہوجاتا ہے۔ 

6۔ شوہر سے بد زبانی:  

عورت کو صنفِ  نازک اس لئے کہتے ہیں کہ وہ اپنی گُفتار میں شائستگی کا دامن تھامے رکھتی ہے،  اپنے اخلاق کو گراوٹ کی نظر نہیں کرتی اور اپنے کردار میں عصمت اور عزت کو اہمیت دیتی ہے۔  اسی طرح معمولی لڑائی،  جھگڑوں میں بعض اوقات مصلحتاً خاموشی اختیار کرلینا اور غلطیوں کو نظر انداز کر دینا گھریلو ماحول پر نہایت اچھے اثرات مرتب کرتا ہے ۔   مگر ایک جاہل بیوی ان خصوصیات سے ناآشنا ہوتی ہے۔  معمولی باتوں پر بحث و تکرار اور پھر بدزبانی پر  اتر آتی ہے۔ اس کا رویہ شوہر کے ساتھ عزت و احترام سے عاری ہوتا ہے۔  بحث و تکرار،  بدزبانی و بد تہذیبی کا یہ رویہ  بالآخر  شوہر کو گھر اور بیوی سے بددل کردیتا ہے۔ کیونکہ انسانی فطرت ہے  کہ وہ  مسکراہٹ، شیریں کلامی اور شائستگی کو پسند کرتا ہے اورچیخ و پکار،  درشت لہجوں و تلخ کلامی سے دور بھاگتا ہے۔
 
7۔ شوہر کی گھر آمد کو اہمیت نہ دینا:

آج کے دور میں جہاں بہت ذیادہ  مسابقت ہے، ملازمت میں دوڑ لگی ہوئی ہے۔ کاروبار میں بھی  کامیابی کے لئے بہت تگ و دو کرنا پڑتی ہے اسی طرح چھوٹے سے ٹھیلے پر کھانے پینے کی اشیاء کے لئے ناصرف نامساعد حالات کا سامنا کرنا پڑتا ہے وہیں نرخ مارکیٹ سے کم رکھنا پڑتے ہیں ۔

ان تمام تکالیف اور آزمائشوں کو انسان صرف اور صرف اپنے گھر کا چولہا جلانے کے لئے برداشت کرتا ہے۔  تاکہ اس کے بیوی بچے اور  دیگر اہل خانہ  کی نان و نفقہ اور دیگر گھریلو اخراجات  پورے ہوسکیں۔

صبح دم گھر سے نکلنے والے محنت کش ،  دن بھر  سخت محنت کے بعد جب گھر لوٹتے ہیں تو انھیں اُمّید ہوتی ہے کہ گھر میں ان کی بیوی اور بچے  چہروں  پہ مسکراہٹ سجائے اس کے استقبال کے منتظر ہوں گے۔ بیوی کے ہاتھوں  پُر تکلف کھانا ملے گا اور رات میں سونے کے لئے آرام دہ بستر میسر ہوگا۔  یوں ان  کے مرجھائے ہوئے چہرے کِھل اُٹھیں گے اور زمانے کی سختیاں گھر کے ماحول میں اسے پھر سے توانا اور فرحان بنا دیں گی۔

محبت کرنے والی اور گھر بسانے والی بیویاں اپنے شوہر کی واپسی پر اس کی منتظر ہوتی ہیں اور ان کی آمد پر انھیں  خوش آمدید کہتے ہوئے  ان کی دلجوئی میں کوئی کمی نہیں اٹھارکھتیں اور خاطر مدارت میں بھی کوئی کسر نہیں چھوڑتیں۔   اور بچے بھی اپنے ابو  پہ اپنا پیار لٹانے اور لاڈ  کرنے میں کسی کنجوسی کا مظاہرہ نہیں کرتے۔  یہ وہ منظر ہے جو کسی بھی ٹوٹے ہوئے انسان کو دوبارہ جوڑ دینے کے لئے کافی ہے۔

مگر کچھ بیویاں ایسی ہوتی ہیں  جنھیں اپنے شوہر کی واپسی کا کوئی خیال نہیں ہوتا۔  بلکہ محلے میں دیگر عورتوں سے خوش گپیوں میں مصروف رہتی ہیں۔   بچے باہر کھیل کود میں مصروف ہوتے ہیں اور گھر بالکل خالی ہوتا ہے۔   ایسے میں جو کوئی شوہر گھر داخل ہو اور سامنے کوئی استقبال کے لئے موجود نہ ہو۔  بلکہ دروازے پہ لگا تالا آپ کی آمد کا منتظر ہو  تو آپ کو کیسا لگے گا؟  

اسی طرح ایک جاہل بیوی اگر گھر میں موجود بھی ہو تو وہ آپ کی آمد کو اہمیت نہ دے، آپ کے ہاتھوں میں پانی کا گلاس نہ تھمائے اور نہ کھانے کا پوچھے۔اور اگر بچوں کے بارے میں دریافت کیا جائے تو پھٹ سے یہ جواب دے کہ مجھے کیا معلوم خود ہی باہر جاکر دیکھ لو۔   ایسے ماحول میں گھر کہاں گھر لگتا ہے۔  انسان سوچتا ہے کہ میں کیوں گھر واپس آیا۔

8۔ دوسری عورتوں کے سامنے شوہر کی برائی بیان کرنا:

قرآن مجید میں سورہ البقرہ آیت 187 میں اللہ تعالی نے عورت کو مرد کا لباس اور مرد کو عورت کا لباس  قرار دیاہے۔  لباس انسان کی ستر پوشی کا کام کرتا ہے،  عیوب کو چھپاتا ہے،  آرام و سکون کا باعث ہوتا ہے، موسمی اثرات سے محفوظ رکھتا  ہے،   لباس انسانی شخصیت کی وضع داری اور زینت کا باعث ہے۔   لباس انسان کو ماحولیاتی آلودگی سے بچاتا ہے اور ديگر غلازتوں سے بھی محفوظ رکھتا ہے۔

اللہ تعالی کے فرمان کے مطابق میاں اور بیوی دونوں ایک دوسرے کے  لئے لباس کی طرح پردہ پوشی کریں تاکہ معاشرہ میں ان کی عزت و تکریم برقرار رہے۔ 

جبکہ ایک جاہل اور کوتاہ نظر بیوی  شوہر کی خوبیوں پر کم اور خامیوں پر ذیادہ توجہ رکھتی ہے۔ نہ صرف یہ بلکہ وہ دیگر خواتین اور لوگوں کے سامنے بھی بڑے دُکھ کے ساتھ ان خامیوں  کا تذکرہ کرتی نظر آتی ہے۔  اسے اس حقیقت کا شعور ہی نہیں ہوتا کہ شوہر کی خامیوں کا دوسروں کے سامنے یوں برملا اظہار ان خامیوں کو دور تو نہیں کرسکتا۔  البتہ گھر کی فضا میں کچھ پیچیدگیاں  ضرور پیدا کردیتا ہے۔    

9۔  شوہر کے والدین سے بدتمیزی: 

اسلامی نقطہ نظر سے  کسی بھی عورت کو اپنی ساس ، سسر یا پھر شوہر کے کسی اور رشتہ دار کی خدمت کرنا  واجب نہیں۔  اگر گھر میں ساس و سسر ہوں تو ان کی خدمت بجا لانا اچھی عادت ہے اور انہیں نظر انداز کرنا خلاف ِمُروّت شمار ہوگا۔  تاہم یہ امر جائز نہیں کہ کوئی خاوند  اپنی بیوی پر یہ لازم  کر دے کہ وہ اس کے والدین کی خدمت کرے۔ 

اخلاقی نقطہ نگاہ  سے عورت کو صابرہ ہونا چاہیے اور اسے چاہیے کہ اپنی ساس اور سسر کی خدمت کرے۔ کیونکہ اسے علم ہونا چاہیے کہ شوہر کے والدین کی خدمت کرنے سے  وہ اپنے خاوند کا دل جیت سکتی ہے۔   دوسرے شوہر کا موڈ بہتر رکھنے اور گھر کا سکون برقرار  رکھنے کے لئے یہ قربانی کوئی مہنگا سودا نہیں ہے۔

لیکن ایک جاہل اور غیر تربیت یافتہ بیوی اپنے شوہر کے ماں باپ کی عزت نہیں کرتی۔    ان کے ساتھ بدتمیزی سے پیش آنا،  جاہل بیوی کی سب سے اہم نشانی ہے۔  یہ رویہ گھریلو ماحول میں عدم برداشت کے عناصر کو جنم دیتا ہے۔ 
 
10۔ شکی بیوی:

کسی بھی تعلق کو جوڑے رکھنے میں اعتماد سب سے اہم کردار ادا کرتا ہے۔  اسی لئے حُسن ِظن کی ترغیب  دی جاتی ہے اور بدگمانی سے بچنے کے لئے کہا جاتا ہے۔  جہاں بداعتمادی کی فضا ہوگی وہاں سکون کا گزر نہیں ہوسکتا۔    

شوہر کو شک کی نگاہ سے دیکھنا ایک جاہل بیوی کی اہم خاصیت ہے۔  یہ بے بنیاد شکوک و شبہات نہ صرف ذہن کو بلکہ گھر کو بھی جہنم بنا دیتے ہیں۔

11۔ فضول خرچ بیوی:

غریب انسان وہ ہوتا ہے جس کے اخراجات آمد ن سے زیادہ ہوں۔  اور امیر انسان وہ ہوتا ہے جو اپنی آمدن میں سے تمام اخراجات نکالنے کے بعد بھی کچھ رقم محفوظ کرلے۔  

فضول خرچی بھی جاہل بیوی کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔  ایسی خواتین شوہر کی آمدنی و   گھر کے خرچ میں کوئی تناسب نہیں رکھتیں اور نہ غیر ضروری اخراجات کو کنٹرول کرنے کی کوشش کرتی ہیں۔  اس معاملے میں مسلسل لاپرواہی آخر کار مالی تنگی کو جنم دیتی ہے۔ 

12۔ شوہر کی حوصلہ افزائی نہ کرنا:

    معاشرے میں جہاں ایک انسان کو قدم قدم پر لوگوں کے حوصلہ شکن رویوں کو سامنا رہتا ہے ۔   ایسے میں حوصلہ افزائی اور دلجوئی کے لئے  بیوی کی طرف سے  دو بول شوہر کے لئے بڑی اہمیت کے حامل ہوسکتے ہیں۔ پیار کے  بول اور چہرے پہ مسکراہٹ جس پہ کچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا مگر اس سے پَژ مُردہ  اور اداس ماحول ترو تازہ اور ہشّاش بشّاش ہوجاتا ہے۔  لیکن  ایک جاہل بیوی کبھی شوہر کی کسی کامیابی یا کسی خوبی کی تعریف کرکے اس کی حوصلہ  افزائی کی ضرورت محسوس نہیں کرتی۔

13۔ کھانے  میں شوہر کی پسند کا خیال نہ رکھنا:

اکثر اوقات شوہر کی پسند کے مطابق کھانا بنانے کا اہتمام اس رشتے کو مزید پائیدار اور خوشگوار بنانے میں اہم کردار ادا کرسکتا ہے۔  مگر اس شعور سے عاری ایک بیوی کو کھانے پینے کے معاملے میں شوہر کی پسند اور ناپسند کا پتہ ہی نہیں ہوتا اور وہ پتہ لگانے کی کوشش بھی نہیں کرتی۔  اصل میں ایک جاہل خاتون کی نظر میں شوہر کی پسند اور ناپسند کوئی اہمیت ہی نہیں رکھتی۔
 
نتیجہ:

ایسے دم گھٹنے والے ماحول میں شوہر گھر سے متنفر ہونے لگتا ہے اور اس کا جی گھر کی بجائے گھر کے باہر زیادہ لگتا ہے ۔

ایسے کشیدہ ماحول میں بچوں کی صحیح ذہنی نشوونما نہیں ہوپاتی۔  ان کا مستقبل داؤ پہ لگ جاتا ہے۔ کیونکہ ایسے سنگین ماحول میں بچے افسردہ اور ڈرے ہوئے  پروان چڑھتے ہیں۔

رشتہ دار بھی روز روز کی  چِک چِک سے تنگ آجاتے ہیں اور دوریاں بڑھ جاتی ہیں۔ 

شکوے شکایتیں کم ہونے کی بجائے روز افزوں بڑھتے چلے جاتے  ہیں اور دلوں میں کدورتیں  جڑ پکڑنے لگتی ہیں اور ایک دوسرے سے جان چھڑانے کے بہانے جنم لینے لگتے ہیں۔
 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت