والدین


انسان کا وجود اس دنیا میں والدین کا رہین منت  ہے۔ ہماری ہستی،  ہماری مسکراہٹ،   ہماری تربیت اور ہماری تمام سرگرمیوں میں ہمارا اپنا کوئی کمال نہیں،   بلکہ ہماری کامیابیاں اور ترقیاں صرف اور صرف ماں باپ کی توجہ اور دعاؤں کے صلے میں ہمیں ملتی ہیں۔

تمام جانداروں میں سب سے مشکل اور  صبر آزما  پرورش انسان کے بچے کی  ہے۔  انسان  کے بچے کی پرورش میں محض خوراک کا عمل دخل نہیں ہوتا بلکہ انسان کے بچے کی تربیت ایک بہت بڑا ہنر اور بہت بڑی ذمہ داری  ہے۔  

انسان کے بچے کو احساس کے پنگھوڑے میں بڑا کیا جاتا ہے، محبت کے عرق سے نہلایا جاتا ہے، توجہ اور پیاربھری نظروں  کے حصار میں رکھا جاتا ہے۔   پھر اسے دوسرے انسانوں  کی خدمت اور ان کی بقاء کے لئے مُستعد  اور کمر بستہ رہنے کی تعلیم دی جاتی ہے۔   

بات یہیں ختم نہیں ہوتی بلکہ اس ننھی سی جان کو ایمان کی حرارت سے اس قدر پختہ ذہن کیا جاتا ہے کہ وہ اپنے ایمان، اپنے ملک و قوم اور اپنے رب کی خاطر خود کو قربان کردے۔  یہ کام کوئی آسان نہیں۔ اس کے لئے   والدین اپنا آرام فراموش کردیتے ہیں ، اپنی نیندیں حرام کردیتے ہیں اور اپنا پیٹ کاٹ کے اپنی اولاد کو  اس قابل بناتے ہیں کہ  وہ  اپنے ملک و قوم پہ فخر کرسکیں۔

 والدین عظیم نعمت ہیں:  والدین ایک گھنے درخت کی طرح ہیں جو ہمیں موسم کی ‎سختیوں  سے بچنے کے لئے چھاؤں مہیاکرتے ہیں تاکہ  ہم سکھ کا سانس  لے سکیں۔  والدین رات کے اندھیروں میں ہمارے لئے جُگنُو بن جاتے ہیں اور ہمیں  ان دیکھے خطرات کے خوف  سے بچانے کے لئے ہماری انگلی پکڑ کر بے خوف و خطر ہمیں رات کے آخری پہر میں باتھ روم تک لے کے جاتے ہیں اور خود باہر کھڑے ہوکر ہماری حفاظت کو یقینی بناتے ہیں اور ہمیں اپنی آغوش میں رکھتے ہیں کہ اگر کوئی گُزند پہنچے تو پہلے وار ان کے سینے پہ آئے اور ہم محفوظ و مامون  رہیں۔

ماں باپ ہماری طبعیت ناساز ہونے پر  ہم سے زیادہ بے چین ہوجاتے ہیں۔ سخت سردیوں کی راتوں میں اگر ہمیں دو چار مرتبہ چھینک آجائے تو بلا تردد موٹر سائیکل پر بیٹھ کر دور اسپتال لے جاتے ہیں تاکہ ہمیں آرام ملے اور وہ       اپنے آرام کو  ہماری بقاء اور خوشی کے لئے تیاگ کردیتے ہیں۔ 

بچہ رات میں بستر گیلا کردے تو ماں بچے کو خشک جگہ پہ لیٹا کرخود گیلے حصے میں سو جاتی ہے۔   اور اسی طرح باپ سخت گرمی میں روزگار کے لئے گھر سے نکلتا ہے  رات گئے تھک چور  ہو کر واپس لوٹتا ہے تاکہ اس کے بیوی اور بچے پیٹ بھر کے کھانا کھاسکیں۔ یہی باپ بیوی بچوں کی  پرورش اور نگہداشت کے لئے اپنے آفیسر اور مالکان کی کڑوی کسیلی ڈانٹ بخوشی برداشت کرتا ہے اپنے متعین اور مقرر کردہ اوقات کار سے بڑھ کر اپنی خدمات انجام دیتا ہے  اور ہر  قسم کے ناگوار جملے اور احکامات قبول کرلیتا ہے صرف اور صرف اپنی فیملی کے لئے۔

والدین کی کون کون  سی  قربانیاں اور تکلیفیں   رقم کی جائیں ۔  کیونکہ اللہ تعالی نے انھیں  اتنا مبارک اور شفقت کرنے والا بنایا ہے کہ وہ  اپنی اولاد  کی   ایک مسکراہٹ کے لئے ہر تکلیف اور غم کو قبول کرلیتے ہیں  اور اولاد  سے کسی معاوضے یا خدمت کی توقع بھی نہیں کرتے۔

والدین کی بے شمار قربانیاں اور ایثار  اولاد کی  نظروں سے سدا  اوجھل ہی رہتے ہیں   اور اولاد کو   معلوم نہیں ہونے  دیتے  کہ  ان کی  فیس اور   علاج کن پیسوں سے ممکن ہوا جبکہ گھر میں تو گھر چلانے تک کے پیسے نہ تھے۔

والدین  کا مقام:   کوئی انسان اگر پوری زندگی کوئی کام نہ کرے  مگر صرف اور صرف اپنے والدین کی خدمات چکانے کی کوشش میں ان کا خیال رکھے ،  ان سے اچھا برتاؤ کرے،  ان کی ضروریات اور خواہشات پوری کرنے میں گزار دے ،  تب بھی وہ اپنی ماں کے دودھ اور باپ کی شفقت کا قرض ادا نہیں کرسکتا ۔

 ہم اپنا سب کچھ اپنے ماں باپ پہ قربان کردیں لیکن ان کے احسانات کا بدلہ نہیں اتار سکتے۔ کیونکہ ہم  اگر اپنے والدین کی خدمت کرتے ہیں تو ہم اخلاص کے اس مقام کو چُھو بھی  نہیں سکتے جس اخلاص اور تُندہی سے ہمارے والدین نے ہماری   پرورش میں  خود کی پرواہ نہ کرتے ہوئے اپنی بھوک، آرام اور صحت  کو پسِ  پُشت ڈالا،   ہمیں اہمیت دی اور ہمارا خیال رکھا۔

کوئی انسان 100 فیصدی والدین  کی محبت لوٹا نہیں  سکتا:

ماں باپ کی خدمات انسان پہ قرض نہیں ہوسکتیں ،  کیونکہ جو محبت اور شفقت اللہ تعالی نے انسان میں ودیعت کی ہیں ان کا بھرپور اظہار صرف اسی وقت ممکن ہوتا ہے جب کوئی انسان والد اور والدہ کا مقام حاصل کرلیتا ہے۔ جب کوئی  شخص والدین میں شمار ہونے لگے اس کی تمام توجہ اور توانائیاں اپنی اولاد کی طرف مبذول ہوجاتی ہیں۔

اولاد کی محبت وہ جذبہ ہے جس میں انسان خوشی خوشی اپنی جان دینے پر تیار ہوجاتا ہے۔ اور ایک لمحہ بھی تردد کا شکار نہیں ہوتا اور ذرا سا بھی تامل نہیں کرتا۔

یہ شرف صرف اور صرف والدین کو حاصل ہے کہ وہ اپنے منہ کا نوالہ بھی اپنی اولاد کو خوشی سے پیش کردیتے ہیں اور دل کے کسی کونے میں کسی بدلے یا معاوضے کی توقع  نہیں  رکھتے ہیں۔

کوئی انسان اس قابل ہی نہیں کہ اخلاص اور جذبات میں  اپنے والدین   کے مقام تک پہنچ سکے۔  

جو لوگ اپنے والدین سے حُسنِ سلوک رکھتے ہیں ،  ان کا خیال رکھتے ہیں،  ان پہ توجہ دیتے ہیں،  ان کی ضروریات پوری کرتے ہیں،  انھیں جیب خرچ دیتے ہیں،  ان کی خواہش پہ ان کی پ سندیدہ شے انھیں لاکر دیتے ہیں ۔ایسی  فرمان بردار اولاد کوبڑی قدر کی نگاہ سے دیکھا جاتا ہے اور ہر جگہ انہی کی مثال دی جاتی ہے۔ اور انھیں معاشرے میں بڑا مقام دیا جاتا ہے۔

جب کہ حقیقت یہ ہے کہ کوئی بھی انسان اپنے والدین کی طرف سے وصول شدہ خدمات کے عوض اگر کچھ لوٹا سکتا ہے تو وہ صرف پچاس (50) فیصد ہوسکتا ہے۔  اس سے بڑھ کر ناتو اسکی استطاعت ہے اور نا ہی ایسا جذبہ کسی اولاد کے اندر کارفرما ہوسکتا ہے جو والدین کے اندر موجود ہوتا ہے۔

آنسوؤں کا  کردار:  انسان اپنی پیدائش کے بعد دو صورتوں میں آنسوؤں میں نہاتا ہے۔  ایک اس وقت جب وہ اس دنیا میں تشریف لائے۔  اس کے آنسو اور  چِلّانا   ماں باپ کو اپنی طرف متوجہ کرنے کا آسان طریقہ ہے۔ اس کی آنکھوں میں اگرچہ نمی اور درد دل نہیں ہوتا  لیکن  آواز میں ناگواری ہوتی ہے۔مگر  دل سوزی اور گداز نہیں ہوتا۔ یہی بچہ جب اپنی چیخ و پکار کی وجہ سے اپنی من پسند شے حاصل کرنے میں کامیاب ہوجاتاہے تو وہ مزید بے خوف ہوکر چِلّانے کی بجائے دھاڑنا شروع کردیتا ہے۔  اور  والدین   سب سمجھتے ہوئے   بھی خوش دلی سے  اس کی مانگیں پوری کرتے چلے جاتے ہیں۔

دوسری مرتبہ انسان اس وقت آنسو بہاتا ہے جب وہ اپنے والدین سے جُدا ہوتا ہے۔  اس مرتبہ آنسوؤں کا منبع سوز دل ہوتا ہے۔ وہ دل جو اپنے محسن والدین کی یاد میں تڑپ اٹھتا ہے ، ان کے احسانات کو یاد کرکے شرمندہ ہوتا ہے۔  ان کے پکائے ہوئے کھانوں کی لذت اور خوشبو  انسان کو بےقرار کردیتے  ہیں۔  انسان کا دل چاہتا ہے کہ راستوں کی مُسافت ختم ہوجائے اور وہ اپنے والدین کے حضور پہنچ جائے۔  

آنسوؤں کی ندی اس وقت اپنے جوبن پہ ہوتی ہے جب انسان کے والدین داغِ  مُفارقت دے دیں اور اس دنیا سے دوسری دنیا کی طرف سفر کرجائیں۔  پھر صرف احساسِ زیاں کے سوا کوئی دوسرا غم نہیں ہوتا۔ اور انسان چاہتا ہے کہ کاش  میرے والدین اس کے ساتھ ہوتے اور وہ ان کے لئے یہ کرتا،  ان کے لئے وہ کرتا وغیرہ وغیرہ۔

والدین کی محبت اور دعاؤں کی طاقت:  ماں باپ کے اندر قدرت نے ایسی محبت رکھی ہے جس میں اس قدر پیار ہوتا ہے کہ وہ پوری عمر اپنی اولاد پہ نچھاور کرتے رہیں کبھی کمی نہیں ہوتی۔ اس پیار میں گلاب کی خوشبو ہوتی ہے، آم جیسی مٹھاس ہوتی ہے، تربوز جیسی شیرینی ،  ٹھنڈک  ،  دودھ جیسی پاکیزگی اور پانی جیسی شفافیت  اور تسکین  ہوتی ہے۔ 

ہم  ساری عمر والدین کی محبت اور دعاؤں کے صدقے   کامیابیوں کے زینے  چڑھتے ہیں  ، لیکن ہمیں اس سچائی کا قطعی ادراک نہیں ہوتا  اور نا ہی ہم اپنے والدین کی قدرت اور مہربانی کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ 

انسان کی زندگی میں اللہ تعالی کی مدد کے  ساتھ ساتھ انسان کے والدین کی دعاؤں کا ساتھ  ایک ایسی قوت ہے جو انسان کی مشکل کو آسان بنا دیتی ہے اور اسے ہر امتحان میں کامیابی سے ہمکنا ر کرتی ہے۔ اسی وجہ سے حضرت موسی کی والدہ کے انتقال کے بعد جب آپ ملاقات کے لئے    نکلے تو اللہ تعالی نے فرمایا  اے موسی سنبھل کر آنا کہ تمہارے لئے  دعا کرنے والی ماں  اب نہیں  رہیں۔ 

والدین کی دعائیں اور شرف قبولیت:  ہم اپنی زندگی میں بے شمار سنگین غلطیوں کے مرتکب ہوتے ہیں ، بڑے بڑے مشکل کاموں میں ہاتھ ڈال لیتے ہیں،   کئی مرتبہ ہم اپنی حیثیت سے بڑھ کر ،   اپنے سے کئی گنا طاقت ور پہلوان سے دست و گریباں ہوجاتے ہیں اور بغیر کسی لڑائی جھگڑے کے ہمیں کامیابی و سبقت مل جاتی ہے۔ لیکن ہم اس راز کی حقیقت تک پہنچ ہی نہیں سکتے کہ ہمیں بچانے اور محفوظ رکھنے والے ہمارے والدین رب کریم کے آگے سر بسجود ہوکر ہماری کامیابیوں کے لئے دن رات دعائیں مانگتے رہے  ہیں۔ یہ دعائیں ضروری نہیں جائے نماز پر نماز کے ذریعے مانگی جائیں یا پھر چلتے پھرتے خدائے بزرگ و برتر کی پے پناہ قوت اور عظمت سے دست بستہ ہوکر طلب کی جائیں۔  اللہ کے حضور بہت جلد شرفِ قبولیت حاصل کرلیتی ہیں۔

ماں باپ کے ادب کا مقام:

قرآن مجید میں سورۃ الاسراء آیت 23 میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ :

وَقَضٰى رَبُّكَ اَلَّا تَعْبُدُوٓا اِلَّآ اِيَّاهُ وَبِالْوَالِـدَيْنِ اِحْسَانًا ۚ اِمَّا يَبْلُغَنَّ عِنْدَكَ الْكِبَـرَ اَحَدُهُمَآ اَوْ كِلَاهُمَا فَلَا تَقُلْ لَّـهُمَآ اُفٍّ وَّلَا تَنْـهَرْهُمَا وَقُلْ لَّـهُمَا قَوْلًا كَرِيْمًا

اور تیرا رب فیصلہ کر چکا ہے اس کے سوا کسی کی عبادت نہ کرو اور ماں باپ کے ساتھ نیکی کرو، اور اگر تیرے سامنے ان میں سے ایک یا دونوں بڑھاپے کو پہنچ جائیں تو انہیں اف بھی نہ کہو اور نہ انہیں جھڑکو اور ان سے ادب سے بات کرو۔

اللہ تعالی نے اس آیت میں اولاد کووالدین کے لئے 2 احکام کی ممانعت کی ہے اور 2 احکام صادر کیے ہیں۔

ماں باپ کے ساتھ نیکی کے لئے کہا ہے۔
لفظ اُف سے منع کیا ہے ۔
والدین کو جھڑکنے سے منع کیا ہے۔
والدین سے ادب سے بات کرنے کا حکم دیاہے۔

1۔ ماں باپ کے ساتھ نیکی: یاد رکھیئے ہر وہ کام جو اللہ کی رضا اور انسان کی بھلائی  کے لئے ہو، اسے نیکی کہتے ہیں۔  نیکیاں وہ   کرنسی ہے جو ہمارے اعمال کے اکاؤنٹ میں جمع ہوتی ہے  اور میدانِ حشر میں نیکی   کا میزان بمقابلہ برائیوں سے ہوگا اور جس کا پلڑہ بھاری ہوگا اسے اس کا حق نہایت شفاف طریقے سے دے دیا جائے گا۔

ہمیں اپنے ذہن میں واضح کرنا چاہیے کہ نماز،  روزہ ،  حج  عبادات کے زمرہ میں آتی ہیں۔  اور اس کا تعلق اللہ تعالی کے لئے اس کے   بندے کی عبدیت کا اظہار ہے۔جبکہ نیکیوں کا تعلق انسانوں کی دلجوئی،  ان کی خدمت ،   ان کی حوصلہ افزائی،   مالی مدد اور انسانیت کے فائدے کے کاموں  سے ہے۔  اس کے علاوہ جانوروں اور درختوں پہ توجہ دینا،  راستے میں پڑے ہوئے کانچ اٹھا کر ایک طرف رکھنا اور راستے کے پتھر کو ہٹانا ، سبھی نیکی کے زمرے میں شمار ہوتے ہیں۔

اگر ہم روزانہ اپنے ماں باپ کے ساتھ نیکی کریں  تو ہر روز ہمارے اعمال نامے میں نیکیاں جمع ہوتی رہیں گی۔  اور یہی نیکیاں ہمیں جنت کا حقدار بنانے میں بنیادی کردار ادا کریں گی۔ 

2۔ لفظ اُف نہ کہیں:   ذرا غور فرمائیے کہ انسان کو سب سے ہلکی چوٹ کسی پھول کو توڑتے ہوئے کانٹا چبھ جانے سے لگتی ہے اور خود بخود لفظ اُف نکل جاتاہے۔ دوسرے  نہاتے ہوئے ذیادہ گرم پانی کے نیچے کھڑا  ہونے پر ،  لفظ اُف نکلتا ہے یا   زیادہ ٹھنڈا     (یخ)   پانی جسم پہ پڑجائے تو بھی لفظ اُف ہی نکلتا ہے۔

یہ ایسی چوٹیں ہیں جو ہمارے جسم کو کوئی نقصان نہیں پہنچاتیں۔ بلکہ ہماری فطری استطاعت کے برخلاف ہوتی ہیں۔ جسے ہم قبول نہیں کرسکتے۔

اس کا مطلب یہ ہوا کہ انسان کو اپنے والدین سے بات کرتے ہوئے اور ان سے معاملات نبٹاتے ہوئے بہت سنبھل کر گفتگو کرنا چاہیے اور ان کے ادب و احترام میں حد درجہ محتاط ہونا چاہیے کہ ہماری کوئی بات یا عمل جس میں ہمارا ذرا سا بھی  فائدہ ہوسکتا ہو  یا ہماری بیوی اور بچوں کی کوئی خواہش کار فرما ہو یا  مدِّنظر ہو اسے پورا کرنے کے لئے اپنے والدین سے ایسا تقاضا  نہ کریں یا  ان پہ پریشر نہ ڈالیں کہ انھیں اتنی سی بھی تکلیف ہوکہ وہ اُف کہہ دیں۔

3۔  والدین کو جھڑکنے سے منع کیا ہے:   آپ سب جانتے ہیں کہ جب بھی کوئی انسان جان بوجھ کر یا بھولے سے کسی غلطی کا مرتکب ہوتو ہم اسے فوراً   جھڑکنا شروع کردیتے ہیں۔  حالانکہ  جو آپ کے قربت والے ہوں، آپ کو چاہنے والے ہوں، آپ کی عزت کرنے والے ہوں، آپ کے دوست ہوں یا آپ کے ملازم ہوں، کوئی بھی دل سے آپ کا نقصان نہیں چاہتا ۔  اگر کوئی بات ایسی ہوگئی جو فوری طور پر آپ کو سمجھ نہیں آسکی یا بظاہر آپ کو غلطی لگتی ہے۔  اس پہ بھی فوری ردعمل سے بہتر ہے کہ ٹھنڈے دل سے معاملے کو سمجھنے کی کوشش کیجئے اور ایسا کوئی اقدام یا عمل نہ کیجئے جو کسی کے دل کو چوٹ پہنچائے۔

اور یہ کام اگر والدین کی وجہ سے ہوجائے تو پھر اپنے غصے اور بھڑکتے ہوئے جذبات کو اللہ تعالی کی خاطر روک کے رکھو۔ کہیں ایسا نہ ہوجائے کہ آپ اپنے والدین کو جھڑک دیں اور اللہ تعالی کے عذاب کا سامنا کریں۔

4۔     والدین سے ادب سے بات کریں:  اللہ تعالی نے اولاد کو اپنے والدین سے گفتگو یا بات کرتے ہوئے ادب کا لحاظ رکھنے کا حکم دیا ہے۔  اس کا مطلب یہ ہے کہ جب بھی ہمیں اپنے والدین سے گفتگو کرنا ہو تو پہلے اپنے دل و دماغ میں ان کی حیثیت  اپنے باس، اپنے اعلی آفیسر ،   اپنی کمپنی کے مالک یا  سربراہ مملکت سے برتر تصور کرنا چاہیے  تاکہ   ان سے نہایت ادب والے،  دھیمے لہجے، شائستگی اور محبت پیار سے بات کریں۔اور  انھیں  ان کے مرتبے کا پورا مان دیا جائے تاکہ وہ کھلے دل اور اطمینان سے آپ کی بات سن سکیں اور سچائی سے اس کا جواب دیں۔  

انسان کتنا بھی پڑھا لکھا ہوجائے، کسی بھی مقام پہ پہنچ جائے اسے یہ حق حاصل  نہیں کہ وہ اپنے والدین کو اپنے برابر یا اپنے سے کمتر سمجھ کر گفتگو کرے۔ اللہ تعالی نے اس کے والدین کو  اسی کا  والدین منتخب کیا ہے ،  جسے  تبدیل نہیں کیا جاسکتا۔   اس لئے ماں باپ کو کبھی اپنی حیثیت سے  موازنہ نہ کیجئے۔جو اس اصول کو توڑے گا اسے اللہ تعالی کے غضب سے ڈرنا چاہیے۔

قرآن مجید میں سورۃ الاسراء آیت 24 میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ :

وَاخْفِضْ لَـهُمَا جَنَاحَ الـذُّلِّ مِنَ الرَّحْـمَةِ وَقُلْ رَّبِّ ارْحَـمْهُمَا كَمَا رَبَّيَانِىْ صَغِيْـرًا

اور ان کے سامنے شفقت سے عاجزی کے ساتھ جھکے رہو اور کہو اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔

اللہ تعالی نے اس آیت میں اولاد کو والدین کے لئے 3  احکام دیئے ہیں   اور 1  حکم   والدین کے حسن سلوک کا ذکر کیا ہے اور 1 دعا کی درخواست کے لئے کہا ہے۔ 

ماں باپ کے ساتھ شفقت سے پیش آنا۔
ماں باپ کے سامنے عاجزی دکھانا۔
ماں باپ کے سامنے عقیدت سے جھکنا۔
بچپن  سے پالا یعنی مشکل  اور نازک دور۔
اللہ تعالی سے رحم کی دعا۔

1۔  ماں باپ کے ساتھ شفقت سے پیش آنا:  اولاد کو  ماں باپ کے لئے اللہ تعالی کا حکم ہے کہ دونوں سے شفقت سے پیشں آئیں۔   شفقت  کا مطلب ہے  الفت، پیار، عنایت، لطف، محبت، مہربانی اور ہمدردی۔

یہ تمام الفاظ ان رشتوں اور ان تعلقات کے لئے مخصوص ہوتے ہیں جو ہمارے دل کے نہاں خانوں میں بستے ہیں اور ہم ان کو اس  طرح فریفتہ ہوکر چاہتے ہیں کہ ان سے شفقت سے پیش آتے ہیں۔ ان سے ہمدردی کرتے ہیں ان سے لطف و پیار کرتے ہیں۔ اور  دل میں یہ ڈر بھی ہوتا ہے کہ کہیں وہ   ہماری درشتگی سے ناراض نہ ہوجائیں۔

کیا ہم اپنے والدین کو واقعی اسی انداز سے چاہتے ہیں اور اسی طرح محترم سمجھتے ہیں جیسے اللہ تعالی کا حکم ہے؟

2۔  ماں باپ کے سامنے عاجزی دکھانا:  اس آیت میں اللہ تعالی نے دوسرا حکم یہ دیا ہے کہ اولاد اپنے والدین کے سامنے عاجزی دکھائے۔ 

عاجزی کے معنی ہیں بے بسی، بے چارگی، نیاز مندی،  انکساری، خاکساری، درماندگی، ضعف، عجز،  عجز و انکسار،  فدویت، فروتنی، مجبوری، معذوری، منت، ناچاری، ناکامی، کمزوری وغیرہ۔

 اللہ تعالی حق  اور سچ ہیں۔  اللہ تعالی  کے بیان کردہ الفاظ اپنے اندر ایک حقیقت رکھتے ہیں اور مبالغہ ختم کرتے ہیں۔

اللہ تعالی نے فرمایا کہ انسان کی اولاد اپنے والدین کے سامنے عاجزی دکھائیں۔ یہ وہ سچائی ہے کہ جس طرح اولاد اپنے بچپن میں عاجز  اور مجبور تھی۔   تب والدین سے دستِ شفقت  وصول کرتی رہی اور آج اگرچہ وہی اولاد جسمانی طور پر اپنے والدین سے زیادہ قوی ہیں۔ لیکن اللہ تعالی کی نظر میں  والدین کے روحانی مقام اور قدرت کی طرف سے عطیہ کردہ   سماجی برتری  میں ذرا بھر بھی کوئی فرق نہیں آیا۔ بلکہ آج بھی والدین اسی قدر طاقت اور قوت رکھتے ہیں  کہ اپنی اولاد کے لئے اللہ تعالی کے حضور اپنی گذارشات کے ذریعے اپنی اولاد کی کامیابی اور کامرانی طلب کرسکیں۔  والدین کی دعاؤں کو ربِ کائنات بہت جلد قبولیات کا درجہ عنایت فرماتے ہیں۔

اولاد کی اکثر کامیابیاں والدین کی مُناجات اور دُعاؤں کی مرہونِ منّت ہیں۔اور اللہ تعالی نے والدین کو وہ مقام عطا کیا ہے اللہ تعالی والدین کی دعاؤں کوشرفِ قبولیت دیتے ہیں۔ ایسی اولاد جو والدین کی دعاؤں سے محروم ہے اسے رُسوائی اور   آزمائشوں کا سامنا رہتاہے۔

3۔     ماں باپ کے سامنے عقیدت سے جھکنا:  سورۃ الاسراء کی آیت نمبر 24 میں تیسرا حکم  جھکنا ہے۔  یہ جھکنا صرف تعظیم اور عقیدت کے لئے ہے اس میں عبودیت کا کوئی عنصر شامل نہیں۔

لفظ جھکنا سے مراد ہے اطاعت اختیار کرنا، نیچا ہونا اور   شرماجانا۔

آیت میں الفاظ ہیں کہ شفقت اور عاجزی کے ساتھ جھکے رہو۔ان الفاظ کے جامع اور واضح معانی یہ ہے کہ والدین کے سامنے جب حاضر ہوں تو  نہایت مہربانی  اور   کمزوری کے ساتھ نیچے ہوکر پیش ہوں۔

4۔   بچپن سے پالا:  آیت میں بیان ہوا ہے کہ :-

اور کہو اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے

انسانی بچپن کی پرورش نہایت صبر آزما اور مشکل کام ہے۔ جب بچہ نا سمجھ ہوتا ہے اور گفتگو کے قابل نہیں ہوتا۔  بار بار ضد کرتا ہے اور روتا ہے اور چیختا و چلاتا ہے۔ لیکن ایسی صورت حال میں بھی والدین نہایت صبر سے اپنے اعصاب پر قابو رکھتے ہوئے بچے کی ضروریات پوری کرتے ہیں اور اس کے ناروا رویہ کو خندہ پیشانی سے برداشت کرتے ہیں۔

5۔   اللہ تعالی سے رحم کی دعا:  آیت میں ذکر ہوا ہے کہ کہو اے میرے رب جس طرح انہوں نے مجھے بچپن سے پالا ہے اسی طرح تو بھی ان پر رحم فرما۔

ہمارے والدین نے ہمارے بچپن میں ہم پہ رحم کیا  یا الہی میں اس قابل نہیں اور نا ہی ایسے رحم کی استطاعت رکھتا ہوں۔  یا خدائے بزرگ و برتر اپنے رحم و کرم اور فضل و کرم سے ہمارے والدین پہ رحم فرما اور ان کی  مدد فرما۔
  •  والد کی قدر کرو۔
  • والد کے سامنے اونچا نہ بولو، ورنہ اللہ تعالی تمہیں نیچا کردے گا۔
  • والد کی سختی برداشت کرو، تاکہ تم باکمال بن سکو۔
  • والد کا احترام کرو، تاکہ تمہاری اولاد تمہارا احترام کرے۔
  • والد کی باتیں غور سے سنو تاکہ  دوسروں کی سننی نہ پڑے۔
  • والد کے سامنے نظریں جھکا کر رکھو تاکہ اللہ تمہیں دنیا والوں کی نظر میں اونچا کردے۔ 
  • والد کی زندگی تجربات کی کھلی کتاب ہے ، اس کتاب کے ایک ایک صفحے سے استفادہ کرو۔
 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت