نابغۂ روزگار
اس کے معنی ہیں نہایت اعلی ذہنی صلاحیتوں کا مالک، غیر معمولی، اختراعی اور تخلیقی قوت رکھنے والا، غیر معمولی ذہین، عبقری، بالغ نظر، جہاں شناس، دور اندیش، غیر معمولی ذہین، قیافہ گو، معما شگاف، نازک خیال، ہوشیار مغز، خرد شناس، دانشور، زیرک، عاقل، عقیل، علامہ، فرزانہ، فطین۔
’’نابغۂ روزگار‘‘ سے مراد وہ لوگ ہیں جو اشیاء، واقعات، کائنات، انسان، معاشرے اور اپنے زمانے کی سنگینیوں کو سمجھنے کی کوشش کرتے ہیں اور ان ظاہری معلومات کو جو ان کی سمجھ میں آتی ہیں ، عملی زندگی میں لانے کے لئے حتی الامکان سعی کرتے ہیں۔
اس سلسلے میں وہ مسلسل غور و فکر میں لگے رہتے ہیں۔ چونکہ حقیقت کا عشق، علم کی محبت اور تحقیق کی جستجو ان لوگوں کو آگے بڑھانے کا باعث ہوتی ہے، اس لئے وہ ان مشکلات کو حل کرنے میں کامیاب ہوجاتے ہیں جن کا حل تلاش کرنے میں مصروف تھے۔
تاریخ انسانیت میں وہی لوگ کامیاب و کامران ہوئے جنھوں نے خود محنت کی اور اپنے ہم خیالوں سے تبادلہ خیال کیا ، اور ایسا حل پیش کیا جو برسوں تک کارآمد رہا۔ ایسے لوگوں کو مُرّبی کہتے ہیں۔ مُرّبی کے معنی ہیں ایسے لوگ جو اپنے اٹھنے بیٹھنے، اپنے افکار و عقائد اور عمومی آراء کے لحاظ سے اپنے ارد گرد رہنے والوں کے لئے قابلِ تقلید نمونہ ہوتے تھے۔
نابغۂ روزگار لوگ کسی بھی قوم کا قبلہ درست کرنے، اُسے زوال کی کیفیت سے نکالنے اور ترقی و خوشحالی کی منزلوں پر گامزن کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔
برّصغیر جنوبی ایشیا میں ایسی غیر معمولی صلاحیت رکھنے والے بےشمار لوگوں کے نام سامنے آتے ہیں جنہوں نے اپنے اپنے انداز سے قوم کی خدمت کرنے کی کوشش کی لیکن جن لوگوں نے تاریخ کے رُخ کو بدل دیا ہو اُن میں بانی ء پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کا نام سر فہرست ہے ۔
علامہ محمداقبالؒ نابغۂ روزگار اور ہمہ گیر شخصیت تھے۔ وہ بیسویں صدی کے سب سے عظیم مسلم مفکر، شاعر اور صاحب بصیرت سیاسی رہنما تھے۔ شاعر مشرق علامہ اقبالؒ حساس دل ودماغ کے مالک تھے آپ کی شاعری زندہ شاعری ہے جو ہمیشہ مسلمانوں کے لئے مشعل راہ بنی رہے گی۔
عالم اسلام کی نابغۂ روزگار شخصیت ،مفکر اسلام ، بانی جماعت اسلامی مولانا سید ابو الااعلیٰ موددیؒ نے قرآن و سنت کے ابدی پیغام، مسلمانوں کی زندگیوں میں عملی تبدیلی، اسلامی تہذیب کی تعبیر، جذبوں کی تنظیم اور عصر ِ حاضر میں اسلامی اجتماعیت اور اقامتِ دین کے عظیم فریضے کی تفہیم اور نفاذ کی تحریک برپا کی جو آج بھی جاری ہے۔
اسی طرح دیگر کئی شخصیات کو نابغۂ روزگار کے زمرے میں شمار کیا جاسکتاہے۔ لیکن میں نے ذاتی طور پر جس شخصیت کو نابغۂ روزگار پایا وہ میرے والد محترم جناب عبدالعلیم خان صاحب تھے۔ جو پیشے کے لحاظ سے آٹو میکینک تھے۔ جنھوں نے یہ کام انگریزوں سے اس وقت سیکھا جب صرف گاڑیاں راجاؤں اور مہاراجاؤں کی ملکیت ہوا کرتی تھیں۔تقسیمِ ہند سے پہلے میرے والد صاحب مہاراجہ پٹیالہ کے ہاں ملازم تھے اور اس زمانے میں آٹو میکنک کی حیثیت آج کے ناسا شٹل کے انجینئر سے بھی بڑھ کر تھی اور آپ نے اپنی تنخواہ سے پٹیالہ شہر میں ایک سفید رنگ کا بنگلہ بنایا۔
تقسیم کے بعد آپ نواب آف بہاولپور کے موٹر ہاؤس میں ملازم ہوگئے۔ اور جب لاہور میں پنجاب سول سیکریٹیریٹ نے کام کرنا شروع کیا تو بھاولپور کے نواب نے اپنا تمام سٹاف یہاں بھیج دیا۔ میرے والد صاحب پنجاب سول سیکریٹیریٹ سے ریٹائر ہوئے اور اس دوران انھوں نے اپنے کام ، کردار اور خوش خلقی سے بڑا نام کمایا۔
ایک مرتبہ مجھے ان کے آفس جانے کا اتفاق ہوا، ان کے باس، جو اس وقت ٹرانسپورٹ پول کے انچارج تھے، انھوں نے مجھے چائے اور بسکٹ کھلائے اور دورانِ گفتکو انھوں نے اپنے آفس کی دیوار پہ لگی ہوئی تصویر کے بارے میں مجھ سے پوچھا کہ یہ کس کی فوٹو ہے۔ میں اگرچہ چھوٹی کلاس میں تھا مگر میں نے جواب دیا کہ یہ قائداعظم محمد علی جناح صاحب کی فوٹو ہے۔
وہ خوش ہوئے اور میری طرف مسکرا کر پوچھا کہ سیکریٹیریٹ کے قائداعظم کون ہیں؟ میں نے جواب دیا کہ نہیں معلوم۔ کیانی صاحب سے کہا کہ عبدالعلیم خان صاحب سیکریٹیریٹ کے قائداعظم ہیں۔ اور پھر میرے والد صاحب کے کارہائے نمایاں بیان کرنے لگے کہ وزیراعظم آفس سے گاڑیاں لاہور کی مشہور ورکشاپ میں اصلاح کے لئے بھیجی گئیں اور کئی دن تک کام نہ ہوسکا۔ وزیراعظم آفس کی طرف سے بار بار استفسار ہورہا تھاکہ گاڑیاں جلد از جلد ٹھیک کرکے اسلام آباد بھجوا دی جائیں۔
کیانی صاحب نے بتایا کہ وہ امریکہ کی بیوک گاڑیاں تھیں اور انجن کی پیچیدگی ورکشاپ کے مکینک کی سمجھ میں نہیں آرہی تھی۔ تاہم عبدالعلیم خان صاحب کو اس ورکشاپ بھیجا گیا اور آپ نے بغیر ہاتھ لگائے، صرف زبانی ہدایات سے تمام گاڑیوں کا کام مکمل کروا دیا۔
میرے والد صاحب اپنے کام میں استاد کہلاتے تھے اور بڑے بڑے اعلی آفیسر ان کے کام اور خلوص کے مداح تھے۔ ایک مرتبہ پنجاب کے وزیر اعلی جناب ملک معراج خالد صاحب کہیں جارہے تھے کہ ان کی جیپ جھٹکے دینے لگی اور ان کا ڈرائیور انھیں لیکر ہمارے کوارٹر واقع ایم پینتالیس، وحدت کالونی لاہور لے آئے۔ والد صاحب نے ڈرائیور کو گاڑی سٹارٹ کرنے کا کہا، اس نے گاڑی سٹارٹ کی، والد صاحب نے انجن کی آواز سے اندازہ لگا لیا کیا مسلہ ہے۔ اور پانچ منٹ میں کھڑے کھڑے گاڑی ٹھیک کردی۔ وزیر اعلی صاحب بہت خوش ہوئے اور والد صاحب سے کہا کہ میں پنجاب کا وزیر اعلی ہوں ، کہیے آپ کو کیا چاہیے۔ والد صاحب نے کہا کہ میرا بیٹا ایف اے پاس ہے اسے نوکری درکار ہے۔ وزیر اعلی صاحب نے وہیں کاغذ منگوایا اور آرڈر کردیئے۔
میرے والد صاحب اگر کسی کی گاڑی ٹھیک کرتے تو کبھی بھی معاوضےکا تقاضا نہیں کرتےتھے۔ بلکہ چھوٹے موٹے کام یونہی کردیتےتھے۔
پنجاب کے تمام اعلی سرکاری عہدے دار ان سے بہت خوش تھے اور ان کی بے لوث اور پُرخلوص شخصیت کو دیکھتے ہوئے بارہا کئی اعلی آفسیروں نے سرکاری پلاٹ اور زمین تحفہ میں دینے کے لئے کہا تو والد صاحب نے کبھی نہ لیا اورہمیشہ شکریہ ہی ادا کرتے رہے۔
میرے والد صاحب پنجگانہ نماز مسجد میں ادا کرتے تھے اور مسجد کی ٹونٹیوں کو چوری سے بچانے کے لئے ان کے گرد لوہے کی چین باندھ دیتے ۔ اسی طرح اگر کسی کے گھر گئے اور وہاں کچھ نقص دیکھا تو فوری ٹھیک کردیا۔
میرے والد صاحب ہمیشہ مسکراتے رہتے تھے، ہم سب گھر والے انھیں باؤجی کہتے اور بقیہ سبھی لوگ بھی انھیں باؤجی کہہ کر مخاطب کرتے۔ باؤجی ہر ایک سے عزت و احترام سے ملتے، بے لوث اور پر خلوص تھے۔ کسی کے لئے کچھ کرکے خوش ہوتے تھے۔ گھر میں تمام لوگوں کے لئے شفیق اور مہربان تھے۔ رشتہ داروں کے لئے بہت شفیق تھے اور مہمانوں کی خاطر داری کرکے بہت خوش ہوتے تھے۔ اللہ تعالی میرے دونوں والدین کے درجات بلند فرمائے اور انھیں جنت الفردوس میں جگہ دے۔
اس کے علاوہ ایک ایسی شخصیت جس کے بارے میں بہت سے لوگ اچھا کہتے ہیں وہیں بہت سے لوگ انھیں برا گردانتے ہیں۔
میری دانست میں ایک ایسی شخصیت بھی نابغۂ روزگار ہے۔ جس کی بدولت کڑوڑوں مسلمانوں کو آذادی نصیب ہوئی اور دنیا کے نقشے پہ پاکستان کا ظہور ہوا۔ اور اگر وہ شخصیت نہ ہوتی تو آج دنیا کے حالات یکسر مختلف ہوتے اور ہمارا دین اسلام بھی کفار کا تیار کردہ ہوتا اور ہمیں اسلامی اقدار کی تعلیم دینے والے بھی غیر مسلم ہوتے۔
یہی نہیں بلکہ قادیانیت اپنے پنچے گاڑ چکی ہوتی اور قادیانیوں کو مسلمانوں کی جگہ تعینات کیا جاتا۔
اس نابغۂ روزگار شخصیت کا نام ایڈولف ہٹلر ہے جو انتہائی غریب گھرانے میں پیدا ہوا اور واجبی سی تعلیم حاصل کی ۔ زندگی میں کئی اتار چڑھاؤ کے بعد وہ جرمنی کے چانسلر بن گئے اور پھر دنیا کی تاریخ بدل کر رکھ دی۔ فرانس کو شکست دی اور برطانیہ کی کمر توڑ دی۔ وہ برطانیہ جس کی حکومت اتنی وسیع تھی کہ دنیا میں برطانیہ کی سلطنت میں سورج غروب نہیں ہوتا تھا۔
ہٹلر کی وجہ سے برطانوی راج اتنا کمزور ہوگیا کہ انھیں برصفیر سے واپس لوٹنا پڑا اور پاکستان کا وجود ممکن ہوسکا۔مملکت خدا داد پاکستان کی تخلیق میں ہٹلر کا کردار بہت اہم ہے۔
اور پھر جرمنی کے مایہ ناز لیڈر کی قربانیوں کا بدلہ ہمارے سپہ سالار جناب جنرل محمد ضیاء الحق صاحب نے اپنی پیشہ ورانہ صلاحیتوں ، فہم وفراست کے ذریعے روس کا شیرازہ بکھیر کر اور دیوار برلن کو گرانے کی راہ ہموار کرکے ہٹلر کی مہربانیوں کا صلہ چکا دیا۔

تبصرے