وقت
وقت کے معنی ہیں زندگی، عرصہ، عمر، عہد، فرصت، موسم، موقع، مہلت، میعاد وغیرہ۔
وقت کی پیمائش کے لئے زمین کی سورج کے گرد گردش مکمل کرنے کو ایک سال کہتے ہیں۔ سال میں 365 یا 366 دن ہوتے ہیں۔ ہر دن 24 گھنٹوں پہ مشتمل ہوتا ہے اور ہر گھنٹہ میں 60 منٹ ہوتے ہیں اور ہر منٹ میں 60 سیکنڈ ہوتے ہیں۔
کائنات کی لامحدود وسعت، دنیا میں مسلسل ترقی اور واقعات جو ماضی میں ہوچکے، حال میں رونما ہورہے ہیں اور مستقبل میں ہوں گے ، یہ سب ناقابل تنسیخ سچ ہے جسے جھٹلایا نہیں جاسکتا۔ جیسے جیسے یہ واقعات عمل پذیر ہوتے ہیں اسے تاريخ کے اوراق پہ معینہ وقت کے حوالے سے رقم کردیا جاتا ہے۔
یہ وقت کیا ہے جو ہر گھڑی آگے ہی بڑھتا جارہا ہے کیا ہم اسے پھر کبھی دوبارہ دیکھ سکیں گے۔ کیا اس وقت کو روکا جاسکتا ہے۔ کیا وقت کے تلخ لمحوں کو زندگی سے بے دخل کیا جاسکتا ہے۔ کیا وقت کے حسین لمحوں کو ساقط کیا جاسکتا ہے۔ کیا ایسا نہیں ہوسکتا کہ پوری زندگی میں ایک سا وقت ہو یا ہم اپنی پسند کے وقت میں لوٹ جائیں۔
وقت کا چکر: اللہ تعالی نے اس کائنات میں ہرشے کو ایک خاص مقصد کے لئے پیدا کیا ہے اور وہ شے اپنی حیات کا چکر پورا کرکے فنا ہوجاتی ہے۔
وہ شے جاندار بھی ہوسکتی ہے اور بے جان بھی ہوسکتی ہے۔ لیکن ہر شے کو زوال ہے۔ یعنی ہرشے اپنی انتہاء کی طرف گامزن ہے۔
وقت کی پہچان: دنیا کی جاندارمخلوق میں انسان ایسی مخلوق ہے جس نے وقت کو اپنے احساس کے دائرہ میں لانے کی کوشش کے لئے پہلے وقت کا تعین کیا، ایک سال، بارہ مہینے، ہر ماہ میں چار ہفتے اور ہر دن میں چوبیس گھنٹے، ہر گھنٹے میں ساٹھ منٹ اور ہر منٹ میں ساٹھ سیکنڈ متعین کئے تاکہ وقت کا ریکارڈ قائم ہوسکے۔ اور کسی مخصوص وقت کے دورانیے میں رونما ہونے والے واقعات کا حوالہ دیا جاسکے اور اسے آنے والی نسلوں کو بیان کیا جاسکے۔
حرکت ہی زندگی ہے: قدرت نے اپنے نظام کو چلانے کے لئے کائنات میں ہر شے کو متحرک رکھا ہے۔ اس تحریک سے جہاں موسموں میں تبدیلی آتی ہے وہیں مختلف موسموں میں مختلف انواع و اقسام کے پھل و پھول پیدا ہوتے ہیں۔ اور بے شمار مخلوق کی شکم پری کرتے ہیں۔
سورج اپنے پورے نظام شمسی کے ساتھ حرکت کررہا ہے۔ اور نظام شمسی میں کئی سیارے بشمول زمین بھی حرکت کررہی ہے۔ یہی حرکت دراصل کائنات میں تخلیق شدہ اجسام کا مقصد ہے۔ اسی حرکت کے آغاز اور انتہاء کو اس شے کی زندگی تصور کیا جاتا ہے۔
وقت اور گردش عمل: کائنات کی ہر شے اپنی گردش عمل مکمل کررہی ہے۔ یہ گردش کب شروع ہوگی اور کب ختم ہوگی اس کا فیصلہ اللہ تعالی کے کنٹرول میں ہے۔ اور اس تکمیل گردش عمل کے لئے خاص وقت متعین ہے وہ بھی اللہ تعالی کے اختیار میں ہے۔
جیسے ایک خاص وقت میں بیج بویا جاتا ہے، اس فصل کی افزائش کا خاص خیال رکھا جاتا ہے۔ جس میں آبیاری کے لئے خاص اہتمام کیا جاتا ہے۔ پانی، ہوا اور سورج کی تپش ایسے عوامل ہیں جو کسی فصل کی تیاری میں اہم کردار ادا کرتے ہیں۔ جبکہ زمین دار کا کام ہے اپنی فصل کی کٹائی تک پوری ذمہ داری سے کام کرے۔ پھر ایک خاص موسم میں کٹائی کا وقت آجاتا ہے اور یوں فصل اپنے انجام کو پہنچ جاتی ہے۔ یہی اس فصل کا کامل دور مکمل ہوجاتا ہے۔
اسی طرح تین چوتھائی حصہ زمین پانی سے بھرا پڑا ہے۔ یہ بھی اللہ تعالی کی حکمت ہے کہ ایک حصہ زمین اور تین حصہ پانی۔ سمندر میں سورج کی گرمی سے بخارات پیدا ہوتے ہیں جو فضا میں جاکر بادلوں میں جاگزیں ہوتے ہیں۔ پھر ہوائیں ان بادلوں کو اللہ تعالی کے حکم سے پہاڑوں یا مخصوص جگہوں کی طرف، اپنے مخصوص ایام میں لے جاتی ہیں جہاں یہ بادل ابر رحمت بن کر برستے ہیں اور اللہ کے حکم سے کسی خاص علاقے کو سیراب کردیتے ہیں۔ یا پہاڑوں کی چوٹیوں پہ برف کی شکل میں براجمان ہوجاتے ہیں۔ پھر اللہ تعالی کے حکم سے سورج کے مخصوص ایام میں پہاڑوں سے برف پگھلتی ہے اور اپنا رستہ بناتے ہوئے طویل علاقے کو سیراب کرتی ہے اور بالآخر بقیہ پانی سمند ر میں جاگرتا ہے۔ یوں بخارات سے شروع ہوکر پہاڑوں سے برف کے پگھلنے اور سمندر میں گرنے تک یہ دور مکمل ہوجاتا ہے۔
وقت اور نصیب: انسانی زندگی اللہ تعالی کی عنایت کردہ نعمت ہے۔ اللہ تعالی بہتر جانتے ہیں کس گھرانے میں کتنے بچے اور کس گھرانے میں کتنی بچیاں ولادت پائیں گی۔
ایک گھرانے میں اگر ایک بیٹا پیدا ہوتا ہے تو اس کی پوری زندگی کا پلان اللہ تعالی کے ہاں محفوظ ہوتا ہے مگر انسان بذات خود اور اس کے والدین بے خبر ہوتے ہیں۔
امیر گھرانے میں پیدا ہونے والے بچے اللہ تعالی کی نعمتوں سے بہرا مند ہوتے ہیں اور معاشرے میں اعلی مقام رکھتے ہیں۔ جبکہ غریب گھرانے میں آنکھ کھولنے والے بچے تنگ دستی، بھوک اور افلاس کا شکار ہوتے ہیں۔
مال، دولت اور اولاد سب کچھ نصیب سے ملتا ہے۔ اگرچہ انسان اپنے طور محنت اور منصوبہ سازی کرتا ہے لیکن کامیابی صرف اللہ تعالی کے دربار سے عطا ہوتی ہے۔
وقت اور انسان: انسان کے لئے زندگی سے موت تک کی مہلت کو وقت کہتے ہیں۔ یہ وقت اچھا بھی ہے اور یہ وقت برا بھی ہے۔ یہی وقت کسی کے لئے نعمت ہے اور کسی کے لئے زحمت۔
کچھ لوگ اس وقت کو غنیمت سمجھتے ہوئے گزارتے ہیں اور کچھ لوگ اس قیمتی اثاثے کو ہوا میں اڑا دیتے ہیں۔
جولوگ اس وقت کی قدر کرتے ہیں وقت ان کی قدر ضرور کرتا ہے اور جو لوگ وقت کو بے دردی سے ضائع کرتے ہیں وقت بھی ان سے پورا پورا انصاف کرتا ہے۔
یہ وقت کسی کا سگا نہیں ہوتا۔ ایک آسودہ حال انسان کی زندگی میں یہی وقت ایسا بھونچال لے آتا ہے کہ ساری زندگی تباہ ہوکر رہ جاتی ہے اور کسی کی زندگی میں یہی وقت خوش بختی کا روشن ستارہ بن کر اترتا ہے اور ان کے روز و شب عید سعید کی طرح خوش و خرم ہوجاتے ہیں۔
وقت اور انسانی رویہ: زندگی میں جب بھی کوئی کڑا وقت آئے، وہاں تدبیر، برداشت اور حسن سلوک ایسے لوازمات ہیں جو انسان کی مشکلات دور کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوسکتے ہیں۔
مثال کے طور پر ایک نوبیاہتا جوڑے کے ہاں لڑکیاں ہی لڑکیاں پیدا ہوجائیں۔ تو ایسے میں دونوں میاں بیوی کو عقل اور دانش سے کام لینا ہوگا۔کہ لڑکے کی خواہش میں ہم کہاں تک بچیوں کی تعداد کو مالی لحاظ سے برداشت کرنے کی استطاعت سےبالا تر رکھتے ہیں؟ اور کیا لڑکے کی پیدائش کے بغیر کی زندگی کے کوئی معنی ہیں یا نہیں؟
ہمارے فیصلوں، ہمارے رویوں اور ہماری سوچ کے مطابق لئے گئے فیصلے ہی ہمارے لئے اچھے اور برے وقت کا تعین کرتے ہیں۔
وقت بذات خود اچھا ہوتا ہے اور نا برا ہوتا ہے۔ یہ ہماری غلط فہمی ، نا تجربہ کاری، جذباتی تیزی، اور غیر منطقی استدلال کے باعث پیدا ہونے والی صورت حال کا نتیجہ ہوتا ہے۔
وقت اور نصیب: اللہ تعالی انسان کو وہی کچھ دیتے ہیں اور وہی کچھ واپس بھی لے لیتے ہیں جو انسان کی استطاعت میں ہو۔ انسان کی برداشت سے بڑھ کر نا تکلیف ملتی ہے اور نہ ہی خوشی۔
کہتے ہیں شادی کے جوڑے آسمانوں میں بنتے ہیں۔ لیکن ایسے معاملات میں ایک کنوارہ بالکل ہی اناڑی اور ناسمجھ ہوتا ہے کہ اس کے لئے کون سی بیوی فائدہ مند ہے اور کون سی بیوی آزمائشوں کے پہاڑ کھڑی کرنے والی ہوسکتی ہے۔ اس بارے میں انسان کے والدین سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔ کیونکہ انھوں نے زمانے کے اتار چڑھاؤ کو بہت قریب سے دیکھا ہوتا ہے اور والدین کو آپ کی شخصیت کی کمزوریوں اور اچھائیوں کی پوری طرح خبر ہوتی ہے۔ اس لئے کنوارے کا اپنے لئے جیون ساتھی از خود پسند کرنا اور شادی کرنا، والدین کی پسند سے کوئی میل نہیں کھاسکتا۔
جس طرح کراچی سے لاہور کے سفر کے لئے پندرہ سو سی سی گاڑی میں سفر کرنے کے لئے تقریبا 73 لیٹر پٹرول درکار ہوتا ہے اور ہمارے پاس اس سے زیادہ کی کوئی گنجائش نہیں تو ہم مناسب رفتار ، انتہائی احتیاط اور چوکنے ہوکر اپنا سفر جاری رکھیں گے۔ تاکہ محدود پٹرول کی مقدار کے اندر اندر کراچی اپنی منزل پہ پہنچ سکیں۔
اسی طرح ہر انسان کو اس کی زندگی میں ایک محدود اور معین وقت ملا ہے جس میں اسے اپنی زندگی کی گاڑی کو منزل مقصود پہ پہنچانا ہے۔ اگر چہ کسی بھی انسان کو وقت کے حجم کا علم نہیں۔ لیکن پھر بھی ہم سفر جاری رکھے ہوئے ہیں۔ اور نجانے زندگی کی گاڑی کو کس کس سپیڈ پہ دوڑاتے ہیں انجام سے بے خبر ہوکے۔
لیکن عقل مند اور زیرک لوگ زندگی اور موت کے درمیانی وقت کو امانت کے طور پر پھونک پھونک کر قدم رکھنے کی طرح نہایت احتیاط سے بسر کرتے ہیں۔ وہ لوگ نا تو کسی سے دشمنی مول لیتے ہیں اور نہ کسی سے کوئی جھگڑا کرتے ہیں۔ بلکہ اپنا وقت انتہائی سادگی اور خاموشی سے گزارتے ہیں تاکہ کسی مشکل صورت حال کا سامنا نہ ہو اور کسی سے مدد طلب نہ کرنا پڑے۔
ایسے لوگ اپنے وسائل کو بہترین طریقے سے استعمال میں لاتے ہیں اور اپنی محنت اور فہم کے مطابق اعتدال پسندی اختیار کرکے اللہ تعالی کے بھروسے پہ محنت بھی کرتے ہیں اللہ تعالی سے اچھا گمان بھی رکھتے ہیں۔
مثبت سوچ، اخلاص، محنت، پاکیزگی ، طہارت اور اطاعت خداوندی ایسے اوصاف ہیں جو انسان کو مشکل سے مشکل گھڑی میں ثابت قدم رکھتے ہیں۔
وقت کی قدر کیسے ممکن ہے: مٹھی میں موجود ریت کی طرح وقت بھی ہاتھ سے نکل جاتا ہے۔ وقت پہ ہمارا کوئی اختیار نہیں۔ وقت کی مہلت میں ہم نہ کمی کرسکتے ہیں اور نا ہی اضافہ۔ پھر انسان کے اختیار میں کیا ہے؟ ہمیں اچھی اور کامیاب زندگی بسر کرنے کے لئے وقت کے بارے میں درج ذیل حقائق کو ہمیشہ نظر میں رکھنا ہوگا:-
- وقت کسی کا انتظار نہیں کرتا۔
- وقت کسی کے لئے نہیں رکتا۔
- آ پ کے بہانے یا کمزوریاں وقت کی رفتار کم نہیں کرسکتیں۔
- آپ کی ہچکچاہٹ، پس و پیش، تذبذب اور جھجھک کی وجہ سے وقت متاخر نہیں ہوسکتا۔
- آپ کی ناراضگی سے وقت تھم نہیں سکتا۔
- آپ کی ندامت، پچھتاوے اور افسوس سے وقت کا پہیہ الٹا نہیں چلایا جاسکتا۔
- غصہ، رنج، پریشانی اور نفرت کی وجہ سے وقت کو ضائع نہ کرو، کیونکہ وقت دوبارہ نہیں آنے والا جبکہ آپ کی ہنگامہ خیزیاں آپ کے ساتھ چمٹی رہیں گی۔
- ہمیں چاہیے کہ ماضی کے تلخ تجربوں کو بھول جائیں اور مستقبل کے اندیشوں کے باعث گھبرانا اور فکر مند ہونا چھوڑ دیں۔
- آپ کے پاس جو وقت ہے اسے غنیمت جانیں اور یہ یقین دہانی کرلیں کہ آپ اس وقت کو بامقصد طریقے ، صحیح انداز، درست جذبے، اچھے خیال اور بھلے مانس لوگوں کے ساتھ گزاریں گے۔
- یہ سچ ہے کہ وقت کی ساعتوں کو پنکھ لگے ہوئے ہیں اور وہ انسان کے ہاتھ نہیں آتیں۔
- لیکن آپ ہمیشہ یاد رکھیں کہ آپ کے اندر اتنا حوصلہ ہے کہ آپ اپنی سوچوں کی پرواز کو بلند رکھتے ہوئے وقت کے ساتھ ساتھ بلندیوں پر پرواز کرسکتے ہو۔ اور اپنی فہم اور سوچ کی بدولت صحیح سمت معلوم کرسکتے ہو۔
- یاد رکھئے کہ آپ کا زندگی کے کامیاب رستوں پہ بار بار آنا نہیں ہوگا۔ اس لئے اپنی کامیابیوں کو گن کررکھو۔ وقت کی چال کو نظر رکھتے ہوئے اپنا سفر جاری رکھو۔
- وقت گہرے سمندر میں گرا ہوا موتی ہے، جس کا دوبارہ ملنا ناممکن ہے۔
- وقت سیکھا دیتا ہے انسان کو جینے کا ہنر، پھر کیا نصیب ، کیا مقدر اور کیا ہاتھ کی لکیریں۔
- وقت بدل دیتا ہے زندگی کے سبھی رنگ، کوئی خود سے اپنے لئے اداسی نہیں چنتا۔
- زندگی کے سفر میں اپنا پن تو ہرکوئی دکھاتا ہے، مگر کون ہے اپنا، یہ وقت بتاتا ہے۔

تبصرے