احساس
احساس کے معنی ہیں محسوس کرنا، خیال رکھنا، صاف صاف سمجھ لینا، ایک دوسرے سے غمخواری اور باہمی محبت و شفقت اور تعاون کرنا۔
احساس کا لفظ بذات خود اتنا نرم اور نازک ہے کہ بولتے ہوئے بھی اپنی لطافت کا احساس دلاتا ہے۔ جس طرح لفظ عمدہ ہے اسی طرح اس کا جذبہ اور اس کی کیفیت بھی بہت پرکیف اور حسّاس ہیں۔ احساس انسان کو قابل رشک ، ہردل عزیز ، ہر ایک کی آنکھ کا تارہ اور معاشرے میں محترم، مکرم اور معزز بنا دیتا ہے۔
جبکہ اس کے مقابل اگر احساس نا ہو تو انسان خونخوار، ڈکیت، لڑائی جھگڑا کرنے والا، جھوٹا، منافق، دھوکہ باز اور خود غرض ہو جاتا ہے۔
اخلاقی قدروں کی بنیاد فقط احساس کے جذبے کی مرہون منت ہے جو ہر انسان میں اللہ تعالی نے ودیعت تو کیا ہے مگر کم لوگ اس کی آبیاری کا سامان کرتے ہیں اور اکثریت اسے اجاگر کرنے کی سعی سے پہلوتہی برتتے ہیں۔ اور خود کو لاتعلق رکھتے ہیں۔ جس کے نتیجے میں سارا ماحول بے کیف ہوجاتا ہے۔ انسانوں کی بستی ایسی لگتی ہے جہاں انسان جنگل میں موجود درختوں کی طرح ہیں۔ ایک دوسرے میں گڈ مڈ، بے ہنگم، بے ترتیب اور بےکار۔
احساس کا جذبہ ایک ایسی نعمت ہے جو ہمیں نا صرف خدائے برتر سے جوڑ کررکھتی ہے بلکہ یہ ہمیں انسانوں سے میل جول میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔ اگر ہم اس جذبے کو فراموش کردیں ہمارا ضمیر خود بخود مر جائے اور اگر یہی عمل ہم مجموعی طور پر سرانجام دینا شروع کردیں تو معاشرہ ہی مر جائے۔
احساس غیر مادی دولت ہے۔ اسے محسوس تو کیا جاسکتا ہے مگر چھو نہیں سکتے۔ احساس ہمیں انسانیت کے مقام پر قائم رکھتا ہے۔ اسی جذبے کی بدولت ہم فرشتوں سے بہتر ہوسکتے ہیں۔ اگر ہمیں مالی منفعت نہ بھی ہو، پھر بھی دوسروں کے لئے بے لوث احساس کرنا چاہیے۔ احساس کے لئے کوئی موسم یا موقع نہیں؛ بلکہ اسے ہر روز ہر وقت اور ہر جگہ رواج دیں تاکہ دنیا میں خوشیوں کی بہار ہو، مسرتوں کا راج ہو اور آپ کا دل مطمئن و فرحان رہے۔
انسانی معاشرے میں جذبہ احساس پیار اور محبت کی پہلی سیڑھی ہے ۔ اگر یہ نہ ہو تو انسان میں قربانی و ایثار کا جذبہ پیدا نہیں ہو سکتا۔ انسان کو کسی بھی تکلیف کا احساس اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک وہ خود اس تکلیف سے نا گزرے۔
موجودہ دور میں احساس کا جذبہ شاز و نادر ہی دیکھنے کو ملتاہے۔ وہ لوگ جو اس جذبہ سے سرشار ہوں ان کے دل نرم و گداز ہوتے ہیں۔ کیونکہ جن لوگوں کے دل سخت اور مردہ ہوں وہ اس کیفیت سے ناآشنا ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ کسی انسان کو پریشان دیکھ کر اس کی مدد کرنے کے بجائے اس سے سوال جواب کرنے لگتے ہیں کہ تم نے فلاں کام غلط کیا، تمہیں فلاں کام نہیں کرنا چاہئے تھا وغیرہ وغیرہ۔
احساس کرنے والے اور احساس کروانے والے دونوں بیش قیمت اور لاجواب لوگ ہوتے ہیں۔ اگر آپ کسی کی مالی معاونت نہیں کرسکتے تو اپنے خلوص کا احساس دلا کر دوسرے کو تسلی تو دے ہی سکتے ہیں۔ سکون کے متلاشی لوگ اگر خود میں احساس کا جذبہ پیدا کر لیں تو خود بھی سکون میں رہیں اور دوسرے بھی۔
انسانی معاشرے میں اگر احساس کسی رشتے میں ہو تو رشتے مضبوط ہوتے ہیں اور احساس نا ہو تو رشتے ٹوٹ جاتے ہیں۔ نامکمل رشتے کبھی بھی زندگی پرسکون نہیں گزارنے دیتے۔ ایک کمی اور خلاء جو احساس کی عدم موجودگی کی وجہ سے رشتوں میں پیدا ہوتا ہے وہ کبھی بھی پورا نہیں ہوتا۔
رشتوں کی مضبوطی کا انحصار بھی آپسی احساس ہے ۔ جس قدر ہم ایک دوسرے کی فکر کریں، خیال رکھیں، روز مرہ کی مشکلات میں ہاتھ بٹائیں، ان کے مسائل کو حل کرنے کی کوشش کریں، ان کے لئے آسانیاں پیدا کریں ؛ اسی قدر ہمارے رشتوں میں باہمی یگانگت بڑھے گی اور خاندان مضبوط ہوگا اور ہمیں ساتھ ساتھ رہنے میں فخر محسوس ہوگا۔ اور اگر ہم سرد مہری کا مظاہرہ کریں یا دوسروں کا خیال کرنا چھوڑ دیں تو ہمارے رشتے بھی آہستہ آہستہ اپنے مدار سے ہٹ کر نئے رشتے بنانے لگتے ہیں۔
رشتے درختوں کی مانند ہوتے ہیں، بعض اوقات ہم اپنی ضرورتوں کی خاطر انہیں کاٹ دیتے ہیں اور خود کو گھنے سائے سے محروم کر دیتے ہیں۔ اسی طرح کچھ رشتوں کا ہم اپنے ہاتھوں سے خون کرتے ہیں اور کچھ رشتے اپنی مرضی سے دور ہوتے چلے جاتے ہیں۔ دونوں صورتوں میں ہی وجہ احساس کی عدم موجودگی ہوتی ہے۔ جو انسانوں کو اپنے پیارے رشتوں سے دور کرتی ہے۔
حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے"رشتے خون کے نہیں احساس کے ہوتے ہیں۔ اگر احساس ہو تو اجنبی بھی اپنے ہو جاتے ہیں اور اگر احساس نہ ہو تو اپنے بھی اجنبی بن جاتے ہیں۔"۔
احساس کی گہرائی میں جاکر دیکھیں تو ہمیں اتنی وسعت اور جامعیت ملتی ہے کہ ہم اس کے دائرہ وسعت سے نہیں نکل سکتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر انسان صرف دوسروں کا احساس کرنا شروع کردے تو اس کی پوری زندگی تمام ہوجائے گی احساس کی ذمہ داری کا کام مکمل نہ ہوسکے گا۔
معاشرے میں ہمیں اپنے آس پاس بہت سے لوگ ایسے دکھائی دیتے ہیں جو محض ایک مسکراہٹ کے طلبگار ہوتے ہیں۔ کسی کی نظر التفات، کسی کے پیار اور توجہ کے مستحق وہ لوگ اپنے چہروں کے خدو خال پر یوں نقش کئے ہوتے ہیں کہ ہر نگاہ میں ان کی بے بسی اور محرومی آجاتی ہے۔ اکثر لوگ اس طرح کے کرداروں سے نظریں چرا کر اپنی راہ لیتے ہیں اور چند ایک حسَاس اور بے لوث محبت کرنے والے، اپنی بساط کے مطابق ان لوگوں کی دلجوئی کرنے پر آمادہ نظر آتے ہیں۔
ہمارے رشتے دار، دوست، پڑوسی، غریب و مسکین لوگ اور بالخصوص ہمارے والدین ہر وقت ہماری توجہ کے طلبگار ہوتے ہیں۔ ہمارے والدین ایک سائے کی طرح ہیں جن کی ٹھنڈک کا احساس ہمیں اس وقت تک نہیں ہوتا جب تک یہ سایہ ہمارے سر پر موجود رہتا ہے، جونہی یہ سایہ اٹھتا ہے تب ہمیں احساس ہوتا ہے کہ ہم ایک عظیم اور انمول دولت سے محروم ہوچکے ہیں۔
آج کی دنیا میں ذیادہ مسائل خواہ وہ ذاتی نوعیت کے ہوں یا عوامی نوعیت کے؛ ان کا سبب صرف اور صرف احساس کا زیاں ہے۔
احساس کرنا انسانی عظمت ہے اور یہ ہماری اخلاقی ذمہ داری ہے کہ ہم اپنے اردگرد کا جائزہ لیں کہ کس کو آپ کی کتنی اور کیسی ضرورت ہے اور اپنی حیثیت کے مطابق بغیر کسی لالچ اور ذاتی غرض سے بالاتر ہوکر اس کی ضرورت کو پورا کرنے کی کوشش کریں۔ کیونکہ یہ احساس ہی ہے جو بندوں سے ہو تو اللہ کے قرب کا موجب بنتا ہے ۔ رشتوں کی حفاظت کریں چاہے رشتے خون کے ہوں، احساس کے ہوں یا پھر دوستی کے ان کی حفاظت کریں کیونکہ تمام رشتے انمول ہوتے ہیں۔ ان رشتوں کی وجہ سے ہی ہماری زندگی میں خوشیاں آتی ہیں۔ انھی رشتوں کی خوشبو سے ہماری زندگی مہکتی ہے۔ انھی رشتوں کی وجہ سے ہماری زندگی رنگین ہوتی ہے اور انھی رشتوں کی وجہ سے ہم زندگی کی راعنائیوں سے مستفیذ ہوتے ہیں، ہماری شخصیت میں نکھار پیدا ہوتا ہے اور ہم منفی رویوں سے مثبت رویوں کی طرف گامزن ہوتے ہیں۔
جو لوگ احساس کا قرب حاصل کرتے ہیں ان کی راہیں ہموار اور منزلیں روشن ہوتی ہیں۔

تبصرے