تبسم


اس کے معنی ہیں ایسی ہنسی جس میں آواز  نہ ہو،  ایسی ہنسی جس میں ہونٹ پھیلیں مگر کھلیں نہیں،  ایسی ہنسی جس میں ہونٹ نہ کھلیں،  خندہ زیر لب،  غنچے کی شگفتگی،  کلی کھلنا،   مسکرانا،  مسکراہٹ،  نیم خندہ ،     ہونٹوں ہی ہونٹوں میں ہنسنا۔ 

دنیا کی ہرشے تبسم کرتی ہے کیونکہ  خالق  کل کائنات نے اس جہاں کو اس کاری گری سے تخلیق کیا ہے کہ دنیا کا زرہ زرہ ، قطرہ قطرہ،  پتہ پتہ ،  غنچے اور کلیاں، ننھے بچے اور بڑے سبھی تبسم  کی ہمہ گیر شکل  ہوتے ہیں۔

ایک  پتھر کے چھوٹے سے ٹکڑے کو جب کوئی   جوہری تراش خراش کرکے  ،   پالش کرتا ہے تو وہی پتھر ایک قیمتی اور نایاب نگینے کی شکل  اختیار کرلیتا ہے۔ ایسا نگینہ جس پہ روشنی اثر انداز ہوتی ہے تو حسین رنگوں  کی شکل میں  منعکس ہوکے آنکھوں کو خیرہ کردیتی ہے۔  اسی پتھر کو انگوٹھی یا ہار میں جڑنے  کے بعد کوئی اپنی انگلی یا گلے کی زینت بناکر محفل میں جلوہ افروز ہوتا ہے تو سبھی آنکھیں اس کی طرف متوجہ ہوجاتی ہیں اور چہروں پہ تبسم کی بہار آجاتی ہے۔  

ایک کلی جب چٹختی ہے تو غنچے کی شکل اختیار کرلیتی ہے اور یہی غنچہ ایک پھول بن کے فضاؤں میں خوشبو بکھیرتا ہے بلکہ اس کے حسین رنگ اور پتیوں کی نزاکت دیکھ کر انسان  اس خوبصورت پھول کو اپنے کالر میں سجانے اور جوڑے میں سجانے کے لئے مچل اٹھتا ہے کیونکہ یہ پھول تبسم اور حسن کا بہترین امتزاج ہوتا ہے جو انسان کی شخصیت میں چار چاند لگا دیتا ہے۔

ایک ننھا سا بچہ جو اس دنیا کی اونچ نیچ، تفرقہ بازی، امیری غریبی سے غیر مانوس ہوتا ہے اور  اپنے خالق کی بہترین تخلیق کا آئینہ دار ہوتا ہے۔   بچے خواہ جاگ رہے ہوں یا سو رہے ہوں ان کے چہرے پہ تبسم رقصاں ہوتی ہے۔ کسی گھر میں، کسی محفل میں،  کسی تقریب میں بچوں کی شمولیت سے پوری فضاء  میں ایسی تازگی اور شگفتگی عیاں طور پر موجود ہوتی ہے کہ ہر چہرہ دن بھر کی تلخیوں کو بھول جاتا ہے اور بچوں  کی کلکاریوں اور تبسم آمیز مسکراہٹ کا گرویدہ ہوجاتاہے۔

ہمارے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم خدائے بزرگ و برتر کے عالی ترین اور محبوت ترین انبیاء میں سے اللہ تعالی کے رسول ہیں اور آپ پہ نبوت کا خاتمہ ہوا اور آپ کی امت کو بہترین امت کا درجہ ملا۔  آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ہمہ وقت اللہ تعالی کی عبادت اور اللہ تعالی کے احکامات کی تعلیم اور ترویج میں مصروف رہتے تھے اور بہترین اخلاق کے مظہر تھے۔ تبسم آپ  کے چہرے  کی زینت تھا اور آپ  کی ایک نظر ہی کافروں کے قلب کو تبدیل کرنے کے لئے کافی ہوا کرتی تھی۔ تبلیغ اور خدمتِ انسانیت کے لئے بہترین ادا تبسم ہے۔

تبسم خدا کی کبریائی  کا اظہار ہے،  تبسم خدا کے شکر  کا انداز ہے،  تبسم خدا کی عظمت کا مینارہ ہے، تبسم ایک خوشبو ہے، تبسم ایک نور ہے، تبسم ایک  خاموش ادا ہے،  تبسم دلوں کو گرمانے اور دلوں کو تازہ دم کرنے والا چشمہ ہے اور سب سے بڑھ کر تبسم ایک پاکیزہ  صفت ہے جس کا اثر  بہت دیر تک دل و دماغ کو معطر اور روشن رکھتا ہے۔
 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت