خاموشی
اس کے معنی ہیں بے آوازی، بے تعلقی، دم بخود، لب بستگی، احتیاط، افسردگی، چپ، سناٹا، سکوت، سکون، لاتعلقی اور موت وغیرہ۔
خاموشی کے لفظی معنی ہیں چپ رہنا۔ حکمت کی رو سے خاموش رہنا بہت سے عیبوں سے بچنا ہے۔ تصوف میں خاموشی باطنی توجہ کو کہتے ہیں۔ اخلاقی طور پر خاموش رہنے کا مطلب ہے لغویات سے دور رہا جائے۔
ہمیشہ وہی گفتگو کرنا چاہیے جس کی ضرورت ہو اور ہر اس بات سے بچا جائے جس میں دنیاوی اور دینی منفعت کا پہلو موجود نہ ہو۔
خاموشی اللہ تعالی کا انعام ہے۔ اس کے باعث اﷲ تعالیٰ اپنے بندے کو صحیح علم اور راہِ نجات کا شعور عطا فرماتا ہے۔ اس سے درست قول و عمل کی توفیق نصیب ہوتی ہے۔ اس کا مقصد دنیوی گفتگو سے پرہیز کرنا اور ایسا کلام جو اﷲ تعالیٰ کے ذکر سے غافل کر دے اس سے بچنا ہے۔ خاموش رہنا ایک حیرت انگیز کرشمہ ہے یہ ایک بیش بہا اور قیمتی تحفہ ہے ۔یہ وہ خدائی عطیہ اور انعام ہے جو ہمیں بیکار باتوں سے ،نزاع اور تفرقہ سے ،تنازعات اور فسادات سے روکتی ہے۔ خاموشی ہماری سلامتی کی ضامن ہے۔ سائنسی اعتبار سے بھی خاموش رہنا اپنے آپ میں ایک علاج ہے ۔طبی اعتبار سے دن بھر میں دو گھنٹے خاموش رہنا دماغ میں نئے خلیات بننے میں معاون ثابت ہوتا ہے جس سے دماغ کی کارکردگی میں بہتری اور اضافہ ہوتا ہے ۔دماغ کو تقویت ملتی ہے جس سے دیکھنے کی صلاحیت اور یاد داشت کو فروغ ملتا ہے ۔
کلام اور سکوت:
کلام دو قسم کے ہوتے ہیں ۔ ایک کلام حق اور دوسرا کلام باطل۔ او ر اسی طرح سکوت بھی دو طرح کے ہوتے ہیں۔ ایک سکوت برائے حصول مقصد اور دوسرا سکوت بسبب غفلت ہے۔
خاموشی کی دو اقسام ہیں :
زبان کی خاموشی اور دوسرے دل کی خاموشی۔
1۔ زبان کی خاموشی یہ ہے کہ وہ باتیں جن کا تعلق غیر اللہ سے ہو، ان کا ذکر نہ کرے۔ ایسی خاموشی سالکین طریقت (بزرگ اور نیک لوگ جو حضور صلعم کی سنت پر سختی سے کاربند ہوں) کی منزل ہے۔
2۔ دل کی خاموشی یہ ہے کہ دل میں شیطانی وسوسہ پیدا نہ ہو۔ خاموشی کی یہ قسم مُقرّبین (وہ لوگ جو اللہ تعالی کے بہت قریب ہوں) ، اہل مشاہدہ اور صاحبانِ حال کی منزل ہے۔
زبان اور دل کی خاموشی کا اثر:
1۔ ایسا شخص جس کی زبان خاموش ہو مگر دل خاموش نہ ہو تو ایسا شخص گناہوں کے لحاظ سے معصوم ہوتا ہے۔
2۔ ایسا شخص جس کی زبان خاموش نہ ہو مگر دل خاموش ہو تو ایسا شخص جب بھی بات کرے گا تو حکمت و دانائی کی بات کرے گا۔
3۔ ایسا شخص جس کی زبان اور دل دونوں خاموش ہوں تو اس پر اللہ تعالی اپنے خاص انعام و اکرام کی بارش کرتے ہیں۔ اسے فہم و فراست کے اعلی مقام پر فائز کرتے ہیں۔ اور اسے ایسی بصیرت عطا فرماتے ہیں کہ عقل حیران رہ جائے۔
4۔ ایسا شخص جس کی نہ زبان خاموش رہے اور نہ ہی دل، تو ایسا شخص شیطنت کا قائل ہوتا ہے اور شیطان کے تابع رہتا ہے۔
خاموشی کی اہمیت:
کچھ لوگ فطرتاً خاموش طبع ہوتے ہیں۔ یہ وصف انھیں اللہ تعالی کی طرف سے ودیعت ہوتا ہے۔ ایسے لوگ ناصرف بہت غیور ہوتے ہیں بلکہ نہایت حساس اور باریک بین بھی ہوتے ہیں۔ ایسے لوگ ہر بات اور ہر معاملے پر غور و فکر کرنے والے ہوتے ہیں۔ اگرچہ ان کی زبان عموماً خاموش رہتی ہے مگر ان کا ذہن بلا کا متحرک اور چاک و چوبند رہتا ہے۔ اللہ تعالی ان کو فہم کا ادراک، مسائل کے حل کا شعور اور بات کی گہرائی کو بآسانی سمجھنے کی قوت عطا فرماتے ہیں تاکہ وہ دنیا میں امن و امان بحال رکھ سکیں اور لوگوں کے مابین جھگڑوں کو سہل طریقے سے نبٹا سکیں۔
خاموشی کی فضیلت:
خاموشی ایک ایسا وصف ہے جو انسان کی صلاحیتوں کو بھر پور طریقے سے بروئے کار لانے میں کارآمد ہوتا ہے۔ خاموشی سے انسان کا ذہن مکمل طور پر آذادانہ طریقے سے بلا کسی خوف و خطر کام کرتا ہے اور اسے اپنے و دیگر لوگوں کے معاملات سلجھانے میں واضح پیغام ارسال کرتا ہے اور بہترین حل مہیا کرتا ہے۔
خاموشی اختیار کرنے سے آپ کی دماغی اور جسمانی صلاحیتیں تمام آلائشوں سے پاک ہوکر اور ہر قسم کے شک و شبہات سے بالاتر ہوکر سامنے آتی ہیں۔
انسان کو دو کان اور ایک منہ دیا گیا ہے۔ گویا آپ نے ذیادہ سے ذیادہ بات سننی ہے اور کم سے کم بات کرنی ہے۔ انسان جب ہر ایک کی بات سنتا ہے تو اسے پورے کا پورا ڈیٹا مل جاتا ہے۔ اور یہ ڈیٹا جب دماغ تک پہنچتا ہے تو مطمئن اور پرسکون دماغ اچھی طرح اس کا تجزیہ کرتا ہے اور آپ کو بہترین حل دے دیتا ہے۔ اور یہ حل جب تک آپ کے دماغ میں رہتا ہے، آپ کا دماغ اسے مزید نکھار دیتا ہے۔ اور یہ سلسلہ اس وقت تک جاری رہتا ہے جب تک آپ خاموش رہیں۔
خاموشی اختیار کرنا انعاماتِ خداوندی سے بہرہ ور ہونا ہے۔ اس بات پر خود قرآنِ حکیم شاہد ہے۔ اﷲ نے جب حضرت زکریا علیہ السلام کو بیٹے کی صورت میں نعمت عطا کرنا چاہی تو انہیں خاموش رہنے کی تلقین فرمائی اور اس کے ساتھ صبح و شام تسبیح کرنے کا بھی حکم فرمایا۔ ذرا غور کیجئے خاموشی میں وہ کون سی حکمت پنہاں ہے جو اللہ تعالی نے خود خاموشی اختیار کرنے کا حکم دیا۔ ارشادِ باری تعالیٰ ہے :
اﷲ تعالیٰ نےفرمایا تمہارے لئے نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے سوائے اشارے کے بات نہیں کر سکو گے، اور اپنے رب کو کثرت سے یاد کرو اور شام اور صبح اس کی تسبیح کرتے رہو۔
خاموشی اہلِ معرفت کا شیوہ:
اہل علم، اہل بصیرت اور اہل معرفت کا شیوہ ہے کہ وہ اپنے کلام پر خاص دسترس رکھتے ہیں اور اپنے کلام پر سختی سے نگرانی کرتے ہیں۔ اگر سارا کا سارا کلام حق ہے تو بیان کردیتے ہیں ورنہ خاموش رہتے ہیں۔ کیونکہ انھیں یقین ہے کہ ہماری ہر بات کو اللہ تعالی براہ راست سن رہے ہیں۔ بلکہ اللہ تعالی تو ہماری آپس کی خفیہ اور زیر لب کہی ہوئی باتوں اور سرگوشیوں سے بھی پوری طرح واقف ہیں جبکہ فرشتے ان باتوں کا تحریری ریکارڈ رکھنے پر مامور ہیں، وہ انسان کے منہ سے نکلا ہوا ہر لفظ ضبطِ تحریر میں لاتے ہیں جو لوگ اس حقیقت سے منہ پھیرتے ہیں قرآن ان کے متعلق فرماتا ہے :
کیا وہ گمان کرتے ہیں کہ ہم ان کی پوشیدہ باتیں اور اُن کی سرگوشیاں نہیں سنتے کیوں نہیں (ضرور سنتے ہیں) اور ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے بھی اُن کے پاس لکھ رہے ہوتے ہیں۔
خاموشی ادب ہے:
کچھ مقامات اور محافل ایسی مقدس اور متبرک ہوتی ہیں جہاں خاموشی کلام سے ہزارہا درجہ بہتر ہوتی ہے۔ وہاں کثرتِ کلام انسان کی نیکیوں کی بربادی اور اﷲ تعالیٰ کی ناراضگی کا سبب بنتی ہے۔
مومن وہ ہے جو اچھی بات کہے یا خاموش رہے:
حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
جو اﷲ اور قیامت کے دن پر ایمان رکھتا ہے اسے چاہئے کہ اچھی بات منہ سے نکالے یا خاموش رہے۔
زبان کے فتنوں سے حفاظت کی تلقین:
حضرت عبد اﷲ الثقفي رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نے عرض کیا : یا رسول اﷲ! آپ کو ہم پر کس بات کا زیادہ ڈر ہے؟
حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی زبان پکڑ کر فرمایا اس کا۔
تمام اعضا کی زبان سے کم گوئی کی درخواست:
حضرت ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : ’’جب انسان صبح اٹھتا ہے تو اس کے تمام اعضا جھک کر زبان سے کہتے ہیں :
ہمارے بارے میں اﷲ سے ڈر کیونکہ ہم تجھ سے متعلق ہیں اگر تو سیدھی رہے گی ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہوگی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔
زبان پر قابو رکھنے والے کو جنت کی ضمانت:
حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
جو مجھے اس کی ضمانت دے جو دونوں جبڑوں کے درمیان ہے (یعنی زبان کی) اور اس کی جو دونوں ٹانگوں کے درمیان ہے (یعنی شرم گاہ کی) تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔
اعمال کے ترازو میں سب سے بھاری چیز:
حضرت انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا : اے ابوذر! میں تجھے ایسی باتیں نہ بتاؤں جو نہایت سبک (کم وزن) اور ہلکی ہیں لیکن اعمال کے ترازو میں بہت بھاری ہیں؟ حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : جی ہاں ضرور فرمائیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
طویل خاموشی اور خوش خلقی، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ان دو خصلتوں سے بہتر مخلوق کے لئے کوئی کام نہیں ہے۔
کثرتِ کلام، اﷲ عزوجل سے دوری کا باعث:
حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اﷲ عنہما سے مروی ہے کہ حضور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ کے ذکر کے سوا زیادہ گفتگو نہ کرو کیونکہ ذکرِ الٰہی کے بغیر کثرتِ کلام دل کی سختی (کا باعث ہے) اور سخت دل آدمی اﷲ تعالیٰ سے بہت دور رہتا ہے۔
حضرت شیخ سعدی فرماتے ہیں ” میں آج تک اپنی خاموشی پر نہیں پچھتایا جب بھی پچھتایا اپنے بولنے پر پچھتایا۔
خاموشی کے فوائد:
قرآنی آیات، احادیث نبوی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اور اقوال صلحاء کی روشنی میں یہ واضح ہے کہ ہمارے لئے خاموشی بولنے سے بہتر ہے۔
جن باتوں یا کاموں کے کرنے کا اللہ و رسول نے کرنے کا حکم دیاہے ان کے کرنے یا ان پر عمل کرنے میں حقیقی کامیابی ہے اور جن کے کاموں یا باتوں سے اللہ اور اس کے رسول نے منع کیا ہے اس میں کسی صورت کامیابی اور فلاح نہیں ۔
جس نے خاموشی اختیار کی وہ نجات پا گیا۔
جو شخص اللہ اور یوم ِ آخرت پر ایمان رکھتا ہو اس کو چاہیے کہ اچھی بات کہے یا پھر خاموش رہے ۔
بلا ضرورت اور بے مقصد گفتگو کرنا اور ہر وقت بولتے ہی رہنایہ شریعت میں پسندیدہ اور محبوب عمل نہیں ہے ۔
جو شخص بات اور گفتگو کو بھی عمل سمجھے گا وہ بے فائدہ بات کم کرے گا۔
خاموشی سے کتنی ہی بھلائیاں وابستہ ہیں اور اس کے ذریعے سے آدمی دنیا و آخرت کی کتنی ہی آفتوں، پریشانیوں اور برائیوں سے مامون و محفوظ رہتا ہے ۔ایک حدیث میں ہے کہ آدمی دوزخ میں زیادہ تر زبان کی ہی بے باکیوں کی وجہ سے اوندھے منہ گرائے جائیں گے ۔علمائے کرام اور اہلِ علم نے خاموشی اور سکوت کے بارے میں لکھا ہے کہ ” خاموش رہنا ایک بہترین اورنفع بخش عادت ہے، خاموشی سناٹا نہیں بلکہ ایک سرگوشی ہے اپنے باطن میں جھانکنے کا ،اپنے نفس کا محاسبہ کرنے کا ، خود کی آگاہی اور بیداری کا ، خاموشی خود پر قابو پانے کا ایک بہترین متبادل ہے اور یہ ایک غور و فکر کا ایک ذریعہ ہے جس سے مسائل کے حل کو راہ ملتی ہے ۔
لیکن ایک بات ذہن میں محفوظ کرلیں کہ جہاں دین کی دعوت، اشاعت تبلیغ اور حق و باطل کے لئے بولنا ضروری ہو، وہاں جرات مندی ، بہادری اور ہمت و حوصلے سے اپنی گفتگو کرنا عین عبادت ہی نہیں بلکہ ایسے موقع پر خاموشی اختیار کرنا جرم اور گناہ ہے۔
یہاں میں ایک تجربے کی بات کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ ہم لوگ اپنے روزگار، کسی ضروری کام یا کسی پراجیکٹ کے بارے میں ارادہ کریں تو اس کے بارے میں کسی سے تذکرہ نہ کریں۔ بلکہ اپنے کام کی جزیات پہ غور کریں اور اپنی کامیابی کے لئے ہر ممکن کوشش کریں تاکہ آپ کو امید افزاء نتائج برآمد ہوسکیں۔
یاد رکھئیے اپنے بہتر مستقبل سے متعلق کسی ذاتی بات کو کسی طرح بھی افشاء نہ کریں اور کوشش کریں کہ انہیں دوسروں سے مخفی رکھا جائے۔ اور جب تک آپ کا کام نہ ہوجائے اور آپ کامیاب نہ ہوجائیں، ہونٹوں کو سی کررکھیں اور خاموشی اختیار کئے رکھیں۔
آپ کے ارد گرد کے لوگ آپ کے خیر خواہ نہیں ہوتے۔ بہت سے منفی رویوں والے لوگوں کی آہ آپ کے آسان کام میں رکاوٹ پیدا کرکے الجھا دیتی ہے۔ خاموشی سے ہر کام سرانجام دیجئے تآنکہ کامیابی آپ کے قدم چومے اور آپ خوش باش ہوجائیں۔









تبصرے