دوستی

دوستی کے معنی ہیں میل جول،  ربط،   وابستگی، موافق،   وفاداری،   بے تکلفی،  گہرا تعلق، یگانگت،      دوستی، یارانہ، پیار، اکٹھے،  شفقت، چاہ ،  لگن، رفیق ،     پرخلوص برتاؤ اور ساتھی۔

عربی میں دوست  کو خلیل کہتے ہیں۔ جن دو افراد  میں بے حد موافقت   اور انسیت ہو ان کو حبیب کہتے ہیں اور اردو میں  اچھے دوستوں کو    یک جان ،   دو قالب  کہا جاتا ہے۔   ہماری زندگی بہت سے حسین رشتوں سے جڑی  ہوئی ہے لیکن ایک رشتہ ایسا   ہے جس سے زندگی جڑی ہوئی  ہوتی ہے۔   وہ   دوستی کا رشتہ ہے۔ وفا  کا  دوسرا  نام دوست ہے۔  دوست اللہ تعالی کا حسین تحفہ ہے۔  انسان کی عمر ڈھل جاتی ہے مگر دوستی  کو زوال  نہیں ہے۔  زندگی کے باغیچے میں دوست پھول کی مانند ہوتے ہیں۔ 

زندہ رہنے کے لئے پانی ضروری ہے   ، اسی طرح     سماجی زندگی  کی بقاء  کے لئے   دوست ناگزیر ہے۔    پانی کی طرح  ایک مخلص اور سچے دوست کا  کوئی  نعم البدل نہیں۔  دوستوں کی کمی کو مال و دولت سے پورا نہیں کیا جاسکتا۔ دوست  ہماری ہلکی سی تکلیف پہ    تڑپ اٹھتا ہے ۔  ہر وقت ہمارے چہرے پہ مسکراہٹ سجانے کے لئے تیار رہتاہے  اور ہماری زندگی میں پیار اور محبت کی خوشبو بکھیرتا ہے۔  دوستی کا رشتہ ایسا ہوتا ہے جو انجانوں کو ملا دیتا ہے ۔ روتوں کو ہنسا دیتا ہے ۔ روٹھوں کو مناتا ہے اور زندگی میں ہر قدم پر ایک نیا موڑ دیتا ہے اور کانچ کو کوہ نور بنادیتا ہے ۔

 انسان کا دل فطری طور پر خوشی اور اطمینان کے جذبے  کا متقاضی  ہے۔  ہماری زندگی میں اگر سوال   جواب  کرنے والا نہ ہو، کیوں، کیا ، کب اور کیسے جیسے دشوار اور ثقیل سوال نہ پوچھیں جائیں تو ہم اندر سے خوش ہوتے ہیں اور بلند حوصلہ رہتے ہیں۔  دوستی کا رشتہ  ایسا ہے جس میں کوئی حساب کتاب نہیں ہوتا۔  آپ کی جیب میں کیا ہے اور کتنا ہے اور آپ کے دوست  کے پاس کیا ہے ؛ اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا۔  دوستوں میں مال و دولت  ،  اونچ  نیچ  ، خوبصورتی و بدصورتی، ہنسی و خوشی ، کامیابی و ناکامی سبھی سانجھے ہوتے ہیں۔   دوستی ایک ایسا رشتہ ہے جہاں کچھ مانگا نہیں جاتا  بلکہ صرف  دیا جاتا ہے۔

آپ  اکیلے دنیا کے بہترین  ریسٹورنٹ میں اعلی ترین کھانا نوش فرمانے جائیں، جہاں نفیس کھانے قطار اندر قطار موجود ہوں،  بہترین ماحول ہو، شاندار خدمت گار آپ کے اشارے کے منتظر  ہوں اور موسم کے لحاظ سے درجہ حرارت بھی خوش کن ہو۔  آپ کو وہ لطف اور مزا نہیں آئے گا جو آپ اپنے دوستوں کے درمیان فٹ پاتھ پر بیٹھ کر  کوئلے پہ بھنا ہوا مکئی کا سٹہ کھانے میں محسوس کرتے ہیں۔    دوست  ماں کی   طرح خیال رکھتا ہے ۔ باپ کی طرح  درشت ہوتا ہے ۔ بہن کی طرح  چھیڑ چھاڑ کرتا ہے۔  بھائی کی طرح تنگ کرتا ہے   اور محبوبہ  کی طرح   پیار کرتا ہے ۔

وہ باتیں جو آپ   پوری دنیا سے چھپاتے ہو،   مگر جب دوست سامنے آتا ہے تو دل بے خوف  ہوکر پوری  کہانی بیان کرکے اطمینان اور سکون محسوس کرتاہے۔  آپ جب دوست سے مصافحہ کرتے  ہو،   تو  جدا ہونے سے پہلے زندگی کی تمام کدورتیں دھل جاتی ہیں۔  آپ جو بات دوسروں کو کئی جملوں  میں بیان کرتے ہو، وہی بات آپ اپنے دوست کو   ابرو کی ایک حرکت میں بتا سکتے ہو۔  سچی دوستی بے زبان ہوتی ہے ۔ یہ تو آنکھوں سے بیان ہوتی ہے ۔

دوستی وہ  نعمت ہے جو  ہمارے دل کو سمندر کا سا سکوت اور آسمان کی طرح  وسعت  عطاء کرتی ہے۔ یہ وہ رشتہ ہے جو ہمیں دنیا کی مشکلات سے لڑنے کے لئے از سر نو    تیار کرتاہے۔  دوستی وہ رشتہ ہے جو ہمارے غموں کو اس طرح دھو دیتا ہے،   جیسے بارش کے بعد موسم معطر اور صاف ستھرا ہوجاتا ہے۔  ہمارے دوست   ہماری خوشیوں، قہقہوں اور مسکراہٹوں  میں اضافے کا باعث ہوتے ہیں۔ 

ہمارے والدین ہر وقت ہمارے لئے دعاگو رہتے ہیں اور ہر وقت ہمارے لئے سائبان بن کر ہمیں مشکلات سے محفوظ رکھتے ہیں۔   بیوی شوہر کی حفاظت اور کامیابی کے لئے دعا مانگتی ہے اور شوہر بیوی کا حوصلہ بڑھاتاہے۔  لیکن دوستی کا رشتہ ایسا ہے جو ہر مشکل، ہر امتحان میں ہمارے شانے سے شانہ ملا کر کھڑا ہوتا ہے۔  ہاتھوں میں ہاتھ ڈال کر ہر مشکل میں ہمارے ساتھ موجود ہوتاہے۔   یہ بے مثال اور بے لوث رشتہ انمول ہوتاہے۔ ہم اپنے دوستوں میں بیٹھے ہوں تو آنسو کی روانی کے باوجود چہرے  پہ مسکراہٹ پھیل جاتی ہے اور دوستوں سے لڑائی  میں محبت بڑھتی ہے۔  دوست ہمارے ہاتھ سے ہمارا لقمہ چھین لے تو بھی بھوک مٹ جاتی ہے اور دوستوں سے جس قدر بھی باتیں کرلیں جی نہیں بھرتا۔ 

دوستی کیا ہے؟
  • دوستی میں کبھی کبھی درد بھی ملتاہے ۔ کیونکہ   درد میں ہی تو دوستی کی پہچان ہوتی ہے ۔
  • کچھ لوگوں کی دوستی سے دنیا بدل جاتی ہے
  • دوستی   ہمارے دکھ کو بانٹ کر اسے آدھا کردیتی  ہے ۔
  • دوستی    آپ کو دنیا کی تاریکی سے  روشنی کی طرف لے جاتی ہے ۔
  • دوستی میں  الزام لگانے کی بجائے  آپ کی غلطیوں کو نظر انداز کر دیا جاتا ہے۔ 
  • دوستی آپ  کو شرمندہ  نہیں ہونے دیتی۔ 
  • دوستی میں معذرت کا لفظ ممنوع ہوتا ہے ۔
  • دوستی میں  آپ اپنے ساتھی سے بے خبر نہیں ہوسکتے خواہ آپ کے درمیان کتنا فاصلہ ہو۔
  •  وقت ، دوست اور رشتے یہ وہ چیزیں ہیں جو مقدر سے ملتی ہیں ۔ ان کی قیمت کا پتہ تب چلتا ہے جب یہ کہیں کھوجاتے ہیں ۔ اس لئے انہیں خوبصورتی سے نبھانا چاہئے ۔
اچھے دوست کی پہچان:

دوست وہ ہوتا ہے جو ہماری خوبیوں ، خامیوں سے واقف ہوتے ہوئے بھی ہمیں پسند کرتا ہے۔
دوست وہ ہوتا ہے جو چلتے وقت ہمارے قدم بن جاتا ہے ۔ 
دوست تاروں کی طرح ہوتے ہیں ۔ ہم سے بہت دور جو اکثر دکھائی نہیں دیتے لیکن ہمیں ان کے وجود کا احساس رہتا ہے ۔
دوست جو ہمیں متاثر کرتاہے ۔ ہمیں پڑھتا ہے ۔ ہمیں سمجھتا ہے اور ہمیشہ ہمارے ساتھ رہتا ہے ۔
دوست  ہمارے چھوٹے چھوٹے آنسوؤں کے پیچھے چھپی بڑی بڑی وجوہات کو بنا سنے ہی جان لیتا ہے ۔ 
جن دو افراد کی طبعیت کا میلان ایک ہی جیسا ہو، ان میں فطرتا ً دوستی  قائم ہوجاتی ہے۔ 

دوستی کرتے ہوئے   ان باتوں کا خیال رکھیں:
  • آپ مذکورہ شخص سے دوست کی حد تک   دوستی کرنا چاہتے ہیں؟   
  • اجنبی سے تعلقات استوار کرتے ہوئے بہت احتیاط برتیں۔  
  • اجنبی کو اپنی ذاتی معلومات نہ دیں۔
  • اجنبی کے ساتھ ایک مناسب فاصلہ برقرار رکھیں۔ 
  • دوستی کے لئے  مذکورہ شخص کے بارے میں  وافر معلومات ہونا چاہیں۔ 
  • کیا وہ شخص  اعتماد  کے قابل ہے؟
  • مذکورہ شخص دوست بننے کے لائق ہے؟
کبھی کبھی ہم  اپنے والدین اور بھائی بہن وغیرہ سے بعض باتوں میں رائے لینے میں پس و پیش کرتے ہیں۔  گھر والوں  کی محبت کے باوجود ہمیں ان سے راز دل کہنے میں تذبذب  کا سامنا ہوتا ہے۔ لیکن ایسی صورت میں یہی بات  دوست سے شیئر کرنے میں کوئی ہچکچاہٹ نہیں ہوتی۔   

زندگی میں سچا اور مخلص دوست ملنا بہت مشکل ہے  اور جس نے اسے پایا وہ خوش نصیب ہے۔داناؤں کا قول ہے کہ جو خوشی، غم ،افلاس اور زندگی موت میں ساتھ دے وہی دراصل سچا دوست ہے۔

سچا دوست اپنے دوست کی کامیابی کے لئے ہمیشہ کوشاں رہتا ہے۔ وہ  کسی  خدمت کا  معاوضہ نہیں لیتا اور نہ اپنا کوئی مطلب حاصل کرنا چاہتا ہے۔ وہ اپنے دوست کو خراب راستے سے روک کر اچھے راستے پر لگاتا ہے۔ اس کی برائیوں پر وہ پردہ ڈالتا ہے اور اس کے عمدہ اوصاف کا اظہار برملا  کرتا ہے اور دل و جان سے اس کی بھلائی میں مشغول رہتا ہے۔ وہ غم کی حالت میں دوست کو تسلی اور تشفی دیتا ہے۔ اچھے کاموں کا شوق دلاتا ہے۔ وہ اپنے دوست کے لئے اپنی جان قربان کرنے کو تیار رہتا ہے۔

جاہل اور عالم، توانگر اور مفلس، دنیا دار اور درویش، سچے اور جھوٹے میں دوستی نہیں ہوسکتی۔

مختلف فطرت والے لوگوں کی دوستی عموماً  ناپائیدار اور محض غرض مندانہ ہوتی ہے۔ 

جبکہ  جھوٹے دوست کی وجہ سے کئی مصائب کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔  ایسا  شخص  اپنے دوست کی برائیاں اصلاح کرنے کی بجائے انہیں ساری دنیا میں مشہور کردیتا ہے۔ وہ اپنے دوست کے نزدیک باتیں بناتا ہے اور پیٹھ پیچھے اس کی شکایت کرتا ہے۔آرام میں اس کے ساتھ رہتا ہے اور تکلیف میں اس کا ساتھ چھوڑ دیتا ہے۔ جب تک اس سے کوئی غرض رہتی ہے تب تک محبت کو ظاہر کرتا ہے لیکن جب مطلب حاصل ہوجاتا ہے تو اس سے الگ ہو جاتا ہے۔اگر موقع ہاتھ آ جائے تو اپنی غرض حاصل کرنے کے لئے اپنے دوست کی جان تک لے لیتا ہے۔ ایسے دوست سے ہمیشہ ہوشیار رہنا چاہیے۔

  سچے اور پرخلوص دوست کی تلاش کریں اور اس کی محبت میں زندگی آرام اور اطمینان سے گزاریں کیونکہ  ہر غم کی صرف ایک  ہی دوا ہے  وہ ہے       دوستی!!
 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت