ریا کاری


ریا کاری کے  معنی ہیں دو رنگی، زمانہ سازی، ظاہر داری، مکر و فریب ۔ دنیاسازی، بناوٹ، دکھاوا، منافقت، نمود اور نمائش۔

ذاتی شہرت اور دکھاوے کی خاطر نیکی کے کام کرنے کے جذبے کو  ریاکاری کہتے ہیں۔  اخلاقی طور پر یہ ایک قبیح  وصف ہے جسے  کسی طور پر پسند نہیں کیا جاسکتا۔ 

قرآن و حدیث میں اس کی سخت مذمت بیان ہوئی ہے ۔ اخلاص کے بجائے ذاتی شہرت کی  نیت سے  عبادات اور  خیر و بھلائی کے کام  سرانجام دینے سے ہماری نیکیاں ضا‏ئع ہوجاتی ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ہمارے کردار کا یہ پہلو ہمیں عذاب الہی  میں مبتلا کردیتا ہے۔  اﷲ تعالیٰ بڑا بے نیاز ہے ، اسے وہ نیکی ہرگز قبول نہیں جس کے کرنے میں بندہ مخلص نہ ہو ۔   

ہماری  عبادات ، صدقات اور اعمال صالحہ اللہ تعالی کے احکامات کی تعمیل اور اللہ تعالی کی خوشنودی کے لئے ہیں۔ اور ان نیک امور کی انجام دہی میں صدق دل سے فقط  اللہ تعالی کی رضا  کا شامل ہونا ضروری ہے۔ 

کسی بھی کام کے لئے پہلے نیت کی جاتی ہے۔  خیر و بھلائی کے کاموں   میں اگر مقصد یہ ہوکہ اللہ تعالی خوش ہو اور ہمیں آخرت میں کامیابی ملے۔ اللہ تعالی ایسے  میں ہمارے لئے آسانیاں پیدا فرما دیتے ہیں اور ہماری کاوشوں کی تکمیل میں خیر و برکت شامل کردیتے ہیں۔  اللہ تعالی ہم سے کبھی کبھی ایسا کام سرانجام کروا دیتے ہیں جس کا اجر تا قیامت ملتا رہتا ہے۔  جیسے انسانیت کے لئے ایسی علمی تحقیق جس سے ہر انسان مستفیذ ہو، کوئی دوا   ایجاد کرنا جس کے بے شمار فائدے ہوں۔ کوئی رفاہی ادارہ یا عمارت تعمیر کرنا جس سے لاکھوں لوگوں کو فیض ملے۔ اسی طرح کسی علم کی ترویج کرنا یا کتب تصنیف کرنا جس میں معاشرے اور فرد کی اصلاح کا پہلو ہو اور اس کی تحریر اللہ تعالی کی خوشنودی اور رضا کا حصول کے ساتھ ساتھ انسانیت کی بھلائی ہو۔

اس کے برعکس کوئی عمل یا کام جو صرف ذاتی مقاصد کے لئے ہو لیکن بظاہر سماجی، معاشرتی اور مذہبی  اقدار کی تعمیل میں انجام دیا جائے؛ جس میں اخلاص کی کمی  اور نیک نیتی کا فقدان ہو، ایسا عمل   ریاکاری میں شمار ہوگا۔  اور ریاکاری گناہ ہے۔  ہر گناہ گار  سزا کا مستحق ہوتا ہے۔ 

مثال کے طور پر  ہم کسی غریب انسان کی بیٹی کی شادی میں اپنی طرف سے جہیز دیتے ہیں۔   جہیز کی رقم ایک لاکھ روپے ہیں۔ لیکن اس کی تشہیر اور سینہ بہ سینہ  لوگوں کو راز دارانہ  انداز میں بتانا اور پھر کہنا کہ کسی کو بتانا نہیں۔

 صدقہ خیرات کے ضمن میں اﷲ تعالیٰ اہل ایمان کو مخاطب کرکے ارشاد فرماتا ہے کہ  اے ایمان والو !  اپنے صدقات کو احسان جتاکر اور تکلیف پہنچاکر ضائع نہ کرو اُس شخص کی طرح جو اپنا مال لوگوں کو دکھانے کے لئے خرچ کرتا ہے ۔  اﷲ پر اور یوم آخرت پر ایمان نہیں رکھتا ۔

ریا کاری کے اسباب:

ریا کاری کی بنیاد اور اصل وجہ  "جاہ  و مرتبہ"کی محبت ہے اور جس کے دل پر اس چیز کی محبت غالب آ جاتی ہے اس کی ساری فکر مخلوق کی رعایت ،ان کا چکر لگانے اور ان کے دکھاوے میں محدود ہو کر رہ جاتی ہے اور وہ اپنے تمام تر اقوال وافعال اور جملہ تصرفات میں ہمیشہ ان چیزوں کی طرف متوجہ ہو جاتا ہے جن سے لوگوں کے نزدیک اس کا مقام ومرتبہ اونچا ہو۔ 

آج کل ہمارا معاشرہ مسابقت کی ڈگر پر چل رہا ہے۔ کسی کے پاس اچھا موبائل دیکھا تو فوراً  دل میں خیال آتا ہے کہ کسطرح ایسا موبائل حاصل کروں۔  جبکہ جیب میں اپنا اچھا خاصہ موبائل موجود ہے جو بھلا چنگا کام کررہا ہے۔  اسی طرح  کسی محلے دار نے اگر گاڑی خرید لی ہے تو ہم سے برداشت نہیں ہوتا۔   جب بھی محلے دار کی گاڑی دیکھیں تو شیطان منہ چڑانے لگتا ہے اور بار بار یاد دلاتا ہے کہ فلاں نے گاڑی لے لی تم کیوں پیچھے رہ گئے۔ پھر کیا ہوتا ہے کہ ایک دن بنک سے سود پر قرضہ لیکر نئی نویلی گاڑی اپنے گھر کے سامنے لا کھڑی کردی جاتی ہے۔  جبکہ اس کی چنداں  ضرورت نہ تھی۔  لیکن خود کو نمایاں ظاہر کرنے اور جاہ و منزلت دکھانے کے لئے یہ کڑوا گھونٹ پینا پڑا۔  حالانکہ گاڑی خریدنا آسان ہے مگر مستقل گاڑی رکھنا جان جوکھوں کا کام ہے۔

اسی طرح شادی کی بے شمار فضول رسومات کرنا بھی ریاکاری کے زمرے میں آتا ہے کیونکہ شادی جو صرف نکاح، گواہ، مہر، چوھارے اور ولیمہ پر مشتمل ہوتی ہے۔  لیکن ہم لوگ نجانے کیوں مہندی، مایوں، ویڈیوگرافی، فوٹو سیشن، پرتکلف کھانے، جہیز اور دیگر غیر ضروری اخراجات کیوں برداشت کرتے ہیں۔    ہمیں چاہیے کہ شادی خانہ آبادی کو سادگی سے انجام پہنچائیں بلکہ اجتماعی شادی پارٹیوں کا اہتمام کریں۔

اس کے علاوہ آج کل حج و عمرہ ایک  فخر اور شان و شوکت  کی نشانی بن گیا ہے۔ لوگ بڑے   تعجب   سے پوچھتے ہیں کہ ابھی تک حج و عمرہ کیوں نہیں ادا کیا؟ اور خود کئی کئی عمرے ادا کرچکے ہوتے ہیں۔ ہر بار بڑے طمطراق سے روانہ ہوتے ہیں اور اسی طرح واپسی پہ بھی والہانہ استقبال کا اہتمام کیا جاتا ہے۔ باقاعدگی سے سوشل میڈیا پر اپنا سٹیٹس اپ ڈیٹ کرنے کے لئے احرام میں اپنی تصاویر پوسٹ کردی جاتی ہیں۔ آخر میں ایک تسبیح، چند کھجوریں اور آب زم زم گھر گھر تقسیم کیا جاتا ہے تاکہ اپنی شان و شوکت قائم ہوسکے۔جبکہ عبادات اور صدقات وغیرہ   کے لئے حکم ہے کہ خامشی سے سرانجام دیئے جائیں  کیونکہ یہ معاملہ انسان اور اللہ تعالی کے مابین  قائم تعلق کی بنا پر ادا کئے جاتے ہیں اور اللہ تعالی ہمارے دلوں کے حال سے واقف ہیں۔

عصر حاضر اور ریاکاری:

موجودہ دور میں ہر شخص اپنی ظاہری حالت بہتر بنانے میں مگن ہے اور کسی کو باطن کی فکر ہی نہیں ہے۔ ایک وقت تھا جب لوگ ظاہری طور پر بالکل سادہ مگر اندر سے علم و عمل کا سمندر ہوتے تھے مگر آج کل کا معاملہ بالکل اس کے برعکس ہے۔ آج معاشرے کا ہر شخص ظاہر بینی میں دوسروں پر سبقت لے جانا چاہتا ہے۔ نوبت یہاں تک پہنچ چکی ہے کہ عبادات، جو کہ خالصتاً اللہ تعالیٰ کے لیے مخصوص ہیں، ان میں بھی ریاکاری اور دکھاوے کا عنصر غالب نظر آتا ہے۔ کئی لوگ عبادتیں اس لیے کرتے ہیں کہ لوگ انہیں نیک و پرہیز گار کہیں۔

جیسے کچھ جواں سال بچے جنھیں نا ہی دنیا کا تجربہ ہوتا ہے اور نا ہی دین سے آگاہی۔ مگر وہ رمضان کے آخری عشرے میں اعتکاف کی نیت سے مسجد میں معتکف ہوجاتے ہیں۔  اس دوران وہ اپنے دوستوں کو ہر روز اپنی مسجد میں مدعو کرتے ہیں اور عبادت کی بجائے خوش گپیوں میں وقت صرف کرتے ہیں۔ یہی نہیں بلکہ وہ اور ان کے دوست اعتکاف میں بیٹھے ہوئے عزیز و اقارب سے موبائیل پہ ناصرف بات چیت کرتے ہیں بلکہ مسجد سے براہ  راست تصاویر بھی بھیجتے رہتے ہیں۔  ایسی عبادت جس میں خشوع و خضوع نہ ہو محض ریاکاری بن کر رہ جاتی ہے۔ 

ریاکاری کی ابتدا:

اپنی شخصیت کی ظاہری یا باطنی خوبیوں کو لوگوں میں جاہ و منزلت حاصل کرنے کے لئے نمود و نمائش اور دکھاوا  کرنا ایسی عادت ہے جو بچپن سے جڑ پکڑ لیتی ہے۔ 

ایسی عادت خود پسند ی یا خود کو دوسروں پہ فوقیت حاصل کرنے کی چاہ کی وجہ سے ہوتی ہے۔  جیسے اگر آپ کی آنکھیں رنگین ہیں ، بال سنہرے ہیں ، یا آپ گورے اور سڈول جسم کے مالک ہیں یا آپ بائیں ہاتھ سے لکھتے ہیں۔   آپ اچھے قاری ہیں  یا آپ پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کرتے ہیں۔  ایسے میں آپ کے ارد گرد لوگ آپ کے جسمانی خواص کی تعریف کرتے ہیں ۔اس عمر میں انسان نہیں سمجھ پاتا کہ یہ خوبیاں قدرت کا انعام ہیں یا ذاتی انسانی وصف۔  وہ اسے اپنی ذاتی حیثیت میں گردانتا ہے اور یہی امید کرتا ہے کہ لوگ اسی طرح اس کی تعریف و توصیف کرتے رہیں۔  تاکہ وہ ان خوبیوں پہ نازاں ہونے کے جذبے کی تسکین کرسکے۔

خود پسندی کی یہ عادت جب پختہ ہوجاتی ہے تو انسان از خود اپنی تعریف کے پل باندھ کر  داد تحسین حاصل کرنے کی کوشش کرتا ہے اور اس عمل میں اسے کبھی کبھی مبالغہ آرائی سے کام لینا پڑتا ہے۔

ریاکاری کا علاج:

مسلمانوں پر واجب ہے کہ وہ اللہ عزاوجل کے لئے مخلص ہو،ریاونمود اور لوگوں کی مدح وستائش کی خواہش نہ کرے ،بلکہ محض اللہ کی ذات کا ارادہ کرے ،اسی کی خوشنودی کے لئے نیک اعمال انجام دے اور لوگوں کو اللہ کی طرف ہی دعوت دے۔

جو شخص ریاکاری کرتا ہوا پایا جائے تو اس کے والدین اور دوستوں کی ذمہ داری ہے کہ  ریاکار کی سوچ اور عمل کو صحیح رخ  پہ ڈالیں۔ اسے سمجھائیں کہ مسلمان کے تمام نیک اعمال صرف اللہ تعالی کی خوشنودی اور جنت کے حصول کے لئے ہوتے ہیں۔  جبکہ ریاکاری تمام اچھائیوں کو غارت کردیتی ہے۔ ہوسکتا ہے انسان اپنے اعمال کا دکھاوا کرے  تو وقتی طور پر شاید لوگوں کی تعریف سمیٹ لے، لیکن اللہ اس کے عمل کو قبول نہیں کریں گے۔ اور ایک دن عام لوگ بھی اس کی ریاکاری کو سمجھ جائیں گے اور اس سے کتراتے پھریں گے۔  اس لئے اچھائی کے تمام کا م خالص اللہ کے لئے ہونا چاہیں۔

تنبیہ:

 تزکیہ نفس اور خود کو اللہ تعالی  کا  محبوب انسان بنانے  کے لئے ریا کاری کو اپنے دل و دماغ سے نکالنا بہت ضروری ہے۔ کیونکہ یہ دنیا عارضی ہے اور موت کے بعد سب کچھ یہیں رہ جائے گا اور جو ہمارے ساتھ جائے گا نیک اعمال جو خالصتاً  اللہ تعالی کے احکامات کی تعمیل میں کئے گئے ہوں۔

جو لوگ دکھاوے کے لئے مال خرچ کرتے ہیں، اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان پر تھوڑی سی مٹی  ہو، اور ذرا سی بارش اس کو بہا کر لے جائے۔

خیرات کا صحیح طریقہ:

اگر تم خیرات ظاہر دو تو وہ بھی خوب ہے اور اگر پوشیدہ دو اور دو بھی اہل حاجت کو تو وہ خوب تر ہے اور (اس طرح کا دینا) تمہارے گناہوں کو بھی دور کردے گا۔ اور خدا کو تمہارے سب کاموں کی خبر ہے۔

 (اے محمدﷺ) تم ان لوگوں کی ہدایت کے ذمہ دار نہیں ہو بلکہ خدا ہی جس کو چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے۔ اور (مومنو) تم جو مال خرچ کرو گے تو اس کا فائدہ تمہیں کو ہے اور تم جو خرچ کرو گے خدا کی خوشنودی کے لئے کرو گے۔ اور جو مال تم خرچ کرو گے وہ تمہیں پورا پورا دے دیا جائے گا اور تمہارا کچھ نقصان نہیں کیا جائے گا۔

جو لوگ اپنا مال رات اور دن اور پوشیدہ اور ظاہر (راہ خدا میں) خرچ کرتے رہتے ہیں ان کا صلہ پروردگار کے پاس ہے اور ان کو  (قیامت کے دن)  نہ کسی طرح کا خوف ہوگا اور نہ غم۔

دعاء:

اللہ تعالی سے دعا ہے کہ یا رب ہر مسلمان کو اپنی  رضا کے لیے نیکیاں کرنے کی توفیق عطا فرمائے اور ریاکاری، جو کہ آج ایک معاشرتی برائی بن گئی ہے، اس سے معاشرے کو پاک فرمائے۔
 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت