عقیدہ

اس کے معنی ہیں مذہبی اصول کو ماننا،  یقین کامل،  ایمان، بھروسہ،  اعتبار اور اعتقاد۔

عقیدہ،  عربی زبان کے لفظ عقد سے ماخوز ہے۔ جس کے معنی ہیں گرہ  باندھنا یا  ایگریمنٹ۔ یعنی اس کے بعد اس میں کمی بیشی  کی گنجائش باقی نہیں رہتی۔  عقیدہ اچھا  ہونا چاہیے۔ جس میں کوئی شک و شبہات نہ ہوں۔  عقیدہ  دراصل دل کے عمل کا نام ہے۔  یعنی دل کا کسی بات پر ایمان رکھنا اور اس کی تصدیق کرنا۔  تاہم قرآن  و سنت سے اگر کسی عقیدے کا ٹکڑاؤ  ہوتو پھر ضرور  بہ ضرور عقیدہ  میں درستگی کرلینا چاہیے۔ 

عقیدہ اور ایمان میں فرق:  کسی پر ایمان لانے سے مراد  اس کی تصدیق کرنا  اور اس پر یقین رکھنا ہے۔  ایمان اپنے  اصل معنی اور  مفہوم کے اعتبار سے  امن،  امانت اور بھروسے پر دلالت کرتا ہے۔ ایمان  دین اسلام  کی پہلی تعلیم ہے۔ جو اللہ کو کائنات کا مالک،  خالق ،   ساری مخلوقات کا رب،  اور اس کے رسول حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم  کو اللہ تعالی کی طرف سے تمام انسانوں کے لئے  آخری رسول ماننے اور انہیں حق و سچ جان کر ان پر یقین کرنے کا تقاضا کرتی ہے۔

جبکہ عقیدہ سے مراد ایمان کی تعلیمات  جو   اللہ تعالی نے اپنے نبی آخر الزماں   حضرت محمد صلی اللہ علیہ والہ وسلم کے ذریعے عطا فرمائی ہیں ،  ان کا  دل میں راسخ ہوجانا اور شک و شبہات سے بالاتر ہو کر دل میں جاگزیں ہوجانا ہے۔

مسلمان کا دین اسلام کی تعلیمات کو سچا اور خلوص دل سے ان کی تصدیق کرنا ایمان ہے اور یہی عمل اگر راسخ  ہوجائے، جڑ پکڑ لے تو اس کا عقیدہ ہے کیونکہ ایمان نمو پاتا ہے تو عقیدہ بنتا ہے۔

عقیدہ کی اہمیت:  عقیدہ ہی وہ اصل بنیاد ہے جس پر تمام مذہبی اعمال اور روحانی احوال کی عمار ت کھڑی کی جاتی ہے۔ جس پر پختہ یقین کیا جائے ، جس کو انسان دین بنائے اور اس پر اعتقاد رکھے ۔

 جس عمارت کی اساس ہی باطل ،فاسد اور کمزور ہو تو اس پر تعمیر ہونے والی عمارت کا کیا اعتبار ہوگا۔ تمام مذہبی اعمال اور روحانی احوال کے لئے عقیدے کا درست ہونا نہایت ضرور ی ہے ۔عقیدہ مذہب کے لئے  روح   ہے اور باقی تمام افعال و اعمال انسانی جسم  کی مانند ہیں۔
 
عقیدہ جڑ اور تنے کی مانند ہے اور اعمال و افعال شاخوں کی ما نند ۔ تو جس درخت کی جڑ ہی خشک ہو اسی کی شاخیں کیسے سر سبز رہ سکتی ہیں ۔اور اس پر پھل کیسے لگ سکتا ہے ۔ بظاہر انسان جتنا  پنجگانہ نماز بمعہ تہجد ، اشراق ، چاشت اور اوّابین پڑھیں اور سو سال تک پڑھتے رہیں ۔لیکن اس وقت تک عذاب الٰہی سے بچ نہیں سکتے جب تک کہ ایمان و عقیدہ درست نہیں کریں گے ۔

ہم اکثر ٹی وی اور میڈیا پہ یہ دیکھتے ہیں کہ فلاں امام مسجد نے اپنی طالبہ یا طالب کے ساتھ غیر اخلاقی حرکات کیں اور بار بار  ایسا قبیح فعل انجام دیا اور ایک دن پولیس کی حراست میں آگیا۔  ایسے انسان کا ایمان اور عقیدہ یقینا ً کمزور بنیادوں پر قائم ہے۔ اگر وہ شخص صحیح العقیدہ ہوتا اور ایمان کی دولت سے مالا مال ہوتا تو ایسے گناہ کے قریب بھی نہ پھٹکتا۔  غلط کار شخص خواہ وہ امام مسجد ہو اور دن رات عبادات میں گزارے لیکن  برائی  کے راستے پر رواں دواں ہو ،   شیطان کا پیروکار ہو اور اپنے نفس کو کنٹرول نہ کرسکے، یقینا ً  اس کی عبادات محض دکھاوے اور پیٹ کی حد تک محدود ہیں۔  ایسے  انسان کا انجام بہت برا ہے۔

اگر کوئی مسلمان  حق کی خدمت کرنے والا ہے حق کا طلبگا ر او رحق شناس ہے تو  اس کے لئے تاریک قبر کے اندھیر ے میں بھی  نورِ حق کا چاند اور نیا سورج چمکے گا۔

قرآ ن مجید میں 81 مرتبہ ذکر ہوا ہے کہ اے ایمان والو نیک اعمال کرو۔ ہمیں بار بار اچھائی کی ترغیب دی گئی ہے اور برائی سے بچنے کو کہا گیا ہے۔  اگر ہم اپنا تزکیۂ نفس نہیں کرتے  تو کیسے برائی سے بچیں گے۔  تزکیۂ نفس کے لئے ضروری ہے کہ اپنے نفس کو قابو میں رکھا جائے اور جیسے ہی کوئی برا خیال دل میں آئے، فوری استغفار  پڑھیں اور اللہ تعالی سے دعا کریں کہ شیطان سے پناہ دے۔

عقیدہ کی شرعی تعریف:   ارکان ایمان میں اللہ تعالی پر ،  اس کے فرشتوں پر،  اس کی کتابوں پر،  اس کے رسولوں پر،  یوم آخرت پر اور تقدیر پر ایمان رکھنا شامل ہیں۔  

شریعت میں عقیدہ کی دو اقسام ہیں:

1۔ عقائد:   عقائد میں ایسی چیزیں ہیں  جس کا تعلق مادی  چیزوں سے نہیں ہوتا۔  مثلاً اللہ تعالی کی ربوبیت ، پروردگاری،  کار سازی اور پرورش کرنا اور اس کی عبادت کا لازمی ہونا،   ضروری ہونا اور واجب ہونے کا اعتقاد ۔  اسی طرح مذکورہ ارکانِ ایمان کا اعتقاد رکھنا۔

2۔ اعمال:  اعمال کا تعلق عملی کیفیت سے ہے۔ مثلاً  نماز،  زکوۃ،  روزہ اور دیگر عملی احکامات،  اسے عربی میں فروع یعنی شاخیں کہتے ہیں۔  یہ  شاخیں عقائد کی صحت  یا فساد پر قائم ہوتے ہیں۔ 

صحیح عقیدہ:  صحیح عقیدہ ہی وہ بنیاد ہے جس پر دین قائم ہوتا ہے اور اس کی درستگی پر ہی اعمال کی صحت کا دارو مدار ہے۔  جیسا کہ ارشاد باری تعالی ہے کہ:

اللہ کے سوا کوئی عالم الغیب نہیں ہے۔ سورۃ الانعام 59، سورۃ النمل 65
غیر اللہ کے نام کی نذر و نیاز حرام ہے۔ سورۃ البقرہ  173، سورۃ المائدہ 3 
دعاؤں میں خالص اللہ کو پکارا جائے۔ سورۃ یونس 106، سورۃ مومنون 14
تمام پیغمبر بشر ہی تھے۔ سورۃ ابراہیم 11
پیغمبروں کو انسانی جامہ میں خدا سمجھنا کفر ہے۔ سورۃ المائدہ 74-73
قبر میں دفن شدہ لوگ نفع و نقصان کا اختیار نہیں رکھتے۔ سورۃ النحل 21-20
آباؤ اجداد کی اندھی تقلید گمراہی کا سبب ہے۔ سورۃ اشعرآء 74
ہم نے قرآن کو سمجھنے کے لئے آسان کردیا تو کوئی ہے کہ سوچے سمجھے؟ سورۃ القمر 17

اللہ تعالی نے قرآن مجید نازل ہی اسی لئے کیا ہے کہا اسے سمجھا جائے اور اس پر عمل کیا جا‏ئے۔ اگر کسی کا عقیدہ  قرآن کے مطابق نہیں ہے تو اسے چاہیے کہ اپنے عقیدے کی اصلا ح کرے۔

ایک سچے مومن کا عقیدہ:  ایک  انسان    کی نظروں میں  اللہ تعالی کی کبریائی،  قدرت، حاکمیت،  ربوبیت اور سب جہانوں کے خالق اور مالک ہونے کی نسبت  اور حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے قلبی لگاؤ اور اتباع  جس قدر گہری ہوگی،  اسی قدر  وہ  ایمان کےاعلی   درجے پہ فائز ہوگا اور اس کا دل نا صرف اللہ تعالی کی بزرگی میں ہمہ وقت   تسبیح میں مگن ہوگا،  وہیں حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات کو عملی شکل دینے میں مشغول ہوگا۔

مومن کے دل کا قرار اللہ تعالی کی عبادات اور حضور صلعم کی اتباع  میں مضمر ہے۔  ایسے  مومن کی خواہش ہوتی ہے کہ اپنی زندگی کے تمام معاملات اسی طرح نبٹائے جس طرح حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے عمل سے ثابت کئے اور ذاتی مفاد کو یکسر ختم  ہی کردیا  کہ رب کے حکم کے سامنے ہماری  خواہشات اور ہماری انا بے معنی ہیں۔

ایسے مومن کبھی بھی غیر مذہب کے لوگوں  یا ان کی رسومات کو برا بھلا نہیں کہتے۔ اسی طرح ایسے مومن دیگر مسلمانوں کی  بدعتوں اور غیر عقیدہ اعمال کی سرِ عام سرزنش نہیں کرتے۔  بلکہ اپنی سوچ، عمل اور کردار  سے ان لوگوں کے دل اس طرح پھیر دیتے ہیں کہ ان کی نسلیں بھی بہترین مسلمان کی طرح پاکیزہ اور مطاہر ہوتیں ہیں۔

انبیائے کرام اور اولیائے کرام  انسان تھے:  ہمارے علماء اور خطباء  جوش خطابت میں انبیاء علیہم السلام  اور اولیاء کرام کی صفات اس طرح بیان کرتے ہیں کہ  ایک عام فہم اور سادہ دل انسان انبیاء  علیہم السلام اور اولیاء کرام کو اس درجہ بلندی پہ تصور کرتا ہے جیسے خدائے برتر  کے برابر ہوں۔

 تمام انبیاء کرام اللہ تعالی کی مخلوق ہیں اور اللہ ہی کی عبادت کرتے تھے اور اللہ ہی سے ہدایت اور مدد مانگتے تھے۔ اسی طرح اولیاء کرام بھی انسانوں کی طرح تھے۔ مگر ان کے درجات دیگر انسانوں سے بہت بلند ہیں کیونکہ انھوں نے احکام الہی کو اپنی جان سے بڑھ کر فروغ دیا اور عبادات الہی میں راتیں بسر کیں اور تبلیغ دین میں اپنے گھر بار چھوڑے اور  اپنی عمریں صرف کردیں۔  ان کی تعلیمات کی بدولمت لاکھوں غیر مسلم دولت ایمان سے مستفیذ ہوئے۔

ہمارے انبیائے کرام اور اولیائے کرام ہمارے ہیرو ہیں ۔  ہمیں ان کی تعلیمات پہ صدقِ  دل سے عمل کرکے اللہ تعالی کی رضا حاصل کرنا  اور آخرت میں سُرخُرو ہونا ہے۔ 

مگر  رُشد و ہدایت اورطلبِ رزق،  مال اور اولاد کے لئے ہمیں  اللہ تعالی کے حضور دست بدعا ہونا ہے کیونکہ ہمارا خالق،  مالک ،  رازق اور پالن ہار صرف اور صرف اللہ تعالی کی ذات گرامی ہے۔

اللہ تعالی کے سوا، کسی انسان سے  مانگنا،  نا تو انبیائے کرام کی تعلیم رہی اور نا  ہی اولیائے کرام نے  انسانوں کے آگے سجدہ کیا۔

انبیائے کرام اور اولیائے کرام کے مزاروں پہ جاکے سورۃ فاتحہ،  اور سورۃ اخلاص کی تلاوت کرکے انھیں ہدیہ کیجئے اور اللہ تعالی سے ان کے درجات بلند کرنے کی دعا کیجئے۔   اللہ تعالی سے ان عظیم ہستیوں کے فیض کے طلب گار بنئے کہ یا اللہ ہمیں بھی ان جیسا فیض عطا فرمادے۔  جبکہ براہ راست ان عظیم ہستیوں کو اللہ کی جگہ سمجھتے ہوئے مانگنا بہت بڑا گناہ ہے۔ جسے نا ہی اللہ تعالی پسند فرماتے ہیں اور نا ہی  ایسا کرنے کی  ان  عظیم ہستیوں نے تعلیم دی تھی۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت