محبت


کسی چیز کو اچھا  اور مفید سمجھ کر اس کا ارادہ کرنا، اسے چاہنا، محبت ہے۔محبت کے معنی ہیں   نزدیکی، آشنائی، دوستی، یارانہ،  لاڈ، انسیت اور پیار ہونا۔

محبت کا لفظ اردو لغت میں بھی کئی معانی رکھتا ہے۔ محبت  کی کئی اقسام ہوسکتی ہیں۔  یہ محبت  کسی عام شے  سے بھی ہوسکتی ہے اور کسی خاص ہستی ،  فرد  یا رشتے سے بھی ہوسکتی ہے۔ عمومی محبت بھی ہوسکتی ہے اور بھر پور شدت سے بھی محبت ہوسکتی ہے۔ شدید حالت کی محبت میں جان دی بھی جاسکتی ہے اور جان لی بھی جاسکتی ہے۔ شدید قسم کی محبت کو پیار کہتے ہیں اور یہی محبت پروان چڑھتے چڑھتے عشق بن جاتی ہے۔ عشق ایک مرض ہے جو عاشق کو خیالوں کی وادی میں دھکیل دیتا ہے۔ عشق محبت کی حدود پھلانگنے کا نام ہے۔ عشق اس بڑھتی ہوئی محبت کو کہتے ہیں جس میں عاشق کی ہلاکت کا خطرہ ہوتا ہے۔ 

محبت روشنی  کی ایک کرن ہے جو اپنے اندر بے شمار حسین رنگ سمیٹے ہوئے ہوتی ہے۔ محبت زندگی کا طاقت ور ترین  جذبہ ہے جس سے بے شمار جذبے پروان چڑھتے ہیں۔    محبت میں گرفتار افراد انتہائی فرحت اور خوشی محسوس کرنے لگتے ہیں۔ محبت انسان کو ارد گرد کے ماحول سے بےخبر کردیتی ہے۔  محبت  کرنے والے اپنی منصبی ذمہ داریوں کو  پورا کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔ محبت میں محبوب کی تصویر یا محبوب کی موجودگی انسان کی بیماری اور جسمانی درد میں کمی کا باعث ہوتے ہیں۔  محبت صرف محبت مانگتی ہے۔   دو سچی محبت کرنے والے جب ایک دوسرے کے آمنے سامنے ہوں یا رابطے میں ہوں تو ان کے دل کی دھڑکن ایک سی ہوتی ہے۔  جبکہ  دو اجنبیوں کے دلوں کی دھڑکن ایسی نہیں ہوتی۔ 

ایک جیسی خواص اور ایک جیسے چہرے مہرے والے افراد کے درمیان بھی محبت کے امکان ذیادہ ہوتے ہیں۔  باہمی محبت کے لئے الفاظ سے ذیادہ عمل ذیادہ  بلند آہنگ ہوتا ہے۔  جیسے کسی کے لئے اس کی پسندیدہ چائے یا کافی بنا کے پیش کی جائے  یا کسی ادب سے لگاؤ رکھنے والے کو اچھا شعر سنادیا جائے اور   حب رسول رکھنے والے کو آل رسول کی اعلی خدمات  و صفات  بیان کی جائیں یا کسی کے نئے کاروبار کی  ترقی دینے میں اس کا ساتھ دیا جائے اور اس کی اخلاقی مدد کی جائے۔

چاہے جانے کا احساس انسان کو اندر سے روشن کردیتا ہے اور دماغی سرگرمیوں کو بڑھا دیتا ہے۔محبت  کا جذبہ انسان کو دماغی طور پر مضبوط بنانے کے علاوہ جسمانی طور پر بھی  بہادر بنا دیتا ہے۔  مرد عورتوں کے مقابلے میں ذیادہ تیز چلتے ہیں مگر جب دو چاہنے والے اکٹھے چل رہے ہوں تو مرد لامحالہ اپنی رفتار کم کرلیتا ہے اور وہی مرد اگر کسی اجنبی  عورت کے ساتھ چل رہا ہو تو  اس کے لئے قدم ملانا مشکل ہوجاتا ہے۔  محبت کے لئے مرد کو خوبصورت عورتیں متوجہ کرتی ہیں جبکہ عورتوں کے لئے اپنے شریک حیات کے لئے اعلی سماجی طبقے سے تعلق رکھنے والا مرد ہوتا ہے۔  محبت میں کامیابی ہو تو انسان کا جسمانی وزن بڑھ جاتا ہے اور اگر ناکامی کا سامنا ہوتو وزن گر جاتا ہے۔  

 محبت کی بہت سی قسمیں ہیں۔ مثلاً مذہبی لگاؤ اور پیار، کسی خاص رشتے سے پیار، حب الوطنی یعنی وطن سے پیار، کسی انسان کے لئے پیار وغیرہ وغیرہ۔ محبت ہر انسان کا حق ہے۔ کیونکہ محبت کے بغیر انسانی زندگی نامکمل ہے۔ محبت ایک جذبہ  ہے  جو کسی شے یا دوسرے انسان کے لئے دل کی گہرائیوں سے پھوٹتا ہے۔ 

سچی محبت ہمیشہ بے لوث ہوتی ہے۔ محبت مسلسل باہمی رابطے کی وجہ سے پروان چڑھتی ہے۔  یہی رابطہ انسان کی کمزوری بن جاتاہے۔  اسی رابطے کی وجہ سے انسیت  میں اضافہ ہوتا   ہےاور بڑھتے بڑھتے یہ انسان کے جسم و جاں اور روح تک سرایت کرجاتی ہے۔بعینہ اگر رابطے منقطع ہوجائیں اور ملاقات نہ رہے تو آہستہ آہستہ محبت  کا جنون زائل ہوجاتا ہے اور ایک خواب و خیال بن کے ذہن کے کسی گوشے میں ایک معدوم نشان باقی رہ جاتا ہے۔

محبت میں کوئی تعرض ہو یا کوئی ذاتی مفاد مضمر ہو تو وہ محبت پاک نہیں ہوتی۔ ایسی چاہت کو محبت نہیں کہتے بلکہ  دکھاوے کی محبت، جھوٹی محبت، پیار کا ڈھونگ، ناز نخرے سے کھیلنا، کسی خیال سے کھیلنا اور تفریحاً   محبت کرنا کہتے ہیں۔   اس قسم کی محبت وقتی ہوتی ہے اور وقت گزاری کے لئے کی جاتی ہے۔   اور اپنی انا کی تسکین کے لئے ہوتی  ہے۔

آج کل ہر کوئی محبت کے مرض میں مبتلا ہے۔  جہاں کوئی خوب رو چہرہ دیکھا ، یا موٹی مرغی نظر آئے، یہ مرض  سر اٹھانے لگتا ہے۔ ایسے رویے کو محبت کے پیرائے میں نہیں لیا جاسکتا۔  اگر ظاہری حیثیت کو مدنظر رکھ کر جذبات اجاگر ہوں تو یہ محبت کے زمرے میں نہیں آسکتی۔ کیونکہ محبت ایک ایسا جذبہ ہے جو حسن اور جسم سے نہیں بلکہ دل سےہوتا ہے۔ جس میں خوبصورتی یا بد صورتی کا کوئی دخل نہیں ہوتا۔ کچھ لوگ جسم کے حصول   یا مادی فوائد کی خواہش رکھتے ہیں  اور اپنی اس تمنا کو پورا کرنے کو محبت کا نام  دیتے ہیں۔  ان کا یہ نقطہ نظر یکسر غلط ہے۔  ایسے لوگ ہی اس محبت کے  رشتے کو بدنام کرتے ہیں۔

محبت کے کئی دیگر روپ بھی ہیں اور ہر ایک دوسرے سے حسین اور دلکش ہے۔ محبت  بچے اور ماں کی ممتا میں ہوتی ہے،  محبت  پدرانہ شفقت میں ہوتی ہے،  محبت بہن اور بھائی کے رشتے میں ہوتی ہے، دوستی میں بھی محبت ہوتی ہے، شوہر اور بیوی کے نکاح کے بندھن میں محبت ہوتی ہے اور سب سے اعلی  محبت اللہ تعالی کی اپنے بندوں سے محبت ہوتی ہے جو ستر ماؤں  کی محبت سے ذیادہ ہے۔ 

سچی  محبت کا مطلب بہت کم لوگ جانتے ہیں۔    اصل محبت لالچ سے بالاتر ہوتی ہے،  کسی کو پانے کی غرض سے نہیں ہوتی ۔ حقیقی محبت روح تک رسائی حاصل کرنے کا نام ہے اور جسم پانے کی چاہت محض ایک ہوس ہے۔   محبت ایمان جیسی ہوتی ہے اور روح کی غذا ہوتی ہے جبکہ ہوس نفس کی غذا ہے۔ 

اگر کوئی محبت اور ہوس میں تفریق کرنا چاہے تو کچھ وقت کے لئے اس انسان  سے کنارہ کشی اختیار کرکے  دیکھ لے۔  اگر تو آپ کی روز مرہ کی زندگی میں کوئی کمی محسوس ہو، یا کوئی فرق پڑے تو سمجھ لیں کہ یہی محبت ہے۔ 

 سچی محبت پانے کا نام نہیں ہے بلکہ قربانی کا نام ہے۔  محبت اپنی ذات کے لئے نہیں ہوتی بلکہ محبت تو محبوب کو خوش رکھنے کے لئے ہوتی ہے۔ محبت کرنے والے اپنے محبوب کی ایک جھلک اور مسکراہٹ کے لئے اپنی تمام جمع پونجی  لٹانے پر فخر محسوس کرتے ہیں۔سچی محبت کرنے والے اپنے محبوب کے کھونے پر یا اس کے وصال پُر ملال پر  بھی کبھی خود کو اکیلا نہیں سمجھتے بلکہ محبو ب کی یاد اور محبوب کی شبیہ ان کے جینے کا سبب ہوتی ہے۔

سچی محبت جب اپنے عروج پہ پہنچ جائے تو عشق کی منازل طے کرتی ہے۔  جس میں انسان کی روح  اور جسم بالیدگی اور پاکیزگی کا غسل کرکے اللہ تعالی کی طرف ذیادہ دل جمعی سے رجوع کرتے ہیں۔  خیالات میں عبدیت  سرایت کرنے لگے اور انسانوں سے بلا امتیاز محبت کے جذبات اجاگر ہوجائیں اور ذاتی خواہشات  کے مقابلے میں عوام الناس کی خدمت فوقیت اختیار کرنے لگے اور اللہ تعالی سے راز و نیاز کا دورانیہ طویل ہونے لگے تو عشق حقیقی بیدار ہونے لگتا ہے۔ 

یہی وہ مقام ہے جہاں خود کی نفی اور رب کائنات کی اطاعت، عبادت اور احکام الہی کی دل و جان سے پیروی انسان کا چلن بن جاتا ہے اور اسے دنیا کی رغبت اور لالچ سے بے نیاز کردیتا ہے۔

نوٹ: میرے مضامین میرے ذاتی تجربے ، مشاہدے اور علم کی بنیاد پر  لکھے گئے ہیں اور میرے خیالات سے کسی کا متفق ہونا بھی  ضروری نہیں۔ 



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت