بَیوَگی


اس کے معنی ہیں بیوہ ہوجانے  کی حالت،  بیوہ پن،  بغیر بیوی  کے آدمی اور بغیر شوہر کے بیوی۔

ایسی عورت جس کا خاوند فوت ہوجائے یا شہید ہوجائے بیوہ کہلاتی ہے۔       ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ  عموما ً شوہر کی موت کا ذمہ دار اس  کی بیوہ کو ٹھہرایا جاتاہے۔ ایسی  اندوہناک صورت حال میں انہیں کوئی سائبان دکھائی نہیں دیتا اور زندگی کے کڑے لمحات میں جب انہیں اپنے گھر والوں کی محبت و تعاون کی سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے تو وہی اپنے نظریں  چرانے لگتے ہیں۔ ایک عورت جس کے سر کا تاج اس دنیا میں نہیں رہا،  بجائے اس کو حوصلہ دینے اور اس کی داد  رسی کے لوگ  اسے منحوس اور بدقسمت  ہونے کا طعنہ دیں۔ 

دیکھنے میں آیا ہے کہ بیوہ کے سسرال والے اس سے قطع تعلق کرلیتے ہیں۔ اور بیشتر  بیواؤں کو شوہر کی جائیداد  سے بھی بے دخل کردیتے ہیں۔  ایک بے بس اور لاچار عورت جو اتنے بڑے حادثے کا سامنا کرتی ہے اس پہ مہربانی کرنے کی بجائے اسے مزید کمزور کرنا اور اس کے حق سے دست بردار  کرنے کے لئے اس پہ بے جا اثر انداز ہونا،  ایک بیوہ کی کمر توڑنے کے مترادف ہے۔

بیوہ کے لئے آگے بڑھ کر مدد کرنا چاہیے:

ایک بیوہ کا دکھ اتنا گہرا ہوتا ہے کہ برداشت نہیں ہوتا۔  اس کی آنے والی زندگی کیسی ہوگی، کون اس کا ساتھ دے گا اور کو ن اس کی کفالت کرے گا۔ یہ وہ سوال ہیں جو ایک بیوہ کو ہر وقت پریشان کئے رکھتے ہیں۔  

بہت سے بیوہ  مرد اور بیوہ عورتیں ، ان مسائل کا حل چاہتے  ہیں لیکن معاشرے کی روِش اور سوچ کے آگے بے بس نظر آتے ہیں۔ 

ہمارے معاشرے میں مرد اگر بیوی سے جدائی کے بعد دوسری شادی کرلے تو  لوگ  اس اقدام  سے صرف ِنظر کرجاتے ہیں اور اگر یہی کام کوئی بیوہ  عورت کرلے تو اس کے اس   قدم کو اچھی نظروں سے نہیں دیکھا جاتا۔ جبکہ ایک مرد کے مقابلے میں اکیلی عورت کا تنہا رہنا  زیادہ مشکل ہے۔ کیونکہ مرد کے مقابلے میں عورت معاشرتی اور معاشی طور پر زیادہ کمزور ہوتی ہے۔ 

انسانیت کا تقاضا یہ ہے کہ کسی مجبور اور بے بس انسان کی ہمت افزائی کی جائے، اس کے مصائب اور مسائل کے بہتر حل کے لئے ایمان دار اور اچھے انسانوں کو آگے آنا چاہیے اور عملی طور پر   کوشش کرنا چاہیے کہ ایک ضرورت مند اور حق دار عورت کو عزت  سے جینے میں اس کی مدد کریں۔ اس کے لئے روزگار یا  مناسب ماہانہ خرچ دیا جائے تاکہ وہ اپنا اور اپنے بچوں کا خیال رکھ سکے اور معاشرے کا صحت مند اور کارآمد فرد کہلائے۔

بیوہ مرد اور گھر کی زبوں حالی:

یہ سچ ہے کہ کسی مرد کی بیوی کسی بیماری یا ناگہانی موت کے سبب اس دنیا سے رخصت ہوجائے تو مرد بالکل ہی اکیلا ہوجاتا ہے۔  دیکھنے میں چنگا بھلا مرد اندر سے روزانہ ایک ایک  لمحہ ریت کی دیوار کی طرح ٹوٹ رہا  ہوتا ہے۔

اگرچہ نوکری اسی طرح جاری ہوتی ہے لیکن اس نوکری میں کوئی دلچسپ  مقصد نہیں نظر آتا۔  گھر کی ٹھاٹھ باٹھ اسی طرح قائم ہوتی ہے لیکن اس گھر میں سلیقہ نام کی کوئی چیز دکھائی نہیں دیتی۔  ایسے گھروں کے باورچی خانے اور ان دھلے برتن دھاڑ دھاڑ کر اس گھر کی زبوں حالی بیان کررہے ہوتے ہیں۔

ایسے گھروں میں بچے بغیر کسی منزل کے اپنے اپنے راستوں پہ رواں  دواں ہوتے ہیں ۔  ہر ایک کی سوچ انتشار کا شکار ہوتی ہے اور ہر ایک کا راستہ جُدا جُدا ہوتا ہے۔

کاش ایسے گھروں  میں نکاح ثانی کرکے ایک خاتون آجائے تو پھر زندگی اپنی اصل ڈگر پہ روانہ ہوسکتی ہے وگرنہ ایسے گھر صرف مکان بن کے ہی رہ جاتے ہیں۔ اور گھر کا سربراہ  بقیہ زندگی   گم سُم رہ کر گزارتاہے۔  اور بے مزہ  زندگی کو بوجھ سمجھ کے بسر کرتا ہے۔

بیوگی بے بسی نہیں، عزم و جرات کا سفر ہے:

ہمارے معاشرے  کی ناقدری اور بے اعتنائی  کی وجہ سے ایسی بیوہ عورتیں جن کے ساتھ بچے ہوں،  وہ خواتین ہمت و جرات اور استقامت کا ایک ایسا مضبوط پہاڑ ثابت ہوتی ہیں کہ  جہاں وہ معاشرے کے جبر کا جواں مردی سے مقابلہ کرتی ہیں وہیں  اولاد کی پرورش کے لئے ہاتھ پھیلانے کی بجائے محنت کو ترجیح دیتی ہیں۔ 

ایسی باہمت اور باحوصلہ خواتین  نہ صرف اپنے بچوں کی پرورش کرتی ہیں بلکہ انہیں اعلی تعلیم بھی دلواتی ہیں۔   ایسی خواتین آفس میں نوکری سے لیکر تنگ و تاریک  گلی میں رہائش پذیر لوگوں کے گھروں میں برتن اور کپڑے دھوکر اپنے بچوں کا مستقبل تعمیر کرتی ہیں۔ 

ایسی  بیوہ  ماں، یقیناً  ہمارے معاشرے کی سربلندی کی علامت ہے۔  جنھیں قابل عزت و احترام سمجھا جاتاہے۔  

بیوہ کے لئے عدت کے دوران کن باتوں کا خیال رکھناچاہیے:

1۔ بیوہ عورت   شوہر کی وفات سے لے کر چار ماہ دس دن تک سوگ کا عرصہ گزارے گی۔ اس دوران میں اسے ترجیحاً شوہر ہی کے گھر میں رہنا چاہیے اور بلا ضرورت گھر سے باہر کی سرگرمیوں سے اجتناب کرنا چاہیے۔البتہ جن ملازمت پیشہ خواتین کا کوئی اور معاشی سہارا نہ ہو اور گزر بسر کا بھی کوئی متبادل انتظام نہ ہو، ان کا معاملہ الگ ہے۔ وہ ضرورت کے اصول پر دوران عدت میں بھی اپنی ملازمت جاری رکھ سکتی ہیں۔

2۔ عدت کے دوران میں وہ سادہ لباس پہنے اور زیب وزینت سے اجتناب کرے۔ میک اپ، زیورات کا استعمال اور شوخ لباس پہننا  نامناسب ہے۔ لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ وہ صاف ستھری نہ رہے۔

3۔  عدت کے عرصے میں اسے نئے نکاح کا واضح پیغام دینے سے اجتناب کیا جائے۔ اشارے کنایے میں مدعا اس تک پہنچایا جا سکتا ہے، لیکن صاف اورصریح پیغام نکاح نہیں دیا جا سکتا۔

4۔   اگر کوئی خاتون عام معمول کے طور پر خاندان کے تمام غیر محرموں  مثلاً شوہر کے بھائی، بھانجوں بھتیجوں وغیرہ  سے پردہ کرتی ہے تو عدت میں بھی کر سکتی ہے۔ لیکن اگر گھر کے عام ماحول میں ایسے پردے کا التزام نہیں کیا جاتا جو کہ شرعاً لازم بھی نہیں تو دوران عدت میں اس کا کوئی خصوصی اہتمام کرنا شریعت کا تقاضا نہیں۔ 

بیوہ عورت کے لئے بہترین حل:

بیوہ عورت کے لئے بہترین حل یہ ہے کہ اس کا نکاح کروا دیا جائے۔  کیونکہ عورت کو قدم قدم پہ مرد کی ضرورت پڑتی ہے۔ اور اگر ایسی بیوہ جس کے ساتھ بچے ہوں، اس کے بچوں کے تحفظ،   اچھی پرورش اور تعلیم و تربیت کے لئے دوسرا نکاح زحمت نہیں بلکہ رحمت ہے۔

اگر کوئی بیوہ کسی وجہ سے نکاح پر مائل نہ ہورہی ہوتو ایسی صورت میں عورت کے سرپرستوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اس عورت کو مناسب طریقے سے دوسرے نکاح کے لئے راضی کریں۔



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت