غصہ
غُصہ کے معنی ہیں طیش میں آنا، غضب ناک ہوجانا، قہر کی شکل اختیار کرنا، خفگی، ناراضی، عتاب، غیظ وغیرہ۔
غُصہ ایک کیفیت ہے جو انسانی جذبات کی برانگیختگی کی وجہ سے ظاہر ہوتی ہے۔ جس طرح انسانی فطرت خُوشی کو نہیں چُھپا سکتی اسی طرح غُصہ بھی ہمیشہ سامنے آکر ہی رہتا ہے۔
غُصہ انسانی جذبات میں سے ایک ہے جو ہم روز مرہ کی زندگی میں محسوس کرتے ہیں۔ یہ ایک فطری عمل ہے جو کسی ناخُوشگوار واقعہ پیش آنے کے بعد ردِ عمل کی شکل میں سامنے آتا ہے۔ اِس کے نتیجے میں انسان کے اندر مایوسی و جُھنجھلاہٹ پیدا ہوتی ہے، سخت ہیجان پیدا ہوتا ہے، چہرہ سُرخ ہوجاتا ہے، دل کی دھڑکن بڑھ جاتی ہے، نبض کی رفتار تیز ہوجاتی ہے، سانس چڑھنے لگتی ہے۔ حتی کہ ایک سنجیدہ و خوبصورت انسان خوفناک اور وحشت ناک شکل اختیار کرلیتا ہے۔ غُصہ کِبر و خُود بینی اور ظلم و تعدی (حد سے ذیادہ ستم اور حد سے ذیادہ ناانصافی) سے مرتبط ہوتا ہے اسی لئے وہ ہلاکت و بربادی کا سبب بن جاتا ہے۔
غُصہ انسان کے لئے ناصرف انفرادی طور پر نقصان دہ ثابت ہوتا ہے بلکہ یہ ہمارے اِرد گِرد کے لوگوں کے لئے بھی تکلیف اور زحمت کا باعث بنتا ہے۔ اس کی وجہ سے آپ کے کئی دُشمن جنم لیتے ہیں۔ اس کی وجہ سے ناصرف آپ کے خانگی امُور متاثر ہوتے ہیں بلکہ سماجی طور پر نا پسندیدگی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔
غُصے کی حالت میں انسان لڑائی جھگڑا کرتا ہے۔ جس کے نتیجے میں جسمانی، زبانی اور جذباتی طور پر نقصانات واقع ہوتے ہیں جو کہ ہماری جسمانی اور ذہنی صحت کے ساتھ ساتھ انسانی رشتوں کے معیار پر بھی اثر انداز ہوتے ہیں۔
کچھ لوگ غُصہ پی جاتے ہیں اور اس کا اظہار نہیں کرتے۔ کچھ لوگ غُصے کا برملا اظہار کرکے دُشمنیاں مول لیتے ہیں۔ جبکہ عقلمند لوگ غصے کے اظہار کے لئے مناسب وقت اور مناسب طریقہ اختیار کرتے ہیں تاکہ جھنجھلاہٹ، چڑچڑا پن اور ناراضگی جیسے جذبات سر نہ اٹھاسکیں۔
غُصے کے باعث انسان اپنی ذات کو بہت ذیادہ نقصان پہنچاتا ہے۔ دماغی حالت میں تبدیلی کے ساتھ ساتھ غصہ انسان کی جسمانی صحت پر بھی اثر انداز ہوتا ہے۔ جس کی وجہ سے دل دھڑکنے کی رفتار اور فشارٍ خُون میں غیر معمولی تبدیلیاں واقع ہوتی ہیں۔ اگر غصے کا احساس بہت شدید یا دیرپا ہو تو یہ تبدیلیاں ہماری صحت کو ناقابل تلافی نقصان بھی دے سکتی ہیں۔
اللہ تعالی نے جہاں اپنے مومن و مُخلص بندوں کی مُتعدد صفات بیان کی ہیں وہیں ان کی یہ صفات بھی بیان کی ہے کہ الَّذِيۡنَ يُنۡفِقُوۡنَ فِى السَّرَّآءِ وَالضَّرَّآءِ وَالۡكٰظِمِيۡنَ الۡغَيۡظَ وَالۡعَافِيۡنَ عَنِ النَّاسِؕ وَاللّٰهُ يُحِبُّ الۡمُحۡسِنِيۡنَۚ ﴿3:134﴾
جو خوشی اور تکلیف میں خرچ کرتے ہیں اور غصہ ضبط کرنے والے ہیں اور لوگوں کو معاف کرنے والے ہیں، اور اللہ نیکی کرنے والوں کو دوست رکھتا ہے۔
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ "پہلوان وہ نہیں جو اپنے مد مقابل کو پچھاڑ دے۔ بلکہ حقیقی پہلوان وہ ہے کہ جب اسے غصہ آئے تو اپنے آپ پر قابو پالے"۔
غصے پہ قابو پانے کے لئے چند طریقے بیان کئے جارہےہیں جو کارگر ثابت ہوسکتے ہیں:-
اگر آپ کو اپنے جسم میں کچھ تبدیلیاں محسوس ہوں جیسے کہ سانس بھاری ہونا، سر درد ہونا، دل کا غیر معمولی رفتار کے ساتھ دھڑکنا، پھٹوں میں کھنچاؤ کی کیفیت، تو ان تمام علامات پر فوراً دھیان دیں۔ اُن علامات سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ آپ ایک غیر معمولی جذباتی کیفیت کا شکار ہورہے ہیں۔
اگر آپ ان جسمانی تبدیلیوں کو محسوس کررہے ہیں تو گہرے سانس لیں۔ سانس اندر لیتے ہوئے کچھ وقفہ دیں اسی طرح کچھ وقفہ سانس روکے رکھیں اور پھر سانس باہر نکالتے ہوئے کچھ وقفہ دیں۔
آدھ گھنٹہ کا وقفہ لیجئے تاکہ آپ خود کو پُرسکون کرسکیں۔ کمرے سے باہر نکل جائیں یا پھر مکالمہ ادھورا چھوڑ دیں۔ ہر ممکن کوشش کیجئے جس کی مدد سے آپ پرسکون محسوس کرسکیں۔
تلاوت سُنیں۔ یا کوئی ایسی شے سنیں جو آپ کو پسند ہو۔ اپنا دھیان بٹانے کی کوشش کریں۔
کوئی بھی ایسا کام کریں جو آپ کی توانائی بحال کرسکے۔ مثلاً ورزش، رقص، کھیل کھیلنا یا پھر پیدل چلنا۔
اپنے خیالات اور احساسات قلم بند کریں۔
کسی سے مدد اور سہارا لیجئے۔
اپنی ذات کا جائزہ لیجئے جو عوامل آپ کے غصے کا سبب بنے ان پر غور کیجئے۔
جب آپ بہتر محسوس کریں تو مناسب انسان سے بات کیجئے۔
اگر غصہ کو سُلجھانے میں ناکامی ہو تو خُود کو کسی تعمیری سرگرمی میں لگائیں۔
کبھی کبھار کا غصہ صحت مند کی نشانی ہے لیکن ہر وقت کا غصہ آپ کا دشمن ہوسکتا ہے۔
غصہ کے وقت برداشت کا ایک لمحہ آپ کو ہزار مرتبہ شرمندگی اور خجلت سے بچا سکتا ہے۔
تبصرے