شوہروں کی اقسام
شوہروں کی اتنی قسمیں ہیں کہ ساری کتا ب ان کے لئے مختص کردیں تو ان کے کارہائے نمایان ختم نہ ہوں۔
تاہم ان بے شمار شوہروں میں سے چیدہ چیدہ خواص بالترتیب بیان کئے جاتے ہیں۔ اور آپ کو یہ تلاش کرنا ہے کہ آپ کس زمرے میں آنے والے شوہر ہیں۔
نمبردار شوہر:
کسی گاؤں کا نمبردار جو خود کو عقلِ کُل اور صاحب ِاختیار سمجھتا ہے ۔ ایسا شوہر ایک منٹ بھی سکون سے نہیں بیٹھتا بلکہ ہر وقت حکم پہ حکم صادر کرتا ہے۔ اور یہ چاہتا ہے کہ اس کے ہر حکم کی فوری تعمیل ہونا چاہیے۔ گویا بیوی ہر وقت تگنی کا ناچ ناچتی رہے۔
ایسا شوہر اپنی بیوی کو جوتے کی نوک پہ رکھتا ہے اور وہ بے چاری ہر وقت غمگین رہتی ہے۔ایسی بیوی کا لہجہ ہمیشہ مظلومانہ ہوتا ہے اور چہرے پر ہروقت ایک کھنچاؤ کی سی کیفیت رہتی ہے۔
ایسا شوہر اندر سے خوف زدہ ہوتا ہے ۔ ظاہری رکھ رکھاؤ اور رعب کی وجہ سے بیوی کو تحکمانہ انداز سے مخاطب کرتا ہے۔ جبکہ ایسے شوہر کے سامنے بیوی کے بھائی اور دیگر معتبر شخصیات آجائیں تو جھاگ کی طرح بیٹھ جاتا ہے اور مصنوعی مسکراہٹ سے بات کرنے کی کوشش کرتا ہے۔
ایسا شوہر جھوٹ کا سہارا لیتا ہے اور اپنی ناکامیوں کو دوسروں کے پیٹے میں ڈالتا ہے تاکہ اپنا بھرم قائم رہ سکے۔
ایسے شخص کی پہچان یہ ہے کہ وہ گھر کے چھوٹے چھوٹے کاموں میں دلچسپی لیتا ہے اور ماضی کے سچے جھوٹے کارناموں کا بار بار ذکر کرتا ہے۔ ایسے کارنامے جس کا کوئی شاہد یا گواہ نہ ہو۔
جبکہ ایسے شخص کی بیوی ہر وقت خوف او ر دہشت کے ماحول کا سامنا کرتی ہے۔ نارمل حالت میں بھی ایک خوف چہرے پہ جھلک رہا ہوتا ہے۔ ایسی بیوی وقت سے بہت پہلے بڑھاپے کے آثار کا اشتہار بن جاتی ہے۔ اور اگر ایسے شخص کی بیوی اس کے اپنے مزاج جیسی مل جائے تو طلاق کے لئے طویل انتظار نہیں کرنا پڑتا بلکہ شادی کے ابتدائی چالیس دن ہی اہم ہوتے ہیں۔
کتابی شوہر:
گھر میں موجود ہوتے ہیں تو بڑی بڑی کتابیں ان کا احاطہ کئے ہوتی ہیں۔ ہر وقت پڑھائی میں غرق رہتے ہیں۔ اپنی پڑھائی کے دوران ہر طرف کتابیں اور اوراق پھیلے ہوتے ہیں۔ کہیں سیگریٹ کا دھواں مرغولے کھاتا نظر آتا ہے تو کہیں چائے کے کپ اوندھے پڑے ہوئے منہ چڑا رہے ہوتے ہیں۔
کھانے کے لئے جب بیوی بلائے تو پانچ منٹ کا کہہ کر ایک گھنٹہ کہاں گزر گیا انھیں معلوم نہیں ہوتا۔ بیوی کے شور مچانے پر اپنی کتابی دنیا کو بے دلی سے خیر باد کہتے ہوئے براہ راست کھانے کی میز پر براجمان ہوجاتے ہیں۔ ہاتھ دھونے کے لئے بھی بیوی علیحدہ سے بڑے برتن میں میز پر بیٹھے بیٹھے پانی سے ہاتھ دُھلاتی ہیں۔
کھانے کے دوران زیادہ تر خاموش رہتے ہیں اور اگر کھانے کی تعریف کرنا پڑے تو اشعار کے ذریعے یہ ذمہ داری پوری کرتے ہیں۔ حالانکہ انھیں اچھی طرح علم ہے کہ اشعار سے بیوی کے سر میں درد شروع ہوجاتا ہے۔ اپنی طرف سے بیوی کو ہنسانے کے لئے ایسا کرتے ہیں لیکن درحقیقت اپنی فطرت کے ہاتھوں مجبور ہوتے ہیں۔
کھانے کے بعد بھی بیوی کے لئے وقت نہیں نکالتے بلکہ اپنی کتابی دنیا میں غوطہ زن ہونے پھر سے اُسی ٹھکانے پہ چلے جاتے ہیں۔
ایسے شوہر بہت خُشک دماغ ہوتے ہیں۔ گھر میں آنے والے مہمانوں سے سلام دُعا بھی نہیں لیتے بلکہ بیوی کو ہی مہمانوں کو کمپنی دینا پڑتی ہے۔ مہمانوں کو یہی بتایا جاتا ہے کہ شوہر کسی بڑی ڈگری کے لئے تیاری میں مصروف رہنے کی وجہ سے مہمانوں کو وقت نہیں دے پاتے۔
جبکہ اُن کی بیویاں سماج میں بہت مِلن سار اور سوشل سمجھی جاتی ہیں۔ اپنے اکیلے پن کو دُور کرنے کے لئے لوگوں کے کام آنا، سماجی محافل میں سرگرم رہنے سے لوگ انھیں اچھے الفاظ میں یاد کرتے ہیں۔
ایسے شوہر شاید احساسِ کم تری، یا احساسِ برتری کا شکار ہوتے ہیں۔ لوگوں کو اپنے معیار کے مطابق نہیں سمجھتے اور محلے میں دوستی نہیں رکھتے۔ آہستہ آہستہ ان کی اکیلے رہنے کی عادت ان کو پورے سماج اور شتہ داروں سے کاٹ کے رکھ دیتی ہے۔ آخری ایّام میں انھیں اپنی غلطی پہ گہرا افسوس ہوتا ہے اور بیوی کی طرف ملُتِجانہ انداز سے دیکھتے ہیں۔ بیوی اب کیا کرے وہ بھی اپنے انداز سے جینے کو اہمیت دیتی ہیں۔
کٹھ پتلی شوہر:
ایسے شوہر خاندانی اور مالی طور پر بیوی کے خاندان سے کافی کمزور ہوتے ہیں۔ بلکہ یوں سمجھیئے کہ ایسے شوہر کا اپنا خاندان نہ ہونے کے برابر ہوتاہے۔ اور پھر شادی کے بعد یہ صاحب از خود اپنے گھر والوں سے کٹ جاتے ہیں۔
ان کی زندگی اسی طرح گُزرتی ہے جس طرح پَسپا ہونے والی فوج کے ساتھ دُشمن کی فوج نبٹتی ہے۔ اور جو شخص اپنی شادی میں خاندان کے بڑے بوڑھوں کو شامل نہیں کرتے، بلکہ ان کی جگہ خود کو ہی بڑا سمجھنے کی غلطی کرتے ہیں اور بقیہ زندگی ایسی غلطی کا خمیازہ بھگتنے میں گزار دیتے ہیں۔
گویا ایسے شوہر عملی طور پر بیوی اور اس کے میکے والوں کی خدمت پر چوکس اور تیار رہتے ہیں۔ ہر دم چَوکنّا رہتے ہیں کہ کب ادھر سے کوئی حکم ملے تو اسے پورا کروں۔ ان کی زندگی کسی ورکشاپ میں کام کرنے والے بچے جمورے سے مختلف نہیں ہوتی۔
اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ اگر بیوی اور سُسرال زر دار اور مال دار مل جائے تو بڑے بڑے پھنّے خانوں کو اپنی چوکڑی بھول کر بچہ جمورا بننے میں دیر نہیں لگتی۔
ایسے شوہر بیوی اور سسرال والوں کے کسی حکم سے سرتابی کرنے کی جرات نہیں کرتے بلکہ اپنی نرم خوئی اور شیریں کلامی کے باعث سسرال میں اچھے الفاظ سے یاد کئے جاتے ہیں۔ اور پرسکون و پرتعیش زندگی کے مزے لوٹتے ہیں۔
ناز پَروُردہ شوہر:
پتلی کمر، غنچے کی طرح دہن اور نرم و نازک جسم اور طبعیت کے حامل شوہر بہت حسّاس، ماں کے لاڈلے اور بیویوں کے راج دلارے ہوتے ہیں۔
زمانے کی گرم ہوا، انھیں چھو کر نہیں گزری ہوتی۔ اگر غلطی سے کھلے میدان میں تیز ہوا کے سامنے تھوڑی دیر کھڑے رہیں تو چھینکیں آجاتی ہیں۔ دھوپ برداشت سے باہر ہوتی ہے۔
ذرا ذرا سی بیماری کے باعث آفس نہیں جاتے۔ انھیں بیماری سے زیادہ وہم ہوتا ہے کہ انھیں الرجی ہے، ان کا معدہ خراب ہے ۔ ٹھنڈی بوتل پی لیں یا گرم چائے پی لیں تو گلے میں خراش ہونے لگتی ہے۔
ایسے شوہر اپنے گھر میں تو لاڈلے ہوتے ہیں مگر خوش قسمتی سے بیوی بھی انھیں اسی نگاہ سے دیکھتی ہیں۔ سسرال چلے جائیں تو ہمیشہ دولہے کی طرح استقبال ہوتا ہے۔
ایسے گھر میں کوئی جھگڑا اور لڑائی نہیں ہوتی بس دوا دارو میں کسی طرح کمی نہیں ہونے دی جاتی۔
تا ڑو شو ہر:
انسان کی تربیت میں کوئی خامی رہ جائے تو تا حیات اس کے اثرات باقی رہتے ہیں۔ ایک شادی شدہ انسان معاشرے کی بنیادی اکائی ، یعنی ایک کنبے کا سربراہ ہوتا ہے۔ اس کی جہاں عائلی ذمہ داریاں ہیں وہیں سماجی ذمہ بھی بڑھ جاتی ہیں۔
اسلام میں ہمیں یہ سکھایا جاتاہے کہ سب مسلمان آپس میں بہن بھائی ہیں اور شادی سے پہلے سبھی اسی رشتے سے جڑے ہوتے ہیں لیکن جس سے نکاح ہوجائے وہ رشتہ ازدواج سے منسلک ہوجاتا ہے۔
اس کے علاوہ ہمیں یہ سکھایا جاتا ہے کہ کسی غیر محرم پہ نظر نہ ڈالو، بلکہ اپنی نظریں نیچی رکھو۔لیکن کچھ لوگ نکاح کے بعد یہ سمجھتے ہیں کہ گویا انھیں کسی غیر محرم لڑکی کو کسی انداز سے بھی دیکھنے کا لائسنس مل گیا ہے۔
ہمارے معاشرے میں یہ برائی اپنے عروج پہ ہے۔ ایک طرف یہ بد تہذیبی شمار ہوتی ہے دوسری طرف انسان کے اندر کا خبیث نفس کھل کے باہر آجاتاہے۔ کسی کی ماں بہن کو بری نظر سے دیکھنا نا صرف سماجی طور پر برائی ہے، بلکہ اخلاقی طور پر بھی اسے اچھا نہیں سمجھا جاتا۔ سب سے بڑھ کر یہ انسان کی نفسیات پہ بہت ہی برے اثرات مرتب کرتی ہے۔
بجائے انسان برائیوں پہ کنٹرول کرے اور شیطانی کاموں سے دور رہے، کسی غیر محرم کو تاڑنے کی امنگ انسان کو اخلاقی پستیوں کی طرف دھکیل دیتی ہے۔
ایسے انسان کی آنکھوں سے شرم ختم ہوجاتی ہے اور اس کی مسکراہٹ میں شیطنت کا عنصر شامل ہوجاتا ہے اور اخلاقی طور پر انحطاط کا شکار ہوجاتاہے۔ یہاں تک کہ وہ اپنے گھر میں بیٹھے ہوئے اپنی فطرت سے باز نہیں آتا۔
بیگم کی نظریں اس کی بد نیت نظروں کے تعاقب میں مسلسل رہتی ہیں۔ لیکن شادی شدہ انسان جب برائی کی طرف گامزن ہوجائے تو اسے اللہ ہی روک سکتا ہے۔
ایک انسان میں تاڑنے کی عادت جانوروں میں پائی جانے والی شہوت کی خصلت سے مماثلت رکھتی ہے۔ جو شخص جتنا اس قبیح فعل کا مرتکب ہوگا اسی قدر اس میں جانور پن کا عنصر زیادہ ہوگا۔
ناکارہ شوہر:
کچھ لوگ ہوش و ہواس میں ہونے کے باوجود بھی بے وقوفوں ، نِکموں اور بے کار لوگوں کی طرح زندگی گزارتے ہیں۔
جہاں نوکری کرتے ہیں ، اپنی غیر حاضری اور غیر حاضر دماغی کی وجہ سے جلد ہی نوکری سے ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
کاروبار کی سوجھ بوجھ نہیں ہوتی، دیکھا دیکھی کوئی کاروبار شروع کردیتے ہیں اور بہت سا سرمایہ کاروبار میں پھنسا کر سسرال یا دیگر لوگوں سے مانگ تانگ کر گزارہ کرتے ہیں۔
اس کی بنیادی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ایسے شوہر ماسوائے باتیں کرنے، گھر میں لیٹے لیٹے پلنگ توڑنے اور ڈینگیں مارنے کے علاوہ کسی دوسرے کام سے نابلد ہوتے ہیں۔
ان کی بیوی کما کے ان کے اخراجات، پان سیگریٹ اور دیگر شوق پورا کردیتی ہیں۔ اور یہ مزے سے کھاتے ہیں اور بیوی کی کمائی پر عیش کرتے ہیں۔
بلاوجہ بیماری کا بہانہ کرکے چارپائی توڑتے رہتے ہیں اور جیسے ہی بیوی کچھ رقم نکال کردے دیں تو بیماری کو بھول کر فوراً کھڑے ہوجاتے ہیں شاورما لینے بھاگ کر چلے جاتے ہیں۔
ایسے شوہر اپنے نکمے پن پر بیوی سے رقم اینٹھنے کو ہی بڑا معرکہ سمجھتے ہیں اور بیوی اسی میں خوش رہتی ہیں کہ کوئی بڑی مانگ نہیں سامنے رکھ دی۔
ان دونوں کی زندگی اسی طرح کشمکش میں گزر جاتی ہے اگر اولاد اچھی نکل آئے تو گھر کے حالات بہتر ہوجاتے ہیں وگرنہ وہ بھی باپ کے نقش قدم پر چلنے میں بڑا فخر سمجھتے ہیں۔
پیٹو شوہر:
ایسے شوہر کھانے پینے کا ناصرف شوقین ہوتے ہیں بلکہ کھانے پینے کو بطور سپورٹس لیتے ہیں۔ ان کی خواہش ہے کہ کھانے پینے کا مقابلہ عام ہونا چاہیے۔
ہر وقت کھانا پینا اُن کو ستاتا ہے۔ کچھ دیر پہلے ناشتہ کیا ہو تو بازار جاتے ہی بھول جاتے ہیں۔ اگر کسی نے غلطی سے ناشتے کی صلح مار لی تو کبھی انکار نہیں کرتے۔
ایسے شوہر بے ہنگم ڈیل ڈول کے مالک ہوتے ہیں۔ لمبا قد، سڈول جسم اور لمبے ہاتھ و پاؤں ان کی پہچان ہوتے ہیں۔
گھر میں ہوں تو بیوی سے طرح طرح کے کھانوں کی فرمائش کرتے ہیں۔ اور اگر قسمت سے اچھا کھانا پکانے والی بیوی مل جائے تو ان کے باورچی خانہ میں جانے پہ ان کا دل بلّیوں اچھلنے لگتا ہے اور باچھیں کھل جاتی ہیں۔
ایسے شوہر کو کھانے پہ مدعو کرنا ان کے لئے باعث مسرت ہی نہیں ہوتا بلکہ موڈ باغ و بہار کی طرح کھل جاتا ہے۔ آپ نے کھانے پکانے کے متعلق کچھ سوچ رکھا ہو، پھر بھی آپ کو فرمائشی ڈش بتائے بغیر نہیں رہ سکتے۔
ایسے شوہروں کی بیوی ساری عمر باورچی خانے کی نذر کردیتی ہے۔
کنجوس شوہر:
کچھ لوگ بہت کنجوس ہوتے ہیں۔ پیسوں کی ریل پیل کے باوجود ان میں قوت خرید نہیں ہوتی۔ پیسے جمع کرنے سے ان کی طبعیت ہشاش بشاش رہتی ہے۔ اور شاپنگ مال جانے سے بھی نہیں گھبراتے۔ کیونکہ وہ اپنی خریداری کے شوق کو ونڈو شاپنگ سے پورا کرلیتے ہیں۔
ان کی ترجیحات عا م لوگوں سے بالکل ہی مختلف ہوتی ہیں۔ ایک ایک پائی کا حساب رکھنا ان کا من پسند شوق ہوتا ہے۔ ہمیشہ ان لوگوں کو پڑھتے رہتےہیں جنھوں نے مالی طور پر بڑی بڑی کامیابیاں حاصل کی ہوں۔
ایسے لوگوں کے ذاتی اخراجات، آمدنی کے مقابلے میں نہایت کم ہوتے ہیں۔ لیکن پھر بھی گاڑی لیں گے تو سب سے سستی گاڑی کاانتخاب کریں گے۔ گاڑی کی بیٹری کا مسئلہ ہے تو جمپر (اشتراک) یعنی ایک بیٹری سے دوسری بیٹری کے ذریعے گاڑی اسٹارٹ کرنے والی موٹی تار نہیں خریدیں گے۔ بلکہ راہ چلتے یا محلے میں سے کسی سے مستعار لے لیں گے۔
ایسے لوگوں کی ایک خوبی یہ ہے کہ اپنے چہرے پہ مسکراہٹ سجائے رکھتے ہیں۔ ان کی طرف دیکھنے سے مایوسی نہیں ہوتی بلکہ ایک اپنائیت جھلکتی ہے۔
گھر سے باہر نکلتے ہوئے یا کسی سفر پہ روانہ ہونے سے پہلے صرف اتنے پیسے ہی پرس میں رکھتے ہیں جس قدر راستے میں خرچ ہوں گے۔ بینک کا کارڈ، ویزا کارڈ اور قیمتی موبائیل لیکر سفر نہیں کرتے۔
بیگم کی چھوٹی چھوٹی خواہشوں کو نظر انداز کردیتے ہیں۔ جبکہ بیگم کو بیسیوں تولے سونا خریدنے کا معاملہ ہو تو ذرا سا تامل نہیں کرتے۔ جھٹ سے پیسے نکال کردے دیتے ہیں۔
بیگم کے لئے گھر و زمین اور پلاٹ بڑے شوق سے خرید کر لیتے رہتے ہیں۔ اس طرح بیگم بہت خوش رہتی ہیں۔ اور میاں تو پہلے سے ہی خوش ہوتے ہیں کہ فضول خرچی سے بہتر مستقل سرمایہ کاری کردی اور ریئل اسٹیٹ سے بہتر کوئی سرمایہ کاری نہیں ہوتی۔
اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ کنجوسی ایک طرز فکر ہے اس کا پیسوں کے ہونے یا نا ہونے سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔
شرمیلا شوہر:
یہ قسم اس مرد کی ہوتی ہے جسے مرد قطعاً پسند نہیں کرتے۔ کیونکہ ان کی عادات اور اطوار ایسے ہوتے ہیں کہ مرد تو مرد خواتین بھی ایک دوسرے کو سوالیہ نظروں سے دیکھتی ہیں اور پھر مسکرا کر، منہ پہ ہاتھ رکھ کے خاموش ہوجاتی ہیں۔
ایسے مرد وں میں اعتماد نام کی چیز نہیں ہوتی۔ انتہائی بزدل اور خوف زدہ ہوتے ہیں۔ کسی غیر خاتون کو دیکھ کر ان کی جان ہی قبض ہوجاتی ہے۔ لڑکیوں کو دیکھ کر عجیب مضحکہ خیز حرکتیں کرنے لگتے ہیں۔ ان کا بس چلے تو شرٹ میں منہ چھپا لیں۔
بچپن ماں کی گود میں گزارتے ہیں اور اگر شادی ہوجائے تو بقیہ زندگی بیوی کے پیچھے چھپ کر گزار دیتے ہیں۔ کہیں جائیں تو بیوی کے پاس گھس کر بیٹھتے ہیں اور کسی بھی بات کا جواب دینے سے پہلے بیوی سے سوالیہ نظروں سے جواب پوچھنے کی کوشش کرتے ہیں۔
اسی طرح محفلوں میں گپ شپ سے کتراتے ہیں۔ کسی سے بات کرنے کی جرات نہیں ہوتی۔ بس کام کی بات کی حد تک بات کرتے ہیں۔ اور اگر ان سے کسی نے بات کرنے کی کوشش کی تو بے وقوفوں کی طرح مسکرا مسکرا کر باری باری سب کو دیکھتے ہیں۔لیکن زبان سے کچھ نہیں کہتے۔
گھر کا دروازہ کھٹکے یا ٹیلیفون کی گھنٹی بجے، بیوی ہی پہل کرتی ہیں اور خود دور سے یہ جاننے کی کوشش کرتے ہیں کہ کون ہے؟ ایسے شوہروں کا ریموٹ بیوی کے ہاتھ میں ہوتا ہے۔
پردیسی شوہر:
ایسا شوہر جو کاغذوں میں اور شناختی کارڈ میں بطور شوہر لکھا ہوا ہوتا ہے مگر شوہروں والی تمام ذمہ داریاں بے چاری بیوی کے کندھوں پہ آجاتی ہیں۔ بچوں کی پرورش کی حدتک تو ماں اپنی ذمہ داریاں اچھے طریقے سے سرانجام دے سکتی ہے لیکن گھر کے باہر کے کام اور بچوں پہ باپ کے سایے کا کوئی نعم البدل نہیں۔
ایسے شوہر غم ِ روزگار کے سلسلے میں دیارِ غیر میں اجنبیوں کی طرح زندگی گزار رہے ہوتے ہیں۔ اور صبح و شام اس اُمید میں کٹ جاتے ہیں کہ میری قربانی سے میرے بیوی بچے بہتر زندگی گزار سکیں گے اور پھر میں اپنے قابل بچوں کے بل بوتے پہ اپنا بڑھاپا اچھے طریقے سے گُزار سکوں گا۔
ایسی زندگی کا المیہ یہ ہے کہ بیوی اور بچے شوہر کے بغیر رہنے کے اتنے عادی ہوجاتے ہیں کہ اگر اُنھیں کسی وجہ سے ملک واپس لوٹ کرآنا پڑے تو بیویاں اُنھیں ایسا کرنے سے روکتی ہیں کہ ابھی ناآؤ، ابھی بہت سے کام ادھورے ہیں۔ اور بچوں کے مستقبل کا تو خیال رکھو۔ اُنھیں آپ ہی نے قابل بنانا ہے۔ ذرا سی دُوری اور برداشت کرلیجئے۔ دیکھئے میں بھی تو آپ کی کمی کو پورا کررہی ہوں اور آپ کے بچوں کو ماں کے ساتھ ساتھ باپ کی کمی کا احساس نہیں ہونے دیتی۔
یہ چار جادوئی باتیں اِنسان کو پھر سے دیارِ غیر میں رہنے پر مجبُور کردیتی ہیں۔ اور انسان چار و ناچار مزید پردیس کاٹنے کے لئے تیار ہوجاتا ہے۔
جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایسے شوہر، اپنے بیوی بچوں کے لئے محض بنک کا اے ٹی ایم کارڈ بن کے رہ جاتے ہیں۔ اور سال یا دو سال میں اگر چھٹی پہ گھر آنا ہوا تو بیوی اور بچے انھیں برداشت کرلیتے ہیں کہ ایک آدھ مہینے کی تو بات ہے پھر آرام و سکون۔
اس دوران جب تک شوہر گھر پہ چھٹی گزار رہے ہوں، بچوں اور بیوی کو گھر قید خانہ معلوم ہوتا ہے۔ بچے ان کے قریب جانے سے کتراتے ہیں۔ جبکہ تمام گھر والے ان کی بجائے ان کے بھیجے ہوئے چیک کا بڑی بے صبری سے انتظار کرتے ہیں۔
ایسے شوہر کسی محفل میں چلے جائیں تو اپنی خاموشی، چہرے پہ سجائی ہوئی مسکراہٹ اور ہاتھ میں منرل واٹر کی بوتل سے پہچانے جاتے ہیں۔
ایسے گھرانوں کی زندگی ، بیٹری میں ڈالنے والے ڈسٹیلڈ واٹر کی طرح ہوتی ہے۔ جو کہنے کو تو پانی ہوتا ہے مگر اس میں وہ قدرتی معدنیات اور شکم کو سیر کردینے والی تاثیر نہیں ہوتی۔ گویا زندگی تشنگی کا شکار ہوکر رہ جاتی ہے۔
سگھڑ شوہر:
ایسے شوہر خوش قسمت بیوی کے حصّہ میں آتے ہیں۔ شاید اِس بیوی نے اپنی زندگی میں کوئی ایسا اچھا عمل کیا ہو، جسے دیکھ کر رب تعالی نے اس کی ازدواجی میں خوشیاں ہی خوشیاں بھر دیں۔
ایسے شوہر اپنی بیوی کو اللہ تعالی کا خوب صورت تحفہ سمجھتے ہیں اور اُن کے لئے صبح صبح چائے اُن کے بستر پر ہی پہنچا کر اپنی محبّت کا یقین دلاتے رہتے ہیں۔
یہی نہیں بلکہ گھر کے دیگر کام کاج میں بھی بھر پور ہاتھ بٹاتے ہیں۔ ایسے شوہر گھر کا سودا سَلف لانے، مزے مزے کے کھانے تیار کرنے اور بچوں کو سنبھالنے میں بھی بیوی کی مدد کرتے ہیں۔
حیرت کی بات یہ ہے کہ ایسے سگھڑ شوہر اپنے آفس میں بھی بھر پور کام کرکے عزت کماتے ہیں اور حق حلال کی روزی کماتے ہیں۔
ایسے شوہر پارک میں جب بچے کھلانے کے لے جاتے ہیں تو دیگر فیملیوں کے سامنے بھی اپنے بچوں کو بیوی سے بڑھ کر توجہ دیتے ہیں۔
مزے کی بات یہ ہے کہ ان کی بیوی نا تو خوبصورت ہوتی ہیں اور نا ہی کسی بڑے گھر کی شہزادی اور شوہر بھی چنگے بھلے دکھائی دیتے ہیں۔
اسے حسنِ اتفاق یا بیوی کی خوش قسمتی کہہ سکتے ہیں کہ ان کی پوری زندگی اسی طرح شوہر پہ حکم چلاتے اور مزے سے گزرتی ہے۔
ہرجائی شوہر:
پرائی عورتوں پہ نظر رکھنے والا، لڑکیوں کا دلدادہ اور ذہنی طور پر مریضِ عشق شوہر بذاتِ خود بہت کمزور دل اور لڑائی جھگڑے سے دور رہنے والا پست ہمت شخص ہوتا ہے۔ ایسے شوہر اپنا بچپن عورتوں کے بیچ گزارتے ہیں اور عورتوں کی نفسیات، عورتوں کی طرح بات کرنا اور عورتوں کی طرح بہانہ بازی اچھی طرح کرلیتے ہیں۔ اپنے تئیں کوشش کرتے ہیں کہ ان کے پَروں پر پانی نہ پڑے۔
اگر اسے کسی سے لڑنا ہو تو اپنے ساتھیوں سے کہتا ہے کہ فلاں شخص کو مارنا ہے۔ اور اس کے لئے جیب سے رقم بھی خرچ کردیتاہے۔
ایسے شخص کا ہیرا پھیری سے دور دور کا واسطہ نہیں ہوتا لیکن اپنی فطرت اور شوقین مزاجی کے باعث جھوٹ کا سہارا لیتا رہتاہے اور چھوٹی چھوٹی ہیرا پھیریاں بھی کرلیتاہے۔
ایسا شوہر کھلے عام موج میلہ کرنے کی ہمت سے قاصر ہوتا ہے تاہم اس تاڑ میں ضرور رہتا ہے کہ کب اس کا شکار تنہا ہو اور وہ اس پہ حملہ آور ہوسکے۔
ایسے شوہر کے کارنامے کبھی چھپتے نہیں، کبھی کبھار خود اُگل دیتا ہے اور کبھی کبھار دوسری طرف سے وقتاً فوقتاً سننے کو مل جاتاہے۔
ایسا انسان آخری ایام میں پاگل ہوجاتا ہے مگر اپنی اصلیت سے کبھی نہیں پلٹتا۔ جبکہ ایسے شوہر کی بیوی اس کے بوڑھے ہونے کے انتظار میں صبر و شکر سے کام لیتی ہے تاکہ اس سے سارے حساب بے باک کرسکوں۔
بزرگ شوہر:
کچھ لوگ اپنی محبت کے انتظار میں اپنی شادی کو اس قدر متاخر کردیتے ہیں کہ ان کی ظاہری حالت ان کے کنوارہ ہونے سے چغلی کھانے لگتی ہے۔
یا تو یہ محبت یک طرفہ ہوتی ہے یا پھر ان صاحب کو اپنی محبت حاصل کرنے کا سلیقہ اور ہمت نہیں ہوتی۔ نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ موصوف شادی سے پہلے ہی کافی تجربہ کار، پختہ سوچ اور معتدل شخصیت بن جاتے ہیں۔
خیر خیر کرکے جب سہرا پہننے کی نوبت آتی ہے تو بیوی اتنی کم سن ہوتی ہے کہ فرق صاف ظاہر ہوتا ہے۔ بیوی سے مہر و وفا کی باتیں نہیں کرتے، اور نا ہی بیوی کو خوش کرنے کے لئے کوئی چھیڑ چھاڑ کرتے ہیں۔ گویا شادی کی ایک رسم تھی اسے پورا کردیا۔
بیوی کے ہاتھوں کی مہندی نے ابھی رنگ نہیں چھوڑا ہوتا، مگر شوہر بزرگوار نے چاندی میں اٹے ہوئے بالوں کو خضاب لگانے کی بھی تکلیف نہیں کی تاکہ ظاہری فرق میں کچھ یکسانیت پیدا ہوسکے۔
ایسی صورت حال سے دونوں میاں بیوی میں ذہنی ہم آہنگی ایک نایاب شے بن جاتی ہے اور بیوی کی تمام خواہشیں دل میں رہ جاتی ہیں اور شوہرِ نامدار اپنے ماضی کی طرح اکیلے رہنا پسند کرتے ہیں۔
اور ان کا اکیلے رہنے کا شوق ایک دن پورے گھر کے لئے انگریزی والا شاک بن جاتا ہے۔ مطلب یہ کہ وہ بہت جلد اس دنیا سے دوسری دنیا کو سدھار جاتے ہیں۔
جبکہ ایسے شوہر جو بڑی عمر میں بیاہ رچاتے ہیں اور بیوی کو ڈبل محبت (یعنی مہر و وفا کے ساتھ ساتھ شفقت) کے بونس سے بھی نوازتے ہیں وہ بہت خوش قسمت کہلاتے ہیں۔ انھیں چاند سی اولاد مل جاتی ہے اور بیوی کو گھر میں کھیلنے کے لئے حسین کھلونا مل جاتا ہے۔
بڑی عمر کے شوہر اپنی بیوی کا ناصرف خیال رکھتے ہیں بلکہ اسے ہر عیب سے پاک رکھنے اور برائیوں سے دور رکھنے کے تمام گر بھی سکھاتے رہتے ہیں۔
ایسے گھرانوں میں بہت زیرک اور عقل مند اولاد جنم لیتی ہے۔ جو ناصرف مؤدب ہوتی ہے بلکہ معاشرے میں بڑا نام بھی کماتی ہے۔
ساسو شوہر:
کچھ شوہر ایسے ہوتے ہیں جنھیں لڑائی لڑنا نہیں آتا۔ بلکہ لڑائی سے کوسوں دور رہنے والے امن پسند ہوتے ہیں۔ لیکن جب کچھ نہ کرسکیں تو اپنا غصہ نکالنے کے لئے طنزیہ باتیں کرکے دل کی بھڑاس نکال لیتے ہیں۔ اور ایسے ایسے جملے کستے ہیں کہ سامنے والے کا دماغ شکنجے میں کس کے رہ جائے۔
کڑوی کسیلی اور طنزیہ گفتگو کرنے میں ماہر ہوتے ہیں۔ بیوی کے کام کو تنقیدی نظروں سے دیکھتے ہیں ۔ زبان سے جملے نہیں بلکہ تیر نکلتے ہیں۔ جو کھٹاک سے کلیجے میں پیوست ہوجاتے ہیں اکثر بیویاں خدا کا شکر ادا کرتی ہیں کہ ان حضرات کو اللہ نے عورت نہیں بنایا ورنہ نجانے کتنوں کے سینے میں مونگ دلتے ۔
اگر ساس داغ مفارقت دےچکی ہوتی ہیں تو ان کی کمی باآسانی پوری کرتے ہیں۔ اور بیوی تمام عمر ان سے خائف رہتی ہے اور یہی دعا کرتی ہے کہ کسی سبب یہ دور ہی رہیں۔
ایسے گھرانوں میں مہرو وفا کی کمی ہوتی ہے، ہنسی مزاق کہیں کھو جاتا ہے، شکوہ و شکایت دوسروں کے سامنے اس طرح پیش کیا جاتا ہے جیسے لوگ چائے کے ساتھ بسکٹ رکھ دیں۔
اپنے ملنے ملانے والوں کی نظر میں ایسے شوہر اور بیوی کے چھوٹے چھوٹے جھگڑے زیر بحث ہوتے ہیں اور ان کی نظر میں یہ فیملی صرف لڑائی لڑائی کے کھیل میں سنجیدہ ہوتے ہیں۔ خوشگوار محفل میں اپنی شکایتوں سے رنگ میں بھنگ ڈال دیتے ہیں۔ اور دونوں (شوہر و بیوی ) خود کو بے قصور سمجھتے ہیں لیکن اپنی عادت سے باز نہیں آتے۔
معمولی معمولی بات پر ایک دوسرے کو الزام دینا ان کی عادت میں شامل ہوجاتا ہے۔ اس کے بغیر انھیں نا تو چین آتا ہے اور نا ہی تسکین ہوتی ہے۔
ہیرو شوہر:
ایسا شوہر جو ہر وقت پینٹ کی پچھلی جیب میں کنگھی رکھتا ہے اور جہاں آئینہ دکھائی دیا وہیں اپنے بال درست کرنے اور پینٹ کو اوپر کھینچ کر، قمیض پینٹ کے اندر کرنے اور کالر کو جھاڑتا ہوا دکھائی دے گا۔
ایسے شوہر دھلے دھلائے ہانکے سجیلے گورے چٹے چھیل چھبیلے چکنے چپڑے ہوتے ہیں۔ زیادہ تر پھولوں والی شرٹ پہنے نظر آتے ہیں۔ جس راستے سے گزر جائیں، گھنٹوں خوشبو آتی رہتی ہے۔
ڈریسنگ ٹیبل دیکھ کر خواتین بھی شرما جائیں ۔ زیادہ تر وقت آئینے کے سامنے گزارتا ہے ، خوب صورت اور دھیمے لہجے میں بن بن کر بات کرتے ہیں ۔ طبیعت میں بے انتہا نفاست پسندی ہوتی ہے ۔ یہاں تک کہ اپنے بچوں کو بھی کبھی اپنے قریب نہیں پھٹکنے دیتے ۔
ایسے ہیرو کی واہ واہ کرنا بیوی گناہ کبیرہ سمجھتی ہے۔ جبکہ یہ سب کچھ بیوی کے لئے ہوتا ہے۔ ایسے شوہر نا تو محلے میں بدنام ہوتے ہیں اور نا ہی بری نگاہ کے لئے مشہور ہوتے ہیں۔ لیکن افسوس کہ بیویاں زیادہ تر پھو ہڑ ملتی ہیں اور جلد ہی ہیرو کو زیرو میں تبدیل کر کے رکھ دیتی ہیں۔
مریل شوہر:
یہ شوہر کی ایسی قسم ہے جو چارلی چپلن کے کردار سے بہت مماثلت رکھتی ہے۔ قدو قامت، رعب اور دبدبے کے لحاظ سے کسی گنتی میں شمار نہیں ہوتے۔
کچھ لوگ انھیں مریل کے نام سے پہچانتے ہیں اور محلے کے بچے انھیں کانگڑی پہلوان کے نام سے پکارتے ہیں۔
اپنی ذات میں ایسے شوہر خود کو کسی سورما سے کم نہیں سمجھتے۔ ہر کسی کے پھڈے میں ٹانگ اڑانے پر تیار ، ہر کسی سے پنگا لینے پر راضی ، جھگڑا کسی کا بھی ہو، یہ بیوی کے پیچھے چھپ چھپ کر پورے زور سے چیختے رہتے ہیں۔ اور جب سانس دھو نکنی کی طرح چلنے لگتا ہے تو بستر پر نڈھال ہوکر پڑ جاتے ہیں۔
ایسے شوہر تو اچھے القاب سے یاد نہیں کئے جاتے مگر ان کی بیوی لوگوں کی نظر میں معتبر اور برد بار گردانی جاتی ہیں۔ اور مریل نما شوہر کی بے بسی کو دل ہی دل میں انجوائے کرتی ہیں۔
زن مرید شوہر:
ہمیں یہ یاد رکھنا چاہیے کہ آج کے دور میں جب تعلیم اور ابلاغ بہت عام ہوگئے ہیں۔ ایسے تیز ترین دور میں کامیابی حاصل کرنا ہماری بقاء کے لئے بہت ضروری ہے۔ کامیابی کا تعلق صرف سرمایہ کے لئے ہی نہیں ہوتا بلکہ کامیابی سے مراد ایک بھر پور اور کامیاب زندگی جس میں کوئی منفی رویہ ہمیں کچوکے نہ لگائے۔ ہماری رفتار کو توڑنے کے لئے رکاوٹیں نہ کھڑی کرے۔ ان تمام اہداف کے حصول کے لئے ایک شوہر اگر یہ چاہتا ہے کہ وہ بیوی کے دل سے کبھی نا اترے، تو اسے چاہیے کہ تنہائی اور دنیا کے سامنے بھی، اپنی بیوی کی عزت کرے ۔
در حقیقت بیوی کو عزت دینے والے شوہر زن مرید (عورت کے غلام) نہیں ہوتے بلکہ ایسی عظیم ماں کے ایسے فرمانبردار بیٹے ہوتے ہیں جس نے اپنی اولاد کو عورت کی عزت کرنا سکھائی ہو۔ اسی طرح اگر کسی بیوی کا شوہر اپنی حیثیت کے مطابق آپ کی ضروریات کو احسن طریقے سے پورا کررہا ہے۔ آپ کے دکھ درد میں برابر کا شریک ہوتا ہے۔ آپ کو پیار اور عزت بھی دیتا ہے تو آپ بہت خوش نصیب بیوی ہیں۔ ایسے شوہر پر بیوی اپنا سب کچھ نچھاور کردے تو بھی کم ہے۔ اور اگر بیوی ایسے شوہر کی قدر نہ کرے تو وہ سب سے بدنصیب عورت ہے۔
جبکہ ایسے شوہر جو اپنی کوئی حیثیت نہ رکھتے ہوں بلکہ اپنی بیوی کو ہی سب کچھ مانتے ہوں۔ بیوی کو دیکھ دیکھ کر ہی جیتے ہوں۔ بیوی کے بغیر حلق سے نوالہ نہ اترے۔ ایسے شوہر کو بیوی کا دُم چَھلّا کہتے ہیں کیونکہ یہ ہروقت بیگم کے پیچھے پیچھے ہی رہتے ہیں۔ ان کی اپنی ذاتی شخصیت کوئی نہیں ہوتی اور انھیں ہی زن مرید کہا جاتاہے جسے مہذب معاشرے میں اچھی نظر سے نہیں دیکھا جاتا۔ ایسے زن مرید اپنی بیوی کو اپنے والدین کے مقابلے میں زیادہ اہمیت اور فوقیت دیتے ہیں جو خود شوہر کے لئے نقصان دہ اور ناقابل معافی عمل ہے۔
لاٹ صاحب شوہر:
ایسے شوہر جو دنیا کو خاطر میں نہیں لاتے۔ اپنی ذات کو ہی سب سے بالا اور اعلی سمجھتے ہیں۔ ان کی زندگی کا مطمح نظر صرف اور صرف دھن دولت کی دوڑ میں اوّل آنا اور دماغ ہر وقت ننانوے کی گنتی میں مصروف رہتا ہے۔
ان کے لئے کوئی رشتہ بھی محترم نہیں ہوتا۔ بلکہ وہ رشتوں کو جمپنگ بورڈ کے طور پر استعمال کرکے اپنی منزل تک پہنچنے کے لئے استعمال کرتے ہیں۔
اپنی منزل کے حصول کے لئے اگر کسی عزیز رشتے کی قربانی درکار ہوتو وہ ایسی قربانی کے لئے دوبار نہیں سوچتے۔
ایسے لاٹ صاحب جن کے عزائم بہت بلند ہوتے ہیں اور نظر سب سے بالا کرسی پہ ہوتی ہے۔ کبھی ذاتی انا کو اپنے مقاصد کی تکمیل میں آڑھے نہیں آنے دیتے۔ ان کا اصول یہ ہوتا ہے کہ کسی بڑی رکاوٹ کو دور کرنے کے لئے اپنی توانائیوں کو ضائع مت کیجئے بلکہ اس وقت کا انتظار کرو کہ یہ رکاوٹ خود بخود ہٹ جائے۔
ایسے شوہر اپنے بیوی بچوں کے لئے بالکل بھی وقت نہیں نکالتے۔ ایسی بیویوں کو شرفِ ملاقات کبھی کبھی نصیب ہوتا ہے۔ کھڑے کھڑے آتے ہیں اور چلے جاتے ہیں۔ اپنی فیملی کے لئے ہر وقت ہوا کے گھوڑے پر سوار ہوتے ہیں۔
کبھی کبھی بیوی سے حال اَحوال پوچھ لیں تو بیوی خوشی کے مارے غش میں چلی جاتی ہیں۔
دنیا کی نظر میں بہت معتبر رہنے والے لاٹ صاحب ، دراصل بہت کمینی اور خبیث طبعیت کے مالک ہوتے ہیں۔ جو مقام بالا پہ متمکن رہنے اور اس کے حصول کے لئے اپنی عزیز ترین جان بھی قربانی کی بھینٹ چڑھانے سے نہیں کتراتے۔
تمام عمر بیوی ڈر اور خوف کی زندگی گزارتی ہیں اور لاٹ صاحب اپنی طاقت اور چالاکی کے خُمار میں خود کو عقلِ کُل سمجھتے ہیں اور لوگوں کی زندگیوں اور خوشیوں کا فیصلہ کرنے کا استحقاق اپنے پاس رکھنے کا تصور کرتے ہیں۔
اور ایک دن وہ بہت بری موت مرجاتے ہیں اور لوگ ان کا نام تک بھول جاتے ہیں۔ بلکہ ان کے عزیز و اقارب اور ان کی ستم ظرفیوں کا شکار ہونے والے خاندان سکھ کا سانس لیتے ہیں اور انا للہ وانا الیہ رجعون کی بجائے لاحول ولا قوۃ اللہ باللہ پڑھتے ہیں اور اللہ کا شکر ادا کرتے ہیں۔
دل پھینک شوہر:
تاڑو شوہر اور دل پھینک شوہر میں ایک لطیف فرق ہوتا ہے کہ تاڑو نظروں اور دل ہی دل میں کھچڑی پکاتے ہیں جبکہ دل پھینک شوہر ان سے کئی قدم آگے بڑھ کے اپنا دل ہتھیلی پہ لیکر گھومتے ہیں۔ جہاں کوئی جوابی مسکراہٹ وصول ہوئی وہیں ڈھیر ہوگئے۔
ایسے شوہر بہت رنگین مزاج ہوتے ہیں۔ خواتین کی موجودگی کو ہی اصل زندگی سمجھتے ہیں۔ اور خواتین کی موجودگی میں اِن کی چہکاریں اور طبعیت کی جولانی اپنے عروج پہ ہوتی ہے۔ دانت یوں باہر نکل آتے ہیں جیسے کسی ٹوتھ پیسٹ کا اشتہار بنوا رہے ہوں۔
ضرورت پڑنے پر مزاح کا رنگ بھی اختیار کرلیتے ہیں اور اگر جوگی بننا پڑے تو تردد نہیں کرتے۔ جہاں کوئی حسینہ دیکھی ان کے دل کے دروازے کھل جاتے ہیں۔
کبھی کبھی ہزیمت کا سامنا کرنا پڑے تو کچھ دنوں کے لئے رنگین مزاجی سے توبہ کرلیتے ہیں لیکن بری عادتیں مرنے تک ساتھ دیتی ہیں۔ ایسے لوگ اپنی بیوی سے کئی بار پٹ چکے ہوتے ہیں اور اپنی وفا کی قسم بھی نہیں کھانے کے قابل نہیں رہتے۔ لیکن چنچل مزاج حسینائیں ان کی مداح ہوتی ہیں۔
جنتی شوہر:
کسی کو جنت کا حق دار ٹھہرانا انسا ن کے بس سے باہر ہے کیونکہ اس کا فیصلہ صرف اور صرف اللہ تعالی کی ذات گرامی ہی کرسکتی ہے۔
لیکن بے شمار شواہد، انسانی اقدار کو سینے سے لگا کر زندگی کی تلخیوں کو صبر و شکر سے گزارنے والے، بیوی کی سخت گیری کو خوش دلی سے قبول کرنے والے ، کڑوی کسیلی باتوں کو مزاحمت کے بغیر سننے والے شوہرکے بارے میں صد فی صد یہی قیاس کیا جاسکتا ہے کہ ایسا شوہر جنت کا حقدار ہوگا۔
جس شوہر کی دنیاوی زندگی پُل صراط کی طرح پُرخطر رہی ہو اور وہ گائے کی طرح سیدھے سادھے اور معصوم انسان کی طرح بیوی کے ستم کا نشانہ بنا رہے، اس کے لئے میدانِ حشر خوش خبری اور مہربانیوں کی نوید کا پیامبر ہوگا۔
عقل مندبیویوں اور شوہروں کے لئے چند اہم باتیں جو بہتر زندگی کی ضمانت مہیا کرسکتی ہیں:-
⦁ اگر کوئی مرد یہ سمجھتا ہے کہ عورت دولت کی پجاری ہے۔ ایسا مرد یہ کیوں بھول جاتا ہے کہ عورت مرد کی محبت کی بھی پجاری ہے۔ آپ عورت پر ساری عمر ظلم کرتے رہو مگر کسی ایک لمحے میں اسے محبت کی نگاہ سے دیکھو تو وہ پچھلے وقت کے سارے ظلم بھول جاتی ہے۔
⦁ جب عورت کو عزت نہ ملے تو وہ اپنی ذات کے خول میں بند ہوجاتی ہے۔ مرد سمجھتا ہے اس نے عورت کو تسخیر کرلیا ہے۔ اور وہ اس کے رعب میں دب کر خاموش ہوگئی ہے۔ مگر بے وقوف مرد یہ نہیں جانتا کہ یہ خاموشی مرد کی ذات کی نفی کے لئے اختیار کی ہے اور اس چپ کے پردے میں فقط بیزاری، نفرت اور مصلحت کے جذبے پوشید ہ ہیں۔
⦁ جن مردوں کو لگتا ہے کہ عورت کو رُلانے سے ، تڑپانے سے اور ترسانے سے اس کی محبت شدت اختیار کرتی ہے۔ ایسے مردوں کو بہت بڑی غلط فہمی ہے بلکہ وہ انتہائی غیر فطری سوچ کے حامل ہیں۔ یاد رکھیئے جب عورت آنسو بہاتی ہے تو رفتہ رفتہ اس کی آنکھوں سے آپ کی محبت بہہ جاتی ہے جس دن اسے صبر جمیل حاصل ہوگیا، آنسو ختم اور محبت بھی ختم ہی سمجھو۔
⦁ مرد جب کسی عورت کے آگے جھکتا ہے تو اس کا مطلب یہ نہیں کہ وہ خدا نخواستہ کمزور ہے یا ہلکے کردار کا حامل ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ وہ عورت کو دھوکا نہیں دینا چاہتا۔ عورت کو کسی حال میں کھونا نہیں چاہتا اور بے شک خوش قسمت ہے وہ عورت جس کے لئے مرد اپنی انا کو تیاگ کردے اور اپنی تلخی کا گلا گھونٹ دے۔

تبصرے