بیویوں کی اقسام
انسان کی فطرت ہے کہ اپنے لئے ہمیشہ سب سے بہترین شے کا انتخاب کرتاہے، تاکہ اپنی انا کی تسکین ہوسکے اور سب کی نظروں میں سرخرو ہو سکے۔ شادی کے لئے مرد حضرات بہت محتاط ہوتے ہیں۔ بہت تحقیق کرتے ہیں کہ بیوی امیر ہو، خوبصورت ہو، تعلیم یافتہ ہو، اچھے گھرانے سے ہو، طول قامت ہو اور فرماں دار ہونے کے ساتھ ساتھ لڑکے کے گھر والوں کی عزت اور احترام کرنے والی ہو۔ مگر کم لوگ ہی اچھی ، نیک سیرت اور اچھے کھانے بنانے والی سگھڑ بیوی کے لئے سرگرداں ہوتے ہیں۔
جب کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی خاص اور پرہیزگار بندیوں کے علاوہ ، سبھی خواتین بنیادی طور پر ایک ہی قسم کی ہوتی ہیں۔ پوری دنیا میں یہی ایک قسم پائی جاتی ہے خواہ یہ گوری ہو یا کالی۔ ان کی فطرت نہیں بدل سکتی۔ البتہ اس ایک قسم کی خواتین کے کئی روپ ہوتے ہیں۔ جن کو جاننا ممکن نہیں ہوسکتا کیونکہ صبح کے وقت یہ محبت اور امن کی دیوی بنی ہوتی ہیں اور دن کے وقت جھانسی کی رانی بن جاتی ہیں اور رات میں پھولن دیوی کا روپ دھار لیتی ہیں۔
سچ تو یہ ہے کہ خواتین کی نفسیات بہت مشکل ہوتی ہے جسے سمجھنا کسی کے بس کی بات نہیں ہے۔ حتی کہ خواتین اپنے بارے میں بھی یقین سے کچھ نہیں کہہ سکتیں کہ وہ کیسی ہیں؟
بنیادی طور پر خواتین نرم دل کی مالکہ ہوتی ہیں۔ لیکن یہ خاصیت بیوی بننے تک نجانے کہاں گم ہوجاتی ہے۔ خواتین کی یہ قسم (یعنی بیوی) تمام قسموں سے ذیادہ مشکل ہے۔ اسے سمجھنا نا ممکن ہے۔
تاہم برسوں شادی شدہ زندگی گزارنے، ایک طویل عرصہ دیارِ غیر میں معروف کمپنیوں میں اچھے عہدوں پہ کام کا تجربہ رکھتے ہوئے، ایک وسیع مشاہدہ اور کافی سوچ و بچار کے بعد مختلف اقسام کی بیویوں کے بارے میں آپ کو بتا رہا ہوں، یہ میری ذاتی معلومات اور مشاہدات ہیں۔ ممکن ہے بہت سے قارئین میری رائے سے متفق نہ ہوں۔ یہ ان کا حق ہے ۔ ملاحظہ فرمایئے ایک سے بڑھ کے ایک بیویاں:-
مہارانی بیوی:
وہ خاتون جسے شادی سے پہلے اور بعد میں بھی اپنے میکے میں کوئی روک ٹوک نہ ہو، یا اس کی اصلاح کرنے کو ضروری نہ سمجھا گیا ہو وہ جب سسرال میں وارد ہوتی ہیں تو عملی طور پر ان کا مزاج اور کردار مہارانی بیوی کی طرح ہوتا ہے۔
ایسی بیوی کی خواہش ہوتی ہے کہ اس کا شوہر اس کے ہر حکم کی تعمیل میں سرِ خَم تسلیم ہوجائے۔ بلکہ کہنے سے پہلے ہی اس کے مزاج اور رنگ کو سمجھتے ہوئے اس کی خواہش پوری کردے۔
ایسی بیوی کا گھر اس وقت تک محفوظ رہے گا جب تک کوئی غیرت مند اور خود دار شوہر اس کی ناروا اور غیر معقول باتوں کو کسی مصلحت یا کچھ وقت کے لئے برداشت کرتا رہے۔ یا پھر کوئی ایسا شوہر مل جائے جو بیوی کی غلامی کو دل سے قبول کرلے اور بیوی کی چاکری میں اپنی عافیت جانے۔
پڑھاکو بیوی :
ایسی بیوی جس کی تعلیم شوہر سے بہت بڑھ کر ہو ، بڑی عالمہ و فاضلہ ہو اور شادی بھی تاخیر کا شکار ہوئی ہو؛ ایسی بیوی اپنی عائلی ذمہ داریوں کی بجائے اپنا ذیادہ وقت تدریسی مصروفیات میں گزارتی ہے یا ٹیوشن وغیرہ میں شب و روز بسر کرتی ہے اور شوہر کے لئے اس کے پاس نہ تو وقت ہوتا ہے اور نا ہی بات کرنے کی سکت باقی رہتی ہے۔
جب بھی بات کرتی ہے تو مُدلّل اور مفصل گفتگو کرتی ہے ۔ ایسی خاتون بیوی کی بجائے سخت گیر استانی کا کردار نبھاتی ہے اور اپنا سارا وقت میک اپ اور کھانا پکانے کی بجائے ضخیم کتابوں میں گزارتی ہے ۔ اور ہر وقت اپنی تدریسی سرگرمیوں پر ہی شوہر سے گفتگو کرتی ہے ۔ ایسی بیوی اپنے شوہر کی تنخواہ کا بجٹ تو بناتی ہے مگر اپنی آمدنی یا اپنے پیسوں کو چھپا چھپا کررکھتی ہے۔
ایسے شوہر کی حالت کسی نالائق بچے سے ذیادہ نہیں ہوتی ۔ جسے بار بار استانی سبق نہ یاد کرنے پر سرزنش کرتی رہے اور امتحان میں بار بار فیل کردے۔
ایسی بیویاں مکان کو گھر نہیں بنا سکتیں۔ بلکہ مکان کو ایسے پارک میں تبدیل کردیتی ہیں جہاں لوگ تو نظر آتے ہیں لیکن اجنبی اور غیر مانوس چہرے جن پہ کوئی نقش نہ ہو۔
ایسے ماحول میں نا خوشی ہوتی ہے، نا قہقہے ہوتے اور نا ہی مہمان داری ہوتی ہے۔ زندگی ایک طرح سے بے سدھ ہوجاتی ہے۔ بلکہ ایک ہی جیسی روٹین سے میاں بیوی میں نا ہم آہنگی رہتی ہے اور نا ہی ایک دوسرے سے باہمی مہر و وفا کا کوئی رشتہ قائم ہوپاتا ہے۔ ایسے رشتے کا انجام اسی صورت باقی رہ سکتا ہے جب شوہر بے کار ہو، اچھی تنخواہ نہ لیتا ہو، خود کو چھوٹا اور کمتر سمجھتا ہو۔ بصورت دیگر ایسا رشتہ تھوڑے وقت کا مہمان ہوتا ہے۔
موٹو بیوی:
لحیم شحیم، لمبی چوڑی، موٹی تازی، اگر ہاف سلیو کی قمیض پہن لے تو بازوؤں سے بڑے بڑے ڈولے (بازؤں کے مسلز) خوف و حراس کی فضا پیدا کرتے ہیں۔ ایسی بیویاں گھر پھیلا کر رکھتی ہیں اور کام کاج میں بہت سُست ہوتی ہیں۔ ان کی زبان قینچی کی طرح چلتی ہے اور وہ خود کچھوے کی چال کو تیز گردانتی ہیں۔
عموماً ان کے شوہر نامدار ایسے ہوتے ہیں جیسے دُم چھلّا۔ جسمانی طور پر کمزور، نحیف، لاغر اور پتلے دبلے اور بیوی کے اشاروں پر چلنے والے اور بیوی کے احکام کے تابع۔ ایسے شوہروں کی ذہنی قابلیت بیوی کی موجودگی میں زیرو تک آجاتی ہے مگر بیوی سے دور رہتے ہوئے یا کام کاج کے دوران ان کی قابلیت قابل ِتحسین ہوتی ہے۔ اور ایسے شوہر شادی کے کچھ برسوں بعد باریش ہونا پسند کرتے ہیں تاکہ اللہ کی پناہ میں رہیں۔
ایسی بیوی اپنے گھر میں اس طرح حاوی ہوتی ہے کہ کوئی دوسرا دکھائی نہیں دیتا۔ اور ان کے شوہر بھی بہت فرمانبردار ہوتے ہیں۔ ایسے گھروں میں بیوی کی ہی چلتی ہے اور اگر مرد اپنی مردانگی دکھانے کی ناکام کوشش کرے تو اس کی فائر پاور ایک شُرلی سے ذیادہ نہیں ہوتی۔قِصّہ کوتاہ ایسے گھرانے میں مجموعی زور آور تو موٹو ہی ہوتی ہے مگر شوہر اپنی پیشہ ورانہ قابلیت کے بل پر اپنے لئے تعریف و توصیف گھر کے باہر سے وصول پاتاہے۔ اور گھر میں اس حق سے محروم رہتا ہے۔
ایسے گھروں میں سکون کا ماحول نہیں ہوتا، بچے خود ہی بڑے ہوجاتے ہیں، پورا گھرانہ ایک ساتھ کم ہی بیٹھتا ہے، بکھرے ہوئے خیالات اور اداس چہرے ایک جگہ سے دوسری جگہ حرکت کرتے نظر آتے ہیں۔اور گھر کا ہر فرد ایک علیحدہ دنیا میں رہتا ہے۔ گویا زندگی شور شرابے اور ہنگامے میں گزر جاتی ہے۔ لیکن جب یہ لوگ دوسروں سے ملتے ہیں تو بہت اچھے طریقے سے ملتے ہیں۔ لوگ انھیں پسند کرتے ہیں اور یہ لوگوں کو پسند کرتے ہیں۔ ایسے گھرانے والے لوگ گھر سے باہر عافیت محسوس کرتے ہیں۔
ننّھی بیوی:
عورت کی شادی کے لئے بہترین عمر ہے 17 تا 25 اور مرد کے لئے 22 تا30 برس۔ اگر دونوں کی عمروں میں 3 تا 5 سال کا فرق ہوتو مناسب ہے۔ 8 تا 10 برس کا فرق مناسب نہیں ہے۔ اگر 10 تا 15 برس کے درمیان بہت ہی غیر متوازی ، بے جوڑ اور خطرناک ہے۔
لڑکی اگر تین برس تا پانچ برس چھوٹی ہے تو یہ جوڑ صحت مند جوڑ کہلاتا ہے۔ ایسے جوڑے میں ذہنی ہم آہنگی خوب ہوتی ہے اور دونوں ایک دوسرے کو اچھی طرح سمجھتے ہیں۔ ایسے جوڑوں میں کوئی بڑا یا چھوٹا نہیں ہوتا بلکہ ایسے جوڑے بہت کامیاب زندگی گزارتے ہیں۔
اگر لڑکا اپنی بیوی سے آٹھ سال یا دس سال بڑا ہے تو ایسا جوڑا بار بار ہچکولے لیتا ہے۔ اسے سنبھالنے کے لئے میاں بیوی کے بڑے لوگ کوشش کرکے انہیں رواں رکھنے کی کوشش کرتے ہیں۔ اگر جذبے نیک ہوں تو شادی کے چند سال بعد ان کی گاڑی بالکل نارمل چلنے لگتی ہے۔
جبکہ لڑکی اگر میاں سے دس سال یا ذیادہ چھوٹی ہے تو ایسا جوڑ یقینا ً غیر متوازی ہے۔ اور اگر یہاں لڑکی تعلیمی لحاظ سے لڑکے سے بہت کم پڑھی لکھی ہے تو یہ جوڑ خطرے کی گھنٹی بن جاتاہے۔
یہ تفاوت بہت سے گھنبیر مسائل پیدا کرتا ہے۔ جنھیں نہ تو میاں بیوی ختم کرسکتے ہیں اور نا ہی لڑکے و لڑکی کے والدین کچھ مدد کرسکتے ہیں۔
کیونکہ لڑکی برملا اپنے چھوٹے ہونے کا اعلان کرتی ہے اور اگر شوہر مہربان اور خوش اخلاق ہو تو وہ لڑکی اپنے چھوٹے ہونے کی وجہ سے بے جا فائدہ اٹھانے کی کوشش کرے گی۔
ایسی لڑکیاں نا تو اپنے شوہر کی کمائی کو خاطر میں لاتے ہوئے بچت کا سوچتی ہیں اور نا ہی اپنے شوہر نامدار کی عزت اور تکریم کو ملحوظ خاطر رکھتی ہیں۔
ایسی لڑکیاں بھری محفل میں اپنے شوہر کو بچوں کی طرح مخاطب کرنے کو اپنے لئے فخر سمجھتی ہیں اور کوشش کرتی ہیں کہ ان کے شوہر بھی ان کی طرح بچگانہ حرکات میں حصہ لیں۔
ایسے رشتے میں بیوی چونکہ اوائل عمری میں بیاہ جاتی ہے اور مرد پختہ عمر میں شادی رچاتا ہے۔ لڑکی اس لئے راضی ہوجاتی ہے کہ اسے خیال رکھنے والا اور اس کی کوتاہیوں پہ پردہ ڈالنے والا شوہر مل جائے گا اور وہ مزے کرے گی۔ جبکہ مرد یہ سمجھتا ہے کہ چھوٹی عمر کی لڑکی سے شادی کرکے بڑا تیر مار لیا۔ اب بس میں ہی میں ہوں۔
مرد اپنی پختہ عمری اور تجربے کی روشنی میں معاملات سُلجھاتا رہتا ہے اور بیوی اپنے بچپنے کا بے جا فائدہ اٹھاتے ہوئے اٹھکھیلیوں سے فارغ نہیں ہوتیں۔
اگر اتفاق سے اچھا کمانے والا شوہر مل گیا ہے تو مُستقبل کے لئے کچھ پس انداز کرکے سادہ زندگی گزارے۔ لیکن نہیں اسے تو میکڈونلڈ میں رات کا کھانا چاہیے، پیزا ہٹ سے دوپہر میں پیزا چاہیے اور ویک اینڈ پہ بار بی کیو۔ اس کے علاوہ ایسی بیویوں کا شوق پارٹیوں کی حد تک ہوتا ہے اور شاپنگ کا خبط سوار ہوتا ہے۔
شادی کے شروع کے کئی برس خاوند بیوی کی ناسمجھی اور کم عقلی سمجھتے ہوئے گزار دیتا ہے۔ اور مُستقبل کے لئے کچھ بھی پَس انداز نہیں کرسکتا ۔ جبکہ اسے زمانے کے اونچ نیچ کا بخوبی اندازہ ہوتا ہے لیکن پھر بھی گھر کو بسائے رکھنے اور سماج میں اپنی عزت کے لئے وہ تمام غلطیاں جو بیگم سرزد کرتی ہیں اور وہ تمام ذِلّتیں جو بیگم دیگر فیملیوں کے سامنے برملا بیان کرتی رہی ہے ، انھیں زبان پہ نہیں لاتا مگر ہر شے کی ایک حد ہوتی ہے۔ اور وہ دن بھی آجاتا ہے جب یہ فرق کھل کر سامنے آجاتا ہے۔ بیوی یہ سمجھتی ہے کہ بچے بڑے ہوگئے ہیں اور تمام بچے اسی کے ساتھ ہیں وہ بھی برابری کی آواز بلند کردیتی ہے اور قرب و جوار کی تمام فیملیوں کے سامنے جھگڑا ایک معمول بن جاتا ہے۔
ایسے میں تماشہ دیکھنے والے مزا لوٹتے ہیں اور بیوی کو علیحدگی میں اس کا ساتھ دیتے ہیں اور شوہر کو برداشت کرنے کے لئے کہتے ہیں۔
لیکن وہ دن ضرور آکر رہتا ہے جب میاں بیوی میں علیحدگی زور پکڑنے لگتی ہے۔ لڑکی اپنی کم علمی کی وجہ اور کسی کے بھروسے پہ گھر کو آگ لگانے کے تیار ہوجاتی ہے مگر خود کی غلطیوں کو قبول نہیں کرتی۔ آخر کار ایسا گھرانہ شکست و ریخت کا سامنا کرتا ہے۔ یا تو میاں بیوی علیحدہ ہوجاتے ہیں یا پھر پوری زندگی ایک چھت تلے منہ بسوڑے گزار دیتے ہیں۔
پری چہرہ بیوی:
ایسی بیوی جس کا شوہر کالا کلوٹا ہو اور بدصورتی میں سب سے آگے ہو اور تعلق بھی کسی غیر مُتموّل گھرانے سے ہو؛ وہ خوبصورت نہ بھی ہوں مگر اپنے شوہر کے سامنے رہتے رہتے ان کے دماغ کے اندر یہ خام خیالی پختہ ہوجاتی ہے کہ وہ دنیا کی حسین ترین عورت ہے۔
ایسی بیوی محلے میں کسی سے نہیں ملتی بلکہ اپنے بچوں پہ ہی توجہ دیتی ہے اور اپنے خاوند کو اپنے بس میں رکھنے کی فکر کرتی رہتی ہے۔
اور محلے میں سے کوئی بھی ان کے گھر جانا پسند نہیں کرتا کیونکہ محبت اور دوستی دو طرفہ ہوتی ہے یکطرفہ دوستی پشیمانی کا سبب ہوتی ہے۔
تاہم ایسا شوہر اپنی بیگم اور سسرال میں سے آئے ہوئے مہمانوں کی خدمت کرکے نا صرف مسرور ہوتا ہے بلکہ خود کو نہایت خوش نصیب بھی سمجھتا ہے۔
ایسے شوہر اپنی بیوی اور بچوں کے لئے اپنے والدین اور بہن بھائیوں سے کنارہ کشی کرلیتے ہیں۔ اور اپنے گھر والوں سے ایسے شوہر کے صرف واجبی سے تعلقات ہوتے ہیں اور اس کی یہی کوشش ہوتی ہے کہ اس کے اپنے گھر والے اس کی بیوی سے دور رہیں۔
ایسا شوہر آفس سے واپسی پہ بیوی بچوں کے لئے نت نئے پھل اور مٹھائیاں لیکر آتا ہے اور اپنی تنخواہ میں اضافے کے لئے بھی سرگرداں رہتا ہے۔
ایسا انسان زندگی کے ایک ہی رخ کی طرف دھیان دیتا ہے اور اسے ہی اپنا مقدر سمجھتے ہوئے اللہ تعالی کا شکر ادا کرتا ہے۔ اور اپنے بہن بھائیوں کو چھوڑنے اور والدین کی خدمت سے ہاتھ اٹھا لینے پر صرف صبر سے کام لیتا ہے۔
ایسے گھرانوں میں قدرے سکون ہوتا ہے لیکن ان کے بچے نہایت مطلب پرست اور خود غرض ہوتے ہیں۔ انھیں نا تو فلاحی کاموں سے کوئی لگن ہوتا ہے اور نا ہی سماجی خدمت کا جذبہ ان کے اندر ہوتا ہے۔ بس انھیں اپنے فائدے کے حصول کے نت نئے طریقے ضرور معلوم ہوتے ہیں۔
چیئرمین بیوی:
ایسی بیوی جو شوہر سے عمر میں بڑی ہو؛ وہ گھر میں ایک قسم کے سربراہ کے طور پربراجمان ہوتی ہے۔ اسے نا تو شوہر یا اس کے گھر والوں سے کوئی خوف ہوتا ہے اور نا ہی کسی شے کے کھونے کا حُزن۔ کیونکہ اس کےبچے بہت فرمانبردار ہوتے ہیں اور ان بچوں میں اس کے شوہر کا شمار بھی ہوتا ہے۔
ایسی بیویاں اپنے شوہر کا اس طرح خیال رکھتی ہیں کہ ان کے شوہر ذہنی طور پر بچپنے میں ہی ہوتے ہیں۔ اپنے شوہر کے کپڑوں، جوتوں کھانے پینے اور صحت کا بہت خیال رکھتی ہیں۔ ہر چیز شوہر کو ترتیب سے اور بروقت ملتی ہے۔
ایسے شوہر دیکھنے میں بہت معصوم، بے ضرر اور کم گو ہوتے ہیں جبکہ ان کی چیئرمین بیوی پکّے چہرے والی، کرخت شکل والی اور ہمہ وقت گھرداری میں مصروف دکھائی دیتی ہے۔
ایسے شوہروں کے دوست گھر پہ نہیں آتے، اور ناہی شوہر کے بہن بھائی ایسے شخص کو کوئی اہمیت دیتے ہیں۔ البتہ چیئرمین بیوی کے گھر والے بے روک ٹوک آتے جاتے رہتے ہیں اور ایسے گھرانے آپس میں بہت شِیر و شکر ہوتے ہیں اور اپنے گھر کو اپنی جنت بناکر رکھتے ہیں۔
اگرچہ ایسی بیویاں دل کی صاف ہوتی ہیں اور سب کے لئے اچھا سوچتی ہیں اور اچھا کرتی ہیں ؛ لیکن انھیں اپنے سسرالیوں سے کھلے عام نا تو تعریف سننے کو ملتی ہے اور نا ہی انھیں میل ملاقات میں تعظیم و توقیر سے نوازا جاتا ہے۔
تاہم ایسے جوڑے آپسی محبت اور انڈرسٹنیڈنگ سے زندگی نہایت سلیقے سے گزارتے ہیں اور ان کی اولاد بھی مختصر ہوتی ہے اور اپنے والدین کی فرمانبردار ہوتی ہے لیکن ان کے بچوں کا جھکاؤ نھنھیال کی طرف زیادہ ہوتا ہے اور شادی بیاہ کے موقع پہ بھی نھنھیال والے ہی نمایاں نظر آرہے ہوتے ہیں۔
ایسے جوڑے اپنا ماضی یاد رکھتے ہیں، حال میں خوش رہتے ہیں اور مستقبل کی تیاری کرکے رکھتے ہیں۔
شک کرنے والی بیوی:
ایسی بیوی جو کسی دوسرے کلچر سے تعلق رکھتی ہو، اور اس کا شوہر زیادہ خوبرو ہو اور وہ کسی دوسرے کلچر سے تعلق رکھتا ہو، ہمہ وقت انجانے خوف کا شکار رہتی ہے اور اسے یہی ڈر کھائے جاتا ہے کہ کہیں اس کا شوہر کسی دوسرے کے ہتھے نہ چڑھ جائے۔
ایسی بیوی شروع سے ہی اپنے شوہر پر کڑی نظر رکھتی ہے اور اپنی امّی کی باتوں پہ سختی سے عمل کرتے ہوئے اپنے شوہر کے معمولات پہ نظر رکھنا، اس کا انٹرنیٹ پہ باتیں کرنا اور شوہر کا اپنے رشتہ داروں سے باتیں کرنا اور مالی معاملات میں دخل دینا ان کا معمول ہوتا ہے۔
اگر ایسا شوہر کسی شادی بیاہ یا دیگر تقاریب میں اپنی کزن لڑکیوں سے بات کرتے ہوئے مسکرا دے یا انھیں چھو لے یا شوہر کی کزن فرط جذبات میں کسی بات پر اس کی کمر ٹھونک دے تو سمجھئے گویا قیامت ہی آگئی ہے۔ایسی بیوی ایسے موقع پہ پاؤں ٹھونکتے ہوئے وہاں پہچیں گی اور میاں کو بازو سے پکڑ کر کھیچتے ہوئے دوسری جگہ لے جائیں گی۔ اور وہاں جاکر دانت پیستے ہوئے یہ کہیں گی کہ گھر پہنچئے میں کس طرح آپ کی چٹنی بناتی ہوں۔
ایسی بیویاں شوہر کو آبائی گھر میں باتھ روم میں داخل ہو نے پر دروازے پر انتظار کرتی ہوئی دکھائی دیتی ہیں۔ بیوی اگرچہ چوکیدارا کررہی ہوتی ہیں مگر میاں سمجھتا ہے کہ میرا خیال رکھتے ہوئی یہاں براجمان ہیں۔
ایسی شک کرنے والی بیوی کے ساتھ آپ رہتے رہیں تو آہستہ آہستہ آپ کے بہن بھائی اور رشتہ دار دور ہوتے جاتے ہیں اور بیوی اپنے مقاصد میں کامیاب ہوتی رہتی ہے۔ اور ایک دن آپ اس دنیا کے سماجی نظام میں اکیلے رہ جائیں گے۔
مذ ہبی بیوی:
آج کل کچھ پڑھی لکھی بیویاں دین میں بہت دلچسپی لیتی ہیں اور کسی نہ کسی اسلامی تنظیم کی رکن بن جاتی ہیں اور اس جماعت کی تبلیغ و ترویج میں بھرپور حصہ لیتی ہیں۔
کچھ خواتین دینی تعلیم شرعیہ اور فقہ کی تعلیم حاصل کرکے عالمہ بن جاتی ہیں۔
جبکہ کچھ بیویاں دینی میلان کی وجہ سے مذہبی بن جاتی ہیں۔ گو ان کے پاس مُستند علم کی کمی ہوتی ہے۔ تاہم وہ سینہ بہ سینہ حاصل شدہ معلومات پر بھروسہ کرکے اپنی زندگی میں دین کو داخل کرلیتی ہیں۔ اور اس پہ سختی سے کاربند ہوجاتی ہیں، خواہ وہ غلط عقیدہ ہی کیوں نہ ہو۔
دین ہمیں اچھائی کی ترغیب دیتا ہے اور برائی سے دُور رہنے کا حُکم دیتا ہے۔ لیکن دین یہ نہیں کہتا کہ اگر آپ کا شوہر دینی رغبت نہیں رکھتا، پھر بھی اس پہ دین کی تعلیمات مُسلّط کردی جائیں۔ اور اسے بار بار برائیوں کا ذکر کے دوزخ سے ڈرایا جائے اور اپنا سارا وقت دیگر خواتین کے ہاں محفل مِیلاد یا دیگر دینی محافل میں شرکت کے لئے گزارہ جائے۔
ایک بیوی کی بنیادی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے گھر کے سربراہ کا ہر طرح سے خیال رکھے۔ اس کی دلجوئی کرے۔ اس کی اجازت کے بغیر نہ کسی غیر مرد یا عورت سے میل ملاپ رکھے اور نہ ہی گھر سے باہر قدم رکھے۔
یاد رکھیئے گھر چار دیواری اور دیگر لوازمات کا نام نہیں ہے بلکہ گھر ایسے مقام کو کہتے ہیں جہاں پہنچ کر انسان سکھ کا سانس لے ، اس کا استقبال ہو، اسے عزت و توقیر سے نوازا جائے اور اس کی ضروریات پوری کی جائیں۔
گھر ہمیشہ گھر والی کے گھر میں رہنے سے بنتا ہے۔ اور گھر میں گھر والی ہی نہ ہوگی تو پھر کیسے گھر کہلائے گا۔ گھر والی جب گھر میں رہتی ہے تو وہ اسے سجاتی ہے، چیزوں کو سنوارتی ہے، صفائی ستھرائی کا خیال رکھتی ہے اور باورچی خانے کی ضروریات کو پورا رکھتی ہے تاکہ بوقت ضرورت کسی شے کی ضرورت ہوتو اسے پورا کیا جاسکے۔
وہ خواتین جو اکثر اوقات گھر سے باہر گزاریں اور خوش گپیوں کے لئے دینی محافل میں شرکت کریں، ان کا گھر ایک اجڑے ہوئے دیار کی طرح ہوتاہے۔ جہاں کوئی شے بھی سلیقے سے اپنی جگہ نہیں ملتی۔ باورچی خانہ میں میلے برتن کسی مسیحا کے منتظر ہوتے ہیں ، مرچ مصالحے کے ڈبے ایک دوسرے سے گلہ کررہے ہوتے ہیں۔ اور چولہا زبوں حالی کا شکار ہوتا ہے۔
ایسی بیوی جو اپنے شوہر اور بچوں کی بنیادی ضروریات سے غفلت برتے اور اپنا زیادہ وقت گھر سے باہر اسلامی محافل میں گزارے، وہ نا تو دین کی خدمت سرانجام دے رہی ہے بلکہ وہ اپنے عمل سے اللہ تعالی کے غضب کو بھی دعوت دے رہی ہے۔ دین انسان کو اللہ تعالی کی رضا کے لئے صبر و شکر اور برداشت کی تعلیم دیتا ہے تاکہ اپنے حسن سلوک سے گھر کو جنت نظیر بنایا جائے چہ جایکہ گھر صرف سونے کا ٹھکانہ بن کے رہ جائے اور گھر والا حسن، سکون اور راحت اجڑ جائے۔
دوسری بیوی:
اللہ تعالی نے ایک انسان کے لئے ایک بیوی کو پسند فرمایا ہے۔ کیونکہ حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کے بعد اللہ تعالی نے ایک ہی اماں حًوّا کو پیدا کیا ۔ اگر ایک سے زیادہ بیویاں انسان کی ضرورت ہوتیں تو اللہ تعالی کے لئے یہ کام کوئی مشکل نہ تھا۔
ایک سے زیادہ بیوی کے حقوق ایمان داری سے ادا کرنا انسان کے بس سے باہر ہیں۔ دوسرے کوئی عورت بھی کسی دوسری عورت کو اپنے شوہر سے شیئر کرنا برداشت نہیں کرسکتی۔
ایسے مرد جو ایک سے زیادہ بیوی کے خواہش مند ہیں وہ اپنے لئے خود ہی گڑھا کھودتے ہیں۔ کیونکہ بیویاں گھر کے سکون کے لئے ہوتی ہیں ناکہ ایک اگر موڈ دکھائے تو دوسری کو اس کے سامنے کردیا جائے۔ ایسی صورت میں گھر محض میدان جنگ کا سماں پیش کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں کرسکتا۔
جو لوگ ایسی دگرگوں سچوئیشن کو برقرار رکھتے ہیں ان کی ذہنی صلاحیتیں ناکارہ ہوجاتی ہیں۔ یاد داشت بے کار ہوجاتی ہے۔ مالی حالات زبوں حالی کا شکار ہوجاتے ہیں اور سکون غارت ہوجاتا ہے۔ اور سب سے بڑھکر دونوں بیویوں میں سے کسی ایک کی محبت اور اعتماد حاصل کرنے میں ناکام رہتے ہیں۔
ایسے شوہر کسی ایک بیوی یا دونوں کے لئے اپنا تن ، من اور دھن لگا دیں، کوئی ایک بھی ایسے شوہر پر اعتماد نہیں رکھتی۔ اور ہمیشہ ہر ایک بیوی کی زبان پہ یہی ہوتا ہے کہ سارا مال تو دوسری پہ اجاڑ دیا ہمیں کیا دیا؟ بھوک، ننگ اور پریشانیاں؟
جب کہ دیکھنے والے دیگر مرد ایسے شوہر کو نجانے کتنا خوش قسمت سمجھ رہے ہوتے ہیں اور نجانے کتنا قابل اور عقل مند سمجھتے ہیں۔ جبکہ دو بیویوں کے بوجھ تلے ایسے شوہر کی عقل کا فالودہ بن چکا ہوتا ہے اور وہ آخری وقت میں ہر ایک کو یہی نصیحت کررہا ہوتا ہے دو بیویوں کے چکر سے دور رہنا۔ ورنہ کہیں کے نہ رہو گے۔
ڈھیٹ بیوی:
یہ بیویوں کی ایسی قسم ہے جو گاڑی کی ڈگی میں موجود سپیر ٹائر (سٹپنی) کی طرح ہوتی ہے۔ ایسی بیوی مست ملنگ ہوتی ہے جسے کوئی فکر نہیں ہوتی۔ ان کا ایمان شہنشاہ ظہیر الدین بابر کے مشہور مقولے بابر عیش کوش کہ عالم دوبارہ نیست کے مصداق ہوتا ہے کہ زندگی ایک بار ملی ہے ، عیش کرو، کھاؤ ، پیو اور موج اڑاؤ۔
ایسی بیوی من موجی ہوتی ہے، شوہر کی ایک نہیں سُنتی اور ہمیشہ اپنی مرضی کرتی ہے۔ بلکہ شوہر کی بات ایک کان سے سُن کردوسرے سے باہر نکال دیتی ہے۔
ایسی بیوی کے شوہر قابلِ رحم ہوتے ہیں اور مجبُور و محض زندگی کو اپنا مقدر سمجھ کر گزار دیتے ہیں۔
ماڈرن بیوی:
یہ بیوی ایسی ہے جو اپنی ہی دنیا میں رہتی ہے۔ چالاکی سے ناآشنا ہوتی ہے اور لڑائی جھگڑوں سے اس کا کوئی سروکار نہیں ہوتا مگر دکھاوا اتنا کہ بس پوچھو ہی نہ۔
ایک ہاتھ میں مہنگا ترین موبائیل فون ہوتاہے، دوسرے ہاتھ میں نیسلے منرل واٹر کی بوتل، کندھے پہ گووچی کا یا کسی بڑے برانڈ کا بیگ ان کی پہچان ہوتی ہے۔
لباس ایسا کہ گھریلو خواتین تو ایک طرف کالج کی لڑکیاں بھی استغفار پڑھ کر منہ دوسری طرف پھیر لیں۔ جبکہ مرد حضرات انھیں دیکھ لیں تو نظر ہٹانے کو گناہ سمجھتے ہیں۔ کوئی حور پری برسوں بعد ان کی تلاش میں ان کا پتہ معلوم کرتے کرتے ان کے سامنے آکے رک گئی ہو۔
ایسی جِدّت پسند اور خود پسند بیوی کو وطن عزیز ایک آنکھ نہیں بھاتا، جہاں موقع ملا وہیں انگریزی کا استعمال شروع کردیتی ہیں۔ انھیں کینیڈا کے خواب آتے ہیں اور شوہر سے اسی بات پر جھگڑا کرتی ہیں کہ سب کچھ بیچ باچ کر امریکہ کا ویزا حاصل کرلیں تاکہ دیارِ غیر میں اپنے سپنوں کا محل تیار کرسکیں۔
ایسی بیویاں یا تو امریکہ و کینیڈا سُدھار جاتی ہیں یا پھر اپنی حرکتوں اور بے جا ضد کے باعث میکے والوں پہ بوجھ بن کے بقیہ زندگی گزارتی ہیں۔
کام چور بیوی:
ایسی بیویاں پچھلے زمانے میں سر پر ڈوپٹہ باندھ لیتی تھیں تاکہ سر درد کا بہانہ بنا سکیں۔ مگر آ ج کے دور میں جہاں سر ڈھانپنے کے لئے ڈوپٹہ استعمال نہیں ہوتا وہاں یہ خاموشی سے کام لیتی ہیں۔
ویسے تو بہت باتونی اور چرب زبان ہوتی ہیں۔ انھیں ہر صورت حال اور ہر شخص کو جواب دینے میں ملکہ حاصل ہوتاہے۔ چہرہ ایسا معصوم بنا کر رکھتی ہیں جیسے سارے جہاں کا درد انھوں نے اپنے سر پر لیا ہوا ہے۔
اپنے کھانے پینے، پہننے اوڑھنےمیں کسی ماہر ڈیزائنر سے کم نہیں ہیں۔ کام چور اتنی ہیں کہ مہمانوں کے بارے میں سن کر ہی ان کی طبعیت خراب ہوجاتی ہے۔
اسی طرح محفلوں میں یا کسی گھریلو تقریب میں کام کے لئے کہیں تو وہاں بھی ان کی طبعیت ناساز ہوجاتی ہے۔ آج تک ڈاکٹر ان کی تکلیف اور مرض کی تشخیص نہیں کرسکے۔
ان کے گھر جب بھی کوئی آئے تو ایسا لگتاہے کہ کسی مریض کی عیادت کے لئے آئے ہیں۔ ایسی خواتین دوسروں کے گھروں میں اکثر و بیشتر دیکھنے میں ملتی ہیں اور ہشّاش بشّاش ہوتی ہیں۔
ایسی بیویوں کے شوہر ہر کام میں ماہر ہوتے ہیں اور کوئی بھی ذمہ داری دی جائے خوش اسلوبی سے قبول کرلیتے ہیں۔ جبکہ ایسی بیویوں کے بچے بھی کسی خاص ذمہ داری اٹھانے کو تیار نہیں ہوتے۔ تاہم بہ امر مجبوری تھوڑا بہت ہاتھ چلا لیتے ہیں۔
ایسی بیویاں بھر پور زندگی گزارتی ہیں اور وقت کے ساتھ ساتھ ان کی بات گھڑنے کی عادت میں چار چاند لگ جاتے ہیں اور دوسروں کو اپنی باتوں سے زیر کرنے کے فن میں کمال حاصل ہوجاتاہے۔ کوئی تحفہ نہ بھی دے، انہیں بھری محفل میں تحفہ زبردستی وصول کرنا آتاہے۔
غصیلی بیوی:
نک چڑھی اور غُصّہ میں آگ بگولہ بیوی ، جس سے بھی بات کرتی ہے اسے اس حد تک زِچ کردیتی ہے کہ وہ غصیلی بیوی کے سامنے تو کچھ بولنے سے کتراتی ہے مگر جب بھی موقع ملے اپنی شکایت غصیلی بیوی کے شوہر کے گوش گزار ضرور کردیتی ہے۔
اس طرح ایسی بیوی کے شوہر تمام عمر لوگوں سے معذرت کرنے اور کشیدہ معاملات سلجھانے میں گزار دیتے ہیں۔
یہی نہیں بلکہ غصیلی بیوی اپنے شوہر کو بھی ڈانٹنے سے نہیں کتراتیں۔ یوں اس کے شوہر اپنی بیوی کے سامنے اس وقت حاضر ہوتے ہیں جب کوئی چمٹا، بیلن یا کپڑے دھونے والا سوٹا قریب موجود نہ ہو۔
ایسے گھرانوں میں یا تو سناٹا ہوتا ہے یا لڑائی جھگڑا۔ خوش کن قہقہوں کا گزر اس گھر کے قریب سے بھی نہیں ہوتا۔ اس لئے شوہر کی کوشش ہوتی ہے کہ زیادہ وقت گھر سے باہر گزرے اور بچے بھی سہمے سہمے رہتے ہیں۔
کماؤ بیوی:
آج کے مہنگے دور میں گھر چلانا بہت مشکل ہے۔ گھر کا کرایہ، موٹر بائیک کا خرچہ، بجلی ، گیس کی گرانی اور پھر گھر کے اخراجات ایک اکیلے انسان کے لئے بہت بڑا چیلنج ہیں۔
اس لئے کچھ لوگ ایسی بیوی کی تلاش میں ہوتے ہیں جو خود بھی برسر روزگا ر ہو۔ تاکہ دوطرفہ آمدنی سے زندگی کی گاڑی کو احسن طریقے سے چلایا جاسکے۔
انگریزی میں کہتے ہیں کہ آپ کو اپنی شہرت کا معاوضہ چکانا پڑتا ہے۔ جب کماؤ بیوی گھر میں آئے گی تو گھر کے سربراہ کو اس کی خدمت اور اس کے نخرے بھی برداشت کرنا پڑتے ہیں۔ مگر مہینے کے آخر میں اپنی تنخواہ کے ساتھ بیوی کی آمدنی کی خوشی سے دل میں لڈو پھوٹ رہے ہوتے ہیں۔
جاب کرنے والی بیوی اور اس کے شوہر کے تعلقات میں واضح انڈرسٹینڈنگ کا عنصر نظر آتا ہے۔ بظاہر ایسی بیویاں بہت بھلی لگتی ہیں لیکن شادی کے فوری بعد ہی معلوم ہوجاتا ہے کہ آٹے دال کا کیا بھاؤ ہے۔ اور اگر شوہر و بیوی میں ذہنی ہم آہنگی اور سوچ میں بہت زیادہ فرق ہے تو یہ شادی عائلی زندگی کی تاریخ میں ناکامیوں کی نا ختم ہونے والی ایک کہانی بن جاتی ہے۔ ہر نئی صبح ایک نئے ہنگامے کا پیام لاتی ہے۔ تلخیوں، ناچاتیوں، لڑائی جھگڑے کبھی ختم ہونے کا نام نہیں لیتے۔ ایسا لگتا ہے جیسے یہ گھر آسیب زدہ ہوگیا ہے۔ ایسے ماحول میں خوشی کا گزر بہت کم کم ہوتا ہے۔ لیکن طوفان، گرج چمک اور باد و باراں کا سماں اپنا راستہ بدلنے کا نام ہی نہیں لیتا۔
ہر انسان ایک مخصوص قوت برداشت رکھتا ہے لیکن بیوی بحیثیت ایک عورت مرد سے زیادہ برد بار، برداشت اور جسمانی و روحانی تکالیف کا سامنا کرتی ہے۔ اگر ایسی بیوی کی ماں حیات ہے تو حالات قدرے بہتر رہتے ہیں اور جیسے ہی بیوی کی ماں خالق حقیقی سے جاملے تو پھر بیوی پر مصیبتوں کے پہاڑ ٹوٹنا شروع ہوجاتے ہیں۔
اس دوران کماؤ بیوی کے بچے سب سے زیادہ متاثر ہوتے ہیں کیونکہ بچے معصوم ہوتے ہیں اور انھیں دنیا داری اور عائلی مسائل کا کچھ علم نہیں ہوتا ۔ ان کا بچپن ہنگامہ خیزی کی نذر ہوجاتا ہے۔ ہر بچے کا فطری حق ہے کہ اس کا باپ اور اس کی ماں دونوں اسے بھرپور توجہ دیں اور اپنی محبت، اپنی لگن اور اپنا زیادہ سے زیادہ وقت ان کے ساتھ گزاریں تاکہ ان کی شخصیت بھرپور طریقے سے پروان چڑھے۔ بچوں کو باپ کی موجودگی سے احساس ِتحفظ ہوتا ہے اور ماں کی ممتا سے احساسِ الفت کی تسکین ہوتی ہے۔ اگر کسی کا بچپن ان دو بنیادی حقوق سے محروم رہا ہے تو اس کے مجرم صرف اور صرف والدین ہوتے ہیں۔
ایسا گھر اگر قائم رہ جائے تو صرف اور صرف بیوی کی قربانیوں اور برداشت کے انمٹ نقوش سمیٹے ہوئے ہوتا ہے۔ اور قدرت کی مہربانیوں کا متقاضی ہوتا ہے کہ ابر رحمت کب اس طرف اپنا رخ کرتا ہے۔
بڑبولی بیوی:
ایسی بیوی کے لئے خاموش رہنا اسی طرح ہے جیسے اونٹ پر بیٹھے ہوئے شخص کے ہاتھ میں پانی سے بھرا ہوا گلاس ہو اور اسے کہا جائے کسی صورت پانی باہر نہ چھلکنے پائے۔
ہر وقت زبان چلانے والی بیوی، یہ نہیں دیکھتی کہ اس کے شوہر کے سونے کا وقت ہوا چاہتا ہے۔ وہ تو بے لگام تیز گام کی طرح بس بولے چلی جاتی ہے۔ خواہ آپ توجہ دیں یا خراٹے لینے لگیں ان کی زبان رکنے کا نام نہیں لیتی۔
ایسی بیوی اپنی گفتار میں اتنی بے باک ہوتی ہے کہ وہ باتیں جنھیں بیان کرنے میں آپ برسوں تردد کا شکار رہتے ہیں کہ یہ بات کروں یا نا کروں۔ وہ جھٹ سے ایسی باتیں کہہ دیتی ہے اور آپ سب کے سامنے اپنا سا منہ لے کر رہ جاتے ہیں۔
ایسی بیوی ، اپنی زبان پہ قابو نہیں رکھ پاتی اور اسے یہ بھی ادراک نہیں ہوتا کہ کون سی بات کس جگہ کرنی ہے اور کون سی بات کرنے سے اجتناب کرنا ہے۔ بلکہ وہ ہر بات جھٹ سے کہہ دیتی ہے اور اکثر ان کے حلقے کے لوگ ایسی منہ پھٹ بیوی سے ڈرتے ہوئے بات کرنے سے کتراتے ہیں۔ جسے باتونی بیوی اپنے لئے شرف تفخر سمجھتی ہے۔
عموماً ایسی بیوی کے شوہر کم گو ہوتے ہیں اور بہت سوچ سمجھ کر بات کرتے ہیں۔ قدرت کا یہی کمال ہے کہ اگر ایک سرد مزاج ہے تو دوسرا گرم مزاج ہوتا ہے۔ ایک کم خرچ ہے تو دوسرا بے حساب خرچ کرنے والا۔
ہوشیار بیوی:
یہ بیوی کی ایسی قسم ہے جو دماغی طور پر بہت چست اور سماجی طور پر بہت چوکنی ہوتی ہے لیکن بظاہرشوہر کے حکم کے تابع نظر آتی ہے۔ اس بیوی کی کامیابی کی کنجی یہ ہے کہ یہ اپنے شوہر کے لاشعور میں وہی کچھ محفوظ کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے جو اس خاتون کی مرضی و منشاء کے مطابق ہو۔
یہ بیوی نا تو ماڈرن ہوتی ہے اور نا ہی مذہبی میلان رکھتی ہے۔ مگر اعتدال سے زندگی گزارنے کے فن میں ماہر ہوتی ہے اور شوہر کی پسند و ناپسند کو بہت اہمیت دیتی ہے۔ اور اس کے مزاج اور موڈ کو اچھی طرح سمجھتی ہے۔
ایسی بیوی منہ سے کوئی ایسی بات نہیں نکالتی جس سے شوہر کا موڈ آف ہوجائے۔ بلکہ وہی ماحول بنا کے رکھتی ہے جسے شوہر پسند کرتاہے ۔
ایسی بیوی جہاں موقع ہو، یہی ظاہر کرتی ہے کہ وہ شوہر کی مرضی کے برخلاف ٹی وی تک آن نہیں کرتی۔ ایسی بیوی اپنے سسرال اور محلے میں اپنی شوہر پرستی کے قصے بڑے ذوق شوق سے سناتی ہے اور اس کی بھنک جب شوہر کے کانوں کو ہوجاتی ہے تو شوہر ان پہ اندھا یقین کرلیتے ہیں۔
ایسی بیوی اپنے عمل ، اپنی سوچ اور ہوشیاری سے شوہر کا دل جیت لیتی ہے کہ شوہر ان کی زبان بولتے نظر آتے ہیں اور اگر کوئی شوہر سے اس بیوی کی برائی کرے تو شوہر برملا کہتا ہے کہ وہ تو جنتی عورت ہے۔ اس نے میرے لئے اپنی ہر خوشی قربان کردی ہے۔ شوہر کا یہی گمان ہوشیار بیوی کا کمال ہے۔
وہمی بیوی:
ایسی بیوی ہر وقت کسی نہ کسی وہم میں گرفتار رہتی ہیں۔ نادیدہ وہموں کی فکر اور ان کے تذکروں سے شوہر بھی بے چین رہتے ہیں۔
بار بار برتنوں کودھونا، باتھ روم کو بھی کئی کئی مرتبہ دھونا۔ گھر والے بھی ایسے اہتمام کی وجہ سے اپنے ہی گھر میں مہمان بن کے رہ جاتے ہیں۔
ٹی وی میں کسی بیمار کو دیکھ لیں تو انھیں بھی وہم ہوجاتا ہے کہ وہ بھی اسی بیماری کا شکار ہیں۔ موسم ذرا سا خراب ہوجائے تو ان کی طبعیت بلا وجہ ناساز ہوجاتی ہے اور فوراً ہی ٹوٹی ہوئی کھاٹ لیکر راستے میں بچھا لیتی ہیں اور اسی پہ پڑی رہتی ہیں۔
اپنے کھانے پینے کے برتن سب سے علیحدہ رکھتی ہیں اور میاں سے کہتی رہتی ہیں کہ بس اب میں چار دن کی مہمان ہوں۔
یہ سن کر بچے تو بے چارے سہم جاتے ہیں اور میاں شاید دل ہی دل میں خوش ہوتے ہوں کہ بہار کے دن پھر سے آنے والے ہیں۔
لیکن ہوتا تو وہی ہے جو منظور خدا ہے۔ یہ بیوی پوری زندگی اسی طرح گزار دیتی ہے اور شوہر بے چارے خواب ہی دیکھتے رہ جاتے ہیں اور آہیں بھر کے رہ جاتے ہیں۔
ناشکری بیوی:
ایسی بیوی جس کا شوہر دنیا بھر سے اس کے لے خوشیاں اکٹھی کرے، اپنی ذاتی خواہشات کو کنٹرول کرکے اس کی خواہش پوری کرے، یہ کبھی خوش نہیں ہوتی۔
ہر وقت گلہ و شکوہ ان کی زبان پہ ہوتا ہے۔ جب بھی شوہر کے گھر آنے کا وقت ہوتا ہے تو عین اس وقت محلے میں کسی خاتون کے دروازے پر خوش گپیوں میں مصروف ہوتی ہے۔
ایسی بیوی اپنے میاں کو دوسری خواتین کے شوہروں کی بے پناہ تعریفیں سناتی رہتی ہے کہ وہ اپنی بیویوں کا کتنا خیال رکھتے ہیں اسی لئے شوہروں کا زیادہ وقت گھر سے باہرہی گزرتا ہے ایک مشہور لطیفہ جس میں شوہر آسمان پر اڑ کے دکھا دیتا ہے لیکن بیوی پھر بھی کہتی ہے کہ “اچھا وہ تم تھے، جبھی ٹیڑھے ٹیڑھے اڑ رہے تھے” ان ہی بیویوں کے لئے بنایا گیا ہوگا۔
بے چاری بیوی:
ہمارے معاشرے میں اکثریت ایسی بیویوں کی ہے جسے ایک طرف شوہر دبا کر رکھتا ہے اور دوسری طرف ساس اپنی ہوشیاری اور چالاکی سے اس کے اوسان پر سوار رہتی ہے۔
ایسی بیوی کے شوہر امیر بھی ہوتے ہیں اور غریب بھی ہوتے ہیں۔ لیکن بے چاری بیوی کی عزت نفس کا گلا شادی کے اوائل میں ہی گھونٹ دیا جاتا ہے۔
ایسی بیویوں کے شوہر ذہنی طور پر بیوی سے بہت زیادہ چالاک اور عیار ہوتے ہیں۔ اور شاید اس کی وجہ عمر میں بڑے ہونے کا دخل ہے۔
ایسی بیوی کی محفل میں اور اکیلے میں بار بار بے عزتی کردی جاتی ہے اور اسے اپنی مدد کے لئے کسی کو پکارنے کی اجازت نہیں ہوتی۔
اکثر ایسی بیویوں کو کسی بہانے سے خاکستر بھی کردیا جاتا ہے اور الزام چولہا پھٹنے یا کسی قدرتی آفت کے پیٹے میں ڈال دیا جاتا ہے۔
ایسی بیوی اللہ میاں کی گائے کی طرح زندگی گزارتی ہے۔ اس کی خوشی، آرام، سکھ، چین کا کوئی خیال نہیں رکھتا بس زندگی کی گاڑی دھکیلنی ہوتی ہے سو دھکیلے جاتی ہے۔
ایسی بیوی کے بچے بڑے بھی ہوجائیں تو شوہر اور سسرال کی گرفت سے باہر نہیں ہوتے۔
شو بزنس والی بیوی:
کہتے ہیں ہر چمکنے والی شے سونا نہیں ہوتی۔ اسی طرح میڈیا، ٹی وی، فلم وغیرہ سے متعلق خواتین دل کش، دل فریب اور سحر انگیز زندگی گزار رہی ہوتی ہیں۔ جہاں خوشیاں، قہقہے، تحفے تحائف، پارٹیاں، بڑی بڑی گاڑیاں اور زندگی کی رنگینیاں جا بجا موجود ہوتی ہیں۔
یہ بھی سچ ہے کہ ہاتھی کے دانت کھانے اور دکھانے کے اور ہوتے ہیں۔ اسی طرح شو بز کی دنیا بظاہر بہت رنگین اور آنکھوں کو خیرہ کرنے والی ہوتی ہے۔ لیکن یہ سب کچھ دکھاوے اور عارضی ہوتے ہیں۔
اکثر لوازمات کرائے پہ حاصل شدہ ہوتے ہیں؛ جس پہ کسی کا حق تصرف نہیں ہوتا۔ لیکن دیکھنے میں یہ انسان کی شخصیت کو کہاں سے کہاں پہنچا دیتے ہیں۔
معاشرے میں ایسے لوگوں کی بہت پذیرائی ہوتی ہے اور انھیں ہاتھوں ہاتھ لیا جاتا ہے اور انھیں عقیدت و احترام سے دیکھا جاتاہے۔
ایسے ماحول میں کوئی جس قدر رہے گا وہ اسی کا عادی ہوجائے گا اور اس عارضی اور پرتکلف ماحول کو اپنی زندگی کا حصہ سمجھنے والے ، کم ہی خوش رہتے ہیں۔
شو بز سے تعلق رکھنے والی اکثر بیویاں شادی کے بندھن میں ناکام رہتی ہیں اور ایک سے زیادہ شادیاں کرکے بھی انھیں کوئی خوشی نصیب نہیں ہوتی۔ اور اکثریت تنہا زندگی گزارنے پر مجبور ہوتی ہیں۔
یوں تو وہ دنیا اور اسٹیج پہ خوشیاں بکھیر رہے ہوتے ہیں لیکن گھر میں اپنی تنہائی کے ساتھ ہوتے ہیں۔ جہاں صرف اچھی یادیں اور بچپن کا حسین دور ان کا ایسا ساتھی اور سرمایہ ہوتا ہے جو انھیں خوش رکھتا ہے۔ لیکن مردوں پہ سے ان کا اعتبار اٹھ چکا ہوتا ہے۔
شو بز سے تعلق رکھنے والی وہ بیویاں جو شادی کے بعد عوامی زندگی کو ترک کرکے اپنے شوہر کے ساتھ زندگی استوار کرلیں تو ان کی زندگی میں ٹھہراؤ اور خوشیاں آجاتی ہیں اور وہ کامیاب زندگی گزار سکتی ہیں۔ ورنہ ان کی زندگی اکیلے ہی کسی بڑے شاپنگ مال میں ونڈو شاپنگ کرتے ہی گزر جائے گی۔
اللہ تعالی سب کے گھر خیر و سلامتی ، محبت اور باہمی اعتماد سے قائم رہیں۔آمین
تبصرے