نظم و ضبط
نظم و ضبط کے معنی ہیں انتظام و انصرام کرنا، نظم اور ترتیب، سرکاری یا دفتری امور کا بندوبست۔
نظم و ضبط ایک ایسا عمل ہے جو انسان کی زندگی کو با اصول بناتا ہے۔ انسان کو صفائی ستھرائی اور تزئین و آرائش سکھاتا ہے۔ نظم و ضبط میں رہنے کی ترغیب اسی لئے دی جاتی ہے کہ ہم سچی اقدار کو اپنائیں ، محنت کو شعار بنائیں، شارٹ کٹ یا سُستی سے پرہیز کریں اور زندگی کو بہتر انداز میں گزار سکیں۔
نظم و ضبط سے مراد ایک نظام، سلسلہ، ترتیب اور بندوبست ہے۔ انسان کے جسم میں جو اعضاءبنائے گئے ہیں وہ سارے کے سارے اپنا اپنا کام ایک مخصوص ضابطے یا قانون کے تحت کرتے ہیں۔ دماغ کے لئے ایک ضابطہ مقرر ہے۔ وہ اس کے تحت کام کررہا ہے۔ جسم کے دوسرے اعضاء بھی ایک مقرر قاعدے کے تحت ہی کام کرتے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ قانون اور ضابطہ سے کوئی چیز باہر نہیں۔
کائنات پہ غور کریں تو ہمیں پتہ چلتا ہے سورج ایک روشن ستارہ ہے جودنیا کو ناصرف روشنی دیتا ہے بلکہ دن کے اوقات بھی متعین کرتا ہے۔ جیسے صبح سورج کا طلوع ہونا، ایک نئی صبح کی نوید دیتا ہے، دوپہر کو سورج نصف النہار پر ہوتا ہے اور شام کو غروب ہوجاتا ہے۔ اور ایک پورے دن کی تکمیل کے مراحل طے کرتا ہے۔ سورج کی گردش سے موسم جنم لیتے ہیں۔ سورج کی تپش سے فصلیں اور پھل پک کر تیار ہوتے ہیں۔ اسی طرح رات میں چاند افق پہ ہلال کی شکل میں نمودار ہوتا ہے اور ہر روز اپنا سفر طے کرتے کرتے ماہ کامل بن جاتاہے۔ چاند کے علاوہ دیگر ستارے اور سیارے بھی کائنات قدرت کے نظام کا حصہ ہیں۔
ہواؤں کا چلنا، موسموں کا بدلنا، برفوں کا پگھلنا اور ندی نالوں کا رواں دواں ہونا یہ سب قدرت کے قوانین اور ضابطوں کا مظہر ہیں۔
اسی طرح ہر ایک گھر کا اپنا نظم و ضبط ہوتا ہے۔ جس میں ایک سربراہ ہوتا ہے جو مالی وسائل کے حصول کے لئے سرگرداں رہتا ہے تاکہ گھر کا نظام چل سکے۔ گھر کا سربراہ پورے گھر کا ناظم اعلی ہوتا ہے۔ گھر میں درکار روزانہ استعمال کی اشیاء کا بندوبست کرنا اسی کے ذمہ ہوتا ہے۔ گھر کے طعام وقیام کےلئے خاتون خانہ سرگرم عمل ہوتی ہیں۔ مہمانوں کے استقبال، ان کی خاطر مدارت بھی خاتون خانہ کے ذمہ ہے۔ گھر کی صفائی، ستھرائی، کپڑوں کو دھونا اور انھیں ترتیب سے رکھنا خاتون خانہ سرانجام دیتی ہیں۔ جبکہ بچے اگر بڑے ہیں تو وہ اپنے ماں باپ کا ہاتھ بٹاتے ہیں۔
انسان کی بقاءو ارتقاء کے لئے مخصوص ضابطوں کی پابندی لازم ہے۔ اسلام اپنے اندر ایک مکمل ضابطہ حیات رکھتا ہے۔ اللہ تعالی نے انسان کو یونہی زمین پر نہیں بھیجا۔ انسان کی تربیت اور ہدایت کے لئے اللہ تعالی نے اپنے انبیاء بھیجے تاکہ انسان کو نظم و ضبط کے تحت زندگیاں بسر کرنے کا طریقہ بتائیں۔ جیسے ارکان اسلام میں نمازوں کا حکم ہے۔ ہر نماز کا وقت ایک مقررہ وقت پر ادا کرنے کا حکم ہے۔ فجر کی نماز طلوع آفتاب سے پہلے ادا کی جاتی ہے۔ اسی طرح دوسری نمازوں کے لئے مختلف اوقات مقرر کئے گئے ہیں۔ جب اذان کی آواز ہماری سماعتوں سے ٹکراتی ہے تو ہم اپنی تمام مصروفیات چھوڑ کر اللہ کے گھر کی طرف چل پڑتے ہیں۔
نماز میں ہمیں پہلے وضو کرنا پڑتا ہے، تاکہ روحانی پاکیزگی کے حصول کے لئے جسم کے اہم حصوں کو دھو کر تازہ دم ہوجائیں۔ امام کی امامت میں نماز ادا کریں اور سلام پھیر کر اجتماعی دعا کرنا، نظم و ضبط کی بہترین مشق ہے۔ پانچ وقت کی نماز باجماعت ادا کرنا ، ہمیں سکھاتا ہے کہ امام کی امامت میں اجتماعی سرگرمیوں کو کس طرح باقاعدگی اور اصول و ضوابط کے تحت ادا کیا جاتا ہے۔
نماز ہمیں صفائی ستھرائی سکھاتی ہے، نماز ہمیں لیڈر کے حکم کی تعمیل سکھاتی ہے، نماز ہمیں اجتماعی طور پر ایک مقصد کے حصول کے لئے متحد ہو سرگرم عمل کرنا سکھاتی ہے۔ نماز ہمیں اپنے رب سے جوڑنے میں اہم کردار ادا کرتی ہے ۔
عالمی سطح پہ امت مسلمہ کا اجتماع حج کے موقع پہ ہوتا ہے جہاں لاکھوں مسلمان مناسک حج ادا کرتے ہیں۔ ایک جیسا لباس، اکٹھے طواف کرنا، سعی کرنا، رمی کرنا، قربانی دینا غرض ہر جگہ انہیں نظم و ضبط کا پابند رہنا ہوتا ہے۔
زندگی میں اسی قوم نے ترقی کے زینے طے کئے ہیں، جس میں اتحاد اور نظم وضبط پایا جاتا ہے۔جو قومیں بے اصولی سے زندگی گزارتی ہیں ان میں نہ تو اتحاد پایا جاتا ہے اور نہ ہی نظم وضبط۔ ایسی قوموں میں چھوٹی چھوٹی باتوں پر فساد برپا ہوجاتا ہے۔کوئی کسی کی بات نہیں سنتا۔ہر کوئی اپنے آپ کو حق پر سمجھتا ہے۔مراد یہ کہ ہر کوئی اپنی اپنی ڈفلی بجا تا ہے اور ہر کوئی اپنا اپنا راگ الاپتا ہے ۔
نظم و ضبط اس قدر اہمیت کا حامل ہے کہ ہر کہیں اس کی موجودگی محسوس ہوتی ہے۔ جہاں پر نظم نہیں وہاں افراتفری اور غلط نتائج ہی نظر آئیں گے۔ دنیا کا ہر کام کسی نہ کسی ضابطے یا قاعدے کے تحت ہوتا ہے۔زندگی میں خوبصورتی نظم و ضبط کے ذریعے پیدا ہوتی ہے۔
ہم پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم دوسروں کے جذبات و احساسات کا احترام کریں اور ہمارا قول و فعل سوسائٹی کےلئے مفید ثابت ہو۔ اگر ہم معاشرے میں رہتے ہوئے کسی قانون اور ضابطے کا خیال نہیں کرتے تو اپنے لئے بھی اور دوسروں کے لئے بھی تکلیف کا باعث بنتے ہیں۔ اگر ہم نظم و ضبط کا مظاہرہ کریں اور اتحاد و اتفاق سے زندگی بسر کریں تو ہماری زندگیوں میں سلیقہ اور ایک جمال دکھائی دے سکتا ہے۔ ہمیں چاہئے کہ ہم اپنی زندگیوں کے ہر شعبے میں نظم و ضبط پیدا کریں اور اپنی زندگی کو ایک خوشگوار راستے پر گامزن کریں۔۔۔۔
بانی پاکستان قائد اعظم نے قوم کو اتحاد، یقین اور تنظیم کا عظیم سبق دیا ہے۔ جس قوم میں نظم و ضبط نہیں ہوتا وہ جلد صفحہ ہستی سے نیست و نابود ہوجاتی ہے۔ اسلام کا عروج بھی قومی نظم و ضبط‘ اتحاد و تنظیم کے طفیل ہوا۔ اگر ہمیں اپنے وطن سے پیار ہے اور ہم واقعی پاکستان سے مخلص ہیں اور اپنی قوم کو دنیا کی ترقی یافتہ اقوام کی صف میں دیکھنا چاہتے ہیں تو ہمیں اپنی صفوں میں اتحاد پیدا کرنا چاہیئے۔ اور اٹھتے بیٹھتے ‘ چلتے پھرتے ہر مقام پر ہر وقت اتحاد اور نظم و ضبط کا مظاہرہ کرنا چاہیئے۔
یاد رکھیئے کہ سائنس منظم علم ہے اور دانائی منظم زندگی۔

تبصرے