بڑھاپا


اس کے معنی ہیں  کہن سالی، دیرینہ سالی، پیرانہ سالی، عمر رسیدہ ہونے کا زمانہ، بزرگی، پیری، سالخوردگی اور ضعیفی وغیرہ۔

بڑھاپا  دراصل جوانی کا عکس  ہے۔ اس کا آغاز اور ابتداء جوانی سے ہوتی ہے۔   انسان اپنی جوانی کیسے، کہاں اور کس طرح گزارتا ہے۔ ان تمام کا تعلق بڑھاپے سے ہے۔  جوانی کی مشغولیات انسان کے بڑھاپے کا تعین کرتے ہیں۔  جن کی جوانی پاک بازی میں گزرے وہ بڑھاپے میں  خوش و خرم رہتے ہیں اور فخر سے زندگی کے بقیہ ایام گزارتے ہیں۔  اس کے برعکس بدکاری ، لغویات اور عیش و طرب میں جوانی گزارنے والے جسمانی طور پر بیماریوں میں جکڑے ہوئے ہوتے ہیں اور نفسیاتی طور پر خود کو مجرم سمجھتے ہیں اور اپنے اعمال  کے باعث شرمندگی اور خجل کا شکار ہوتے ہیں۔

مدارج حیات:

انسانی زندگی کے تین اہم مراحل ہیں۔ بچپن، جوانی اور بڑھاپا۔ بچپن ہوا کے ایک جھونکے کی مانند ہے۔ یہ بے فکری اور کھیل کود  کا  زمانہ  ہے جس میں مناظر تیزی سے بدلتے ہیں، اس عمر میں سوچنے سمجھنے سے زیادہ محسوس کرنے کی صلاحیت بیدار ہوتی ہے۔ بچہ اردگرد کے ماحول سے بہت زیادہ اثر قبول کرتا اور اپنے آپ میں مگن رہتا ہے۔ 

بچپن اور جوانی کے درمیان بھی ایک وقفہ ہوتا ہے جسے لڑکپن کہتے ہیں۔یہ عمر غیر معمولی تحریک اور مصروفیات  سے عبارت ہوتی ہے جس میں کسی پل چین نہیں آتا بس کچھ نہ کچھ کر گزرنے کو جی چاہتا ہے ۔

 زندگی کا پُرجوش، نشاط انگیز اور ولولہ خیز مرحلہ  جوانی  ہے۔  جوانی انسانی زندگی کا نقطہ عروج ہے جس میں انسان خواب دیکھتا ہے اور خواب کی تعبیر تلاش کرتا ہے۔ وہ اپنے لیے جیون ساتھی   کا انتخاب کرتا ہے۔  جوانی میں انسان سوچتا کم ہے عملی طور پر  زیادہ  سرگرم رہتا ہے کیوں کہ یہ اس کے عمل کا زمانہ ہے وہ اس عمر میں بالعموم اپنی صلاحیتوں کو آزماتا ہے  اور اپنے اعصاب کو پرکھتا ہے اور اعتماد کے ساتھ شاہراہ حیات پر آگے بڑھنے کی کوشش کرتا ہے۔ 

جوانی بھی بہت سرعت سے گزر جاتی ہے اور انسان بڑھاپے میں قدم رکھ دیتا ہے۔  بڑھاپا رونے کے لیے نہیں، گزری ہوئی خوشگوار یادیں تازہ کرنے اور زندگی کا لطف اٹھانے کے لیے آتا ہے۔ 

بڑھاپا اگرچہ جسمانی کمزوری اور اعضاء کی کمزوری کے باعث وارد ہوتا ہے جس میں انسان مشقت سے دور بھاگتا ہے اور گاہے بگاہے آرام کے لئے وقفہ کرتا ہے۔

اس حقیقت سے بھی انکار نہیں کیا جاسکتا کہ بوڑھا ہونا آسان کا م نہیں ۔ اس کے لئے برسوں کی ریاضت کی ضرورت ہوتی ہے۔ 

انسان کو زندگی میں دو بار رشتوں کی اصلیت کا پتہ چلتا ہے ،  بیوی کے آنے کے بعد یا پھر بڑھاپا آنے کے بعد۔

بڑھاپا ایک نعمت ہے:

بڑھاپا ایک  بڑی نعمت ہے ۔ آپ اپنی زندگی کے بے شمار تجربات کی روشنی میں اپنے بچوں اور ان کے   بچوں کو زندگی  میں کامیابی حاصل کرنے اور ناکامیابیوں سے اجتناب کے طریقے اور عملی مظاہرہ کرکے ان کی تربیت کرسکتے ہیں۔

بڑھاپے میں انسان ایک گھنے اور چھاؤں  والے درخت کی مانند ہوتا ہے جس کے سایے تلے لوگ  اپنے مسائل کے حل کے لئے توقف کرتے ہیں اور زندگی کے خطرات  سے نبٹنے کےلئے  زرّیں اصول اپناکر اپنی زندگی کو خوش باش اور کامیاب بناسکتے ہیں۔

بڑھاپا کیسے اچھے طریقے سے گزاریں:

فکر سے دور رہیں۔
ایک وقت میں ایک ہی کام کریں ۔
چینی کا استعمال ہاتھ روک کر کریں ۔ 
روزانہ آٹھ گھنٹے نیند لیں۔
بہت زیادہ ٹی وی دیکھنے یا کمپیوٹر و موبائیل پر مصروف رہنے سے اجتناب کریں۔
چہل قدمی اور ہلکی پھلکی ورزش کریں۔ 
بہت زیادہ میک اپ کے استعمال سے پرہیز کریں۔ 
نیند کے دوران چہرہ تکیے پر نہ رکھیں۔ 
پانی یا جوس پینے کے دوران گلاس یا مگ استعمال کریں اور پلاسٹک کی نلکی (اسٹرا) سے اجتناب کریں۔
کمپیوٹر یا لیپ ٹاپ کے سامنے کمر جھکا کر نہ بیٹھیں۔ 

بڑھاپے کی نشانیاں:

اقوال زرّیں اچھے لگنے لگتے ہیں۔
انگریزی علاج کے بجائے دیسی نسخوں پر یقین پختہ ہوجاتاہے۔
باہر کے کھانے نقصان دہ لگتے ہیں۔
شیو کرنا   زہر لگتا ہے۔
ڈبیوں والا کوٹ ہر دل عزیز ہوجاتا ہے۔
سادگی کے بے شمار فوائد نظر آنا شروع ہوجاتے ہیں۔
چکن کے بجائے مچھلی میں افادیت نظر آنے لگتی ہے۔
شرٹ کی بجائے واسکٹ میں دلچسپی بڑھ جاتی ہے۔
سکِّے علیحدہ ڈبے میں جمع کرنے کا شوق  پیدا ہوجاتا ہے۔
رات تین بجے بھوک لگنے لگتی ہے۔
گہری نیلی پینٹ پر کالا کوٹ پہن کر لگنے لگتا ہے کہ کسی کو فرق نظر نہیں آئے گا۔
بیک وقت جمائی اور انگڑائی آنے لگتی ہے۔
بار بار اپنے ہم عمر کو بوڑھا کہنے میں تسکین ملتی ہے۔
بڑی ٹائمنگ فونٹ کے لئے بٹنوں والا موبائیل اچھا لگنے لگتاہے۔
ہر گھنٹے کے بعد قیلولہ کرنے کا دل کرتا ہے۔
آدھی رات کو یہ وہم اٹھتا ہے کہ پتا نہیں مین گیٹ کا تالا بند کیا ہے کہ نہیں۔
اے ٹی ایم سے پانچ سو روپے  نکالنے کے بعد تین مرتبہ گننے کے بعد تسلی ہوتی ہے۔
خالص شہد ڈھونڈنے کا شوق بیدا ر ہوجاتا ہے۔
ٹی وی دیکھتے ہوئے نیند آنے لگتی ہے۔
پاجامہ پہننا ہر مشکل کام کا بہترین حل نظر آتا ہے۔
ہیئر اسٹائل کی بجائے چھوٹے بال رکھنا پسند کرتے ہیں۔
فیس بک پہ آپ کا زیادہ وقت گزرتا ہے۔

 مندرجہ بالا تمام خواص آپ کے اندر موجود ہیں تو آپ ستر برس کی عمر انجوائے کرچکے ہیں۔

اگر پندرہ خواص آپ کی شخصیت میں داخل ہوچکے ہیں تو آپ ساٹھ برس مکمل کرچکے ہیں۔

جبکہ دس خواص والے افراد پورے پچاس برس مکمل کر چکے ہیں۔

اس کے علاوہ کسی شخص میں ایک آدھ بھی خواص سرایت کرنا شروع کرگئے ہیں تو بڑھاپے نے آپ کے آنگن میں قدم رنجا فرمالیا ہے۔

بڑھاپہ روکنے کا ٹوٹکہ:-

اگر آپ بڑھاپے میں بھرپور صحت کا لطف اٹھانا چاہتے ہیں تو اس کے لئے آپ کو ہر تیسرے دن ہاتھوں اور پاؤں کے ناخن کاٹنا ہوں گے۔چاہے تھوڑے تھوڑے ناخن ہی کیوں نہ ہوں انھیں احتیاط سے کاٹیں اور ان پر سرسوں کا تیل لگائیں۔ ایسا کرنے سے نہ صرف آپ  کی یاد داشت ، حافظہ قوی، اعصابی کمزوری سے نجات، قبل از وقت بڑھاپا نہیں آئے گا بلکہ گھٹنے اور جوڑ مضبوط ، نظر تیز اور دل و دماغ پر بھی مثبت اثرات مرتب ہوں گے۔ 

دوسرا نسخہ یہ ہے کہ  جمال گوٹہ مغز   (مونگ پھلی کے دانے کی طرح ہوتا ہے)  اور  گائے کا دیسی گھی (جس میں گندھک ہوتی ہے)۔

تین پاؤ گائے کے گھی میں پورے پچیس گرام  جمال گوٹہ مغز  (اسے کوٹ کر) ، آگ پہ جلا لیں اور پھر ململ کے کپڑے میں صاف کرکے کسی چھوٹے برتن میں جمع کرلیں۔

کھانے کا طریقہ:    

پانچ یا چھ قطرے یا چینی والا آدھا چمچ  روزانہ صبح ، دوپہر اور رات کے کھانے میں سالن پہ ڈال کر کھائیں۔ انشاءاللہ آپ کا بڑھاپہ صحت مند اور توانا گزرے گا۔ 


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت