اولاد
کسی بھی جنس کی حیاتیاتی تولید کے عمل کے نیتجے میں جنم لینے والے بچے اپنے والدین کی اولاد کہلاتے ہیں۔ تاہم لفظ اولاد کے معنی ہیں ایک آدمی کی اولاد، ایک نسل اور ایک خاندان کے لوگ، بال بچے، بیٹا بیٹی۔
اولاد کی پیدائش کسی انسان کی تخلیق نہیں ہے اور نا ہی اولاد کے حصول میں کسی انسان کا کوئی کمال کارفرما ہوتا ہے۔ بلکہ یہ صرف اور صرف خدائے ذوالجلال کی رحمت ہے، اس کی مہربانیوں میں سے ایک بہترین مہربانی اور عظیم تر انعام ہے۔ جو انسان کو اللہ تعالی کی حکمت اور قدرت کے باعث عطاء کیا جاتا ہے۔ تاکہ انسان کی نسل آگے بڑھے اور اس کے دست و بازو بن کر اپنے والدین اور ملک و قوم کا نام روشن کریں۔
صحت مند اولاد والدین کے لئے بہترین تحفہ ہے۔ آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، دل کا قرار ہے ۔ اور اگر خدا نخواستہ کوئی اولاد ذہنی طور پر معذور ہو، جسمانی طور پر معذور ہو یا گونگی بہری ہو تو یہ امر والدین کو تاحیات ایک آزمائش اور بے قراری کی کیفیت میں مبتلا کردیتا ہے۔ ماں باپ معذور بچے کی وجہ سے خوشی سے نابلد ہوجاتے ہیں اور اپنے بچے کی سلامتی، خیر خواہی اور صحت کے لئے ہر وقت دعاگو رہتے ہیں۔ ایسے والدین کے لئے اللہ تعالی نے اجرِعظیم رکھا ہے۔
نیک اولاد والدین کے لئے رحمت اور نعمت ہے:
اولاد اللہ رب العزت کی بہت بڑی نعمت اور رحمت ہے۔ جبکہ نیک اور صالح اولاد ، والدین کی خوبیوں کی امین، ان کے خوابوں کی تعبیر، نسلی امتداد (درازئ نسل) کا محرک، آنکھوں کی ٹھنڈک، قوت بازو اور خانگی نیرنگیوں (معصوم اور خوبصورت اداؤں) کی روح اولاد ہی کا عکس جمیل ہے۔
اولاد والدین کی شبیہ ہوتی ہے:
انسان کی اولاد اس کی اپنی شخصیت کا عکس ہوتا ہے بلکہ اس کے جسم کی توسیع ہے۔ انسان اپنی اولاد میں اپنی ذات کی شبیہ دیکھتا ہے ۔ انسانی خون اور DNA قدرت کا ایسا کمال ہے جس میں انسان کے خواص موجود ہوتے ہیں۔ آپ اپنی اولاد سے عمر بھر ایک لفظ نہ بولیں، لیکن وہ آپ کے خاندانی خون اور DNA میں محفوظ معلومات کو آگے بڑھاتے ہوئے وہی کچھ کرے گا جو آپ نے بچپن میں کیا تھا۔
اپنی شخصیت اور اپنے بچے کی شخصیت میں مماثلت کے لئے اپنے بزرگ جنھوں نے آپ کو گود میں کھلایا ہو، ان کے پاس اپنے بچے کو لے جائیں اور ان بزرگوں سے دریافت کریں کہ کون کون سی عادات آپ کی اور آپ کے بچے میں ایک سی ہیں۔
عموما ً کسی بچے کا اٹھنا، بیٹھنا، چلنا، کھڑے ہونا، دیوار کے ساتھ ٹیک لگا کر کھڑے ہونا، مسکرانا، غصے میں آنا، غصے میں زبان کو دانتوں میں دبانا، اور سونے کا انداز اپنے والدین کی طرح ہوتا ہے۔
کبھی کبھی بچے اپنی جدّ یعنی نانا، نانی ، دادا ، دادی سے بھی بہت مشابہت رکھتے ہیں۔
اولاد کی تربیت میں ماں کا کردار:
ماں کی گود کو اولاد کی پہلی درس گاہ کہا جاتاہے۔ اولاد کی تربیت میں ماں کو ایک خاص مقام حاصل ہے۔ نیک سیرت اور پاکیزہ خیالات والی ماؤں نے ہمیشہ انسانیت کو عظیم مصلحین، علماء و فضلا اور اولیاء کرام جیسے جید لوگ دیئے ہیں۔
انہی ماؤں نے اپنے علم و فضل ، زہد و عبادت اور عرفان و سلوک سے بہترین کردار، اعلی اخلاق، علم و آگہی سے باخبر اور فہم و تدبر میں ماہر اولاد کی تربیت اور کردار سازی میں اہم کردار ادا کیا۔
عالم اسلام میں اہل اللہ کی تعلیم و تربیت اور اُن کی شخصیت کی نشوونما میں اُن کی ماؤں کا بڑا دخل رہا ہے۔ ایسی صالحہ، عابدہ، زاہدہ، عالمہ اور فاضلہ ماؤں نے اپنے فرزندوں کی ایسی تربیت فرمائی کہ لاکھوں لوگوں نے ان صالح اولادوں سے استفادہ حاصل کیا۔
آج کی ماں:
آج کی ماں اپنی ذاتی صحت، خوبصورتی اور آرام کو سب سے اہم سمجھتی ہیں۔ انہیں اپنی شخصیت کو معاشرے میں اُجاگر کرنے، میڈیا کی زینت بننے اور بہترین و نفیس لباس زیب تن کرنے کا شوق ہوتا ہے۔
ایسی مائیں بچے کی پیدائش پر اپنے شوہر سے دادِ تحسین وصول کرنے اور کوئی قیمتی تحفہ حاصل کرنے کے علاوہ اور کچھ نہیں سوچتیں۔
اپنے بچوں کو ماں کا دودھ پلانے میں انہیں عَار محسوس ہوتا ہے، بچے کے لئے انھیں ایک خادمہ کی خواہش ہوتی ہے اور وہ بچہ جننے کے بعد خود کو بالکل ڈھیلا چھوڑ دیتی ہیں اور چاہتی ہیں کہ تمام کام ان کی والدہ، ساس یا کوئی نوکر سرانجام دے۔
آج کی ماں اپنے کاندھوں پہ ذمّہ داری اٹھانے کے لئے تیار ہی نہیں ہوتی۔ بلکہ سُستی، آرام اور سکون کی تلاش میں حیلے بہانے کرتی رہتی ہیں۔ اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے ان کے اندر اللہ تعالی نے جو بے پناہ قوت اور جذبۂ خدمت رکھا ہے وہ سرد پڑ جاتا ہے۔
آج کی ماں اپنے ماں بننے پر فخر محسوس کرنے کی بجائے ستم زدہ، بیمار اور مریضہ بننا زیادہ پسند کرتی ہے۔ جبکہ اسے یہ احساس ہونا چاہیے کہ پہلے وہ شوہر کی خدمت پہ معمور تھی اور اب ایک اور ذمہ داری اس کے کاندھوں پر آگئی ہے۔ جسے اگر وہ احسن طریقے سے نبھائے تو وہی اولاد اس ماں کے مرتبے کو چاند ستاروں کی طرح روشن کرکے اس کا نام رہتی دنیا تک قائم رکھ سکتی ہے اور وہی اولاد ناکارہ، جاہل اور بے توقیر انسان کی شکل میں اس کے لئے باعث ذلت بھی ہوسکتی ہے۔
اولاد کے لئے ماں کی ذمہ داریاں:
گھر کا سربراہ مرد ہوتا ہے ۔ جو فیصلہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے ، گھر کے اخراجات پورے کرنے کا ذمہ دار ہوتا ہے اور گھر کی حفاظت پہ مامور ہوتا ہے۔ جبکہ حقیقی انتظام و انصرام، تزئین و آرائش ، رشتہ داری کو قائم رکھنے ، اولاد و والد کے بابین گفت و شنید کا بہترین ذریعہ، تعلق داری اور احترام و لحاظ کی کڑیوں کو جوڑنے والی ماں ہوتی ہے۔
یہ ماں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بچوں کی شخصیت کو نکھارے، ان کے اخلاق کو اجاگر کرے، ان کے کردار کو پاکیزہ رکھے اور انھیں تعلیم کے زیور سے آراستہ کرے اور بچوں کو احساس دلائے ، بار بار انہیں باور کروائے کہ برائی سے دور رہیں، حتی المقدور غصے کو قریب نہ آنے دیں ، اپنی محنت اور کارکردگی سے معاشرے میں ایسا نام پیدا کریں کہ سبھی لوگ ان کی عزت و تکریم کرتے ہوئے فخر محسوس کریں۔
اللہ تعالی نے ماں کو لطیف جذبوں سے مالا مال کیا ہے، ماں کی ذمہ داری ہے کہ گھر میں خوش خلقی، ادب و احترام اور پاکیزہ ماحول کو فروغ دیں۔ جس گھر میں آداب گفتگو میں جس قدر شائستگی ہوگی اس گھر میں اسی قدر سکون اور راحت نظر آئے گا۔
بچوں کو بچپن سے ضدی نہ بنائیں، ان کی جائز خواہشات پوری کریں اور انھیں دلائل اور منطق سے سمجھائیں کہ فلاں چیز ہم نہیں خرید سکتے ، اور فلاں گفتگو غیر شائستہ ہے اور فلاں بات اپنے والد کے سامنے نہ کریں کیونکہ یہ بے ادبی کے دائرے میں آتی ہے۔
اولاد کی تربیت:
تربیت کے معنی ہیں ، پالنا، پرورش کرنا، پروان چڑھانا، کسی کو تدریجا ً نکھار کر حد ِکمال تک پہنچانا۔ تربیت کا مقصود صالح انسان تیار کرنا ہے۔ جو وطن، علاقہ ، رنگ، نسل کی عصبیتوں سے پاک ہوکر باکردار مکمل انسان بنے، اللہ تعالی کا سچا بندہ اور انسانیت کا حقیقی خادم ہو۔
حقیقی تربیت صرف جسمانی یا روحانی تربیت نہیں ہے اور نہ محض فکر و فلسفہ اور نظریہ کی تربیت ، بلکہ اس سے ہمہ جہت تربیت مطلوب ہے ۔ یعنی ذہنی و فکری ، جسمانی و روحانی، نظریاتی اور عملی تربیت جو ایک کامل انسان بنائے جو اپنے مالک کل جہان کے حقوق کی ادائیگی کے ساتھ ساتھ پوری انسانیت کا خیر خواہ اور مخلص ہو۔
تربیت کی ضرورت:
انسان کے اندر مختلف اور متضاد صفات پروان چڑھنے کی صلاحیت ہوتی ہے۔ مثبت اور منفی دونوں طرح کے اوصاف اس کے اندر پیداہوسکتے ہیں۔ خیر و شر، تعمیر و تخریب، نرمی و سختی، محبت و نفرت ، دوستی و عداوت، صلح و جنگ جیسے اوصاف اس کے اندر پیداہوسکتے ہیں۔انسان کی اگر تربیت نہ کی جائے،اسے اچھے کاموں کی ترغیب اور برے کاموں سے نفرت نہ دلائی جائے تو سماج میں امن و سکون ختم ہوجائے گا کیوں کہ انسان اس اعتبار سے کم زور پیدا کیاگیاہے۔ وہ عموماً خواہشاتِ نفس کے ہاتھوں مجبور ہوجاتا ہے۔دوسری کمزوری جو انسان کے اندر موجود ہے وہ ذمہ داریوں سے فرار ہے۔ وہ اپنے نفس کے لیے حقوق لینا چاہتاہے، لیکن فرائض سے کتراتاہے۔ اگر انسان کی تربیت نہ کی جائے تو پھر وہ بے لگام جانور کی طرح خواہشاتِ نفس کے پیچھے بھاگتا ہے ۔ ذمہ داریوں سے فرار کی راہ اختیار کرتا ہے۔ جواب دہی کا احساس اس کے اندر نہیں ہوتا۔ اس کی شخصیت میں یک رُخاپن رہ جائے گا، وہ کسی نہ کسی انتہا پر ہوگا۔ اس کی شخصیت اعتدال و توازن سے محروم رہے گی۔ نتیجتاً سماج اور معاشرہ ظلم و فساد سے بھر جائے گا۔اس لیے انسان کو عدل و قسط کی راہ پر قائم رکھنے اور سماج کے اندر عدل و انصاف اور امن و امان کو برقرار رکھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کی تربیت و تزکیۂ نفس کا اہتمام کیاجائے۔
بہترین تربیت کے لئے درج ذیل نقائط کو ذہن میں رکھیں:
1۔ انسان کی خفیہ اور پوشیدہ صلاحیتوں کو ظاہر کرنا۔
2۔ انسان کو پستی سے نکال کر بلندی اور تکمیل کی راہ پر گامزن کرنا اور اس کے انسانی اوصاف حمیدہ کی دیکھ بھال کرنا۔
3۔ ان سرگرمیوں کو انجام دینا جن سے انسانی کردار میں مثبت تبدیلی آئے اور اس کے رویوں اور رجحانات کی صحیح نشوو نما ہو۔
تربیت ایک جہدِ مسلسل ہے یہ ایک دن میں بچے کو گوش گزار نہیں کی جاسکتی بلکہ اسے روزانہ کی بنیاد پر بچوں کے ذہن میں پختہ کریں تاکہ آپ کی اولاد بڑے ہوکر بہترین خواص کی حامل ہوکر آپ کے لئے عزت اور شہرت سمیٹے۔جھوٹ سے پرہیز، سچ بات کہنے کی ہمت دیں، اچھے کاموں میں تردُّد سے کام نہ لیں اور برائی کو بزورِ دست روکنے کی ہمت پیدا کیجئے۔ بچپن ہی سے بچوں کو قرآنی سورتیں یاد کروائیں اور انھیں نماز روزہ کی پابندی سکھائیں تاکہ بڑے ہوکر بڑے کردار والے بن سکیں۔
کسی بچے کو اپنے والد کی عزت کرنا اور اس کا احترام کرنا صرف اور صرف ماں ہی سکھا سکتی ہے۔ اپنی اس ذمہ داری سے کبھی بھی منہ نہ موڑیں کیونکہ آپ کی غفلت بچوں کے مستقبل کو خراب کرسکتی ہے اور والد کے مقام کو بچوں کی نظر میں گرا سکتی ہے۔
اولاد اور والد:
ہر بچے کا سب سے پہلا آئیڈیل اس کا والد ہوتا ہے۔ اس لئے ہر والد کو چاہیے کہ اپنے بچوں سے گھل مل کررہے اور ان کے ساتھ کُھل کر گفتگو کرے اور بچوں کو اپنے خیالات آذادی سے بیان کرنے کا حوصلہ دے اور ان کے اچھے خیالات اور تجاویز پر ان کو ضرور سراہتے ہوئے ان کی حوصلہ افزائی کرے۔
اس طرح بچوں کا ذہن اپنے والد کے مثبت رویے کی وجہ سے ذیادہ متحرک رہے گا اور وہ اپنی روزمرہ کی مصروفیات اور واقعات اپنے والد سے بیان کرکے اپنی اصلاح اور تشفی پاسکیں گے۔
والد کی ذمہ داری ہے کہ بچوں کو بچت کرنے، اصراف سے بچنے، پڑھائی اور اپنے شعبے میں دل لگا کر محنت کرنے پر زور دیں اور رشتوں کو مضبوط کرنے کا سبق دیں۔
اس کے ساتھ ساتھ جہاں بچے غلطی کے مرتکب ہوں ان کی اصلاح کریں۔ غصے اور تند گفتگو کی بجائے احسن طریقے سے معاملات سلجھانے کے مشوروں سے ضرور نوازیں تاکہ بچے کامیابی کا سفر خوش اسلوبی سے طے کرسکیں۔
محبت سے اولاد کی تربیت کرنا انتہائی ضروری ہے تاکہ ہم موافقت و ہم آہنگی اور یکسانیت و تال میل سے بھرپور زندگی گزار سکیں۔ یوں ہم اپنے پروردگار کو بھی راضی کرسکیں گے۔ ہماری اولاد اور ہم ، دنیا و آخرت میں سرخ رُو اور کام یاب ہوجائیں گے۔ ہم ایک ایسا معاشرہ وجود میں لاسکیں گے جو توانا و مضبوط ہو، باہم مجتمع و ہم آہنگ ہو اور جس کا ہرفرد دوسروں سے محبت و اْلفت کرنے والا ہو۔
والدین اگر بچوں سے محبت نہیں کریں گے تو اسکے نتیجے میں بچوں میں محرومی پیدا ہوگی اور محرومی سے بچوں کیلئے متعدد نفسیاتی روگ اور بگاڑ جنم لیں گے۔
ہمیشہ بچوں سے مندرجہ ذیل اصولوں کے ذریعے ان کی شخصیت کو پروان چڑھایئے:-
کلامِ محبت
کلام محبت دراصل اس گھنے سایہ دار درخت کی مانند ہے جو پتوں اور پھلوں سے لدا ہو اَور بے شمار منافع و فوائد رکھتا ہو۔
محبت آمیز لمس
آپ جب بھی اپنے بیٹے یا بیٹی سے بات کریں تو پہلے اس کے کندھے پر شفقت سے ہاتھ رکھیں۔ آپ کی آواز میں محبت ہونی چاہیے۔ آپ کے لمس میں شدت و سختی نہیں بلکہ نرمی و محبت ہونی چاہیے اور اس لمس میں شفقتِ پدری ہو۔ اس سے آپ کی اولاد کو پیغامِ امن و امان ملے۔ پدرانہ محبت کی لہر اولاد کے دلوں تک سرایت کرجائے اورانھیں اس بات کا احساس ہو کہ وہ آپکے وجود کا حصہ اور جز ہیں۔
محبت سے بغل گیر ہونا
والدین جب اپنے بچوں سے بغل گیر ہوتے ہیں تو اس سے بچوں کو نفسیاتی سکون اور قلبی قرار ملتا ہے۔ اور بچے اپنے دل کی بات کہنے میں کوئی ڈر نہیں محسوس کرتے۔ اور باہمی اعتماد میں اضافہ ہوتا ہے۔
نگاہِ محبت:
اپنے بیٹے کی آنکھوں میں جھانکیئے ، اس کے سامنے مسکرایئے، محبت بھری نگاہ کے ساتھ ساتھ محبت آمیز بات چیت کیجیے۔ ان کی کمزوریوں کے تدارک کے لئے ان کی مدد کیجئے اور ان کے ارادوں کو تقویت دینے کے لئے ان کی بات غور سے سنیں۔
گھر کا کھانا:
بچے بڑے ہوجائیں تو انھیں گھر سے روانہ کرتے ہوئے پیار اور محبت کا اظہار کریں اور یہ یقین دہانی کروائیں کہ اپنا کام پورا کرکے رات کا کھانا تمام گھر والوں کے ساتھ تناول فرمائیں۔ اس سے پوری فیملی یکجا رہتی ہے اور وقت فضول مصروفیات میں نہیں ضائع ہوتا۔

تبصرے