پردیس
پردیس کے معنی ہیں بیگانہ ملک، غیر وطن، دیار غریب، دیار غیر اور غیر ملک اور وہ جگہ جو ہمارے وطن یعنی اپنے شہر ، اپنے گاؤں، اپنے محلے، اپنی گلی اور اپنے گھر سے دور ہو۔
اللہ تعالی ہر انسان کو اس کی استطاعت کے مطابق زحمت دیتے ہیں ۔ جو لوگ بچپن سے ہی صبر و تحمل سے کام لینے والے ہوں اور ہر حالت میں خوش رہیں اللہ تعالی انھی کو ایسے مشکل مراحل سے گزارتا ہے جسے دوسرے لوگ جھیل نہیں سکتے۔
جنھیں احساس ہو، خود دار ہوں اور اپنے گھر والوں کی فکر کرنے والے ہوں اللہ تعالی انھیں کسی بڑے مشن کے لئے منتخب کرلیتے ہیں۔
اپنے گھر سے ہٹ کر کسی دور دراز جگہ خواہ وہ اپنے ملک میں ہی کیوں نہ ہو انسان کے لئے پردیس ہوتا ہے۔ جبکہ اپنے ملک سے دور کسی دوسرے ملک جانا بھی پردیس کہلاتاہے۔ تاہم ، پردیس کاٹنا ہر ایک کے بس کی بات نہیں۔ کیونکہ ایک انجانی جگہ پہ ، انجانے لوگوں میں ایڈجسٹ ہونا، بے شمار ناگوار باتوں کو صبر و استقامت سے برداشت کرنا، اپنا کام خود کرنا، اپنے جوتے پالش کرنا، اپنے کپڑے خود دھونا، اپنے برتن خود دھونا اور کبھی کبھی خود پکانا، یہ سب کچھ پردیس میں عام سی بات ہے۔
اللہ تعالی انھی لوگوں کو پردیس کے لئے منتخب کرتے ہیں جنھیں آئندہ زندگی میں کوئی بڑی ذمہ داری نبھانا ہو۔ جیسے گھر کے مالی حالات اس قدر دگرگوں ہوں کہ آئے دن اُدھار کی رقم کا تقاضا کرنے والے اَول فَول بک کے چلے جائیں، گھر میں ایک بہن یا کئی بہنوں کی شادی کرنا ہو، کوئی سنجیدہ بیماری کا علاج مقصود ہو۔ یا کرائے کے مکان کا کرایہ ادا کرنا محال ہو۔ وغیرہ وغیرہ۔
اللہ تعالی ماسٹر پلانر ہیں ۔ جب بھی کوئی شخص دیار غیر کے لئے کمر بستہ ہوتا ہے اللہ تعالی نے خاص طور پر اسے ہی چنُا ہوتا ہے۔ کیونکہ وہی شخص دیارِ غیر میں اپنی خدمات سرانجام دے کر وہاں کے لوگوں کے لئے رحمت بنے گا اور ان کی ترقی میں وہاں کے لوگوں کے لئے راستے ہموار کرے گا جو مقامی لوگ سر انجام دینے سے قاصر ہوں۔ اور اُس کے ساتھ ساتھ اس شخص میں اللہ تعالی نے احساس ذمہ داری اور گھر والوں کے دکھ درد کو سمجھنے کی سوجھ بوجھ پہلے سے دی ہوتی ہے۔
ہم اپنی جوانی میں یہی سمجھتے ہیں کہ ہم بڑے تیس مار خان ہیں اور ہم پردیس کاٹ لیں گے اور اپنے گھر والوں کے لئے کچھ نہ کچھ پس انداز کرلیں گے۔ جبکہ یہ صرف اور صرف اللہ تعالی کا لطف و کرم ہوتا ہے کہ اللہ تعالی نے ہمیں ہمارے بچپن میں ایسی ایسی منازل طے کروا دی ہوتی ہیں جس کے بل بوطے پر ہم پردیس جیسی اذیت اور قید کو بھی گلے لگا سکیں۔
پردیس ایک عذاب ہے۔ جسے روزانہ کی بنیاد پر جھیلنا پڑتا ہے۔
- پردیس ایک آزمائش ہے جسے خندہ پیشانی سے برداشت کرنا پڑتا ہے۔
- پردیس ایک امتحان ہے جس میں ناکامی کی گنجائش نہیں۔
- پردیس وہ مقام ہے جہاں کی سرزمین، وہاں کے لوگ ، وہاں کے موسم، وہاں کی زبان اور وہاں کے کھانے، سبھی کچھ اجنبی ہوتے ہیں۔
- پردیس میں ہرشے ہماری فطرت کے برعکس ہوتی ہے جسے خوش دلی سے قبول کرنا پڑتا ہے۔
- پردیس میں کوئی غمخوار نہیں ہوتا۔
- پردیس میں کوئی ہم نوا نہیں ہوتا۔
- پردیس میں کوئی ہم سفر نہیں ہوتا۔
- پردیس کا اچھے سے اچھا وقت اپنے وطن میں گزرے ہوئے مشکل ترین وقت سے کڑا محسوس ہوتا ہے۔
- پردیس میں انسان اپنی بقاء کی جنگ اکیلے لڑتا ہے۔
- پردیس میں ماں کی ممتا کا سہارا نہیں ہوتا۔
- پردیس میں شفقت پدری عنقا ہوجاتی ہے۔
- پردیس میں بہنوں کی محبت اور بھائیوں کا کندھا نہیں ہوتا۔
پردیس میں اگر بیمار ہوجائیں تو تیمار داری کے لئے کوئی نہیں ہوتا،کیونکہ سبھی اپنے اپنے روزگار کے لئے روانہ ہوجاتے ہیں۔ اپنی تنہائی کو اکیلے ہی سہنا پڑتاہے۔ کھچڑی کا تصور ذہن میں ضرور گھومتا ہے مگر کوئی تڑکا لگاکر دینے والا نہیں سجھائی دیتا۔ یاس و امید کی جنگ جاری رہتی ہے اور وقت کے کٹھن اور دشوار لمحات ،اداس، بے رنگ اور طویل راتوں کو آنکھوں میں کاٹتے گزر جاتے ہیں۔
پردیس میں زندگی کی راعنائیاں نظر آتی ہیں، گلشن میں پھول اپنی رنگینیوں کے ساتھ کھلے ہوئے ہوتے ہیں، ہوا میں تر و تازگی ہوتی ہے، سمندر اپنی موج میں بھی ہوتا ہے لیکن انسان کے اندر کا موسم بے سُدھ ہوتا ہے، پھولوں کی خوشبو محسوس نہیں ہوتی۔ ہوا میں بادِ صبا کا کوئی پیغام نہیں ہوتا، چاند گونگا ہوجاتا ہے اور راتیں بیابان جنگل کی طرح خوفناک ہوجاتی ہیں۔موسیقی میں سُر تو ہوتے ہیں لیکن ایک پردیسی کو نغمے ہُو کا عالم بن کر ڈراتے ہیں اور فرصت کے لمحات ڈستے ہیں۔
ایک پردیسی جو گھر سے ہزاروں میل دُور، تلاشِ روزگار میں تپتی ہوئی سڑکوں پہ سرگرداں ہوتا ہے اسے نا تو گرمی کا احساس ہوتا ہے اور نا ہی فاصلوں کی فکر، ریگ زاروں کو چمن بنانے والا پردیسی ، جس لگن اور محنت سے اینٹیں چُن رہا ہوتا ہے یا کوئی دفتری امُور سرانجام دے رہا ہوتا ہے ، خاموش اور اداس سڑکوں پہ ٹرالر چلا رہا ہوتا ہے، یا اپنی کمپنی کے مال کو فروخت کرنے کے لئے سرگرداں ہوتا ہے؛ اس کا دل اپنے وطن میں اپنوں کی یاد میں کھویا ہوا ہوتا ہے، اپنوں سے ملنے کی آس ، اسے ملُول نہیں ہونے دیتی، اس کے حوصلوں کو جِلا دینے کے لئے باپ کا بات بات پہ سمجھانا اور جہاں ضرورت ہو وہاں مارنا، ماں کی یاد ، ماں کا غصہ، ماں کا ڈانٹنا اور بہنوں کی چھوٹی چھوٹی فرمائیشیں، بیوی کی نوک جھونک، بچوں کی ضِد اور ان کے مسکراتے ہوئے چہروں کا عکس کافی ہوتے ہیں۔
پردیس میں، خصوصاً مشرق وسطی کی سخت گرمیوں میں رکھے گئے روزے، جس میں محض چند نوالے پراٹھوں کے حلق میں بمشکل اتار کے اوپر سے پانی کے چند گھونٹ پی کر روزہ رکھ لیا جاتا ہے کیونکہ وہاں یکسانیت کے موسم میں کچھ بھی سیر ہوکر کھانے کو دل نہیں چاہتا۔ رہائش گاہ میں ہر شے اپنی جگہ ٹَس سے مَس نہیں ہوتی۔ جو چیز جہاں پڑی ہے وہیں پڑی رہتی ہے، طعام گاہ میں کھانا پکانے والے اجنبی چہرے جو احساسات سے عاری ہوتے ہیں ، کھانا پکانا اور پھر کھانا پیش کرنا ان کے لئے ڈیوٹی سے ذیادہ نہیں ہوتا۔ ایک جیسا کھانا اور ایک جیسا ذائقہ صرف شکم پُری سے ذیادہ کچھ نہیں ہوتا۔
دن بھر سخت مشقت کرنے کے بعد جب افطاری کا وقت قریب آتا ہے تو پھر وہی بے زاری اپنا رنگ دکھا رہی ہوتی ہے۔ جبکہ کمپنی والے اپنے طور پر ہمارے لئے پکوڑے، سموسے، فروٹ چاٹ، لسی وغیرہ کا اہتمام کرتے ہیں لیکن چند ایک پکوڑوں اور ایک آدھ کھجور کے بعد صرف پانی یا شربت پیا جاتا ہے بقیہ کچھ کھانے کو جی نہیں چاہتا، کیونکہ وطن کے لوگوں اور وطن کی یاد سے ناصرف دل مغموم ہوتا ہے بلکہ پیٹ بھی بھر جاتا ہے۔
مہینے بھر روزے رکھنے کے بعد، عید کی نماز کے لئے رات میں ہی ایک دوسرے کو جلد اُٹھانے کی تاکید کردی جاتی ہے ۔ کیونکہ وہاں عید کی نماز صبح نمازِ فجر کے کچھ دیر بعد ہی منعقد ہوجاتی ہے۔ جس میں اکثر پردیسی سوئے رہ جاتے ہیں۔ جو نماز کے لئے گئے ہوتے ہیں اُنھوں نے عید کے لئے کوئی نیا سوٹ نہیں سلوایا ہوتا بلکہ عمومی کپڑوں میں ہی عید ادا کرلیتے ہیں۔ جی میں یہی خواہش ہوتی ہے کہ پیچھے وطن میں گھر والے زرق برق کپڑے سلوا لیں تاکہ ان کی عید اچھی ہوجائے اور ان کی جیب خرچ کے لئے پیسے عید سے پہلے ملک روانہ کر دیئے جاتے ہیں تاکہ کسی قسم کی گھر والوں کو تکلیف نہ ہو۔
عید کی نماز اور خطبے کے بعد پردیسی اپنے جیسے پردیسیوں کو تلاش کرتا ہے تاکہ گلے مل کر عید مبارک کہہ سکے۔ کیونکہ مقامی لوگ تو پردیسیوں کو اجنبی کہتے ہیں اور غیر ملکی کارکنوں میں نہیں گھلتے ملتے۔ اس کے بعد پردیسی اپنے اپنے کمروں میں آکر سو جاتے ہیں اور عید کی چھٹیاں سو کر ہی گزر جاتی ہیں۔ ایسا ہر سال ہی ہوتا ہے ۔
عید کی چھٹیوں کے بعد پردیسی تو اپنی اپنی ڈیوٹیوں پر روانہ ہوجاتے ہیں مگر آفس میں مقامی لوگوں کی تعداد بہت کم ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ سبھی مقامی لوگ عید کی چھٹیوں میں اپنے اپنے علاقوں میں چلے جاتے ہیں اور آتے آتے ایک ہفتہ لگ جاتا ہے۔ گویا عید کے بعد پورا ایک ہفتہ مقامی لوگوں کو عید مبارک کہتے کہتے گزر جاتا ہے۔
چند ماہ اسی طرح محنت و مشقت اور تنہائی میں گزر جاتے ہیں اور پھر ایک آدھ ماہ بعد سالانہ چھٹی کا انتظار ہونے لگتا ہے۔ وطن سے فرمائیشیں آنا شروع ہوجاتی ہیں۔ دو یا تین ماہ گھر والوں کی شاپنگ میں گزر جاتے ہیں۔ شاپنگ کے لئے پردیسیوں کو اپنے شہر سے دور کسی بڑے شہر کا رخ کرنا پڑتا ہے تاکہ اچھی سے اچھی شے خریدی جائے اور اپنوں کے چہرے پہ خوشی دیکھ سکیں۔
شاپنگ کے بعد پیکنگ کا مرحلہ ہوتا ہے۔ کارٹن کا اہتمام کیا جاتا ہے، چوڑی ٹیپ خریدی جاتی ہے اور ایک عدد قینچی تاکہ چھٹیوں کے لئے خریدا ہوا سامان اچھی طرح پیک کیا جاسکے۔ پیکنگ کے بعد ڈبے کو رسی سے باندھا جاتا ہے۔ کچھ پردیسی اس کام میں طاق ہوتے ہیں۔ اس لئے ان کی خدمات حاصل کی جاتی ہیں۔ چھٹی کے دنوں کے قریب دیگر پردیسی بھی اپنا اپنا تھوڑا تھوڑا سا سامان دے دیتے ہیں اپنے پیاروں کے لئے۔
اللہ اللہ کرکے چھٹی کا دن بھی آجاتا ہے۔ کمپنی کا ڈرائیور پک اًپ کے ساتھ کمرے کے دروازے پہ آن پہنچتا ہے۔ ایئرپورٹ پہنچتے پہنچتے نجانے کیا کیا خیالات دماغ میں گھومتے رہتے ہیں۔ دل خوشی سے باغ باغ ہورہا ہوتا ہے۔ جی چاہتا ہے کہ ایئر پورٹ، ایمیگریشن، جہاز کے سفر کے بغیر ہی اُڑ کر وطن پہنچ جاؤں۔
لیکن ہر خواہش کہاں پوری ہوتی ہے۔ ایئر پورٹ پہنچ کر سامان اتارا، اور لائن میں لگ گئے، ٹکٹ لیکر کاؤنٹر پہ گئے، سامان بک کروایا، ٹکٹ چیک کروایا، پھر امیگریشن کروایا اور لاؤنج میں بیٹھ گئے اور اپنے جہاز کی روانگی کے وقت جہاز میں سوار ہوئے اور اپنی سیٹ پر بیٹھ گئے۔ سفر خاموشی سے کٹ گیا اور اللہ کے فضل سے اپنے وطن آگئے۔
سامان لیا، کسٹمز کروایا اور باہر آئے تو سبھی گھر والے استقبال کے لئے موجود تھے۔ کسی نے گلے لگایا کسی نے سامان ہاتھ سے لیا اور کسی نے گلے میں گلاب کے پھولوں کا ہار پہنا دیا۔ اپنے مانوس چہروں کو عرصہ بعد دیکھنے کے بعد کچھ حیرت ہوئی اور کچھ خوشی۔ کیونکہ کچھ چہرے پہلے کی طرح شاداب نہ تھے۔ والدین بوڑھے لگنے لگے اور بیوی بچے اداس چہروں سے زردی مائل لگے۔
گھر پہنچے تو سامان کھلنے کا انتظار ہونے لگا۔ جیسے ہی ڈبہ کھولا، سب کو ان کے تحفے تحائف دیئے۔ کئی چہرے کھل گئے۔ ایسا لگا کہ پردیس کی تلخی کا حق وصول ہوگیا۔ وطن میں عید نہ ہوتے ہوئے بھی عید کا سماں تھا۔ خوشبودار کھانے پک رہے تھے اور سبھی اپنی اپنی بات سنانے کے لئے بے چین تھے۔
ایک ماہ کی چھٹی کس طرح گزر گئی پتہ ہی نہیں چلا۔ ایک پردیس تھا جہاں ایک رات بمشکل کٹتی تھی۔ خیر چھٹیوں میں پڑوسیوں سے ملاقات رہی سبھی بہت اچھے سے ملے۔ گھر میں کچھ کام لٹکے ہوئے تھے۔ بلکہ یوں کہیے کہ میرے انتظار میں تھے۔ انھیں سرانجام دیا۔ اور ہر کٹنے والا دن میرے لئے سوہانِ روح تھا۔ جیسے جیسے چھٹی ختم ہورہی تھی میرے اندر خوف بیدار ہورہا تھا۔ اور خوشی پھیکی پڑنے لگی تھی۔
بالآخر ایک دن پورے ماہ کی چھٹی اختتام کو آئی۔ گھر والے دعائیں دینے لگے اور ہر ایک اپنی اپنی سوچ کے مطابق مشورے بھی دے رہا تھا۔ بچے اداس ہونے لگے، ماں باپ بھی جدائی کا صدمہ سہنے کے لئے تیار ہوگئے۔ بیوی بھی کڑوا گھونٹ پینے کو تیار ۔ مگر میری کیفیت ایسے تھی جیسے کسی بچے کو دریا میں نہانے کو کہیں اور وہ ڈر کے مارے دور بھاگنا چاہتا ہو۔
پہلا سال گزر گیا اور کچھ خاص پس انداز نہ ہوسکا۔ اس لئے سب کی یہی رائے تھی کہ چند ایک سال مزید لگا لوں ۔ لیکن میں نا ہاں کہہ سکتا تھا اور نا ہی نا کرسکتا تھا۔
انسان اکیلا ہو اور اسے کوئی سزا دی جارہی ہو تو اس کے قدم نہیں اٹھتے لیکن اگر سزا دیتے ہوئے گھر کے تمام لوگ ساتھ ہوں تو نہ چاہتے ہوئے بھی پاؤں اٹھانا پڑتے ہیں تاکہ کسی کو اپنی کمزوری کا احساس نہ ہو۔
سب کے چہروں پہ خوشی کے آثار تھے مگرمیں بالکل بھی خوش نہ تھا۔ اور واپس نہیں جانا چاہتا تھا۔ کیونکہ مجھے معلوم تھا کہ پھر وہی شب بیداری، وہی اداسی، وہی تنہائی اور وہی کھانا پینا اور سونا جاگنا اور وہی مشقت۔ مگر کیا کیا جائے جب رزق وطن سے دور لکھا گیا ہے تو سفر کرنا ہی پڑے گا۔
اس طرح زندگی کا بیشتر حصہ گزر گیا، کئی رمضان پردیس میں گزارے، ساری جوانی وہاں کام کرتے گزر گئ۔ جو کمایا گھر والوں کو دے دیا۔ اپنی زندگی تو بس خواب دیکھتے دیکھتے گزر گئی۔ لیکن ذمہ داریاں نہ ختم ہو سکیں۔ ماں باپ فوت ہوگئے، بہن بھائی بیاہے گئے، اپنے بچے بڑے ہوگئے اور ہم بڑھاپے کی طرف گامزن مگر ابھی تک پردیس کاٹ رہے ہیں۔
اللہ تعالی سب پردیسیوں کو خیریت سے وطن لے جائے تاکہ زندگی کا بچا کھچا حصہ اپنے لوگوں میں گزار سکیں۔
یہاں میں ایک صلاح دینا ضروری سمجھتا ہوں۔ وہ یہ کہ اگر کسی کو بھی اپنے مالی حالات بہتر کرنے کے لئے گھر سے بے گھر ہونا پڑے تو وہ تین برس کا پروگرام مرتب کرے۔ اگر اس دورانیے میں اگر معاملات سلجھ سکتے ہیں تو یہ بہت بہتر رہے گا۔ مگر اس دوران اپنوں سے مسلسل رابطہ قائم رکھیں اور جہاں تک ممکن ہو، گھر آتے جاتے رہیں۔
اس کے بعد جتنے سال بھی اوپر لگیں گے، آپ گھر سے کٹتے چلے جائیں گے اور نئے دیس کے ماحول میں ڈھلتے چلے جائیں گے۔ اس طرح اپنا قیمتی سرمایہ ضائع ہوجانے کا امکان پیدا ہوجائے گا اور خیالی مستقبل جو نجانے کتنے کوس دور ہے، اس کا پیچھا کرتے کرتے آپ نڈھال ہوجائیں گے۔
اگر آپ وطن واپس نہ جاسکے تو اپنے عزیز و اقارب کی تمام خوشیاں جس میں آپ شامل ہوکے خود بھی خوشیوں کا حصہ بن سکتے تھےآپ کے شامل نہ ہونے سے وہ خوشیاں آپ کی زندگی کا حصہ نہ بن سکیں گی۔ اسی طرح اپنے والدین، بہن بھائیوں اور پڑوسیوں کے روزانہ کے معاملات سے بے خبر رہ کر آپ کا اور ان کا رشتہ انتہائی کمزور ہوکر رہ جائے گا۔
حقیقت تو یہ ہے کہ برسوں بعد وطن کی محبت میں گرفتار انسان جب گھر لوٹ کے آتا ہے تو وہ اپنے ہی گھر اور وطن میں اجنبی بن چکا ہوتا ہے۔ بوڑھے والدین جنھیں اس نے بھری جوانی میں چھوڑا تھا؛ اس وقت وہ صحت مند اور تنومند تھے۔ واپسی پر یہی والدین اپنے منہ کے سارے دانت کہیں کھو چکے ہوتے ہیں۔ پہلے وہ ہمیں سنبھالتے تھے اور ہر مشکل میں ہمارے کندھوں کو سہارا دیتے تھے اور ہماری راہنمائی کے ساتھ ساتھ ہماری مالی مدد بھی کرتے تھے۔ اور آج وہ ہمارے سہارے کے منتظر ہیں۔ وہ بہن بھائی جن کے ساتھ ہم کھیلتے تھے اور شرارتیں کرتے نہیں تھکتے تھے آج اپنے اپنے گھر والے ہوگئے ہیں۔ بہنیں اپنے شوہروں کی اور بھائی اپنی بیگموں کی دلجوئی اور خدمت کا اپنا شعار بنا چکے ہیں۔ اور دوست احباب بھی اپنے اپنے گھروں کی ذمہ داریوں میں اتنے گم ہیں کہ ان کے پاس آپ کے لئے کوئی وقت نہیں۔ آپ کے پرانے جاننے والے بھی کہیں نظر نہیں آتے۔ ان میں سے کچھ تو اللہ کو پیارے ہوگئے، کچھ دوسرے شہر شفٹ ہوگئے اور کچھ آپ سے بھی آگے نکل گئے اور شہر کے اچھے علاقوں میں رہائش پذیر ہیں۔
آپ جن بیوی بچوں کے لئے اتنا بڑا عذاب کاٹتے رہے، آج وہ بڑے ہوگئے ہیں اور آپ کی موجودگی انھیں ڈسٹرب کرنے لگی ہے کیونکہ انھیں اپنے معمولات آذادی سے گزارنے کی عادت ہوگئی تھی اور وہ آپ کے بغیر جینا سیکھ چکے تھے اور آپ کی واپسی کے بعد انھیں آپ کی وجہ سے دوستوں سے ملنے اور ان کے ساتھ وقت گزارنے میں مشکل ہونے لگی ہے۔
وہی بچے جو آپ کے ملک سے روانہ ہونے سے پہلے آپ کو آفس تک جانے پر روتے تھے اور آفس سے آنے کے بعد مسکراتے ہوئے چہروں سے خوش آمدید کہتے تھے آج آپکے واپس آنے پر منہ مسوڑے بیٹھے ہیں۔ کہ آپ نے ان کی معمولات میں خلل ڈال دیا۔
جبکہ بیگم جو آپ کی غیر موجودگی میں پڑوسی خواتین سے خوش گپیاں کیا کرتی تھیں؛ آج آپ کی وجہ سے ہر آنے واے فون کو یہ کہہ آف کردیتی ہیں کہ ابھی کال کرتی ہوں۔
گویا آپ کا وطن کی محبت میں واپس لوٹنا کسی کے کام نہ آیا۔ کیونکہ گھر والے ہر ماہ ایک خطیر رقم کا ڈرافٹ یا منی ٹرانسفر وصول کرنے کے عادی ہوگئے تھے اور آپ کے واپس لوٹنے پر یہ آسائش منقطع ہوگئی۔
اب اگر آپ اپنے ساتھ بہت بڑی رقم لائے ہیں یا پہلے سے بہت کچھ بنا رکھا ہے یا سنبھال رکھا ہے تو آپ کسی قدر مناسب زندگی گزار سکتے ہیں۔ بصورت دیگر آپ کا یہاں رہنا پردیس میں رہنے سے بھی ذیادہ ابتر ہوجائے گا اور ممکن ہے (اللہ نہ کرے) آپ کو اپنی صحت گرنے کا دن دیکھنا پڑے۔
جو لوگ بیوی بچوں کے ساتھ دیار غیر میں رہتے ہیں ان کے لئے واپسی کے چانسس بہت کم رہ جاتے ہیں۔ کیونکہ بچے بدیس کو ہی اپنا دیس مانتے ہیں اور بیگم بھی بچوں کے ساتھ ہوتی ہیں۔ پھر یہ ہوتا ہے کہ آپ اکیلے ہی اپنے شہر آنا جانا رکھتے ہیں تاکہ آپ کو وہ خوشیاں مل سکیں جو آپ غیر ملک میں مس کررہے ہوتے ہیں۔
مشرق وسطی میں فیملی کے ساتھ رہنے والے ذیادہ مشکل حالات کا سامنا کرتے ہیں۔ اگر انھوں نے اپنے ملک میں اپنا گھر نہیں بنایا اور اتنا سرمایہ بھی نہیں ہے کہ ملک میں آکر کچھ کاروبار یا زندگی شروع کرسکیں۔ ان لوگوں کی کوشش یہی ہوتی ہے کہ کوئی بچہ برسرروزگار ہوجائے تاکہ اس کے ساتھ وہیں رہ سکیں۔ اسی وجہ سے وہ اپنے بچوں کی شادی بھی وہیں کرنا پسند کرتے ہیں۔
اللہ تعالی سب کو اپنے حفظ و امان میں رکھے اور جہاں بھی رکھے آسانیوں اور خوشیوں کے ساتھ رکھے۔

تبصرے