خوف خدا


لفظ  خوف سے مراد  وہ قلبی کیفیت ہے جو کسی ناپسندیدہ ، نقصان دہ،  خوفناک یا خطرناک امر کے پیش آنے کی توقع کے سبب پیدا ہو۔ مثلاً پھل کاٹتے ہوئے چھری سے ہاتھ کے زخمی ہونے کا ڈر۔   جبکہ خوف خدا کا مطلب یہ ہے کہ اللہ تعالی کی بے نیازی، اس کی ناراضگی، اس کی گرفت اور اس کی طرف سے دی جانے والی سزاؤں کا سوچ کر انسان کا دل گھبراہٹ میں مبتلا   ہوجائے۔

خوف خدا   یا خشیت الہی وہ وصف ہے جو بندے کی حفاظت وسلامتی کی ضامن ہے اور اسے ہر قسم کی مصیبت وبلاء سے نجات دلانے  اور کامیابی سے   ہم کنار کرنے کاسبب اور ذریعہ ہے ۔

ہماری عبادت میں اگر خشیت و تقوی شامل رہے تو ہم ہر برائی سے دور کردیے جاتے ہیں ۔ سورہ انفال میں اللہ رب العالمین فرماتے ہیں کہ ’’اگر تم اللہ سے ڈرو گے تو اللہ تعالیٰ تم کو ایک خاص امتیاز عطا فرمائے گااور تمہارے گناہ تم سے دور کر دے گا اور تمہاری مغفرت فرمائے گا‘‘۔ایک اور مقام پر فرمایا ’’مومن تو وہ ہی ہیں کہ جب ان کے سامنے اللہ کا ذکر ہوتا تو ان کے دل اس کی عظمت و جلالت اور خشیت سے کانپ اٹھتے ہیں‘‘۔

مسلمان کے ایمان کا افضل درجہ یہ ہے کہ اسے اس امر کا یقین رہے کہ وہ جہاں بھی ہے اس کا خدا اس کے ساتھ (نگران) ہے۔ یہ احساس جس قدر گہرا ہوگا ہم اتنے ہی  گناہوں  سے دور رہیں   گے۔ 

جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو وہ انسان کبھی کسی گناہ کا مرتکب نہیں ہوتا۔ وہ اپنی زندگی کو خالص اللہ کی عبادت کے لیے وقف کرتا ہے۔ اپنی عبادت کو دنیاوی دکھاوے یا ریاکاری سے پاک رکھتا ہے۔ اللہ تعالیٰ کا خوف شہوات کا ستیاناس کرڈالتا ہے اورگناہوں کی لذتوں کو بدمزہ کردیتا ہے چنانچہ اللہ تعالیٰ سے ڈرنے اور خوف کھانے والوں کی نگاہوں میں گناہوں کی خر مستیاں اور شراب نوشی  مکروہ اور بد مزہ ہوجاتی ہے۔

جو انسان اپنے اندر خشیت الٰہی پیدا کرتا ہے۔ اخلاص اور اس کے تقویٰ کا معیار اسے اللہ رب العالمین کے اور زیادہ قریب کردیتا ہے۔

اللہ تبارک و تعالیٰ کے خوف کے فوائد اور ثمرات میں سے یہ بھی ہے کہ خوف الٰہی بندے کو اعمال صالحہ کی انجام دہی کے لئے ابھارتا ہے۔

خشیت الہی  ایک ایسی صفت ہے جسے کسی شارٹ کٹ طریقے سے نا تو  حاصل کیا  جاسکتا ہے  اور نا ہی اختیار کیا جاسکتا ہے۔ بلکہ یہ خوبی ایک مسلمان اور مومن کو مسلسل عبادات، پاکیزگی، طہارت، سچائی، خدمت انسانیت، اخلاص  اور ایمان داری سے حاصل ہوتی ہے۔

خوف خدا  کوئی کسرتی صفت نہیں جس کے لئے ریاضت اور جسمانی کسرت کی ضرورت ہو۔  خوف خدا انسان کے دل کی ایسی کیفیت ہے  جو انسان کو اس قدر مہربان بنا دیتی ہے کہ وہ ہر کسی سے بے لوث محبت کرتا ہے  اور ضرورت مند کو اس کی حاجت بیان کرنے سے پہلے اس کی مدد کے لئے تیار رہتا ہے۔

خوف خدا ،  عاجزی،   انکساری ،  بے لوث خدمت اور انسانوں کی قدر دانی جیسے  پیہم عمل سے حاصل ہوتاہے۔ اس نعمت اور صفت کو پانے کے لئے جہاں عبادات کا اہتمام کریں،  وہیں جسمانی اور روحانی پاکیزگی اختیار کریں۔  اس کے علاوہ لوگوں کے لئے اپنے دل میں کشادگی پیدا کریں۔ 

ایک مسلمان اس وقت تک مومن نہیں ہوسکتا جب تک اس کے دل میں اللہ تعالی  کی حاکمیت اور قدرت     اچھی طرح  قائم نہ ہو؛   حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احکامات کی تعمیل، ان کے آل و اولاد سے محبت، اور ان کی تعلیمات  پر عمل پیرا   نہ ہو؛   انسانیت کا درد محسوس کرنے کی حس پوری طرح اجاگر نہ ہوجائے اور وہ اپنے ذاتی مفاد سے بالاتر ہوکر ناصرف اپنے فرائص منصبی ادا کرے بلکہ اپنے ساتھ کام کرنے والوں کا غمخوار اور مددگار نہ ہو اور اپنے مالکان کی ساکھ اور ان کی عطا کردہ  مہربانیوں  کا خوشی سے اعتراف کرے اور اپنے کام کو صدق دل سے سرانجام دینے میں کوئی کوتاہی نہ کرے، تاکہ مالکان کو ذیادہ سے ذیادہ منافع ہوسکے۔

جس شخص نے اپنے اعمال  کی ادائیگی میں جان توڑ محنت وجانفشانی سے کام لیا وہ منزل مقصود تک رسائی پانے میں کامیاب ہوگیا اور بندہ مؤمن کی منزل مقصود جنت ہے ۔ اللہ تعالیٰ سے خوف کی وجہ سے نافرمانیوں اور معصیتوں کی رنگینیاں ماند پڑجاتی ہیں اوراس کا سرور وکیف مکدر ہوکر رہ جاتا ہے ۔

آخرت کی زندگی میں  خود کو نارِ جہنم سے  محفوظ رکھنے کا واحد طریقہ خوف ِ الٰہی او رپرہیز گار ی  کو اختیار کرنے میں ہے۔

خوف خدا کی برکت سے نفسانی خواہشات جل کر خاکستر ہوجاتی ہیں۔

خوف خدا عظیم نعمت ہے جو مسلمان میں بندگی اور اطاعت الہی پیدا کرتی ہے۔ خدا سے ڈرنے والے کو کسی اور سے  کوئی ڈر نہیں ہوتا۔ 

جس کے دل میں اللہ کا خوف ہو، اس کا دل کبھی مردہ نہیں ہوتا اور کبھی نامراد ہوگا۔
 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت