غیرت



غیرت کے معنی ہیں احساس عزت، پاس ناموس اور انسان کی وہ خاصیت جو بے عزتی کو گوارا نہیں کرسکتی۔

لفظ غیرت عربی زبان کے لفظ (غیرة) سے مستعار لیا گیا ہے۔  جس کے معنی ہیں محنت کرنا، کوشش کرنا اور جدوجہد کرنا۔   غیرت  دل کی حالت بدل جانے اور غصہ کے سبب ہیجانی کیفیت طاری ہوجانے کو کہتے ہیں۔    درحقیقت غیرت انسان کے اندر کا ڈر اور خوف ہے جو صرف اس لئے رونما ہوتا کہ انسان سمجھتا ہے کہ اس کے مقابل اسے ایک مزاحمت یا رکاوٹ کا سامنا ہے۔

جبکہ اس کے مفہوم میں  دو باتوں کا  بطور خاص ذکر ہے۔   ایک یہ کہ کوئی ناگوار بات دیکھ کر دل کی کیفیت کا متغیر ہوجانا اور دوسرا یہ کہ اپنے کسی خاص حق میں غیر کی شرکت کو برداشت نہ کرنا۔   ان دو باتوں کے اجتماع سے پیدا ہونے والے جذبہ کا نام غیرت ہے۔  عموماً       اس لفظ کو عورتوں کی عصمت اور عزت کو بچانے کے لئے کئے گئے اقدامات کے لئے استعمال کیا جاتا ہے۔  غیرت  کا ظہور عموماً  حسد، جلن اور غصے کے سبب ہوتاہے۔

عربی زبان میں غیرت خود داری اور بڑائی کا وہ جذبہ ہے جو کسی غیر شخص یا گروہ کی شرکت کو لمحہ بھر کے لئے برداشت نہیں کرتا۔   

غیرت کا تعلق انسانی فطرت سے ہے۔ یہ جذبہ انسان کو فطری طور پر اللہ تعالی کی طرف سے ودیعت کیا گیا ہے غیرت سے محروم شخص پاکیزگی سے محروم ہوتا ہے اور جس کے اندر پاکیزہ زندگی معدوم ہو تو پھر اس کی زندگی جانوروں کی زندگی سے بھی گئی گزری ہوتی ہے۔ 

جو شخص اپنے اہل و عیال اور محرم عورتوں کے بارے میں دینی غیرت و حمیت سے خالی ہو۔ یعنی ان کی بے حیائی، عریانی اور فحاشی کو دیکھے لیکن خاموش رہے تو وہ دیوث ہے۔ ایسے شخص کے بارے میں حدیث ہے کہ اللہ تعالی ایسے شخص کی طرف قیامت والے دن دیکھے گا بھی نہیں۔ 

اللہ تعالی نے انسان کو اپنی ذات، اپنی ہستی کے سلسلہ میں غیرت مند اور منفعل بنایا ہے۔  یہ وہ فطری جذبہ ہے جو انسان کے DNA   میں شامل ہوتا ہے۔  اور یہی وجہ ہے کہ انسان؛ خواہ وہ کتنا ہی   لاچار و مجبور کیوں نہ ہو؛ لیکن اپنے آخری دم تک اپنی عزت و آبرو کی حفاظت اور صیانت میں جان کی بازی لگائے رکھتا ہے۔  

جس شخص یا قوم کے اندر غیرت و حمیت ، مونس و غمگساری کا جذبہ موجود ہوگا  اس کی آنے والی نسلیں تعمیری زندگی گزار سکیں گی۔اور وہی معاشرہ حُسنِ  اخلاق کا پیکر بن کر اعلی اقدار کا مستحق بھی ہوگا۔ 

حدیث کی رو سے اللہ تعالی کے نزدیک غیرت دو طرح کی ہوتی ہیں۔ ایک غیرت مبغوض اور دوسری غیرت محبوب۔ شک کی بنیاد پہ اجاگر ہونے والی غیرت کو غیرت محبوب کہتے ہیں ۔   اور جو غیرت بغیر شک کے ہو وہ غیرت مبغوض کہلاتی ہے۔  اللہ تعالی کو غیرت مبغوض سخت ناپسند ہے۔ 

 سب سے محبوب اور قابلِ  ستائش غیرت وہ ہے جو خالق ومخلوق کے درمیان ہوتی ہے ۔ یہ وہ غیرت ہےکہ ایک  بندۂ مومن اللہ کی محرمات  وحدود کو پامال ہوتے دیکھ کر طیش میں آجاتا ہےاور اس کی غیرت اس کو للکارتی ہے۔

ایک مرد مومن اپنے تیئں سب کچھ برداشت کرسکتا ہے  لیکن محرمات کی پامالی کو لمحہ بھر کے لیے بھی روا نہیں رکھ سکتا ہے۔ایسی صورت میں غیرت مند مومن کے جذبات کا برانگیختہ ہوجانا اور اس کے تن من  میں شعلوں کا بھڑک اٹھنا ایک بدیہی امر ہے ۔دینی اعتبار سے سب سے زیاہ قوی وہی شخص ہوگا جس کے اندر اللہ تعالیٰ کی محرمات وحدود پر سب سے زیادہ غیرت وحمیت ہوگی۔

وقت کے ساتھ بدلنا  تو  بہت آسان تھا
مجھ سے ہر وقت مخاطب رہی غیرت میری
 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت