مُصلِحَت


مصلحت کے معنی ہیں نیک صلاح،  اچھا مشورہ،  وقتِ ضرورت بہتر عمل، مناسب تجویز،  بھلائی،  خوبی، نیکی اور محتاط ہونا  اور مصلحت اندیشی سے کام لینا۔ 

مصلحت سے مُراد  ہے  ایسا عمل جس سے مفاسد کو دفع کیا جائے۔ مصلحت کی وجہ سے بڑے نقصان سے بچا جاسکتاہے۔  کیونکہ مصلحت ہمیشہ کار آمد  اور نفع بخش  ہوتی ہے۔  

ایسا کام جس کے کرنے سے فساد ٹل جائے اور دین،  جان،  مال،  عقل،  نسب  اور ملک و قوم کی حفاظت  کا ضامن ہو۔  ایسا کام جس میں کم خرابی ہو اور بھلائی زیادہ ہو۔ جیسے 2019 میں انڈین پائلٹ ابھی نندن کو اس لئے  مصلحتا ً   آذاد کردیا گیا تا کہ جنگ جیسے خطرناک ماحول کو ٹھنڈا کیا جائے اور بڑی جنگ سے بچا جائے۔ 

مصلحت میں دین کے تحفظ،  زندگی کی حفاظت،  عقل و دانش کا تحفظ،  اخلاق و مال کا تحفظ یقینی بنایا جاتا ہے۔  اسلامی قانون بنانے یا تبدیل کرنے کے پانچ مآخذ ہیں۔  

کتاب
سُنّت
اجماع
قیاس
مصلحت

اسلامی قانون کا پہلا مآخذ قرآن ہے۔ اس وجہ سے ہر معاملہ میں سب سے پہلے اسی کی طرف رجوع کیا جائے گا۔  اگر کسی معاملہ میں قرآن خاموش ہو گا  تو پھر سُنّت کی طرف رجوع کیا جائے گا۔ اسی طرح اجتہاد سے کام اس صورت میں لیا جائے گا جب کتاب و سُنّت کے نصوص میں کوئی رہنمائی نہ ملے۔ علی ہذا القیاس رواج اور مصلحت کا لحاظ انھی صورتوں میں ہو گا۔

آج کل معاشرے میں برائیوں نے  بہت عروج حاصل کرلیا ہے۔  کیونکہ کہ ہم لوگ برائی کے خلاف اکٹھے کھڑے نہیں ہوتے۔ اگر ظلم ہورہا ہے تو اپنی آواز بلند کیجئے۔ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں اور دیگر باکردار افراد کو بھی دعوت دیں۔  اگر ہم سب ایک ایک کرکے مظلوم کا ساتھ دینا شروع کردیں تو ظالم خود بخود بھاگ جائے گا۔  

اگر ہم  حق کا ساتھ نہ دیں اور اپنی خاموشی کو مصلحت سمجھ  اختیار کرلیں۔ تو اس طرح ظالم کو شہ ملے گی اور ایک دن آپ بھی اس کے ظلم کا نشانہ بن سکتے ہیں۔

یہ ہمارے ایمان کا  تقاضا ہے کہ ہم حق کا ساتھ دیں۔  خواہ ہم کمزور ہوں لیکن اپنی آواز ضرور بلند کریں۔  آپ جب تک اپنی آواز بلند نہیں کریں گے تو دنیا کو کیسے معلوم ہوگا کون صحیح ہے اور کون غلط ہے۔

اگر سینہ سپر باطل کے آگے ہم نہیں ہوں گے
ثبوت اس کو ملے گا کیسے ایماں کی صداقت کا​

صحت مند معاشرہ اسے کہتے ہیں جہاں اچھائیاں ہی اچھائیاں ہوں۔ لوگ ایک دوسرے کا احترام کریں۔ ایک دوسرے کا خیال رکھیں۔ اور دکھ درد میں شانہ بشانہ کھڑے ہوں۔  اگر کوئی خطا کار ہے تو اس کی سرزنش کریں۔ اور اگر کسی نے کوئی اچھا کارنامہ انجام دیا ہے تو اس کی حوصلہ افزائی کریں۔

اگر کوئی یہ سمجھ کر خاموشی اختیار کرلے کہ میں پرائی آگ میں کیوں کودوں اور اپنے ارد گرد ہونے والے مظالم کے خلاف سینہ سپر نہ ہو۔اسے نفاق کہتے ہیں۔  اور نفاق ایسی وبا ہے جو پھیلتے پھیلتے پورے معاشرے کو اپنی لپیٹ میں لے لیتی ہے۔  یہاں تک کہ آپ خود بھی ایک دن اس کے نرغے میں آجاتے ہیں۔

یاد رکھئے مصلحت یہ نہیں کہ شیطانی قوتوں کے خلاف خاموشی اختیار کی جائے بلکہ مصلحت یہ ہے کہ شیطانی قوتوں کو تنبیہ دی جائے کہ آپ غلط ہو اور ہم آپ کی دھونس زیادہ دیر برداشت نہیں کرنے والے، اس لئے آپ راہ راست اختیار کرلو، اسی میں سب کی بہتری ہے۔ 

تاہم  ہمیں اپنی ذاتی زندگی میں اگر بلا وجہ بحث ہورہی ہے یا ایسا ماحول  بن گیا ہے جو کشیدہ ہونے والا ہے،  ایسے میں خامشی اختیار کرنا یا وہ جگہ مصلحتا ً   چھوڑ دینا عقل مندی ہے۔

اسی طرح دو افراد یا دو گروہوں میں کسی بات پہ  تنازع کھڑا ہوگیا ہو   اور جھگڑا اتنا طول اختیار کرجائے کہ معاملہ دست و گریباں تک پہنچنے والا ہو تو ایسے موقع پر مصلحت کا تقاضا ہے کہ آپ   مداخلت کرکے دونوں فریقوں کی مدد کیجئے اور انھیں فی الوقت برخاست ہونے کا کہیں اور کسی اور دن  فیصلہ کے لئے بلائیں تاکہ  ماحول کی گرمی کو مزید بگاڑ سے بچا کر آئندہ کے لئے مؤخر کیا جاسکے تاکہ پھر سے ٹھنڈے  دل و دماغ سے کوئی درمیانی راہ نکالی جاسکے۔  ایسی مصلحت کئی گھروں میں سکون کا باعث ہوسکتی ہے۔

اگر دو افراد میں  اس بات پر لڑائی ہورہی ہوکہ ایک نے دوسرے کے 100 روپے دینے ہیں اور واپس نہیں کررہا۔  ایسے میں اگر آپ صاحب حیثیت ہیں تو مصلحت سے کام لیکر کر 100 روپے ادا کردیجئے تاکہ مسئلہ ختم ہوجائے۔آپ کی 100 روپے کی قربانی   دونوں فریقوں کو بہت بڑے نقصان سے محفوظ رکھ سکتی ہے۔

کوشش کیجئے کہ مصلحت کا استعمال ہمیشہ اچھائی  کی ترویج اور فساد سے بچاؤ  کی نیت سے ہو۔  اس طرح جہاں آپ کو اجر ملے گا وہیں آپ کی شخصیت میں نکھار اور پاکیزگی  آئے گی جو آپ کی شخصیت کو ہردلعزیز بنادے گی۔


 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت