خود اعتمادی
اس کے معنی ہیں اعتبار ذات، اعتماد ذات، اعتماد نفس، اپنے قول یا عمل کو مؤثر اور مفید سمجھنے کا احساس، ذاتی راے یا طاقت پر بھروسہ ہونے کا یقین۔
جو لوگ کامیاب ہوتے ہیں انھوں نے اپنی کامیابی سے بہت پہلے سے سوچ رکھا ہوتا ہے۔ اور ان کی کامیابی کا آغاز اسی وقت ہوجاتا ہے جب انھیں اپنے اندر کی خوبیوں کا اندازہ ہوجائے۔ جب انسان کو اپنی خوبیوں کا ادراک ہوجائے تو اس کے اندر خود اعتمادی پیدا ہوتی ہے ۔ یہی خود اعتمادی آپ کو کچھ کرنے کا حوصلہ دیتی ہے، آپ کو نئے نئے زاویے سے زندگی کو دیکھنے اور کامیابیوں کی چوٹیاں سر کرنے کی ہمت دیتی ہے۔
خود اعتمادی کے لئے ضروری ہے کہ آپ نفاست، صفائی اور ستھرائی کو اپنا اوڑھنا بجھونا بنا لیجئے، دوسرے اپنا اخلاق بلند ترین سطح پہ لے جائیں۔ آگے بڑھ کر کسی کی مدد کرنے کے لئے تیار رہیں۔ اسکے بعد اپنی عادات اور اطوار کو بہتر بنائیں۔ کسی کا کوئی کام انجام دینے کے بعد اس سے ضرور پوچھئے کہ آپ ان کے لئے کچھ اور کام سرانجام دے سکتے ہیں۔ اور سب سے بڑھ کر خود کو پہچانیں کہ آپ سب کے لئے فائدہ مند ہیں۔
خود اعتمادی کیا ہے:
کامیاب زندگی اور مکمل شخصیت کیلئے جس چیز کی انسان کو سب سے زیادہ ضرورت ہوتی ہے وہ اس کا اپنا اعتماد ہے۔ اعتماد کامیابی کی ضمانت ہے۔ اگر آپ کو اپنی کامیابی پر شک ہے تو آپ کبھی بھی کسی بھی میدان میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔
وہ اعتماد ہی ہوتا ہے جو کامیابی کو آپ کے قدموں میں لاکر نچھاور کرتاہے۔ جو شخص خود اعتمادی اور خدا کی ذات اقدس پر یقین رکھتے ہوئے آگے بڑھتا ہے ، اسے کامیابیاں مل کر ہی رہتی ہیں۔ خود اعتمادی کا حصول ، فیصلہ کرنے کی صلاحیت اور اپنے کئے گئے فیصلے پر عمل کرنے کی استطاعت پر ہوتا ہے۔
یہی اعتماد ہمیں طاقتور انسان کے مدمقابل سینہ تان کر کھڑے ہونے کی ہمت دیتا ہے۔ اور جب اعتماد متزلزل ہونے لگے تو ہماری ناکامیابیوں کا سفر شروع ہوجاتا ہے۔
اپنی صلاحیتوں پر ہمیشہ بھروسہ رکھیئے۔ جب تک آپ میں یہ خوبی پیدا نہیں ہوگی، آپ کامیاب اور خوش و خرم نہیں ہوسکتے۔ ایک معقول خود اعتمادی ہی کامیابی کی طرف بڑھنے کی پہلی سیڑھی ہوتی ہے۔
خود اعتمادی کی طاقت:
کامیابی کی منزل پر پہنچنے کے لئے آپ کے پاس موجود وسائل میں سے خود اعتمادی سے بہتر کوئی معاون نہیں ہوسکتا۔ خود اعتمادی کے ذریعے سے ہی بادی النظر میں ناممکن نظر آنے والے کام کا ممکن ہونا ایک فطری عمل ہے۔
انسان کے اندر کی خوبیوں کو بروئے کار لاتے ہوئے آپ ایسا کام کریں کہ آپ کے باس، آپ کے والدین، آپ کے اساتذہ آپ کو شاباش دیتے ہیں۔ اور یہ شاباش آپ کو اچھے کام کرنے کی وجہ سے ملے تو یہ آپ کی کامیابیوں کا پہلازینہ ہوتاہے۔ اور جیسے جیسے آپ اچھے اچھے کام سرانجام دیتے جائیں گے آپ کی شاباش جو آپ کی صلاحیتوں اور کامیابیوں کو پانے کے لئے ایندھن کا کام دیتی ہے۔ اور اگر شاباش دینے والا اچھا انسان ہے تو آپ واقعی اچھے ہیں اور آپ کی ترقی کے مواقع روشن ہوجاتے ہیں۔
انسان کو جب اپنے رب کی حقیقی قوت اور اس سے اپنے رشتے کی پہچان ہوجاتی ہے، تب وہ مضبوط اور شک وشبہات سے بالاتر ہوکر ایک بھرپور فاتح بن کر ابھرتاہے اور بیرونی قوتیں اس کی معاون بن جاتی ہیں۔
مایوسی کو قریب نہ آنے دیں:
بعض لوگوں کے دل میں ہی اپنی کامیابی کی شدید خواہش نہیں ہوتی۔ اس کی وجہ اس کے سرپرستوں کی شفقت اور بے جا محبت ہے جو انھیں خود سے اپنے پاؤں پہ کھڑا ہونے میں مانع ہوتی ہے۔ جس کے باعث ایسے لوگ زندگی میں ناکام ہوتے ہیں۔ اپنی قوتوں کو مجتمع کرکے انہیں اپنے مقصد کی تکمیل میں لگانے کی بجائے مایوسی کو خود سے طاقتور تسلیم کرتے ہیں۔ ایسی سوچ سے مایوسی ان پر غالب آجاتی ہے۔ یہ لوگ ہر لمحے اپنی ناکامی کا خیال کرکے اپنی کامیابی پر شک کرتے ہیں اور اپنے مقصد سے خود ہی دور ہوجاتے ہیں۔
اس حقیقت سے انکار نہیں کیا جاسکتا کہ حیات انسانی ، خاندانی وراثت سے وصول شدہ جائیداد اور مال و دولت سے نہیں بنتی۔ اور نہ ہی وہ انسان کوئی قابل تحسین کامیابی سے ہمکنار ہوسکتاہے جو اپنے والدین پر انحصار کرتا ہو یا اس کے والدین اسے گرم ہوا کا سامنا نہ کرنے دیں۔ اور اس سے بڑے ہونے پر بھی ننھے بچوں کی طرح برتاؤ کریں۔
انسان کی ترقی اس وقت تک رکاوٹ کا شکار رہتی ہے جب تک کہ وہ اپنی خوابیدہ صلاحیتوں کو اجاگر نہ کرے۔ ارتقاء کا مقصد ہے متواتر ترقی کرنا۔ اس لئے ضروری ہے کہ کامیابی و کامرانی کے لئے آپ کے قدم تواتر سے چلتے رہیں۔ کسی خوف، ڈر، مایوسی، وہم، پریشانی کی وجہ سے آپ کے قدم ساکن نہیں ہونے چاہیں۔
سوچ کو بدلیں:
کسی بھی انسان کی کامیابی میں سب سے بڑی دیوار اس کی اپنی سوچ ہوتی ہے۔ جو اس کے دل میں مختلف قسم کے وسوسوں، توہمات اور ڈر پیدا کرتے ہیں۔ جیسے:-
1۔ اگر میں یہ کام نہ کرسکا تو کیا ہوگا؟
2۔ اگر یہ کام کرتے ہوئے کسی نے انگلی اٹھا دی تو اس کو کیا جواب دوں گا؟
3۔ اگر غلط سامان واپس کرتے ہوئے دوکاندار نے انکار کردیا تو کیا کروں گا؟
4۔ کہیں میں ناکام نہ ہوجاؤں؟
5۔ وہ میرے بارے میں کیا سوچے گا؟
6۔ لوگ کیا کہیں گے؟
7۔ اپنے باس سے تنخواہ میں اضافہ کے وقت یہ سوچنا کہ اگر باس نے نا کردی تو کیا ہوگا؟
ایسے تمام خیالات، وسوسے اور وہم اپنے دل سے باہر نکال پھینکیں۔ اور امید و یقین کی زندگی بسر کرنا شروع کردیں۔ اپنے حق کے لئے دوسروں کو پیار اور عقلمندی سے سمجھانے کی کوشش کریں۔ اگر آپ کوشش کرنے سے پہلے ہی ہتھیار ڈال دیں گے تو پھر آپ اپنے مقصد میں کیسے کامیاب ہوسکتے ہیں۔ اگر آپ ایک سچے اور مخلص انسان ہیں تو اللہ تعالی پہ بھروسہ کرتے ہوئے اپنے حق کے لئے کوشش کریں۔ شاید آپ کو معلوم نہیں آپ کیا کچھ کرسکتے ہیں۔
کامیابی کے لئے امید کا دامن:
کامیابی کے لئے امید کا دامن تھام کررکھنا بہت ضروری ہے۔ اگر آپ کے دل میں کسی چیز کی خواہش پیدا ہوتی ہے اور وہ خواہش آپ کے دل میں شدت اختیار کرجائے اور آپ اسے حاصل کرنے کے لئے ناصرف بے چین ہیں بلکہ مضبوط ارادہ بھی آپ کے دل میں موجزن ہے تو پھر کوئی وجہ نہیں کہ آپ کی خواہش پوری نہ ہو۔ آپ اپنی کامیابی کی امید قائم رکھیں اور مستعدی اور استحکام کے ساتھ جدوجہد جاری رکھیں۔ تاکہ جلد ہی اپنی کامیابی کو حاصل کرسکیں۔
کامیابی کے لئے یقین کی اہمیت:
امید آپ کے ارادوں کی صحیح سمت کا تعین کرتی ہے جبکہ یقین آپ کے حوصلوں کی عکاسی کرتا ہے۔ کامیابی اور ناکامی کا دارومدار یقین پر ہوتا ہے۔ کسی مقصد کے حصول کے لئے ضروری ہے کہ آپ کو یقین ہو کہ آپ اسے حاصل کرسکتے ہیں۔ آپ کی زندگی وہی کچھ ہے جو آپ یقین کرتے ہیں۔
کامیابی حاصل کرنے کے لئے آپ کو یقین کامل ہونا چاہیے کہ آپ اپنے مقصد میں کامیاب ہوجائیں گے۔ کیونکہ جیسا مضبوط آپ کا یقین ہوگا اتنے ہی زیادہ آپ کی کامیابی کے امکانات ہوں گے۔
مقصد کے حصول سے لگن:
ایسے تمام کام جو ہم بے دلی سے انجام دیں کبھی ثمر آور نہیں ہوتے۔ کسی بھی مقصد کے حصول کے لئے سچی لگن، خود اعتمادی اور اللہ تعالی کی ذات پہ کامل یقین ہماری کامیابیوں کی اہم ترین کلید ہے۔ اس کے علاوہ ہماری قوت برداشت بھی ہمارے اعصاب کو مثبت طریقے سے کام کرنے میں ہمارے معاون ہوتے ہیں کیونکہ قوت برداشت کی کمی کی وجہ سے غصہ ہماری سوچ کو فہم کے دائرہ سے باہر دھکیل دیتا ہے اور ہمارا ذہن مفلوج ہوجاتا ہے اور ہم ناکامی کا منہ دیکھتے ہیں۔
خود اعتمادی کی شمع کیسے روشن کریں:
اعتماد کیا ہے اور کیسے حاصل کیا جاتا ہے اور اسے کس طرح ہمیں اپنے ساتھ رکھا جاسکتا ہے؟
1۔ اگر آپ اپنے آپ میں خود اعتمادی پیدا کرنا چاہتے ہیں تو اپنا موازنہ دوسروں سے ہرگز نہ کریں۔ کیونکہ کسی با صلاحیت ، با ہمت، تجربہ کار اور زیرک انسان کا موازنہ آپ کو نہ صرف احساس کمتری کا شکار کردے گا بلکہ آپ کو سستی میں بھی مبتلا کردے گا۔ کیونکہ اس کی بے شمار کامیابیوں کے پیچھے انتہائی کمال کا یقین اور خود اعتمادی کارفرما ہوتی ہے جس سے آپ فی الحال نابلد ہیں۔ ایسے میں آپ صرف پریشان ہونے کے علاوہ کچھ نہیں کرسکتے۔ اس لئے ایسے موازنہ سے اجتناب کیجئے۔ بلکہ ایسے شخص کو اپنا گرو سمجھتے ہوئے ان کے نقش پا کا پیچھا کرتے رہیے۔
2۔ خود اعتمادی کے لئے خود کو اس بات پر قائل کریں کہ میں ایسا کرسکتاہوں۔ یہ احساس جس قدر گہرا ہوگا ، آپ کو تقویت بخشے گا۔ اور جس کام کے لئے آپ کو محسوس ہوتا ہے کہ اسے آپ بالکل سرانجام نہیں دے سکتے تو اسے انجام دیجئے اور کام کو نامکمل چھوڑنے پر سختی سے کاربند رہیے۔ اور اپنی تمام توانائیاں صرف کردیں اگر کامیابی نہ ملی تو یقیناً تجربہ تو ضرور حاصل ہوگا۔ ناکامی کے تجربات کامیابیوں کے حصول میں بہت کارآمد ثابت ہوتے ہیں۔
3۔ اپنے لئے کم مدت میں انجام پانے والے مقاصد کو منتخب کیجئے تاکہ اس کی تکمیل اور کامیابی کے ذریعہ آپ کی خود اعتمادی میں اضافہ ہو اور آپ کی ہمت بھی بڑھ جائے۔
4۔ اگر آپ ماضی میں شکست سے دوچار ہوئے ہیں اور کوئی غلطی کی ہے تو اس پہ خود کو ملامت مت کیجئے بلکہ یہ ہمیشہ یاد رکھیئے انسان گر گر کر ہی چلنا سیکھتا ہے۔ اور انسان کی ناکامیاں اس کی کامیابی کا پیش خیمہ ہوتی ہیں۔
5۔ اپنی کامیابیوں کے سرٹیفیکیٹ، تصاویر اور اسناد بار بار دیکھیں تاکہ آپ کے اندر ہمت بڑھے اور آپ کا جذبہ نئی توانائیوں کے ساتھ آپ کی کامیابیوں کو سر کرنے کے لئے تیار ہوجائے۔
6۔ اپنی ناکامیوں، کمزوریوں اور اپنے نقائص پر زیادہ توجہ نہ دیں بلکہ اپنے مقصد کے حصول کے لئے اپنی توانائیاں بروئے کار لایئے تاکہ آپ کامیابی کی منازل طے کرسکیں۔
7۔ خود کو کبھی حقیر نہ سمجھیں۔ اپنے آپ کی حوصلہ افزائی کرتے رہیے اور جو کچھ اللہ تعالی نے آپ کو نوازا ہے اس پہ بار بار اللہ تعالی کا شکر ادا کریں اور اللہ تعالی سے مزید مانگتے رہیے۔
8۔ خود کو یہ یقین دلاتے رہیں کہ آپ کسی سے کم نہیں اور آپ اپنے اعتماد کو بحال کیجئے اس یقین کے ساتھ آئندہ جب بھی موقع ملا آپ ضرور کامیاب ہوں گے۔
9۔ خود کو کسی انسان کے خوف سے بچنے کے لئے اللہ تعالی سے رجوع کریں اور اپنی کامیابی کے لئے اللہ تعالی کو اپنا حامی سمجھیں۔
10۔ جب آپ اپنے کسی کام کے لئے ہوم ورک مکمل کرلیں تو پھر اسے انجام دینے میں کوئی ہچکچاہٹ نہ کریں اور اس خوف سے خود کو باہر نکالیں گے کہ لوگ کیا کہیں گے بلکہ ذہن میں یہ رکھیں کہ اگر میں کامیاب ہوگیا تو یہ میری ایک اور جیت ہوگی۔
بے لوث خدمت کرنے سے خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے:
آپ کو جب جب کامیابی ملے اسے دوسروں کو بتائیں اور انھیں بھی کامیاب ہونے کی طرف راغب کرنے میں مدد کریں۔
کوشش کیجئے کہ دوسروں کی بے لوث خدمت کریں اور لوگوں کی مشکلات دور کریں، ان کے لئے آسانیاں پیدا کریں۔
اپنے آفس کا کام دل سے کریں اور ایک کام مکمل ہونے پر اپنے باس سے دوسرے کام کے لئے پوچھیں اور خوش دلی سے کام سرانجام دیں۔ اس طرح آپ کی عزت بھی بڑھے گی اور کام کرنے کی صلاحیت میں بھی اضافہ ہوگا۔

تبصرے