سیر و تفریح


اس کے معنی ہیں  لطف اندوزی اور دیگر تہذیبوں کے رہن سہن دیکھنے، سمجھنے اور قدرت کے کمالات  اور نظاروں کو اپنی نظر سے دیکھنے  کے لئے ایک جگہ سے دوسری جگہ سفر کرنا۔  

پڑھائی لکھائی کے ساتھ ساتھ سیروتفریح  سے بچوں کے ذہنوں پر مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں اور وہ صحت مند اور تندرست رہتے ہیں جس سے انہیں تعلیمی سرگرمیوں کے بہتر اندازسے جاری رکھنے میں کافی مدد ملتی ہے۔

 انسان  کا ذوقِ سَفر:

انسان جب پیدا ہوتا ہے تو وہ مختلف چہروں سے مانوس ہونے لگتا ہے اور جو سب سے ذیادہ اس پہ توجہ دے اور اس کا خیال رکھے وہ اس سے  بہت قریب ہوتا  ہے۔  عام طور پر مائیں بچوں کی نگہداشت کرتی ہیں اور وہ بچے کی رگ رگ سے واقف ہوجاتی ہیں۔

ماں کی ایک جھلک سے بچے کے چہرے کے نقوش کِھل اُٹھتے ہیں۔ کیونکہ اُسے معلوم ہے کہ وہ اس کا خیال رکھتی ہے۔ اسے اس کی خوراک بہم پہنچاتی ہے، اس کی صفائی کا خیال رکھتی ہے اور یہی بچہ جب تھوڑا بڑا ہوجاتاہے تو اپنا مدعا بیان کرنے کے لئے چیختا چلاتا ہے۔ اس طرح اس کی ضروریات پوری ہوجاتی ہیں۔
 
جب یہی بچہ لڑھکنے لگتا ہے تو اسے نئی نئی چیزوں کو چھونے اور ان سے کھیلنے کا شوق پیدا ہوجاتا ہے۔ اس لئے ماں باپ بچے کے پنگھوڑے میں نرم و نازک کھلونے رکھ دیتے ہیں تاکہ وہ خود کو زخمی نہ کرلے۔

اور جیسے ہی یہ بچہ پاؤں پاؤں چلنا شروع کردے تو  اسے گھر کا حدود   دربہ معلوم ہوجاتا ہے اور  وہ پھر گھر سے باہر کے نظارے،   لوگوں کی  نقل و حرکت اور باہر کی دنیا دیکھنے کے لئے مچلتا ہے۔   اسے معلوم ہے کہ باپ گھر کے باہر والے کام سرانجام دیتا ہے۔ اس لئے وہ باپ کے آفس سے آنے کا انتظار کرتا ہے اور توقع کرتا ہے کہ اس کا شفیق باپ اسے باہر گھمانے کے لئے لے جائے گا۔ جہاں وہ اپنے گھومنے پھرنے کی خواہش کی تسکین پائے گا۔

جیسے جیسے یہ بچہ بڑا ہوتا جاتا ہے اس کے خیالات، اس کے احساسات اور اس کی سوچ پروان چڑھتی جاتی ہے اور اس کا مشاہدہ بھی وسیع ہوتا جاتا ہے۔

یہی بچہ جب اسکول و کالج میں جاتا ہے وہاں دوسرے شہروں کی سیر کے لئے سیر و تفریح  کے پروگرام ترتیب دیئے جاتے ہیں اور اس بچے کی گھومنے پھرنے، سیر و تفریح  کی طبع  بھڑک اٹھتی ہے کہ کیوں نہ سیر و تفریح کے مقام دیکھے جائیں۔ چڑیاگھر کی سیر کے دوران بچوں کو ٹرین،کشتی سمیت مختلف جھولے اور ہاتھی، شیر، بندر، شترمرغ، مورسمیت مختلف جانوروں کو  دیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ ایسی سرگرمیوں سے بچوں کو سیروتفریح کے ساتھ ساتھ مختلف انواع کے جانوروں کے بارے میں کافی معلومات بھی حاصل ہوتی ہیں ۔   ہمارا فرض ہے کہ انہیں تعلیم کے ساتھ ساتھ اس نوعیت کی تفریحی اور معلوماتی سہولیات فراہم کریں۔ 

سیر و تفریح اور انسانی طبع:

انسانی خواص ہے کہ وہ نت نئی جگہوں، نئے نئے چہروں اور حسین نظاروں ، خوبصورت آبشاروں، صحت افزاء باغوں،  آسمانوں کو چھوتے پہاڑوں، نیلگوں دریاؤں اور جھیلوں کو دیکھنے کا متمنی ہوتا ہے۔ سیر و تفریح  ہر انسان کا شوق ہوتا ہے اور بہت کم لوگ ہوتے ہیں جنہیں سفر کا شوق  بالکل  نہ ہو۔  ماہرین کا کہنا ہے کہ سال میں ایک بار سیاحت کے لئے نکلنا دل و دماغ پر مثبت اثرات مرتب کرتا ہے۔  اس سلسلے میں ماہرین کی تجویز ہے کہ اگر آپ بیرون ملک سیاحت کے لیے نہیں جاسکتے، تو سال میں کم از کم ایک بار ملک کے اندر ہی کسی دوسرے شہر ضرور جائیں جہاں آپ اس سے پہلے کبھی نہ گئے ہوں۔ نئی جگہ کی سیر، اس کو دیکھنا، اور وہاں جانے سے قبل خوشی اور پرجوش ہونا، یہ سب آپ کی صحت پر مثبت اثرات مرتب کرتے ہیں۔

اسلام اور سیر و تفریح:

زمین کے مختلف خطوں میں قدیم نشانات اور عمارات کے باقیات ہیں جو زندہ اسناد ہیں۔ ان کے بارے میں تاریخ دانوں اور سیاحوں نے بیش بہا کتب تحریر کیں ہیں۔  کتب کے ذریعے تاریخی نوادرات، کھنڈرات اور محلات   کی حقیقت کو سمجھنے کی نسبت اگر انہیں بذات خود دیکھا جائے تو ہم ان  قدیم اقوام کی جسمانی ساخت، ان کا زاویہ فکر اور ان کی قدرت و عظمت کو بآسانی جان سکتے ہیں۔ ان تاریخی عمارتوں میں اہرام مصر، بابل کے برج، کسری کے محل ، قوم سبا کے آثار تمدن، ان قدیم لوگوں کی تاریخ بیان کرتی ہیں۔ اور خاموشی کی زبان میں باتیں کرتی ہیں۔ 

ان مقامات کو بنفس ِنفیس دیکھنا، ایک ضخیم تاریخی کتاب پڑھنے کے برابر ہے۔  یہ عملی مطالعہ انسان کی روحانی بیداری کے لئے ایک مؤثر ذریعہ ہے۔ اور ہم خود کو تاریخ کے اس دور میں محسوس کرتے ہیں۔ جبکہ کتب کے ذریعے معلومات ہمیں صرف تاریخی واقعات اور اعداد و  شمار سے باخبر کرتے ہیں۔

 قرآن مجید حکم دیتا ہے کہ مسلمان روئے زمین پر سیر وسیاحت کریں اور گزشتہ لوگوں کے آثار کا مشاہدہ کر کے ان سے عبرت حاصل کریں ۔

اسلام میں بھی جہاں گردی اور سیر و تفریح کی اہمیت پر زور دیا گیا ہے لیکن آج کے ہوس پرست سیاحوں کی طرح نہیں بلکہ گذشتہ لوگوں کے آثار و انجام کے مطالعہ اور گوشہ ہائے عالم میں عظمت خدا کے مشاہدہ کے لئے اور اسی کا نام قرآن نے ”سیردانی الارض“ رکھا ہے اور کئی آیات میں اس کا حکم دیا ہے ۔مثلاً

قُلْ سِيْـرُوْا فِى الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الْمُجْرِمِيْنَ
سورۃ نمل، آیت 69۔

    یعنی ان سے کہیں کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہوا ۔


قُلْ سِيْـرُوْا فِى الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ بَدَاَ الْخَلْقَ ۚ ثُـمَّ اللّـٰهُ يُنْشِئُ النَّشْاَةَ الْاٰخِرَةَ ۚ اِنَّ اللّـٰهَ عَلٰى كُلِّ شَىْءٍ قَدِيْرٌ 
سورۃ عنکبوت ، آیت 20 -

کہہ دو ملک میں چلو پھرو پھر دیکھو کہ اس نے کس طرح مخلوق کو پہلی دفعہ پیدا کیا، پھر اللہ آخری دفعہ بھی پیدا کرے گا، بے شک اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔


قُلْ سِيْـرُوْا فِى الْاَرْضِ فَانْظُرُوْا كَيْفَ كَانَ عَاقِبَةُ الَّـذِيْنَ مِنْ قَبْلُ ۚ كَانَ اَكْثَرُهُـمْ مُّشْرِكِيْنَ 
سورۃ روم آیت 42 - 

 کہہ دو کہ ملک میں چلو پھرو اور دیکھو کہ جو لوگ( تم سے) پہلے ہوئے ہیں ان کا کیسا انجام ہوا ہے۔ ان میں زیادہ تر مشرک ہی تھے۔

اَفَلَمْ يَسِيْـرُوْا فِى الْاَرْضِ فَتَكُـوْنَ لَـهُـمْ قُلُوْبٌ يَّعْقِلُوْنَ بِهَآ اَوْ اٰذَانٌ يَّسْـمَعُوْنَ بِـهَا ۖ فَاِنَّـهَا لَا تَعْمَى الْاَبْصَارُ وَلٰكِنْ تَعْمَى الْقُلُوْبُ الَّتِىْ فِى الصُّدُوْرِ 
سورۃ حج، آیت 46 -

کیا انہوں نے ملک میں سیر نہیں کی پھر ان کے اَیسے دل ہوجاتے جن سے سمجھتے یا ایسے کان ہو جاتے جن سے سنتے، پس تحقیق بات یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں بلکہ دل جو سینوں میں ہیں اندھے ہو جاتے ہیں۔

یہ آیات کہتی ہیں کہ یہ معنوی اور روحانی سیاحی اور زمین کی سیر انسان کے دل کو دانائی،   آنکھوں کو بینائی اور کان کو سماعت عطا کرتی ہے اور اسے سکوت و جمود سے خلاصی دلاتی ہے ۔ 

مسلمانوں کو قرآن کے اس حکم پر عمل پیرا ہونا چاہیے اور اپنے محدود فکری تنگ دائرہ سے  نکلنا چاہیے تا کہ علم اسلام اور مسلمانوں میں ایک انقلاب و حرکت کار فرما ہو ۔

کن خوبصورت ترین مقامات کی سیرآپ کو کرنی چاہیے؟
   
ہمارا وطن قدرتی حسن سے مالا مال ہے اور سیر و تفریح  کرنے والوں کے لیے یہ ملک جنت سے کم نہیں۔ کیونکہ پاکستان کو اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کے موسم   سے نوازا ہے اور انہی موسموں کی نسبت  ایسے علاقے بھی ہیں جہاں ذیادہ تر ٹھنڈ رہتی ہے اور اس کے علاوہ ان کی خوبصورتی دیدنی ہے تو آیئے  آپ کو پاکستان کے چند خوبصورت مقامات کے بارے میں بتلائیں۔

وادی نلتر:

یہ وادی گلگت سے ڈھائی گھنٹے کے فاصلے پر واقع ہے اور یہاں کی خوبصورت رنگوں کی جھیلیں اس مقام کو دلکش اور دیکھنے کے قابل بناتی ہیں۔ یہاں دنیا کا بہترین آلو بھی کاشت کیا جاتا ہے، حالانکہ یہ پہاڑی علاقہ ہے پر کہیں کہیں زرخیز زمین بھی ہے۔ اگر آپ سیر و سیاحت کے شوقین ہیں تو اس مقام کی سیر ضرور کریں۔

ہنزہ ویلی:

گلگت سے دو گھنٹے کی مسافت پر واقعے یہ خوبصورت مقام بھی اپنی تاریخ اور دلکش نظاروں کی وجہ سے دیکھنے سے تعلق رکھتا  ہے ۔

وادی پھندر:

گلگت کے علاقہ گیزرمیں موجود  یہ وادی اپنی خوبصورت جھیلوں اور اس مقام  پر جاتے ہوئے خوبصورت نظارے جن میں دریا  کا  رستے کا ساتھ ساتھ چلنا اور میٹھے اور شفاف پانی کے چشموں کی وجہ سے نمایاں مقام رکھتی ہے۔

وادی نیلم ، آزاد کشمیر:

آزاد کشمیر کے دارلحکومت مظفرآباد کےشمال کی جانب 240 کلو میٹر کی مسافت پر پھیلی ہوئی حسین و جمیل وادی کا نام وادی نیلم ہے اور  اس وادی کا شمار پاکستان اور کشمیر کی خوبصورت ترین وادیوں میں ہوتا ہے ۔ یہاں  کے خوبصورت سرسبز درخت، ٹھنڈے پانی کی آبشاریں اور چشمے اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگاتے ہیں۔  اس کو دریائے نیلم کی وجہ سے نیلم ویلی کہا جاتا ہے۔

جھیل سیف الملوک اور آنسو جھیل ، ناران کاغان :

پاکستان کے خوبصورت مقامات میں صوبہ  ’’ کے پی کے‘‘ کے علاقے ناران اور کاغان میں واقع جھیل سیف الملوک اور آنسو جھیل بھی ہے ۔  یہاں  گرمیوں کے دنوں میں جانا آپ کی طبیعت کو پرجوش کردے گا ۔ جھیل سیف الملوک سے کچھ فاصلے پر آنسو جھیل واقع ہے پر یہاں جانے کے لیے آپ کو پیدل   موجود گھوڑ سوار آپ کو اس جھیل تک لے جائیں گے۔ سیف الملوک جھیل سے آپ کو پہاڑوں کا خوبصورت نظارہ ملے گا اور یہاں سے نانگاپربت کی پہاڑی بھی باآسانی دیکھی جاسکتی ہے

زیارت:

بلوچستان کی بات کی جائے تو یہاں کا خوبصورت اور روائتی مقام زیارت ضرور دیکھیے۔ زیارت کوئٹہ سے تین گھنٹے کے فاصلے پر مشتمل ہے اور اس کے راستے میں آنے والے خوبصورت مقامات آپ کو راستے میں ہی رکنے پر مجبور کریں گے ۔

اس کی خاص پہچان  کی وجہ یہاں موجود  ’’قائداعظم ریذیڈینسی ‘‘ جو ایک  خوبصورت عمارت ہے جہاں قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی کے چند آخری ایام گزارے تھے ۔

یہاں ایک خاص مقام سینڈی من تنگی ہے جو آبشار اور چشموں کی وجہ سے مشہور ہے جبکہ ایک خوبصورت فاریسٹ فیملی پارک  سیر کرنے کے لیے  اسی جگہ موجود ہے۔ سردیوں میں آپ کو برف باری کا ایک خوبصورت نظارہ یہاں ملے گا۔

مختلف ممالک کی سیر کے دوران ان چیزوں کا خیال رکھیں:

ہم میں سے تقریباً ہر شخص سیر و سیاحت کرنا اور دنیا دیکھنا چاہتا ہے لیکن صرف چند افراد اپنی سیاحت کے شوق کو پورا کرنے میں کامیاب رہتے ہیں۔ وہ مختلف ممالک میں گھومتے پھرتے ہیں اور وہاں کی ثقافت و روایات سے واقفیت حاصل کرتے ہیں۔

اگر آپ کا بھی سیر و سیاحت پر نکلنے کا ارادہ ہے تو یاد رکھیں کہ بعض مقامات پر کچھ چیزوں کو نہایت معیوب خیال کیا جاتا ہے۔ آپ اگر ان جگہوں پر ان کاموں کو انجام دیں گے تو لوگ اسے بہت برا خیال کریں گے۔ یہ چیزیں بعض اوقات بد تہذیبی کے زمرے میں بھی آتی ہیں اور ایسا کر کے آپ  اپنے میزبان کو ناراض بھی کر سکتے ہیں۔

آج کل چونکہ ویسے بھی سیکیورٹی سے متعلق مسائل زیادہ ہیں لہٰذا  ملک سے باہر سفر کرتے ہوئے خاص طور پر احتیاط کریں کہ کوئی ایسی حرکت نہ کریں جس سے آپ لوگوں کی توجہ کا مرکز بن جائیں اور خود کو مشکوک بنا بیٹھیں۔

کچھ چیزیں ایسی ہیں  جنہیں بیرون ملک سفر کے دوران  نہ کریں:

امریکا -  امریکا جانے کے بعد خیال رکھیں کہ ریستوران میں ویٹرز یا ٹیکسی  ڈرائیور  کو بخشش ضرور دیں۔

برطانیہ - برطانیہ میں لوگوں سے ان کی تنخواہ  وغیرہ  کے متعلق سوال کرنا نہایت معیوب خیال کیا جاتا ہے۔

فرانس -  فرانس میں چیزوں کی ادائیگی بل کے بعد کی جاتی ہے۔ پہلے سے ہوٹل کے کمروں، ٹیکسی یا سامان کی قیمت پوچھنا  بد تہذیبی سمجھی جاتی ہے۔

اٹلی - اٹلی میں کھانے کی پیشکش کو انکار کرنا آپ کو آس پاس کے لوگوں کی نظروں میں ناپسندیدہ بنا سکتا ہے۔

چین  -  چین میں کسی کو گھڑی یا چھتری تحفتاً دینا نہایت برا سمجھا جاتا ہے۔

جاپان  -  جاپان کے لوگ نہایت محنتی اور خود دار ہوتے ہیں لہٰذا وہاں کسی کو بخشش دینے سے پرہیز کریں۔ یہ چیز آپ کو خود پسند اور مغرور ظاہر کرے گی۔

تھائی لینڈ  -  تھائی لینڈ میں کسی کے سر کو چھونے سے پرہیز کریں۔ اگر آپ ایسا کرتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ سامنے والے شخص کی عزت نہیں کرتے۔

سنگا پور  -  سنگا پور میں پبلک ٹرانسپورٹ کے حوالے سے قوانین خاصے سخت ہیں اور پبلک ٹرانسپورٹ میں کھانا،  پینا یا سگریٹ نوشی جرم ہے۔

ملائیشیا  -  ملائیشیا میں کسی کی طرف انگشت شہادت سے اشارہ کرنا بد تہذیبی سمجھی جاتی ہے۔ وہاں اس کام کے لیے انگوٹھا استعمال کیا جاتا ہے۔

سعودی عرب  -  اسی طرح سعودی عرب میں کسی کی طرف انگشت شہادت سے اشادہ کرنا معیوب ہے۔ سعودی عرب میں کھلے عام شراب کی بوتلیں لے کر گھومنا یا پینا نہایت  ممنوع    اور قوانین کی خلاف ورزی ہے۔ اس کے علاوہ  وہاں کی گھریلو خواتین سے گفتگو کرنا بہت معیوب سمجھا جاتا ہے۔

ناروے  -  ناروے میں کسی سے یہ مت کہیں، کہ مجھے چرچ جانا ہے، یا مجھے چرچ لے چلو، یا تم چرچ کیوں نہیں جا رہے۔ یہ وہاں کے لوگوں کو خفا کرسکتا ہے۔

روس  -  کسی روسی گھر میں داخل ہوتے ہوئے اپنے جوتے باہر ہی اتار آئیں وگرنہ آپ اپنے میزبان کی خوش اخلاقی سے محروم ہو سکتے ہیں۔

فلپائن  -  فلپائنی رواج کے مطابق کھانے کا آخری ٹکڑا ہمیشہ چھوڑ دیا جاتا ہے۔ پلیٹ کو صاف کرنا وہاں بدتمیزی کی علامت ہے۔

کینیا  -  کینیا میں لوگوں کو ان کے پہلے نام سے بلانا سخت معیوب سجھا جاتا ہے۔

ہنگری  -  یورپی ملک ہنگری میں کھانے یا مشروب کے دوران ’چیئرز‘ کہنے سے گریز کریں۔

چلی  -  چلی میں کھانے کے لیے چمچوں اور کانٹوں کا استعمال کریں۔ وہاں ہاتھ سے کھانا جہالت کی نشانی سمجھی جاتی ہے۔

میکسیکو  -  میکسیو کے لوگ نہایت خوش مزاج ہوتے ہیں اور یہ سیاحوں کو اکثر لطیفے سنائے پائے جاتے ہیں جو آپ کے لیے بعض اوقات الجھن کا سبب بھی بن سکتے ہیں۔ تاہم ان لطیفوں پر برا ماننے یا منہ بنانے سے آپ اپنے گائیڈ کی ناراضگی مول لے سکتے ہیں۔

نیدر لینڈز  -  نیدر لینڈز میں سائیکل چلانے کا رواج عام ہے اور وہاں سڑکوں پر سائیکل سواروں کے لیے خصوصی لینز بنی ہیں۔ ان لینز پر راہگیروں کو چلنے کی اجازت نہیں لہذا آپ بھی وہاں چلنے سے گریز کریں۔

آئر لینڈ  -  آئر لینڈ کے لوگ اپنی زبان اور قومیت کے معاملے میں نہایت حساس ہیں۔ اگر آپ وہاں ان کے لہجے میں بولنے کی کوشش کریں گے تو وہ اسے اپنا مذاق اڑانا خیال کریں گے۔

سیر و تفریح کے فوائد:

ماہرین نے سیر و تفریح   کے کچھ فوائد   بتائے ہیں، آئیے دیکھتے ہیں وہ کیا فوائد ہیں:-

ذہنی تناؤ میں کمی:

اگر کوئی شدید ذہنی دباؤ کا شکار شخص کسی جگہ کی سیر کے لیے نکلے تو اس کے ڈپریشن میں 80 فیصد سے زائد کمی آجاتی ہے۔ نئی جگہوں کو دیکھنا، اور نئے لوگوں سے ملنا ڈپریشن میں کمی کرتا ہے۔

دل کے دورے سے حفاظت:

جو لوگ سیاحت کے لیے نکلتے ہیں ان کے دل کی کارکردگی بہتر ہوجاتی ہے اور وہ  مارے خوشی کے زیادہ بہتر طریقے سے کام کرتا ہے۔ اس طرح دل کے دورے سمیت امراض قلب سے بھی حفاظت ممکن ہوتی ہے۔

ذہنی کارکردگی میں اضافہ:

سیاحت دل کے ساتھ ساتھ دماغی کارکردگی میں بھی اضافہ کرتی ہے اور آپ کا دماغ پہلے کے مقابلے میں فعال اور چیزوں پر زیادہ توجہ مرکوز کرنے کے قابل ہوجاتا ہے۔یہی وجہ ہے کہ بڑی بڑی کمپنیاں اپنے بہترین ملازمین کو سیر و تفریح کے لئے ناصرف خرچہ دیتی   ہیں بلکہ اس دوران خرچ ہونے والے تمام اخراجات بھی اٹھاتی ہیں۔

خوف میں کمی:

مختلف جگہوں کی سیر اور نئے تجربات کرنا آپ کے خوف میں کمی کرتا ہے۔   سیر و تفریح کے دوران آپ جتنے زیادہ نئے تجربات کرتے ہیں اور مختلف چیلنجز کو قبول کرتے ہیں، اتنا ہی آپ کے خوف میں کمی آتی ہے اور آپ زندگی کے دیگر مسائل کا بھی بے خوفی سے سامنا کرتے ہیں۔

تخلیقی صلاحیت میں اضافہ:

پڑھائی کرکرکے اور کتابی کیڑا بننے کے باوجود آپ کی تخلیقی صلاحیتوں میں اضافہ نہیں ہورہا تو آپ کو سیروتفریح  کے بارے میں سوچنا چاہئے۔ اس سے آپ کی تخلیقی صلاحیت میں اضافہ کرتی ہے۔ آپ شاعر ہوں، ادیب ہوں، مصور ہوں یا فوٹوگرافر ہوں یا کوئی اور تخلیقی کام کرتے ہوں، قدرتی مناظر کی سیر آپ کے ذہن کے نئے دریچے وا کرتی ہے اور آپ کی تخلیقی صلاحیت بہتر ہوتی جاتی ہے، جس کا اثر آپ کے اکیڈمک کیریئر پر بھی پڑتاہے۔ 

مشکلات کا سامنا:

اگر آپ کسی اجنبی جگہ پر جا رہے ہیں، خاص طور پر اپنی ثقافت اور روایات سے بالکل مختلف کسی نئے ملک میں، تو یہ سیاحت آپ کے اندر مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت میں اضافہ کرے گی اور آپ مختلف مسائل اور مشکل حالات کا منطقی حل نکالنے کے قابل ہوں گے۔ اور آپ کا طرز تکلم بھی بہت بہتر ہوجائے گا۔

خاندان سے رشتے میں بہتری:

اگر آپ اپنے خاندان کے ساتھ سفر کر رہے ہیں تو اس سے خاندان کے تمام افراد کے درمیان محبت اور خلوص میں اضافہ ہوگا اور تمام افراد پہلے کے مقابلے میں ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہوجائیں گے۔ اور  تعطل کی وجہ سے بے تکلفی میں حائل  رکاوٹیں بھی دور ہوجائیں گی۔ 

دوستی میں بہتری:

اگر آپ اپنے ہم جماعت یا اسکول گروپ کے ساتھ سفر کر رہے ہیں تو اس سے اور وہ پہلے سے موجود محبت اور خلوص میں اضافہ ہوگا اور تمام افراد پہلے کے مقابلے میں ایک دوسرے سے زیادہ قریب ہوجائیں گے اور ایک دوسرے سے سیکھنے کا موقع ملے گا۔

تجربات سے فائدہ اٹھانا:

نت نئے لوگوں سے ملنا، ان کی کہانیاں سننا، ان کے رہن سہن کا مشاہد ہ کرنا اور ان کے تجربات سے فائدہ اٹھانے سے آپ کی ذہنی استعداد میں اضافہ ہوتاہے۔ دنیا سمجھنے کا موقع ملتاہے۔ اگر آپ ان کی لینگویج سمجھیں یا نہیں ، لیکن باڈی لینگویج سمجھ میں آتی ہے۔

کلچر سے آگاہی:

نت نئے مقامات کے سفر کا مطلب ہے نت نئے لوگوں سے ملاقات، ان کے رسوم ورواج سے آگاہی اور مزے مزے کے کھانے۔ آپ جب سفر سے لوٹیں گے تو آپ کے پاس بہت سارا مواد ، تصویریں اور سیلفیز ہوں گی جو آپ سب سے شیئر کریں گےاور اپنے تازہ دم دماغ سے ایک نئے جذبے کے ساتھ اپنی تعلیم شروع کریں گے ، آپ دیکھیں گے کہ آپ کے اندر مثبت تبدیلی آچکی ہے۔
 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت