پردہ
پردہ کے معنی ہیں چار دیواری، پوشیدہ، برقعہ، آہنگ، حائل، حجاب، درپردہ، گھونگٹ، چلمن، اوجھل، پوشیدگی اور غیر مرد کے سامنے بغیر پردہ نہ آنا۔
عورت کا مطلب چھپانے والی چیز ہے ۔ حجاب اسلامی طرز زندگی کا حصہ ہے۔ حجاب اوڑھنا ہر خاتون پر فرض ہے اور حجاب میں ہی عورت کی خوبصورتی ہے۔ پردہ کی پابندی کرنا درحقیقت عورت کی اپنی عزت و حرمت کی حفاظت کے لئے ضروری ہے۔ حجاب میں عورت خود کو پرسکون اور محفو ظ سمجھتی ہے۔
غیر محرم عورت کی ذاتی گفتگو کان لگا کر سننا منع ہے۔ اگر کسی وجہ سے بات کرنا ضروری ٹھہرا ہوتو عورت کو چاہیے کہ پردے میں رہتے ہوئے، درشت لب و لہجہ میں گفتگو کرے۔عورت کو کسی اجنبی اور غیر مرد کو اپنی آواز سنانا منع ہے۔ اجتماعی طور پر اکٹھے رہنے والے گھرانوں میں عورتوں کو سادہ سی چادر سے ڈھانک کر شرم و لحاظ سے پیش آنا چاہیے اور تنہائی میں کسی غیر محرم شخص کے ساتھ نہیں بیٹھنا چاہیے۔ اسی طرح عورت کو چاہیے کہ اپنی کلائی، بازو، سر کے بال اور پنڈلی وغیرہ کا اظہار نہ کرے کیونکہ ایسا عمل اسلام میں حرام ہے۔ اور اسی طرح غیر مردوں کے سامنے عطر لگا کر آنا بھی جائز نہیں۔
قرآنی تعلیمات مردوں سے تقاضا کرتی ہے کہ وہ اپنی نگاہوں کو نیچا رکھیں۔ اسی طرح خواتین کو بھی نگاہیں نیچی رکھنے اور اپنے سینے کو ڈھانپے رکھنے کا حکم دیا گیا ہے۔ مرد اور عورت کو اپنے مخصوص جسمانی خدوخال کو چھپانا حجاب کے زمرے میں آتا ہے اور لمبا کوٹ یا قمیض، برقعہ ، عبایہ اور سکارف اس مقصد کے لئے بہترین انتخاب ہیں۔
اسلام نے خواتین کو حکم دیا ہے کہ وہ اپنی زینت کی جگہوں کو ڈھانپ کررکھیں۔ عام طور پر یہ سمجھا جاتا ہے کہ عورت کا چہرہ سب سے زیادہ قابل توجہ ہوتا ہے۔ کچھ لوگ عورت کی آنکھوں کو خوبصورتی کی دلیل سمجھتے ہیں۔ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ عورت کا سینہ ایسی خوبصورتی ہے جو انتہائی شرانگیزی کا باعث ہوسکتی ہے۔ اسی وجہ سے اسے ڈھانپنے کا حکم دیا گیا ہے۔ عورت کو ایسا حجاب اختیار کرنا چاہیے کہ جس سے ان کے نسوانی خدوخال نمایاں نہ ہوں۔
عورت کی نماز اور پردہ داری:
عورت کے پر دہ کو اس قدر اہمیت دی گئی ہے کہ اس کے لئے عبادت بھی پردہ میں ہونا چاہیے۔ رسول اللہؐ نے فرمایا کہ عورت کا کمرہ میں نماز پڑھنا گھر (آنگن) میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے اور (اندرونی) کوٹھڑی میں نماز پڑھنا کمرہ میں نماز پڑھنے سے بہتر ہے۔ یعنی عورت جس قدر بھی پردہ کرے گی اسی قدر بہتر ہے، صحن میں نماز پڑھنے کے مقابلہ میں کمرہ میں نماز پڑھنا افضل ہے اور کمرہ میں نماز پڑھنے کے مقابلہ میں کمرہ کے اندر بنی ہوئی کوٹھڑی میں نماز پڑھنا زیادہ افضل ہے۔
ستر کیا ہے:
ستر پوشی یعنی مسلمان کے جسم کا وہ حصہ جسے غیر لوگوں سے چھپانا اور ڈھانپ کر رکھنا نہایت ضروری ہے۔ مرد کا ستر ناف سے گھٹنوں تک، عورت کا ستر ہاتھ اور چہرے کے سوا پورا جسم ہے۔ ستر پوشی کے لئے لباس اختیار کیا جاتا ہے۔ ایک لباس ہے جسم کی ستر پوشی کے لئے، دوسرا زینت کا لباس ہوتا ہے اور تیسرا تقوی کا لباس ہے۔ جسم کی ستر پوشی اور زنیت کا لباس جسم کے عیوب کو چھپاتا ہے جبکہ تقوی کا لباس دل کے عیوب کو دور کرتا ہے۔
جب انسان خالصتا ً اللہ تعالی کے خوف کے احساس سے برائیوں سے اجتناب کرے اور اچھائیوں کو اپنائے تو اس کے اندر پاکیزگی پیدا ہوتی ہے ۔ یہ پاکیزگی انسان کے ایمان اور وجدان کے اعلی درجہ پہ ہونے کی وجہ سے پیدا ہوتی ہے۔ جسے تقوی کہتے ہیں۔ تقوی انسان کے اندر کی کیفیت ہے جو کسی قانونی زور سے پیدا نہیں ہوسکتی۔ تقوی کے بغیر جسمانی ستر پوشی کی کوئی اہمیت نہیں۔ اگر دلوں میں تقوی نہ ہو تو پھر سات آٹھ میٹر کا کپڑا مرد و زن کو ایک دوسرے کی ذہنی خباثت سے کیسے محفوظ رکھ سکتا ہے۔
عورت اور معاشرہ:
عریانی انسان کی توہین اور رسوائی کا باعث ہے اور ستر پوشی انسان کی عزت و تکریم کا سبب ہے۔ عورت کا کردار پختہ ہو تو کسی کو بری نگاہ ڈالنے کی ہمت نہیں ہوگی۔
اسلام میں پردے کا حکم مرد و زن میں نفرت کے لئے نہیں کہا گیا بلکہ مرد و زن کے اختلاط پر احتیاطی تدابیر اختیار کرنے کا حکم ہے۔ ملاحظہ فرمایئے سورۃ توبہ کی آیت نمبر 71 اور اس کا ترجمہ:-
وَالْمُؤْمِنُونَ وَالْمُؤْمِنَاتُ بَعْضُهُمْ أَوْلِيَاءُ بَعْضٍ يَأْمُرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَيَنْهَوْنَ عَنِ الْمُنكَرِ وَيُقِيمُونَ الصَّلَاةَ وَيُؤْتُونَ الزَّكَاةَ وَيُطِيعُونَ اللَّهَ وَرَسُولَهُ أُولَٰئِكَ سَيَرْحَمُهُمُ اللَّهُ إِنَّ اللَّهَ عَزِيزٌ حَكِيمٌ
اور مومن مرد اور مومن عورتیں ایک دوسرے کے دوست ہیں کہ اچھے کام کرنے کو کہتے ہیں اور بری باتوں سے منع کرتے اور نماز پڑھتے اور زکوٰة دیتے اور خدا اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے ہیں۔ یہی لوگ ہیں جن پر خدا رحم کرے گا۔ بےشک خدا غالب حکمت والا ہے۔
اللہ تعالی نے جب حضرت آدم علیہ السلام کی تخلیق کی تو ان کے لئے حضرت اما حوا کو پیدا کیا۔ تاکہ وہ اپنی دنیاوی زندگی مل جل کر گزاریں۔
مرد و زن دونوں کے ایک دوسرے کے زوج ہیں ۔ مطلب یہ کہ دونوں کو دل و دماغ کی یکساں صلاحیتیں عطا کی گئی ہیں۔ تاکہ وہ مرد کے ساتھ مل کر بھر پور فعال کردار ادا کرےاور تہذیبی اور ثقافتی سرگرمیوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لے۔ دونوں احکام الہی کو بجا لانے والے ہیں اور دونوں کے اعمال کی جزا و سزا برابر ہے۔
پردے کے احکام جتنے بھی ہیں اس کا یہ مطلب نہیں کہ عورت کو گھر میں بند کرکے رکھا جائے۔ یہ اس لئے ہیں کہ باہر نکلتے ہوئے ان کے لباس اور گفتار و کردار میں بے حیائی کا عنصر نہیں ہونا چاہیے۔
عہد نبوت اورخلفاۓ راشدہ کے دورمیں بھی عورتیں اپنے خانگی کاموں یا دینی وتمدنی ضروریات کے لیے گھر وں سے باہرنکلتی تھیں،وہ مردوں سے چھپ کر زندگی بسر نہیں کرتی تھیں ،بلکہ دینی اورثقافتی تقریبات میں شرکت کرتی تھیں، وعظ و نصیحت کی مجالس میں اور پنج وقتہ نماز میں شرکت کے لیے مسجد نبو ی میں جایا کرتی تھیں۔
پردہ ، نقاب اور حجاب کے فائدے:
- پردہ ایمان ہے۔
- پردہ پاکیزگی ہے۔
- پردہ تقوی ہے۔
- پردہ چہرے کی رنگت کو محفوظ رکھتا ہے۔
- پردہ عزت کا تمغہ اور حیا کی دلیل ہے۔
- پردہ عورت کی عزت و آبرو کا محافظ ہے۔
- پردہ ماحولیاتی آلودگی سے حفاظت۔
- پردہ دلوں کی پاکیزگی اور طہارت کا ذریعہ ہے۔
- پردہ عورت کی فطری حیا کا تقاضا ہے۔
- پردہ کسی کی نظر بد سے حفاظت۔
- پردہ مسلمان عورتوں کا شعار ہے۔
- پردہ نسوانی حسن کا محافظ ہے۔
- پردہ نفاق سے بچاتا ہے۔
پردہ کے لئے مسلم امۃ کی ذمہ داری:
تمام مسلمانوں کا فرض منصبی ہے کہ ہم اپنی زندگی کے معمولات میں سختی سے شرم و حیاء کی پاس داری کریں۔ اور عورت کی عصمت و تقدس پہ آنچ نہ آنے دیں۔ یقین کیجئے کہ تمام مسلمان آپس میں بہن بھائی ہیں۔ رشتہ ازدواج میں صرف وہی عورت آتی ہے جس سے شرعی نکاح ہوجائے۔ نکاح سے پہلے ہر عورت آپ کے لئے غیر محرم ہے۔ اس کی عزت کریں اور احترام سے پیش آئیں۔
اس سلسلے میں مرد و زن کو اپنی نظروں کو نیچا رکھنے کا حکم ہے اور اگر غلطی سے کسی مرد کی نظر کسی غیر محرم پر پڑ جائے تو دوسری نظر نہ پڑے۔ کیونکہ پھر ایسی نظر گناہ کے زمرے میں آجاتی ہے۔
غیر عورتوں کو نظریں بھر بھر کر دیکھنا ایک شیطانی فعل ہے۔ ایک سچا اور پکا مسلمان ایسی حماقت سے کوسوں دور رہتا ہے۔ ہمیں اچھے مسلمان ہونے کے ساتھ ساتھ ایک پرہیز گار، متقی مؤمن بننا چاہیے۔ تاکہ ہم اپنے نفس پر قابو رکھ سکیں اور اللہ تعالی کے احکامات پر سختی سے عمل کرنے والے بنیں۔ تاکہ مرنے کے بعد اللہ تعالی کے سامنے سرخرو ہوسکیں اور جنت کے حق دار بن سکیں۔ آپ کو اس غلط فہمی سے باہر نکلنا ہوگا کہ اللہ تعالی جس کو چاہیں جنت دیں۔ اللہ تعالی نے جب خود ہی واضح طور پر بیان کردیا ہے کہ جس کے اعمال صالحہ ، اس کے اعمال بد سے زیادہ ہوں گے وہی جنت کا حقدار ٹھہرے گا۔
اس کے علاوہ ہماری ذمہ داری ہے کہ ہم اپنی جوان بیٹیوں، بہو اور دیگر خواتین کو بے مقصد، بے پردہ اور بے وقت گھر سے باہر نکلنے سے روکیں۔ جہاں تک ممکن ہو کوئی بڑا مرد ان کے ہمراہ ہو۔ اور ہماری عورتیں نامحرموں کے سامنے بے تکلفی سے پیش آنے سے اجتناب کریں۔ ڈھیلا ڈھالا لباس زیب تن کریں جس سے جسم نمایاں نہ ہو، سر پہ بڑی سی چادر اوڑھ کے رکھیں، جسم عبایہ سے ڈھانپ کر رکھیں۔ خوشبو لگا کر چلنے ، لوچ دار شیریں آواز، پا ؤں کی جھنکار اور دلکش اداؤں سے روکیں۔
آنکھوں اور دل کا پردہ اپنی جگہ ہے ، لیکن عملاً پردہ بہت ضروری ہے۔ بچیوں کو بچپن میں ہی پردہ کی تربیت دی جائے تو آنے والے وقتوں میں کوئی دقت نہیں ہوتی۔
ایسا لباس زیب تن نہ کریں جس سے جسم کے خدوخال ظاہر ہوں۔ حتی کے ایک چست پاجامہ اور ایک ایسا چست برقع جو جسم کی بناوٹ کے حساب سے سِلا ہوا ہو، انتہائی غیرمناسب ہے۔ ایسا لباس جو جسم سے چپکا ہوا ہو، یہ شیطان صفت نفسوں کے لئے دعوت عام کا پروانہ ہے۔ اس سے معاشرے میں بگاڑ پیدا ہوتا ہے اور اللہ تعالی کے غضب کا موجب ہوتا ہے۔ ہمیں اللہ تعالی کی اطاعت کرتے ہوئے ڈھیلے ڈھالے لباس پہننا چاہیں اور گھر سے باہر نکلتے ہوئے خواتین کو چادر یا عبایہ اوڑھنا چاہیے۔ اللہ تعالی ہمارا محافظ ہو اور ہمیں شیطان مردور کے وسوسوں سے بچائے۔

تبصرے