نیکی
نیکی کے معنی ہیں اچھائی، راست بازی، حسن سیرت، جوہر صفت ، پاک دامنی اور عمل کی اخلاقی قوانین سے مطابقت۔
نیکی سے مراد اچھا کام۔ لغت میں بھلائی عمدگی کارخیر اور احسان کا لفظ استعمال ہوتا ہے ۔ کوئی اچھی بات، کسی مسلمان بھائی سےحسن سلوک، کسی غریب کی مدد وغیرہ یا ایسا کام جو بھلائی کی نیت سے کیا یا سوچا گیا ہو۔ اس کا اجر ثواب ہے۔
عربی میں نیکی کے لئے برّ کا لفظ بولا جاتا ہے انگریزی میں Virtue کہتے ہیں۔ ۔ انسان کی زندگی میں نیکی و بدی، خیر و شر کا اہم کردار ہے اس لئے نیکی کرنا بہت اہم ہے کہ یہ نیکیاں ہی ہیں جو ہمارے گناہوں کو مٹاتی ہیں۔ اس کے علاوہ یہ عمل خیر ہمارے انسان ہونے اور اچھا مسلمان ہونے کے لئے وجہ تقویت ہے ۔
ہر شے کا ایک حسن ہوتا ہے اور نیکی کاحسن یہ ہے کہ اسے فورا ً انجام دیا جائے ۔ہم اپنا جائزہ لیں اور مشاہدہ کریں کہ کیا ہم نیکی خوشدلی سے کرتے ہیں یا بے دلی سے ۔ جیسا کہ ہم جانتے ہیں کہ نیکی کو حقیر نہیں جاننا چاہئے۔ ایک انسان جسے اچھائی کا ذرا بھی شعور ہو، اس کے مالی حالات اجازت دیں اور سماجی حیثیت مستحکم ہو، وہ ضرور کار خیر میں اپنا حصہ ڈالے گا اور ممکن ہے اپنے کام کے لئے ذاتی پروجیکشن کا طلبگار ہو۔ یہ خواہش انسانی جبلت میں شامل ہے۔ لیکن جوں جوں کوئی بے لوث ہوکر اس کا ر خیر کو اپنی زندگی کا حصہ بنالے اور نیت لوگوں کی بھلائی اور اللہ کی رضا ہوتو ایک دن ایسا بھی آئے گا کہ وہ اس طرح نیکیاں کرنے لگا کہ کانوں کان کسی کو خبر نہ ہو۔ کیونکہ کار خیر میں یہی عظمت ہے کہ اسے بار بار کرنے سے ذاتی مفادات بالکل ختم ہوجاتے ہیں اور نیک بندہ اپنے آپ کو اللہ کا رضا کار سمجھ کر اپنے وسائل کو اللہ کی راہ میں کھول دیتا ہے۔
دین کا بنیادی جذبہ خیر خواہی ہے۔ چنانچہ اگر ہم کسی کے لئے اچھائی نہیں کر سکتے تو اس کے لئے برائی کے مرتکب بھی نہ ہوں۔ خیر خواہی کے لئے محض مالی حالت کا اچھا ہونا ضروری نہیں ہے۔ لوگوں سے خوش اخلاقی سے پیش آنا، سلام میں پہل کرنا، کسی کی غیبت نہ کرنا اور نہ غیبت سننا، اللہ کی مخلوق سے حسن ظن رکھنا، لوگوں کے چھوٹے موٹے کام کر دینا، بیمار کی مزاج پرسی کرنا، حقوق العباد کے زمرے میں آتے ہیں۔ کوئی جلدی میں ہو اور آپ کا انھیں راستہ دینا بھی نیکی ہے۔آپ جس بس یا ٹیکسی میں سفر کرتے ہیں، اُس سے نکلتے وقت ڈرائیور کو شکریہ کہنا بھی نیکی ہے۔
اسی طرح کسی انسان کی مدد، کسی جانور کی مدد، سڑک پر پڑے ہوئے پتھر یا کانٹوں کو راہ سے ہٹا دینا ، کسی مسافر کو ایکسڈنٹ یا ہارٹ اٹیک یا کسی بھی وجہ سے گرنے کی صورت میں ہسپتال پہنچا دیناکسی بچے کو سبق میں درپیش مشکل حل کر دینا اور سمجھادینا ،کسی کو راستہ بتلا دینا ،کسی بھائی یا بہن کا کسی محفل میں مذاق اڑانے کی غرض یا جھوٹی بات منسوب کرنے پر اس کے حق میں بولنا،کسی ضعیف بزرگ یا بوڑھی عورت کو سڑک پار کروا دینا یہ سب نیکی میں شمار ہوتے ہیں ۔
اسلام نے نیکی کے بھی اصول وضوابط مقر کئے گئے ہیں نیکی احسان جتلا کر نہ کی جائے ۔ نیکی دکھاوے کے لئے نہ ہو۔ بلکہ نیکی رغبت سے کرنا چاہیے۔ اصل نیکی وہ ہے جس سے اطمینان قلب حاصل ہو۔ وہ کام آپ کا اپنی ذات کے لئے بھی ہو سکتا ہے اور دوسروں کے لئے بھی ۔اپنی ذات کے لئے اس طرح کہ آپ خودکو کسی برائی سے بچاکر جب آپ برائی کی طاقت رکھتے ہوئے اللہ کے خوف سے برائی نہ کریں تو یہ آپ کا اپنی ذات پر احسان ہے کہ آپ نے خود کو رب کے ہاں شرمندہ ہونے سے بچا لیا چاہے آپ کا ایسا کرنے سے مقصود یا نیت یہ نہ تھی کہ اجر پائیں بلکہ نیت خشیت الہی اور تقویٰ تھا جو خوف الہی سے گناہ کی طرف مائل نہ ہوئے تو یہ آپ نے نیکی کی اور اپنی مرضی اور اپنے اختیار کو استعمال کرتے ہوئے کی جو رب نے عنایت کیا ۔
نیکی عادت کا اچھا ہونا ہے۔ یہ عادت اس وقت پختہ تر ہوجاتی ہے جب ہمارا دل نیکی کے کاموں کی انجام دہی میں ناقابل بیان خوشی اور سکون محسوس کرنے لگے۔
ایسے تمام کام جو دوسروں کی بھلائی کی نیت سے انجام دیئے جائیں وہ نیکی میں شمار ہوتے ہیں۔ نیکی وہ عمل ہے جس میں نیت تو انسانیت کی بھلائی ہوتی ہے مگر اصل مطمح نظر صرف اور صرف اللہ کی رضا کا حصول ہوتا ہے۔نیکی وہ عمل ہے جو ہمارے اعمال نامے میں درج ہوتا ہے ۔ یہ وہی اعمال نامہ ہے جو ہمارے لئے جنت اور دوزخ کا انتخاب کرتا ہے۔ اس لئے ہمیں ہر وقت، ہر روز اپنی نیکیوں میں اضافہ کرتے رہنا چاہیے۔
اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں : ﴿ فَاسْتَبِقُوا الْخَيْرَاتِ ﴾۔البقرہ:148
پس نیکیوں کی طرف سبقت لے جانے والے بنو/ نیکیوں کی طرف پیش قدمی کرو۔
ایک سورۃمیں فرمایا کہ ﴿إِنَّ الْحَسَنَاتِ يُذْهِبْنَ السَّيِّئَاتِ﴾۔ہود:114 ۔
بے شک نیکیاں گناہوں کو مٹاتی ہیں۔
ایک اور سورۃ میں فرمایاا کہ: : ﴿فَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ خَيْرًا يَرَهُ ۔ وَمَنْ يَعْمَلْ مِثْقَالَ ذَرَّةٍ شَرًّا يَرَهُ﴾۔ سورۃ الزلزلہ:7،8
جس نے ذرہ برابر بھی نیکی کی ہو گی وہ اس کو دیکھ لے گا جس نے ذرہ برابر بھی برائی کی ہو گی وہ اسے دیکھ لے گا۔
ہر بھلا ،اچھااور نیک کام صدقہ کے زمرے میں آتا ہے ہے اس لئے اسے کرنے کی تگ ودو کرنی چاہئے ۔ فرمان نبوی ہے «كُلُّ مَعْرُوفٍ صَدَقَةٌ»۔ ترجمہ:ہر نیکی صدقہ ہے۔
نیکیاں حاصل کرنے کی آرزو جب پیدا ہو جائے تو اللہ سبحان و تعالیٰ ہمارے دل کو اتنا روشن کر دیتے ہیں کہ ہم ہر وقت اپنے ارد گرد نظر رکھتے ہیں کہ کہیں کسی کو ہماری وجہ سے خوشی ملتی ہو، کسی کو لمحے بھر کے لئے سکون ملتا ہو تو ہم اُس کی طرف دوڑ پڑیں۔
کوئی بہت غصے میں ہو اور آپ کا اُن کو مُسکرا کر دیکھ لینا بھی نیکی ہے۔
کبھی کسی جگہ، کسی کو قلم کی ضرورت پڑے اور آپ کا آگے بڑھ کر انہیں اپنا قلم پیش کرنا بھی نیکی ہے۔
نیکی کبھی رائیگاں نہیں جاتی۔ بلکہ نیکی میں یہ طاقت ہے کہ اس کی انجام دہی کے بعد انسان کو ایسی دلی خوشی ملتی ہے کہ اس کا کوئی مول نہیں۔ دوسرے نیکی اللہ تعالی کے لئے کی جاتی ہے ۔ اور اللہ تعالی اپنے بندوں کے اچھے اعمال کی جزا اس دنیا میں بھی دیتا ہے اور آخرت میں تو انسان کی نیکیاں محفوظ ہیں۔ مثال کے طور پر ہم اپنی خوشیوں کو قربان کرکے کسی کی مالی مدد کرتے ہیں تاکہ اس کے مصائب کم ہوسکیں۔ اور اللہ تعالی اپنے فضل و کرم اور اپنے غیب کے خزانوں سے ہماری ایسی مدد کرتا ہے جس کا ہم تصور بھی نہیں کرسکتے۔
دوسروں کی مدد کرنا، ان کے کام آنا، لوگوں کی ذمہ داریوں میں حصہ لینا، کسی بے سہارا کا سہارا بننا وغیرہ اہم ترین نیکیاں ہیں۔ ہر انسان مرد و زن کو چاہیے کہ ان نیکیوں کو اپنی زندگی کا مقصد بنائیں کیونکہ عظیم مسلمان وہ ہے جس کی زبان، ہاتھ اور پیر اور دیگر توانائی و صلاحیت دوسرے انسان کے کام آئے۔
اللہ تعالیٰ سے محبت کا ثبوت یہ ہی ہے کہ ہم اُس کی مخلوق کی مدد کریں کیونکہ مذہب میں سے انسانیت اور خدمت نکال دی جائے تو صرف عبادت رہ جاتی ہے اور محض عبادت کے لئے پروردگار کے پاس فرشتوں کی کوئی کمی نہیں۔
دوسروں کی خاطر بھی کچھ نہ کچھ تو کرنا تھا
وہ زندگی کیا جس میں اپنی جاں ہی پیاری ہو

تبصرے