کاروبار
کاروبار کے معنی ہیں تجارت کرنا، سوداگری، سودا کرنا، لین دین کرنا، مال کا تبادلہ کرنا، بیوپار کرنا، حصول روزگار کا مشغلہ اور کام کاج۔
کاروبار سے مراد منافع حاصل کرنے کے لئے سرگرم عمل ہونا۔ کاروبار اکیلا انسان بھی کرسکتا ہے اور کئی لوگ مل کر بھی کرسکتے ہیں۔
عموما ً کچھ سامان تیار کیا جاتا ہے جس پہ اخراجات اٹھانا پڑتے ہیں اور پھر اس تیار شدہ سامان کو گاہکوں کو بیچنا کاروبار کہلاتا ہے۔ ایک چبوترے پر ٹھیلا لگا کر شربت تیار کرکے بیچنا بھی کاروبار ہے۔ کسی ڑیہڑی پہ دال اور چاول لگا کر بیچنا بھی کاروبار کہلاتا ہے۔ اس کے علاوہ کچھ لوگ مل کر بڑی رقم سے کوئی فیکٹری، ورکشاپ یا تجارت کرسکتے ہیں؛ یہ بھی کاروبار کہلاتا ہے۔ کچھ لوگ شیئر بازار سے کمپنیوں کے شیئر کی خرید و فروخت کے ذریعے بھی کاروبار کرتے ہیں۔
اسی طرح بڑے پیمانے پہ کاروبار بھی ہوتے ہیں جس کے لئے بہت ذیادہ سرمایہ درکار ہوتا ہے اور ایک بڑے عملے کی ضرورت ہوتی ہے اور یہ کام چند لوگ ذاتی سرمائے اور لوگوں کے شیئر سے کرتے ہیں۔
ہم یہاں ذاتی روزگار کے حصول کے لئے کاروبار پر بات کریں گے۔ ایسے لوگ جو ملازمت کرتے رہے ہیں یا ایسے لوگ جو کبھی بھی کسی کاروبار سے منسلک نہیں رہے۔ اور پہلی بار اپنے گھر کو چلانے کے لئے روزگار کی تلاش میں ہیں ۔
ہمیشہ یاد رکھئے کہ آپ کے سرمایہ کو کوئی دوسرا انسان استعمال کرکے آپ کو منافع نہیں دے سکتا۔ یہ انسان کی فطرت میں ہی نہیں کہ وہ آپ کو بیٹھے بٹھائے اپنی صلاحیتوں کو بروئے کار لاتے ہوئے آپ کو آسانی سے منافع دے سکے۔ اس لئے ایسی غلطی مت کیجئے گا۔
کسی سرکاری ادارے یا بنک وغیرہ میں سرمایہ رکھنا ، محفوظ تو ہے لیکن اس میں جو منافع ملے گا وہ آپ کے لئے سود مند نہیں رہے گا۔
ا س لئے بہتر ہے کہ اپنے سرمائے کو ایسے کام میں لگایا جائے جو محفوظ سرمایہ کاری ہو۔ جیسے پراپرٹی کی خرید و فروخت، چھوٹے چھوٹے گھر بنا کر بیچنا۔ اگر اتنا سرمایہ بھی نہ ہوتو ایسا کام منتخب کیجئے جس میں سرمایہ کاری کم ہو اور منافع ذیادہ۔ اس کے لئے آپ پراپرٹی ڈیلر کا آفس کھول لیں۔ کوریئر سروس کا آفس کھول لیں یا کوئی اکیڈمی کھول لیں۔
جو لوگ کسی ہنر کو جانتے ہیں انھیں چاہیے کہ اپنے کام سے متعلق کاروبار شروع کریں۔ جیسے اگر کوئی موٹر سائیکل میکنک ہے تو چھوٹی سے دکان میں اپنا کام شروع کرسکتا ہے۔ اسی طرح کوئی ویلڈنگ کا کام جانتا ہے اسے چاہیے کہ کسی دکان میں اپنا کاروبار شروع کردے۔
کاروبار کے حوالے سے جب بھی بات ہو، کہتے ہیں کہ ہٹی ۔ چٹی اور کھٹی ۔ ہٹی یعنی پہلے دکان بنائی جائے۔چٹی یعنی پھر دکان کے اخرجات اورگھاٹا اٹھایا جائے پھر کھٹی یعنی اس کے بعد کہیں جا کر انسان کمانا شروع کرتا ہے۔ آج کےبڑے کاروباری لوگ انھی تین مرحلوں سے گزر کر اپنا نام اور مقام بنانے میں کامیاب ہوئے اور اپنے نام کی وجہ سے کئی کئی برانچیں کھول کر لاکھوں کڑوڑوں میں کھیل رہے ہیں۔
انسان بہت جلد باز ثابت ہوا ہے اور جو لوگ پہلی مرتبہ کاروبار شروع کرتے ہیں وہ کاروبار میں گھاٹے اور نقصان کو مدنظر نہیں رکھتے۔ حالانکہ کاروبار میں ہمیشہ مندی کا سامنا کرنا پڑتا ہے اور پھر ترقی کے ثمرات بھی ملنے لگتے ہیں۔
میری طرح آپ لوگوں نے بھی مشاہدہ کیا ہوگا کہ کبھی کبھی لوگ کچھ کاروبار شروع کرتے ہیں اور ان کا مقصد کچھ اور تھا مگران کی فہم وفراست نے انہیں نئے راستے فراہم کئے اور حادثانی طور پر ان کاکاروبار ایک نئی ڈگر پر چل نکلا۔ وہ کاروبار جس کے بارے میں انہوں نے کبھی سو چا بھی نہ تھا۔ کسی حادثے یاکسی اور پس منظر میں اتفاق سے چلنے والا کاروبار انہیں زندگی میں انتہائی کامیاب کر گیا۔ وہ ایک عظیم کاروبار کے بانی قرار پائے اور دنیامیں نامور ٹھہرے۔
سب سے آسان ، سستا اور کامیاب کاروبار کھانے پینے کا کاروبار ہے۔ اس میں کامیابی کے امکانات بہت روشن ہیں۔ لیکن کسی بھی کاروبار کو آسان نہیں سمجھنا چاہیے۔بلکہ کاروبار میں یہ دیکھا جاتا ہے کہ گاہک کیا طلب کرتا ہے، مارکیٹ کا کیا ریٹ ہے اور آپ کے کاروبار کی کامیابی آپ کے کام کا معیار، ذائقہ، صفائی اور آپ کا اخلاق ہے۔ آپ کا لین دین اور خوش خلقی ایک کنجی ہے جو آپ کے کاروبار کو چمکا تی ہے۔
جو کام بھی کریں، پہلے اس کی نیت کریں، پھر ضروری سرمائے کا انتظام کریں، مناسب جگہ تلاش کیجئے، خلوص سے اپنا مال تیار کروائیں اور اخلاق و محنت سے اسے فروخت کریں۔
دنیا بھر میں ہر وقت اور ہر دور میں ایسے لو گ موجود ہوتے ہیں جواپنی محنت اور ہمت کے بل بوتے پر کسی بھی وقت کوئی کاروبار شروع کرکے اسے کامیابی سے ہمکنار کر سکتے ہیں۔
اللہ کے نیک بندے اپنا کاروبار شروع کرتے ہوئے اللہ تعالی کو اپنا پارٹنر بنا لیتے ہیں۔ اور اپنے منافع میں سے کچھ حصہ اللہ تعالی کے نام پر ضرورت مندوں کی کفالت کرتے ہیں۔
اللہ سے کاروباری رشتہ صرف اسی وقت ممکن ہے جب ہمارا ایمان اور یقین پختہ ہو اور اسی یقین کے ساتھ ہم کوئی بھی کاروباری فیصلہ اللہ کی مرضی اور اس کی رضا کے بغیر نہ کریں اور اپنے کاروبار کو اللہ کے بتائے ہوئے اصولوں کے مطابق ہی پروان چڑھائيں؛ تو یقینا کامیابی ہمارے قدم چومے گی۔
تبصرے