حُسنِ ظن
حُسنِ ظن کے معنی ہیں اچھا خیال، حسن خیال، خوش خیالی، خوش قیاسی، خوش گمانی، گمان نیک وغیرہ۔
دوسروں سے بدگمانی سے پرہیز کرنا اور ان سے حسن ظن رکھنا، آپسی روابط کو مضبوط بنانے کا ذریعہ ہے۔ باہمی بدگمانی تہمت، غیبت، بدگوئی اور بد خواہی کا باعث ہوتی ہے اور ایمان کو نیست و نابود کردیتی ہے ، انسان کوانسان کا دشمن بنا دیتی ہے ۔رفتار و گفتار میں حسن ظن ان تمام خطرناک زہریلی چیزوں کا تریاق ہے۔
حسن ظن ایک ایسی عبادت ہے جس میں انسان کو نہ کوئی مشقت اٹھانا پڑتی ہے اور نہ ہی مالی قربانی دینی پڑتی ہے۔صرف اپنی فکر کو مثبت سمت میں ڈھالنا ہوتا ہے اور وہ بھی بغیر کوئی عمل کیے اور اللہ تعالی کی بارگاہ سے اجرو ثواب کا مستحق بن جاتا ہے۔
فرض کریں دو آدمی کسی مقام پر بیٹھے بات چیت میں مشغول ہیں۔ایک آدمی ان کے پاس سے گزرتا ہے اگر وہ یہ سوچ لیتا ہے کہ دو دوست بیٹھے کسی اپنے مسئلے میں بات چیت کر رہے ہوں گے تو اس نے حسن ظن سے کام لیا۔اس نے کوئی مشقت نہیں اٹھائی ، کوئی قرباتی نہیں دی۔صرف اسی حسن ظن کی بدولت وہ اللہ تعالی کی جناب سے اجر و ثواب کا مستحق ٹھہرے گا۔ اور اگر وہاں سے گزرتے ہوئے وہ یہ گمان کر لیتا ہے کہ یہ دونوں چور ہیں۔کہیں چوری کرنے کا منصوبہ بنا رہے ہوں گے یا یہ ڈاکو ہیں۔کہیں ڈاکہ ڈالنے کے متعلق بات چیت کر رہے ہیں اور وہ اسی بات کو آگے پھیلا دے تو اسے کچھ حاصل نہ ہوا۔اس کو کوئی مادی فائدہ نہ پہنچا صرف اسی بد گمانی کی وجہ سے اس کے نامہ اعمال میں بد گمانی کا گناہ لکھ دیا جائے گا۔
اصل چیز حسن ظن ہے سوئے ظن تو کسی دلیل کی وجہ سے کیا جاتا ہے۔مثلا اگر دونوں آدمی واقعی چور ہوں انکی چوری مشہور ومعروف ہو تو اگر کوئی ان کے متعلق چوری کے مشورہ کرنے کا گمان کر بھی لے تو شاید باری تعالی اسے معذور قرار دے کر معاف کر دے۔لیکن بغیر کسی دلیل کے خواہ مخواہ بد گمانی کر لینا تو اللہ تعالی کو سخت نا پسندیدہ ہے اور بد گمانی کرنا مؤمن کی شان نہیں۔
حدیث میں ہے کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا "ظن المؤمنین خیرا " یعنی مؤمنین کے بارے میں حسن ظن رکھنا اچھا گمان کرنا بھلائی ہے۔
ارشاد ربانی ہے "یا ایھاالذین اٰمنوااجتنبوا کثیرًامن الظن ان بعض الظن اثمٌ "
"اے ایمان والو! زیادہ تر گمانوں سے بچا کرو ۔بے شک بعض گمان گناہ ہوتے ہیں"
اللہ تعالی نے فرمایا بہت سے گمانوں سے بچو۔ یہ اس بات کی طرف اشارہ ہے کہ اکثر گمان گناہ ہی ہوتے ہیں۔اس لیے انسان کو ہر گمان سے احتیاط کرنی چاہئیے کہ کہیں وہ بد گمانی کا مرتکب نہ ہو جائے۔
سوء ظن کی دو قسمیں ہیں:-
- پہلی قسم گناہ ہے وہ یہ ہے کہ بندہ گمان کرے اور آگے بیان بھی کر دے۔
- دوسری قسم گناہ نہیں وہ یہ ہے کہ بندہ بد گمانی تو کرے لیکن اسے آگے بیان نہ کرے۔
مؤمن کی شان یہ ہے کہ وہ حسن ظن سے کام لیتا ہے ۔سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں
ولا تظن بکلمة خرجت مت اخيك المؤمن الا خيرا وانت تجدلها في الخير محملاً
جو بھی بات تیرے مؤمن بھائی کے منہ سے نکلے تو اس کے متعلق اچھا گمان ہی کر ۔جب کہ تو اس کی کوئی بھی تاویل کر سکتا ہے۔
ہمارے اور دوسروں کے درمیان رابطہ کی لکیر ہونی چاہئے ، فاصلہ کی نہیں۔ جو چیز اس رابطہ کو وجود میں لاتی ہے اور رابطہ برقرار ہونے کے بعد اسے مضبوط و مستحکم بناتی ہے وہ ہے دوسروں کے حقوق کو ماننا اور ان کے حقوق کی رعایت کرنا۔
بہت سے ایسے مواقع جہاں پر دوسروں کی باتیں اور حرکتیں ممکن ہے ہماری بدگمانی کا سبب ہوں وہاں پر بھی ہماری ذمہ داری ہے کہ جہاں تک ممکن ہو اس کی بات اور عمل پر غور کریں اور اس کی کوئی دلیل تلاش کریں تاکہ بدگمانی میں مبتلا نہ ہونے پائیں۔ یہ حالت لوگوں کے درمیان اعتماد کی فضا قائم کرتی ہے اور زندگی کو مزید شیریں بنا دیتی ہے
دعا ہے کہ پروردگار ہمیں بدبینی سے دور رکھے اور حسن ظن سے ہمارا دامن بھر دے۔
تبصرے