بدگمانی
بدگمانی کے معنی ہیں ، برا گمان رکھنے والا، جسے کسی پر یقین نہ آئے، شکی انسان، بدظن ، فاسد خیال اور وہمی انسان۔
بدگمانی سے مراد ہے کسی کے بارے میں منفی رائے یا اندازہ قائم کرنا جس سے اخوت اور بھائی چارے میں برا اثر پڑے۔
جبکہ گمان سے مراد کسی فرد یا شے کے بارے میں اندازہ لگانا اورکوئی ابتدائی رائے قائم کرنا ہے۔یہ گمان ظاہر ی نشانی کے باعث پیدا ہونے والے خیال کی وجہ سے پیدا ہوتاہے۔ گمان دو قسم کے ہوتے ہیں۔ ایک اچھا گمان جسے حسن ظن کہتے ہیں ۔ دوسرا سوئے ظن، برا گمان۔
کسی کے بارے میں گمان کو تقویت نہ دی جائے، جب تک کہ مظنون ( وہ شخص جس کے بارے میں دل میں گمان پیدا ہو) کے بارے میں اچھی طرح غور و فکر نہ کرلیا جائے۔ اگر مظنون نیک و پرہیزگار ہے تو اس پر معمولی وہم کی وجہ سے بدگمانی نہ کی جائے ۔ کبھی کبھی ہم کسی شخص کو کوئی کام کرتے ہوئے دیکھیں اور فوری طور پر اس کے بارے میں کوئی رائے قائم کرلیں۔ جب کہ جو ہم سمجھ رہے ہیں، ایسا بالکل ہی نہ ہو۔ یا کسی کا اچانک نا روا رویہ دیکھ کر ہم قطع تعلق کرلیں یہ بدگمانی ہے۔ کیونکہ ہم جو ہمیشہ آئینہ دیکھتے ہیں ہمیں اپنا چہرہ اچھا لگتا ہے لیکن خامیاں ہماری نظروں سے اوجھل رہتی ہیں۔ اگر آپ کا دل صاف ہے تو آپ قطع تعلقی سے پہلے اپنے رویوں پر غور کریں اور اگر سمجھ نہ سکو تو پھر مظنون سے وضاحت طلب کریں۔ ہوسکتا ہے مظنون کی رائے حق پرہو اور آپ بدگمانی کاشکار ہورہے ہوں۔
ایک مرتبہ ایک شخص عرب دوستوں کے ساتھ کسی دعوت میں مدعو تھا۔ وہاں کی مشہور ڈش مندی چاول ہے۔ جس میں چاول، میوہ جات اور گوشت کے بڑے بڑے ٹکڑے ہوتے ہیں، علیحدہ سے ٹماٹر کی چٹنی اور کٹا ہوا پیاز بھی ہوتا ہے۔ اس شخص نے جیسے ہی گوشت کی بوٹی لی اور منہ میں لے جانا چاہی تو وہ بہت گرم تھی۔ فورا نکال کر سامنے مندی کے بڑے تھال میں رکھ دی۔ اس شخص کا خیال تھا کہ میں تھوڑی دیر میں جب گوشت قدرے ٹھنڈا ہوجائے گا تب تناول کروں گا۔ مگر قریب بیٹھے ہوئے ایک عرب دوست (سمیر) نے اس بوٹی کو اٹھا کر تھال کے نیچے بچھے ہوئے پلاسٹک کی شیٹ پر رکھ دیا اور کہا کہ بھائی کھائے ہوئے کھانے کو کھانے میں نہیں رکھتے۔
اس واقعے کو دیکھ کر سمیر نے یہ گمان کیا کہ اس شخص کو بوٹی اچھی نہیں لگی ، اس لئے واپس رکھ دی۔ جبکہ بوٹی گرم تھی اس لئے رکھ دی۔ جس کا احساس سمیر کو نہیں تھا۔ اسی لئے کہتے ہیں کہ انسان کی ظاہری حالت ، سادگی ، برد باری اور خاموشی کو دیکھ اسے حقیر نہیں جاننا چاہیے کیوں کہ ہوسکتا ہے وہ گڈری کا لعل ہو۔
گمان اور کثرت گمان سے بچنے کا بہترین حل ہے کہ کسی کی ٹوہ میں اپنی توانائیاں ضائع نہ کریں۔ جیسے ہی گمان کے بارے میں آپ کا علم مکمل ہوگا ، آپ کا گمان یا بدگمانی ختم ہوجائے گی اور اسکی جگہ یقین لے لے گا۔
انسان کی اچھائی یہی ہے کہ مثبت سوچیں تاکہ آپ کی معاشرت، معاملات، کاروبار اور شخصیت کو قبول عام حاصل ہو۔ ہمیشہ مثبت سوچنے سے ناامیدی، مایوسی، ناکامی اور احساس کمتری کی جڑ کٹ جاتی ہے۔یہی نہیں بلکہ مثبت سوچ کے علمبردار کی زندگی کو مثبت عوامل جیسے امید، اولوالعزمی، قوت عمل، حسن ظن ، مسلسل ترقی اور درست زاویہ فکر احاطہ کئے رکھتے ہیں۔ اسے اندھیروں سے اجالوں کی طرف لے جاتے ہیں اور اسے کوئی پچھتاوا نہیں ستاتا۔
کوئی بات بغیر تحقیق کے آگے نہیں بڑھانا چاہیے۔ کوئی خبر خلاف معمول ہو تو اس پہ فوری ردعمل سے پہلے معاملے کی تحقیق کرنی چاہیے۔ ادھوری باتیں بدگمانیاں پیدا کرتی ہیں۔ منفی سوچ کا ایک مظہر غلط فہمی ہے اور یہی بات آج کل کے تمام جھگڑوں کا باعث ہوتی ہیں۔ مثبت انداز فکر کا تقاضہ ہے کہ کسی ناخوشگوار فضا کو جنم دینے کے بجائے وسعت ظرفی سے کام لیا جائے۔ اور قیمتی رشتوں کو محض نامکمل بیانات اور بغیر صفائی کا موقع دیئے نفرت کی بھینٹ نہیں چڑھانا چاہیے۔
جس طرح دوسروں کی برائی یا برے عمل سے دل میں میل آجاتا ہے۔ اسی طرح اپنے خیالات سے دل میں میل آجاتا ہے۔ جس کےباعث ہمارے رویوں میں تبدیلی آجاتی ہے۔ کسی خیال یا سوچ سے دل میں غصہ پیدا ہوتا ہے، کسی سے نفرت، کسی سے بے جا اور غیر متوازن محبت ہوجاتی ہے اور فاصلے بڑھ جاتے ہیں۔ یہ سب چیزیں خرابی پیدا کرتی ہیں۔ اچھے رویوں کے اظہار کے لئے سب سے مقدم یہ ہے کہ ہمارا دل دوسروں کے بارے میں صاف ہو۔ جس کے بغیر ہم کسی سے اچھا برتاؤ نہیں کرسکتے۔
بد گمانی کے اسباب : نامکمل و ادھورا علم، منفی سوچ ، غلط فہمی، کسی مخصوص شخص سے نفرت یا شکایت، ماضی کا تلخ تجربہ ، عدم تحفظ کا احساس، توہمات،انسانی یا جناتی شیطان کی وسوسہ انگیزی۔
بدگمانی کے نقصانات: نفسیاتی بیماریاں، باہمی نفرتیں، رنجشیں، رقابتیں، معاشرے میں انتشار، لڑائی جھگڑا ، قتل و غارت گری، خاندانی ، قبائلی، لسانی اور اداروں کی رقابتیں۔
بدگمانی کا بہترین حل یہ ہے کہ:-
⦁ اگر مسئلہ اہم اور سنجیدہ ہے تو معلومات میں اضافہ کر کے گمان کو خاتمہ کردیں۔
⦁ دوسروں کے متعلق بہت زیادہ منفی انداز میں سوچنے اور بلاوجہ رائے قائم کرنے سے گریز کریں۔
⦁ اپنی منفی سوچوں پر قابو رکھیں اور کسی بھی ناخوشگوار خیال پر قابو پائیں۔
⦁ اگر کسی کے خلاف کوئی بدگمانی پیدا ہو جائے تو آخری حد تک بدگمانی سے جنگ لڑیں۔
⦁ اپنا حق لوگوں کے لئے چھوڑنا شروع کریں۔
⦁ لوگوں کو انکی غلطی پر معاف کرنا سیکھیں کیونکہ اگر غلطی آپ کی ہے تو معا فی کیسی؟
⦁ یہ ایک دن کا کام نہیں بلکہ سعی مسلسل ہے۔ لہٰذا ناکامی کی صورت میں کوشش جاری رکھیں۔
ہمیں چاہیے کہ غلط فہمی، بدگمانی اور خلاف حقیقت باتوں سے بچیں (کیونکہ بد گمانی تباہ کن ہے)۔ بدگمانی پر قابو نہ پایا جائے تو ایک سٹیج پہ انسان خود سے بدگمان ہوجاتا ہے۔ اس لئے تحقیق کی عادت اپنائیں تاکہ نادانی میں خود کو یا کسی دوسرے کو نقصان نہ پہنچائیں اور پچھتاوے کی آگ میں جلنے سے محفوظ رہیں۔
تبصرے