تندرستی


تندرستی کے معنی ہیں صحت کی درستی،  خیر و عافیت، آرام، خیریت، درستی اور سلامتی وغیرہ۔

صحت کے لیے اردو زبان میں متبادل کے طور پر تندرستی کا لفظ مستعمل ہے۔ یہ لفظ دو الفاظ تن اور درستی کا مرکب ہے۔ اس سے مراد جسم کی وہ کیفیت ہے جو معمول کے مطابق ہو یا جسمانی و ذہنی تندرستی ہے۔ 

ہر انسان  میں جسمانی   بیماریوں سے لڑنے کی ایک فطری طاقت ہوتی ہے جس کو قوت مدافعت کہتے ہیں اس کے ذریعہ انسانی جسم مختلف امراض سے لڑتا ہے، یہ قوت بچوں اور بوڑھوں میں کمزور ہوتی ہے لہذا ان کی صحت پر زیادہ توجہ دینا چاہئے۔ 

بلاشبہ صحت مند زندگی انسان کے لیے انمول نعمت ہے، دنیا کی آسائشیں اورآرام ایک طرف لیکن صحت نہ ہو تو زندگی خوشیوں سے خالی ہوجاتی ہے۔ انسان جب تک صحت مند وتندرست رہتا ہے اپنی زندگی کے خوشگوار لمحات سے محفوظ ہوتا ہے، اگر خدانخواستہ وہ بیمار ہوجائے تو ساری خوشیاں اور زندگی کی آسانیاں خاک میں مل جاتی ہیں ۔

تندرستی ہزار نعمت ہے"  اس کی قدر اور پورا  احساس صحت مند لوگوں کو نہیں ہوتا، جو بیمار ہوجاتے ہیں یا کسی حادثہ کا شکار بن کر بستر پر دراز  ہوجاتے ہیں وہی تندرستی کی اہمیت کو سمجھتے ہیں۔

انسانی صحت  کا  سوچ سے  گہرا تعلق ہوتا ہے۔  اگر کوئی انسان اپنی   سوچ وفکر مثبت رکھے  یا وہ منفی رجحان سے اپنے آپ کو بچائے رکھے تو  اس کا مزاج  مستحکم رہے گا۔ وہ اخلاقی خرابیوں سے بچے گا ، غصہ ، اشتعال، جذباتیت، بغض، لالچ اور غرور سے بھی دامن بچائے گا۔  مثال کے طور پر آپ کو بہت بڑا نقصان اٹھانا پڑا ہے، کوئی دھچکا لگا ہے  یا کسی جذباتی (محبت)            ناکامی کا سامنا ہے تو اس کا براہ راست آپ کے جسم پر بہت برا  اثر پڑے گا۔ ایسی صورت حال میں   کمزور دل لوگ اپنے ہواس کھو دیتے ہیں،  ذہنی طور پر کمزور لوگ پاگل ہوجاتے ہیں اور کچھ لوگ انتہائی گہرے صدمے میں چلے جاتے ہیں۔ جب کہ وہ لوگ جو مشکل وقت میں اپنے اللہ کی طرف رجوع کرتے ہیں، ذیادہ سے ذیادہ قرب الہی حاصل کرتے ہیں   وہ اپنی توجہ کو بہتر حل کی طرف مبذول کرکے سکون پاتے ہیں  ۔    اسی طرح علم و ادب سے شغف رکھنے والے اگر اپنی توانائیاں لکھنے لکھانے ، آرٹ ورک  میں صرف کریں تو یقینا بہت اچھے نتائج برآمد ہوں گے۔  کیوں کہ جب دل پہ چوٹ لگتی ہے تو اس کی تڑپ   سے ایسے ایسے شاہکار تیار ہوجاتے ہیں جو عمومی حالات میں ناممکن ہوتے ہیں۔

تمام انسانوں کی صحت میں سوچ وفکر کا تعلق ضرور ہے۔ بری سوچ اور عادتیں آدمی کی محفوظ توانائی کو ضائع کرنے کے ساتھ ساتھ جسم میں نئی توانائی پیدا ہونے میں رکاوٹ بنتی ہیں اور ان کا براہ راست اثر آدمی کے اعصابی نظام پر مرتب ہوتا ہے۔ تندرستی کو برقرار رکھنے کے لئے جہاں ہمیں غذا وقت پر لینے کی عادت ڈالنا چاہئے، وہیں متوازن غذا لینے کی اہمیت بھی سمجھنی چاہئے ۔ کسی دانا کا قول ہے کہ ’’انسان اپنے دانتوں سے خود کی قبر کھودتا ہے‘‘۔ یہاں  میں متوازن غذا کی وضاحت کرنا مناسب سمجھتا ہوں۔

صحتمند اور متوازن غذا کا  استعمال ، اچھی صحت کو برقرار رکھنے  کا نہایت اہم حصہ ہے اور اس سے آپ خود کو بہت  بہتر محسوس کرتے ہیں۔  اس کا مطلب ہے  مختلف انواع و اقسام کے کھانے ، مناسب مقدار میں کھانا اور ایک صحت مند جسمانی وزن کو برقرار رکھنے کے لئے صحیح مقدار میں غذا کھائی جائے اور مشروبات کا استعمال کیا جائے۔

کھانا جلدی جلدی نہیں کھانا چاہیے بلکہ سکون سے چھوٹے چھوٹے لقمے بنا کر اچھی طرح چبا کرکھائیں۔ دانتوں کا کام ہے کھانے کو چبانا، اگر ہم اچھی طرح نہیں چباکرکھائیں گے تو یہ ذمہ داری معدہ پر آجائے گی اور معدہ میں چبانے کی صلاحیت نہیں ہے۔  اور لامحالہ پیٹ میں درد ہوگا اور اینٹھن اٹھے گی۔    کھانے پینے میں احتیاط برت کر انسان اس قول کو غلط ثابت کرسکتا ہے کیونکہ اطبا ء کے بقول تمام بیماریاں معدے کی خرابی کا نتیجہ ہوتی ہیں اور معدہ ثقیل غذاؤں سے سب سے زیادہ متاثر ہوتا ہے۔ 

انسانی صحت کا چہل قدمی سے  بہت   گہرا رشتہ ہے آج مصروف ترین زندگی میں سے تھوڑا وقت نکال کر  چہل قدمی کریں تو  آپ  اپنے جسم کو متناسب رکھ سکتے ہیں۔ ، واکنگ یا چہل قدمی ایک ورزش بھی ہے اور یہ آسان عمل ہے جسے ہر عمر کے فرد بآسانی انجام دے سکتے ہیں۔  اس کے علاوہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے کام خود انجام دیں اور خود کو جسمانی طور پر متحرک  اور چست رکھیں۔

یوں تو ورزش کو انسانی زندگی کا ایک اہم جزو ہونا چاہئے، ایک تندرست جسم کے لئے تھوڑی بہت ورزش لازم ہے لیکن خواتین اس میں زیادہ سستی برتتی ہیں۔ لیکن ماہرین فٹنس کیلئے کی جانے والی چہل قدمی کے بارے میں دعویٰ کرتے ہیں کہ اس سے تھکن کم ہوجاتی ہے او ربیش از بیش فوائد حاصل ہوتے ہیں ، بوڑھے جوان سب کو ہی اپنے جسموں کو صحت مند رکھنے کیلئے چہل قدمی ضرور کرنا چاہئے۔ یہ ذہنی دباؤ کو کم کرکے اضافی چربی کو گھلانے میں مدد دیتی ہے، تحقیق سے یہ بھی ثابت ہوا ہے کہ صحت مند انسان کا تیز چلنا اس کے دل اور پھیپھڑوں کے لئے نہایت مفید اور امراض قلب کے لئے تریاق کا درجہ رکھتا ہے۔ اس کے علاوہ چہل قدمی انسان کے اندر منفی رجحانات کو کم کرنے میں بھی بہت اہم کردار ادا کرتے ہیں  ،  خود اعتمادی کو بحال کرنے  اور سماجی رابطے بڑھانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے۔

صحت وتندرستی اﷲ تعالیٰ کی عظیم نعمتوں میں سے ایک ہے اور یہ انسان کی اولین ضرورت بھی ہے، ذہنی وجسمانی طور پر صحت مند انسان ہی معاشرہ کی بھلائی کیلئے بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لاسکتا ہے۔ اس کے برعکس ایک بیمار اور کاہل انسان سے کسی تعمیری فکر یا سرگرمی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ پہلے لوگ اپنی صحت کے بارے میں کافی حساس اور محتاط رہتے تھے جبکہ آج کا انسان اپنی مصروفیات اور گوناگوں مشاغل کے باعث صحت جیسے اہم مسئلے سے لاپرواہی برت رہے ہیں،  پھر آلودہ فضا،  ناقص خوراک اور ڈپیریشن نے بھی بہت اثر ڈالا ہے،  ان سب کے باوجود انسان چاہے تو اپنی صحت کے بارے میں فکر مند ہوکر اور حفظان صحت کا لحاظ رکھ کر ایک صحت مند گھرانے اور معاشرہ کی بنیاد رکھ سکتا ہے، صحت ایک ایسی دولت ہے جو صرف توجہ اور احتیاط چاہتی ہے۔ پائیدار صحت کے لیے صفائی کا اہتمام رکھنا بھی فرض عین ہے۔بیماری میں مبتلا ہونے کے بعد علاج میں سستی برتنامرض کے بڑھنے اور بگڑنے کا سبب بنتا ہے ، جبکہ بروقت علاج  کرنے سے مرض سے جلدی چھٹکارہ پایا جاسکتا ہے۔چھوٹی سے چھوٹی جسمانی تکلیف کو نظر انداز نہیں کرنا چاہیے  ڈاکٹر سے ضرور مشورہ کیجئے؛ کیونکہ ابتداء میں ہر بیماری  چھوٹی ہوتی ہے اور ہماری غفلت  اور بے پرواہی سے  وبال جان بن جاتی ہے۔

ان سب کے علاوہ سب سے اہم اور قابل توجہ یہ بات ہے کہ ہم انسانی جسم کی مناسب اور متواتر دیکھ بھال کریں۔  اگرچہ  سوچنے میں یہ بہت معیوب لگے گا ؛ جیسے ہم چھوٹے بچے ہیں ۔  ہمیں اپنی جسمانی صحت کی دیکھ بھال بچوں کی طرح ہی کرنا چاہیے۔ جیسے:-

دھوپ میں بیٹھیں،  جسم پہ  تیل وغیرہ کی مالش کریں،   ناف میں تیل لگانا، پابندی سے غسل کرنا، پاؤں کو اچھی طرح سے رگڑ کر صاف کرنا اور اگر پاؤں کی ایڑھیوں وغیرہ کی جلد ادھڑی ہوئی ہو یا کٹی ہوئی ہوتو اچھے بیوٹی پارلر سے  پاؤں کی دیکھ بھال کروائیں (پیڈیکیور)۔ بالوں کو صاف رکھیں  اور اسی طرح جسم کے ڈھکے ہوئے حصوں پہ ڈی اوڈرنٹ وغیرہ لگائیں۔  ناخنوں  کو بڑھنے نہ دیں۔ سخت گرمی و سردی میں سر اور گردن کو ڈھانپ کررکھیں۔ پاک صاف رہیں اور روحانی  بالیدگی  اور قرب الہی کے لئے عبادات اور صدقات کا  اہتمام کریں۔ 

ہر موسم میں تازہ پھل اور سبزیاں استعمال کریں۔  پانی کو ذیادہ ٹھنڈا کرکے استعمال نہ کریں۔  بلکہ روم ٹمپریچر والا پانی دن میں 8 گلاس ضرور پئیں۔ ہمارے پاکستانی بہن بھائی ہمیشہ پانی پینے میں کوتاہی برتتے ہیں اور اسی وجہ سے سب سے ذیادہ گردوں کی تکالیف بھی پاکستانیوں کو لاحق ہوتی ہیں۔  پانی پینے سے ہمارے پورے جسم میں سے فالتو مادے خارج ہوجاتے ہیں اور ہمارے جسم کو درکار پانی کی مناسب مقدار بھی مل جاتی ہے۔

ذیادہ شیریں پھل آم  اور کیلے وغیرہ کثرت سے نا کھائیں۔ 40 سال سے اوپر افراد سالانہ طبی معائنہ کرواتے رہیں۔

گھر کو ہوا دار رکھیں اور کچن، باتھ روم  اور بستر وغیرہ کی صفائی کا خیال رکھیں۔ اگر حشرات کی موجودگی پائیں تو کیڑے مار دوا کا چھڑکاؤ کروائیں۔

تازہ  غذا کا استعمال کریں، سلاد وغیرہ کی عادت اپنائیں اور ہفتہ میں ایک بار پھلوں کی چاٹ کا اہتمام کریں۔ اور بڑی عمر کے لوگ اپنے جسم کو درکار وٹامنز، منرل، امینو ایسڈز  اور اومیگا 3 اور اومیگا 9 وغیرہ کے لئے معروف فوڈ سپلیمنٹ استعمال کریں۔ 

معدے کی صفائی کے لئے  ڈیٹاکسیکیشن   کا اہتمام کریں۔ 

 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت