خوشامد
اس کے معنی ہیں جھوٹی تعریف، آؤبھگت، چرب زبانی، چکنی چپڑی باتیں، خاطر تواضع، دلفریب باتیں، ریاکارانہ باتیں، شیریں زبانی، کاسۂ لیسی، للو پتو، چاپلوسی، ستائش، مدارات، تملق، چڑھاوا وغیرہ۔
انسان کی فطرت ہے کہ اسے اپنی مداح سرائی بہت پسند ہے۔ اپنی تعریف سن کر بچے تو کیا بڑے بھی خوشی میں نہال ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ اپنی تعریف سن کر انسان میں حوصلہ بڑھتا ہے اور اپنا قد بڑا لگتا ہے۔ اور جسم و جاں کے علاوہ روح میں بھی تراوٹ محسوس ہونے لگتی ہے۔
تحسین و توصیف اگر حقائق اور سچائی پر مبنی ہوتو یہ بہت اچھا عمل ہے۔ کیونکہ باصلاحیت انسان، اپنے اعمال، اپنے اقوال اور اپنے کردار کی وجہ سے وہ مقام پالیتا ہے کہ لوگ برملا اس کی تعریف کرنے لگتے ہیں۔ اور کسی اہل انسان کی تعریف کرنا، انسانیت کا تقاضا ہے اور دوستی اور راہ و رسم میں مضبوطی کے لئے بھی بہت اہم ہے۔
لیکن کسی کی بے جا تعریف کرنا اور بے موقع تعریف کرنا، خوشامد کے زمرے میں آتا ہے۔ خوشامد کرنے والا شخص اپنے مذموم مقاصد اور ذاتی فوائد کے لئے تعریفوں کے ایسے پل باندھتا ہے کہ انسان جی ہی جی میں خوش ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔ ایسے موقع پہ جو زیرک اور تجربہ کار لوگ ہیں وہ خوشامدی کے مقاصد فوراً بھانپ لیتے ہیں اور چوکنّے ہوجاتے ہیں۔ جبکہ بے وقوف، دو نمبری اور ستائش کے بھوکے لوگ ایسے خوشامدیوں کو اپنے مصاحب میں شامل کرلیتے ہیں تاکہ وہ گاہے بگاہے انکے لئے مارکیٹنگ کرسکیں۔
دنیا دار، دکھاوا پرست اور اپنی امارت کی شہرت کاچرچا کرنے والے لوگ اکثر خوشامد پسند ہوتے ہیں۔ جس طرح ایک شوخ اور چنچل لڑکا بار بار آئینہ دیکھتا ہے اور کبھی شرٹ کے کالر کو ٹھیک کرتا ہے، کبھی پینٹ کو اوپر نیچے کرکے یہ دیکھنے کی کوشش کررہا ہوتا ہے کہ کہاں پینٹ زیادہ موزوں لگتی ہے۔کبھی بالوں میں انگلیاں پھیر کے زلفیں ٹھیک کرتا ہے تاکہ دنیا والوں کو سب سے حسین لگوں۔
اسی طرح ایک دنیا دار انسان اپنی شخصیت کو نمایاں کرنے کے لئے، اخبارات میں رہنے کے لئے اور سیاسی و سماجی تعلقات کے فروغ اور استحکام کے لئے اکثر و بیشتر محافل اور تقاریب کا اہتمام کرتے رہتے ہیں۔ اور تقاریب کے دوران سبھی سے فرداً فرداً ملتے ہیں اور سب کی خیریت دریافت کرتے پھرتے ہیں۔
ایسے مواقع پہ صاحبِ خانہ اپنے خوشامدیوں کو ضرور مدعو کرتے ہیں تاکہ وہ ان کی شخصیت اور حیثیت کو پروان چڑھانے کا کوئی ایک موقع ضائع نہ کریں۔ اس طرح خوشامدیوں کو اپنی فن کاری دکھانے اور تختۂ مشق کے لئے ایک آسان پلیٹ فارم مل جاتا ہے۔ جہاں سے وہ اپنے جوہرِ نایاب کو چمکا سکیں اور اپنا الّو سیدھا کرسکیں۔
اگر کوئی شخص نااہل اور قابل نہیں ہے تو اسے خوشامدیوں کے سہارے کی ضرورت ہوتی ہے کیونکہ اس شخص کی ذاتی اہلیت اس نہج پہ نہیں ہوتی کہ وہ کوئی عمدہ خیال پیش کرسکے یا کوئی غیر معمولی کام سرانجام دے سکے۔ تاہم اہل ِ دانش اور زیرک اشخاص کے گرد خوشامدیوں کو کوئی جگہ نہیں ملتی کیونکہ صاحبِ عقل اور صاحب ِبصیرت انسان اچھی طرح جانتا ہے کہ خوشامدی لوگ انسان کو بھٹکانے اور اس کی عقلی صلاحیتوں کو مفلوج کردیتے ہیں۔
خوشامدی کی پہچان:
خوشامدی کسی اخلاقی اصول و ضوابط کا پابند نہیں ہوتا بلکہ اسے اپنا مفاد مقدم ہوتا ہے۔ جب تک کوئی اقتدار میں ہوتا ہے یہ خوشامدی اسی کے گن گاتا ہے اور جب اسے یقین ہوجائے کہ اب اقتدار لڑکھڑانے لگا ہے اور عتاب کا شکار ہے تو وہ فوراً پیچھے ہٹ جاتا ہے اور اپنی وفاداری کا رخ موڑ لیتا ہے یا پسِ پردہ چلا جاتا ہے۔ ایسی روش کو وفاداری بشرطِ استواری کہتے ہیں۔
خوشامدی کبھی اہل ایمان والوں میں سے نہیں ہوسکتا۔ اس کا ایمان اور اس کی عبادات بھی اخلاص اور عبودیت کے جذبے سے عاری ہوتی ہیں بلکہ وہ معاشرے میں اپنا نام اہل ِ ایمان میں شامل کرنے کے لئے رسمی طور پر دینی امور کی انجام دہی سے غافل نہیں ہوتا۔ رمضان مبارک یا عید مبارک جیسے مواقع اس کے ذہن میں کندہ ہوتے ہیں جسے وہ بھر پور طریقے سے استعمال کرتاہے۔
خوشامدی کے تعلقات صرف اور صرف انھی لوگوں سے ہوتے ہیں جو صاحبِ اختیار ہوں یا ان کے ارد گرد رہتے ہوں۔ اور جب صاحبِ اختیار اپنی کرسی سے بے اختیار ہوجائیں تو خوشامدی نئے نئے تعلقات کے تلاش میں سرگرداں ہوجاتا ہے۔
خوشامد کے نقصانات:
خوشامدیوں کی واہ واہ جی کو اچھی تو لگتی ہے مگر یہ انسان کو اپنی عقل اور فہم کو پوری طرح استعمال کرنے کی صلاحیت کو برباد کردیتی ہے۔
خوشامدیوں میں گھرا ہوا انسان ایسا بے بس ہوجاتا؛ جیسے دلدل میں انسان دھنستا چلا جاتا ہے اور کوئی اسے اس مصیبت سے نکالنے کے لئے اپنا ہاتھ نہیں بڑھاتا۔ کیونکہ خوشامدیے ہمیشہ اپنے فائدے کے لئے متحرک ہوتے ہیں اور جہاں انھیں خطرے کی بھنک لگ جائے فوری طور پر رفوچکر ہوجاتے ہیں۔
جب صاحبِ اختیار اور صاحبِ اقتدار خوشامد کی دیمک کا شکار ہوجائے تو پھر اس کی مسند کمزور ہوجاتی ہے، اس کے فیصلے کرنے کی صلاحیت ناقص ہوجاتی ہے اور اس کی اپنی رائے دوسروں کے قبضے میں چلی جاتی ہے۔
خوشامد پسند کے لئے عذاب کی تنبیہ:
خوشامد پسند لوگوں کے بارے میں قرآن مجید میں واضح طور پر دردناک عذاب کی تنبیہ کردی ہے ۔ ملاحظہ ہو سورۃ آل عمران، آیت نمبر 188:-
لَا تَحْسَبَنَّ الَّـذِيْنَ يَفْرَحُوْنَ بِمَآ اَتَوْا وَّيُحِبُّوْنَ اَنْ يُّحْـمَدُوْا
بِمَا لَمْ يَفْعَلُوْا فَلَا تَحْسَبَنَّـهُـمْ بِمَفَازَةٍ مِّنَ الْعَذَابِ ۖ
وَلَـهُـمْ عَذَابٌ اَلِـيْـمٌ
جو لوگ اپنے کیے پر خوش ہیں اور ان کاموں پر اپنی تعریفیں سننا چاہتے ہیں جو انہوں نے نہیں کیے، لہٰذا آپ انہیں عذاب سے محفوظ نہ سمجھیں، بلکہ ان کے لیے دردناک عذاب ہو گا۔
خوشامد کے مُلمّع میں چھپی ہیں مطلب اور غرض کی بے شمار خواہشیں۔

تبصرے