خود داری
خود داری کے معنی ہیں اپنی غیرت اور خودی کے بھرم کو قائم رکھنا۔ خود توقیری، ثابت قدمی اور مستقل مزاجی۔
خود داری بہترین انسانی صفات میں سے ایک صفت ہے جو انسان کو بلند و بالا کردیتی ہے۔خود داری انسان کی اندرونی نفسیات کا نام ہے۔ یہ انسان کا اپنے بارے میں تجزیہ ہوتا ہے کہ وہ اپنے آپ کو کیا سمجھتا ہے۔ خود داری انسان کی اپنی ذات کا حصہ ہے اس لئے انسان کو ہر وقت اس کی حفاظت کرنا پڑتی ہے اور اس کے ذریعے انسان اپنے وجود کی اہمیت کو پہچانتا ہے اور مادی فوائد سے بالاتر ہوکر زندگی بسر کرتا ہے۔
خود دار ی انسان کو اپنی ذات پر یقین رکھنا سکھاتی ہے اور اللہ تعالی کی ذات کے علاوہ ہر انسان سے بے خوف کردیتی ہے۔ خود دار انسان مستقل مزاج ہوتے ہیں اور ہمیشہ اس بات کا تجزیہ کرتے رہتے ہیں کہ کس طرح دوسروں کی زندگی بہتر کی جائے۔
خود داری انسان کے اندر مثبت سوچ پیدا کرتی ہے، خود اعتمادی پیدا کرتی ہے، تخلیقی صلاحیتوں کو اجاگر کرتی ہے، احساس ذمہ داری پیدا کرتی ہے اور اپنے پروفیشن میں پرفیکشن پیدا کرتی ہے۔ خود داری انسان کو خوش لباس بناتی ہے، خوش اخلاق بناتی ہے ، خود داری انسان کو یہ سکھاتی ہے کہ کن لوگوں میں اٹھنا بیٹھنا ہے، کن لوگوں سے اجتناب کرنا ہے اور مستقل کے بارے میں محتاط بناتی ہے۔
خود داری انسان کو اپنی ذمہ داریاں نہایت ایمان داری اور ذمہ داری سے نبھانا سکھاتی ہے۔ ایک خود دار ملازم کو سپرویژن (نگاہ رکھنے) کی ضرورت نہیں ہوتی۔ کیونکہ خود داری اسی وقت انسان میں اجاگر ہوتی ہے جب انسان خود سے یہ عہد کرلے کہ میں نے ہمیشہ راہ راست اختیار کرنا ہے اور کسی کا حق نہیں مارنا ، کسی سے درشت لہجے میں بات نہیں کرنی اور کسی کی غلط بات برداشت نہیں کرنی، بلکہ اپنی صلاحیتوں اور کوششوں سے دوسروں کو فائدہ پہنچانا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود دار انسان مالی یا مادی نقصان کو کبھی خاطر میں نہیں لاتے اور آگے بڑھتے رہنے کو اپنا مشن سمجھتے ہیں۔
دنیا میں متعدد غریب لوگ ہیں جنہوں نے کبھی اپنی اقدار اور روایات پر سمجھوتا نہیں کیا، آج دنیا میں انہیں منفرد مقام حاصل ہے۔ خودداری ہی وہ جذبہ پیہم ہے، جس سے شخصیت بنتی اور پنپتی ہے۔ کوئی شخص خودداری پر سمجھوتا کرتا ہے تو ذاتی وقار سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ خود دار لوگ ایسی دوستی جو ان کے اخلاق کر متاثر کرے اور وہ کام جس سے عزت پہ حرف آتا ہو، بہت جلد خیر باد کردیتے ہیں۔ اور کوئی جھوٹا یا اپنے بیان سے مکرنے والا شخص ، خود دار انسان کا نا تو دوست ہوسکتا ہے اور نا ہی کسی کاروبار میں حصہ دار ہوسکتا ہے۔
خود دار شخص سچائی، حق، ایمان داری، اخوت، احساس کرنے والا، مدد کرنے اور دوسروں کی امانت کی حفاظت کرنے والا ہوتا ہے۔ اسے کسی سے ذاتی غرض نہیں ہوتی بلکہ وہ دوسروں کو کچھ دیکر خوشی محسوس کرتاہے۔ ایک خود دار انسان کو خریدنا ناممکن ہے۔
انا اور خوداری میں یہ فرق ہے کہ انا اپنی ذات کے لیے ہوتی ہے اور خوداری دوسروں کی بھلائی کے لیے ہوتی ہے۔ خودداری قوموں میں اصلاح کا عمل پیدا کرتی ہے، انا انسان میں بگاڑ لاتی ہے۔ انا ضد لاتی ہے، خودداری اُصول پرڈٹے رہنا سکھاتی ہے۔ شخصیت وہ خودی ہے جو زندگی کو منظم بناتی ہے۔
- خود داری انسان کو محنت کرنا سکھاتی ہے۔
- خود داری انسان کے عزم کو متزلزل نہیں ہونے دیتی۔
- خو د داری انسان کو مشکلات کا سامنا کرنے کا حوصلہ پیدا کرتی ہے۔
- خود داری انسان کو پستیوں سے بلندیوں کے سفر پر گامزن کرتی ہے۔
خود داری انسان کو ناصرف اپنے رب سے جوڑتی ہے بلکہ اپنے لوگوں کی حالت زار کو بہتر بنانے والا مسیحا بنا کر پیش کرتی ہے۔
خود داری انسان کو ترقی کی منازل کامیابی سے طے کرنے کا حوصلہ اور ہمت عطا کرتی ہے۔
ایک خود دار انسان اپنی زندگی میں اصول و ضوابط کی پابندی کرنے میں کوئی تامل نہیں کرتا؛ کیونکہ قانون اور ملک کے مقابلے میں انفرادی پسند و ناپسند کوئی حیثیت نہیں رکھتے۔
ایک خود دار انسان کی خدمات اور کارہائے نمایاں آنے والی نسلوں کے لئے مشعل راہ کا کام دیتی ہیں۔
خود داری ایک عام انسان کو خاص انسان بنا دیتی ہے۔ جس کے کردار اور گفتار کا چرچا ہر گھر کی زینت بن جاتی ہے۔
ایک خود دار انسان ناصرف اپنی فیملی میں نمایاں حیثیت اختیار کرتا ہے بلکہ محلے، شہر اور ملک میں لوگ اسے تعظیم کی نظر سے دیکھتے ہیں اور اس کی خیریت کے لئے دعاگو رہتے ہیں۔
ایک خود دار انسان، اپنے ساتھیوں میں تو محترم ہوتا ہے بلکہ اس کے افسران اور احکام بالا ایسے بہادر، نڈر، محنتی، سچے اور قابل انسان کو قدر کی نگاہ سے دیکھتے ہیں۔
دنیا میں دو قسم کے لوگ ہیں، ایک وہ جو دوسروں کی مدد لیتے ہیں اور دوسرے وہ جو دوسروں کی مدد کرتے ہیں۔ خود دار لوگ اپنا بوجھ ہمیشہ اپنے کندھوں پر اٹھانا پسند کرتے ہیں؛ اور کسی شخص سے مالی، جذباتی یا تعلیمی مدد نہیں لیتے۔ کیونکہ ان کی خود انحصاری کا جذبہ انہیں توانائی دیتا ہے، ان کے حوصلے بلند رکھتا ہے اور ساتھ ساتھ ان کے یقین میں بھی اضافہ کرتا ہے۔
خوداری دنیا کی بہت بڑی طاقت ہوتی ہے۔ یہ وہ قوت ہے جو آپ کو ہارنے نہیں دیتی۔ جو آپ کو کبھی مایوس نہیں ہونے دیتی اور جو آپ کو شکست کے ساتھ مفاہمت نہیں کرنے دیتی۔ یہ وہ طاقت ہے، یہ وہ قوت ہے جو آپ کی امید کو کبھی بجھنے نہیں دیتی۔
خود دار شخص اپنے آپ کو کبھی بھی ناکام نہیں سمجھتے۔ خودداری اور توکل وہ صفت ہے جو اللہ تعالیٰ اپنے اولیاءاور اپنے نبیوں کو دیتا ہے۔
خود دار انسان اسی وقت بنتا ہے جب اس کا ایمان اللہ تعالی پہ اعلی درجہ کا ہو۔ اور وہ ہر حال میں اللہ کا شکر گزار بندہ ہو۔ خود داری اصل میں اللہ پہ ایمان اور خود انحصاری ہے۔ ایک معذور شخص بھی خود دار ہوسکتا ہے اور ایک صحت مند اور امیر انسان لالچی اور خود غرض ہوسکتا ہے۔
دنیا کے تمام کامیاب لوگوں کی فہرست نکال کر دیکھیں تو ان لوگوں میں خود داری نظر آئے گی۔ اللہ تعالیٰ ہاتھ پھیلانے، مانگنے اور دوسروں سے مدد طلب کرنے والوں کی روزی سے برکت اٹھا لیتا ہے اور یہی وجہ ہے دنیا میں آج تک کوئی بھکاری خوش حال نہیں ہوا۔ اسی طرح وہ لوگ جو اپنے پیشے اور کاروبار میں بے ایمانی کے مرتکب ہوتے ہیں اور اپنے مالکوں سے خیانت کرتے ہیں انھیں بے یقینی اور ناکامیابی کا ڈر کھاجاتا ہے۔

تبصرے