مروت


مروت کے معنی ہیں اخلاقی رعایت، لحاظ کرنا،  حسن سلوک سے پیش آنا،  رحم دل، پاس خاطر ، مہمان نوازی، احسان، برداشت، آدمیت، محبت،  ترس، کرم  ، خو ش خلقی، تلطف،  کشادہ دلی، اور  دریا دلی وغیرہ۔ 

مروت اخلاقی اقدار کا حسن ہے۔ با مروت شخص یا خاندان انسانیت، انصاف، رحم، جوانمردی، حمیت، غیرت، خلوص، رواداری، شائستگی اور اپنی تہذیب کا پیکر ہوتے ہے۔ اُن کا انداز نشست و برخاست، اُن کی خوش لباسی، اُن کی گفتگو کے آداب، اُن کے لہجے کی مٹھاس، اُن کا طرزِ تکلم  اور اُن کا رہن سہن اُن کے عالی نصب ہونے کی گواہی دیتے ہیں۔ 

کسی بھی معاشرے کی اعلی ظرفی کا معیار دیکھنا ہوتو اُن کے حسنِ سلوک میں اِس امر پر توجہ دیں کہ وہ سامنے والے کی بات کس انہماک سے سنتے ہیں، اُس کی غلطیوں اور ناروا رویے میں کس قدر رعایت دیتے ہیں اور اُس  کی کاوشوں کو کس طرح ملاحظہ کرتے ہیں اور اُس کی طرف داری میں بخل سے کام تو نہیں لیتے۔

انسان غلطیوں کا پتلہ ہے اور عمر کے ہر حصے میں کہیں نہ کہیں کوئی چوک سرزد ہونے کا احتمال ضرور رہتا ہے۔ اور جب ہم کسی سے بات کررہے ہوں یا کسی سے کوئی معاملہ کررہے ہوں تو جہاں اصول و ضوابط کو ملحوظِ خاطر رکھا جانا اہم  ہے وہیں مروت سے کام لینا بھی ہمارے کردار اور اخلاق کی پاسداری کے لئے از بس ضروری ہے۔

اللہ تعالی اگر ہمیں اِس قابل بنادے کہ ہم صاحبِ حیثیت ہوں یا کسی آفس میں صاحبِ اختیار ہوں اور اپنے ماتحت افراد یا ملازمین کی باتوں اور اُن گزارشات کو صرف قانون کے مطابق حل کرنے پر ہی اکتفا کریں اور مدعی کی کمزوریوں یا مجبوریوں کو خاطر میں نہ لائیں تو اسے بے مروتی کہتے ہیں۔

حقیقت میں مروت سے کام لینا انسانی مردانگی کی عکاسی کرتا ہے۔ مروت کرنے والا شخص اصل میں اپنی سخاوت کا مظاہرہ کررہا ہوتا ہے، اپنی شرافت کا اظہار کررہا ہوتا ہے اور اپنے عزت دار ہونے کا ثبوت دے رہا ہوتا ہے۔ 

مروت کا فقدان انسان کے اندر بدمزاجی پیدا کرتا ہے،  انسان کو بخیل بناتا ہے اور سوقیانہ پن پیدا کرتا ہے۔

ہمہ عیب خلق دیدن نہ مروت است نہ مردی
نگہی   بہ   خویش   کن   کہ   تو   ہم   گناہ   داری

تمام عیوب دنیا والوں میں تلاش کرنا نہ مروت ہے نہ مردانگی
ایک نگاہ اپنے آپ پر ڈال کر دیکھ کہ تو بھی گناہ رکھتا ہے



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت