توشۂ آخرت
توشہ فارسی زبان کا لفظ ہے۔ اس کے معنی ہیں زاد راہ۔ یعنی وہ چیز، وہ کھانا جو سفر کرنے والے اپنے ساتھ لیکر جاتے ہیں۔
توشۂ آخرت اس دنیا میں خیر و بھلائی کے لئے خرچ کیا ہوا مال ہےجس کا اجر اللہ تعالی سے روز حشر میں جنت کا پروانہ وصول کرنا مقصود ہو۔ اور وہ نیک اعمال ہیں جس میں لوگوں کی آبرو کی حفاظت، لوگوں کے لئے امن و آتشی قائم کرنا، لوگوں کے لئے اسپتال، اسکول یا کوئی فلاحی ادارہ جیسے ادارہ بحالی معذوراں لاہور، ذہنی امراض کا مرکز فاؤنٹین ہاؤس، لاہور، ایدھی سینٹر کراچی، شوکت خانم کینسر اسپتال لاہور اور بحریہ ٹاؤن کادستر خوان اور دیگر فلاحی ادارے وغیرہ قائم کرنا تاکہ آپ کی آخرت سنور سکے۔
سونا ، چاندی، ہیرے جواہرات ، مال وزر اور کمال شہرت ، اس دنیا کی زندگی کو بہتر اور آرام دہ بنانے کے لئے جمع کی جاتی ہیں۔ لیکن توشۂ آخرت ہم اس دنیا میں رہتے ہوئے حاصل کرتے ہیں تاکہ ان نیک اعمال کی بدولت آخرت میں ہم کامیاب کو کامران ٹھہریں۔
یاد رکھیئے ہمارا ہر دن موت کی طرف گامزن ہے۔ اور موت کا مطلب ہے اختتام زندگی اور روانگی الی الآخرۃ۔ انسان جب دنیا سے آخرت کی طرف سفر کرتا ہے تو اس کے لئے اس سفر کے لے توشہ ہونا چاہیے جو وہاں اس کے کام آئے ۔وہ توشۂ آخرت ہے یعنی "اعمال صالحہ"۔
اللہ تبارک و تعالیٰ کی خوشنودی حاصل کرنے کے لئے جہاں گناہوں سے اجتناب کرنا بہت ضروری ہے وہاں اپنے نامۂ اعمال میں نیکیوں کا اضافہ کرنا بھی بہت ضروری ہے کیونکہ جب قیامت کے دن اللہ تعالیٰ کے سامنے پیشی ہوگی تو وہاں اس دنیا کا مال و دولت کچھ کام نہ آئے گا بلکہ وہاں کا سکہ تو یہی نیکیاں ہوں گی۔ جب حساب کتاب ہوگا، اعمال کا وزن ہوگا تب ایک ایک نیکی کی قدر و قیمت معلوم ہوگی۔ اگر انسان کے پاس نیک اعمال ہیں تو یہ اس کے لئے کام آئیں گے ورنہ ناکام رہے گا۔
نیکی کا کوئی عمل بھی چھوٹا نہیں ہوتا۔ اگر آپ ڈاکٹر ہیں تو کسی غریب انسان جس کے پاس پیسے نہ ہوں اسے رقم کے لئے مجبور نہ کریں اور نیت کرلیں کہ یا الہی میرے اس عمل کو آخرت کے لئے بچا رکھنا۔ اگر آپ وکالت کے شعبے سے جڑے ہوئے ہیں تو کوشش کیجئے کہ مظلوم فریادیوں کے کیس اللہ تعالی کا سپاہی ہونے کی حیثیت سے لڑیں، اس طرح آپ کی تمام جدوجہد آپ کے لئے اعمال صالحہ بن جائے گی اور آپ اس دنیا کے ساتھ ساتھ آخرت میں بھی سرخرو ہوں گے۔ اور اگر آپ صاحب مکان ہیں اور کوئی کرایہ دار آپ سے کم ادائیگی کے لئے کہے تو اسے اللہ کے لئے کم کردیں اور اللہ تعالی کو گواہ بنالیں کہ یا الہی میں یہ رعایت تیری خوشنودی کے لئے دے رہا ہوں تو مجھے آخرت میں اس کا اجر ضرور دینا۔
آخرت کے لئے مؤمن کا توشہ تقوی اور پرہیزگاری ہے۔ اور یہ بھی ذہن نشین کرلیجئے کہ جنت میں جانے کے لئے 100 فیصد نمبر نہیں چاہیں بلکہ 51 فیصد والا جنت کا حقدار ہوگا۔ کیونکہ ہمارے اعمال کا میزانیہ ہمارے لئے جنت اور جہنم کا فیصلہ کرے گا۔ ایک طرف برائی اور دوسری طرف بھلائی۔ اگر بھلائی 51 فیصد ہے تو آپ کامیاب ہوں گے ۔

تبصرے