انسانی رشتے
پر لطف اور خوبصورت زندگی کا انتہائی اہم راز خوبصورت رشتوں میں پوشیدہ ہے۔ رشتے اعتماد، خلوص اور محبت کے خمیر سے بنتے ہیں۔ انسانی رشتے احساس کی ڈوری سےجڑے ہوتے ہیں۔ اگر احساس یک طرفہ ہے تو یقینا یہ رشتہ عقیدت، احترام، لگاؤ، اعتبار یا معاشی ضرورت کے باعث جڑا ہوا ہے۔ یک طرفہ رشتے انسانی خواہشوں کے غلام ہوتے ہیں اور جب دل چاہا اسے منقطع کردیا۔ جب ضرورت محسوس کی تخلیہ کرلیا۔
دوطرفہ رشتوں کا تعلق جہاں احساس سے ہوتا ہے وہیں یہ رشتے ہماری سانسوں سے بھی جڑے ہوتے ہیں۔ ان رشتوں میں دراڑ بہت تکلیف دہ اور جان لیوا ہوتا ہے۔ عموماً دو طرفہ رشتوں میں کوئی بھی ایک فرد دوسرے فرد کے لئے کبھی بھی منفی انداز میں نہیں سوچ سکتا اور نہ کبھی ایسی حرکت کرے گا جس سے دل آزاری ہو ۔
رشتہ کوئی بھی ہو وہ اپنے حوالے سے توجہ اور قربانی مانگتا ہے۔ پیار و محبت کا طالب ہوتا ہے۔ رشتوں کو محبت کی ڈور سے باندھ لیں تو کیا ہی اچھا ہو۔ محبت جو کائنات کی سب سے مضبوط ڈور ہے، اس کو تھامے رکھیں تو کبھی خالی پن یا تنہائی کا احساس نہیں ہوگا۔ آپ کی ذات سے منسلک ہر قیمتی رشتہ آپ کاگرویدہ ہوجائے گا۔
انسان کی زندگی میں ہر رشتہ خاص اہمیت کا حامل ہوتا ہے۔ انسان کے اندر بہت سے جذبات ہوتے ہیں جس کی تسکین ہمارے ارد گرد رہنے والے رشتے پوری کرتے ہیں۔ ان تمام رشتوں کے ذریعے ہمارے ارمان پورے ہوتے ہیں ، ان میں سے کچھ رشتوں کی وجہ سے ہماری امنگیں پروان چڑھتی ہیں اور پوری ہوتی ہیں۔ انھی رشتوں سے ہمیں انسیت ملتی ہے۔ کئی رشتے ایسے ہوتے ہیں جہاں سے ہماری چاہت کو قرار حاصل ہوتا ہے اور کچھ رشتے ایسے ہوتے ہیں جنھیں ہم چاہتے ہیں۔ ہمیں رشتوں میں قربت، الفت، محبت اور وہ تمام ملتا ہے جو ایک انسان کی بنیادی تمنا ہوتی ہے۔ انھی رشتوں کی وجہ سے ہماری زندگی خوش، ہماری صحت اچھی اور ہمارا موڈ عمدہ ہوجاتاہے۔
رشتے اللہ تعالی کا خاص انعام ہیں۔ ان کی قدر کرنا چاہیے اور انہیں کمزور نہ ہونے دیں۔ کیونکہ جہاں ہمارے رشتے کمزور ہوئے ہم خود کمزور ہوجاتے ہیں۔ رشتوں کی وجہ سے خوشی اور غم کا احساس زندہ رہتا ہے رشتے عزت و احترام اور باہمی تعلقات کو مضبوط کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ رشتے دائمی ہوتے ہیں اور ہماری سماجی زندگی کا حصہ ہوتے ہیں۔
رویوں کی مٹھاس اور چاشنی ختم یا کم ہوجانے سے رشتوں میں کڑواہٹ آجاتی ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں کو انا کامسئلہ بنالینے سے مضبوط سے مضبوط رشتے میں بھی درا ڑ پڑ جاتی ہے۔ جو لوگ مخلص ہوتے ہیں ان کو بتانے کی ضرورت نہیں کہ وہ آپ کے ساتھ مخلص ہیں ۔ ان کی مخلصی کا اندازہ انکے عمل سے ہو جاتا ہے ۔ انسانی رشتے جتنے مضبوط ہوتے ہیں اتنے ہی حساس بھی ہوتے ہیں۔
ایک وقت تھا جب رشتے دار ہونا باعث افتخار تھا۔ کیونکہ آپسی میل ملاپ اور بے لوث محبت کی خوشبو رشتوں میں جھلکتی تھی اور لوگ خوشی اور فخر سے اپنے رشتے داروں کا تعارف کرواتے تھے۔ کسی کو کانٹا بھی چبھ جاتا تو اس کی تکلیف دیگر رشتہ دار دور بیٹھے بھی محسوس کرتے تھے اور دل سے دعائیں دیتے تھے۔ اپنے کسی رشتہ دار کی کمزوری اور برائی کو چھپانا اپنا فرض سمجھا جاتا تھا کیونکہ عزت سانجھی تھی۔
یہی رشتہ داری خونی رشتوں سے ہٹ کر اپنے گاؤں اور شہر والوں سے بھی تھی ۔ ہر ایک کی یہی کوشش تھی کہ اللہ تعالی نے جو عزت اور کامیابی ہمیں دی ہے ہم اپنے رشتہ داروں اور اپنے گاؤں والوں کو بھی حصہ دار بنائیں۔
دراصل رشتہ وہی ہوتا ہے جس میں چاہت ہو، خلوص ہو، جذبہ احترام ہو، جذبہ خدمت ہو، جذبہ ایثار ہو۔ اور سب سے بڑھ کر کوئی مادی مفاد نہ ہو، نہ کوئی مالی منفعت کا خیال ہو اور نہ ہی کوئی ہوس پرستی کارفرما ہو۔
آج کے دور میں ایک خاندان کے لوگ ایک دوسرے سے بیزار ہیں اور ایک ہی گھر کے لوگ ایک دوسرے سے بے پرواہ ہیں۔ اب صرف اور صرف مفادات کی رشتہ داری رہ گئی ہے۔ لوگ ایک دوسرے سے اپنی اغراض و مقاصد کی خاطر تعلقات قائم کرتے ہیں۔ خود غرضی، بے حسی، ذہنی تخریب کاری، حسد ، اخلاقی گراوٹ اور مفاد پرستی کی وجہ سے رشتہ داری کا حسین و جمیل اور دلکش و خوشنما رشتہ شکست کا سامنا کررہا ہے۔
رشتوں میں چاہت کی آمیزش نہ ہوتو حقیقی رشتہ داری بھی قائم نہیں رہتی اور اگر یہی چاہت غیروں سے ہو تو ان سے تعلق رشتہ داری قائم ہوجاتا ہے۔ اسی چاہت کی وجہ سے ماں باپ سے رشتہ سب رشتوں پر فوقیت رکھتا ہے کیونکہ والدین کی طرف سے چاہت کبھی نہ کم ہوتی ہے اور ختم ہونے کا تو سوال ہی نہیں پیدا ہوتا۔ جبکہ بہن بھائیوں کی چاہت وقت کے ساتھ ساتھ دوسرے لوگوں میں بٹ جاتی ہے اور آپ کے لئے ان کے دل میں چاہت کم ہوجاتی ہے۔ کیونکہ ان کی اپنی عائلی ذمہ داریاں انھیں اس قدر مجبور کردیتی ہیں کہ انھیں آپ سے چاہت شیئر کرنا محال ہوجاتا ہے۔
اسی طرح عائلی زندگی میں کچھ بیویاں اپنے خاوند سے چاہت کے جذبے کو اپنے بچوں کی طرف منتقل کردیتی ہیں۔ ایسی صورت میں پورا کا پوار گھر بے سکونی میں مبتلا ہوجاتا ہے اور گھر، گھر نہیں رہتا بلکہ مکان بن کے رہ جاتا ہے۔ بچے بھی آپس میں گھل مل کر نہیں رہتے اور نا ہی بچوں کا والدین سے قرب قائم رہتا ہے۔ اور آنے والے وقتوں میں یہی بچے اپنی ماں اور باپ سے محبت اور انسیت کا رشتہ قائم نہیں رکھ پاتے۔ بلکہ نئی نئی منزلوں کی تلاش میں ایسے کھو جاتے ہیں کہ پھر پلٹ کر نہیں دیکھتے۔
دنیا میں انمول رشتہ ماں اور باپ سے رشتہ ہے جو کبھی بھی نا کم ہوتا ہے اور نا ہی متزلزل ہوتا ہے۔ اور ان دونوں رشتوں کا کوئی نعم البدل بھی نہیں ۔ زندگی کا حسن اور خوشی کے لئے والدین کا رشتہ ایسا امرت ہےجو انسان کو ہر پریشانی اور ہیجانی سے محفوظ رکھتا ہے۔ لیکن دکھ یہ ہے کہ ماں باپ ہمیشہ انسان کے ساتھ نہیں رہتے۔
اس لئے کیوں نہ ایسا رشتہ استوار کیا جائے جو ہمیشہ ہمیشہ انسان کے ساتھ رہے اور شفقت میں وہ ماں کی محبت سے ستر گنا ذیادہ ہو اور انسان کے مرنے کے بعد بھی انسان کے ساتھ قائم رہے۔ یہ رشتہ روح کا رشتہ ہے جو اللہ تعالی سے استوار کیا جاسکتا ہے۔ تاکہ انسان اپنا وجود قائم رکھ سکے۔ اور یکسوئی سے اپنا رشتہ رب کائنات کے ساتھ استوار کرکے عبادت اور روحانیت میں مستغرق ہوجائے۔ اور ہر مشکل میں اپنے رب سے راز و نیاز کرے ، مشکل کا حل طلب کرے اور آخرت میں بھی سرخروئی حاصل کرے۔ رب سے قائم کئے گئے رشتے میں کبھی محرومی نہیں ہوتی بلکہ ہر اس گھڑی میں جب سب لوگ ہمیں چھوڑ دیں تو صرف اللہ تعالی کی ذات گرامی ہمارے ساتھ کھڑی ہوتی ہے۔

تبصرے