دعاء
اس کے معنی ہیں وہ قول جس سے اللہ تعالی کو پکارا جائے، طلب کرنا، مدد طلب کرنا، عاجزی، انکساری، بے چارگی۔ برکت کے الفاظ، چھوٹے کا بڑے سے مانگنا، خدا سے مانگنا، مغفرت کی طلب، کسی کی بہتری کا فقرہ، استدعاء، التجا، حاجت، خواہش، درخواست، رحمت، سلام،عرض، گزارش، مراد، مناجات۔
دعاء : ایک عمل ہے جس میں انسان اپنے رب سے اپنی حاجت مانگتا ہے۔
مدعو : دعاء میں جس کو پکارا جائے، اسے مدعو کہتے ہیں۔ یعنی اللہ تعالی کی ذات اقدس۔
داعی : دعاء مانگنے والے کو داعی یعنی بندہ کہتے ہیں۔
دعاء عربی زبان کا لفظ ہے جس کے لغوی معنی ہیں التجا اور پکار۔ لیکن مذہبی اعتبار سے دعاء سے مراد ہے اللہ تعالی سے کوئی فریاد کرنا یا کچھ طلب کرنا۔
قرآن پاک کی مخصوص آیات کے ورد کو بھی دعاء میں شمار کیا جاتاہے۔ ایک انسان کے لئے دوسرے انسان کی طرف سے اللہ تعالی سے نیک تمنا کرنا اور بھلائی کی خواہش کے اظہار کو بھی دعاء کہا جاتا ہے۔
اللہ تعالی سے دعاء مانگنا عبادت میں شامل ہے۔ اللہ تعالی نے خود بھی بعض دعائیں بتائیں ہیں تاکہ بندگان خدا، اسی طریقے یا ان الفاظ میں دعاء کریں۔ اسی طرح قرآن مجید میں ان دعاؤں کا ذکر موجود ہے جو بعض پیغمبروں نے دعائیں کی۔
دعاء عبادت کا مغز ہے۔ دعاء مومن کا ہتھیار ہے ، دعاء مومن کا بہت اہم خزانہ ہے، دعاء بھی ایک عبادت ہے، جس کو ادا کرنے کے لیے کو ن و مکان کی کوئی قید نہیں۔ یہ ہر جگہ اور ہر وقت کی جاسکتی ہے۔ دعاء صرف اللہ سے کی جائے اور کوئی بھی شخص دعاء مانگ سکتا ہے۔ آزمائش اور مشکل سے ازالے کے لئے دعاء کا اہتمام کرنا چاہیے۔ وہ چیزیں جو مرنے کے بعد میت سے منقطع نہیں ہوتیں، ان میں سے ایک دعاء بھی ہے۔
اللہ تعالی سے دعاء کرنا ، اپنے آپ کو ایک عظیم نعمت کا حق دار بنانا ہے۔ اور دعا ء کی قبولیت کی صورت میں انسان اللہ تعالی کی طرف سے انمول تحفہ وصول کرتا ہے۔ ایسا بیش قیمت تحفہ دنیا کا کوئی فرد بھی عنایت کرنے سے عاجز ہے۔
پوری دنیا میں کوئی بھی انسان، کسی بھی حال میں دعاء سے بے نیاز نہیں ہوسکتا۔انسان اس دنیا میں بے بس اور عاجز ہے جبکہ اللہ تعالی لامحدود خزانوں اور نعمتوں اور اسباب کے مالک اور خالق ہیں۔
ایک طرف مالک ہے اور دوسری طرف مالک کے کمزور بندے۔ مالک ہر وقت دیتا ہے اور جو چاہو آپ کو دیتا ہے۔ مگر مانگنے کے آداب بھی ضروری ہیں۔ کیونکہ اللہ تعالی کے ہاں دعاء ایک بہت پسندیدہ عمل ہے۔ اللہ تعالی سے اس کا فضل مانگو کیونکہ وہ اپنے سے مانگنے کو پسند کرتا ہے۔
دعاء شرح صدر کا سبب ہے۔ اس کا مطلب ہے سینہ کھول دینا۔ (اللہ نے اس کے سینے کو حق کی قبولیت کے لئے کھول دیا)۔ دعاء مانگنے سے اللہ تعالی کے غصہ کی آگ مدھم پڑتی ہے۔ دعا ء اللہ تعالی کی ذات پر بھروسہ اور یقین کی ایک ادا ہے۔ دعاء قدرتی آفات سے محفوظ رہنے کے لئے بہترین حصار ہے۔ ایک مؤمن کے لئے دعاء سے بہتر کوئی ہتھیار نہیں۔
اللہ تعالی بے نیاز ہیں، قادر مطلق ہیں اور اپنے بندوں پہ نہایت مہربان اور رحیم ہیں۔ اس کا ثبوت اس سے بڑھ کر کیا ہوسکتا ہے کہ اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ جب میرے بندے میرے بارے میں دریافت کریں تو میں قریب ہوں، دعاء کرنے والا جب مجھ سے مانگتا ہے تو میں اس کی دعاء قبول کرتا ہوں۔
قرآن مجید میں سورۃ فاطر آیت نمبر 15 میں اللہ تعالی فرماتے ہیں کہ:-
يَآ اَيُّـهَا النَّاسُ اَنْتُـمُ الْفُقَرَآءُ اِلَى اللّـٰهِ ۖ وَاللّـٰهُ هُوَ الْغَنِىُّ الْحَـمِيْدُ
اے لوگو تم اللہ کی طرف محتاج ہو، اور اللہ بے نیاز تعریف کیا ہوا ہے
انسان کو ہر وقت اللہ تعالی سے ہدایت طلب کرتے رہنا چاہیے۔ اللہ تعالی سے رزق حلال کی درخواست کرتے رہنا چاہیے۔ اپنے گناہوں کی بخشش کے لئے دست سوال کرتے رہنا چاہیے۔
دعاء کے آداب:
- دعاء کرنے والا انسان اپنے رب کا مکمل فرمانبردار ہو۔
- دعا ء مانگنے والا اپنی دعاء کے لئے مخلص ہو۔
- اللہ تعالی کے اسمائے حسنی کا واسطہ دے کر اللہ سے مانگا جائے۔
- دعا کرنے سے پہلے اللہ تعالی کی شایانِ شان حمد و ثنا۔
- نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر درود بھیجا جائے۔
- قبلہ رخ ہو کر دعا کرنا۔
- ہاتھوں کو اٹھا کر دعا کرنا۔
- اللہ تعالی کے بارے میں قبولیت کا مکمل یقین ہو، اور صدق دل، حاضر قلبی اور اصرار کے ساتھ دعا مانگے۔
- کثرت سے دعا کی جائے۔
- دعا میں پختہ انداز ہو اور گزارشانہ انداز میں دعا نہ کی جائے۔
- عاجزی ، انکساری، اللہ کی رحمت کی امید اور اللہ سے ڈرتے ہوئے دعا مانگے۔
- تین ، تین بار دعا کرنا۔
- حلال کھانے پینے کا اہتمام کرنا۔
- اپنی دعاؤں کو مخفی رکھنا۔
دعاء کی قبولیت کے آداب میں یہ بات شامل ہے کہ انسان اللہ کی اطاعت وفرمانبرداری کرے خوب خوب بندگی کرے ، تقوی اور پرہیزگاری کی راہ اور روش اپنائے۔ اور اللہ تعالی سے دعاء مانگتے ہوئے کسی کو شریک نہ کرے۔
تبصرے