مسکراہٹ


مسکراہٹ وہ ہنسی ہے جس میں دانت نہ کھلیں۔   دبی دبی ہنسی۔  دھیمی دھیمی ہنسی اور ہونٹوں میں ہنسنا۔

مسکرانا  ہماری فطرت میں شامل ہے۔   جب کوئی  دل سے مسکراتا ہے تو  اِس سے اُس کے احساسات کا پتہ چلتا ہے جیسا کہ خوشی،‏ اِطمینان اور سکون۔‏ اور اگر  کوئی ہمیں دل سے مسکرا کر دیکھتا ہے،‏ چاہے وہ ہمارا دوست ہو یا کوئی اجنبی تو ہمیں بہت اچھا لگتا ہے اور ہمارے چہرے پر بھی مسکراہٹ آ جاتی ہے۔‏  ‏ اور  اِس سے ہمیں   نا  صرف خوشی  ہوتی ہے بلکہ ہم   بہت پُرسکون اور محفوظ محسوس کرتے ہیں۔

ایک سادہ مسکراہٹ کسی کا دن بنا سکتی  ہے۔   اسی  طرح مسکراہٹ سے منسلک خواب خوشیوں، خوشخبریوں   اور محبت کی نشاندہی کرتی  ہیں۔   

مسکرانے سے  آپ کا اعصابی نظام فعال ہوجاتا ہے جس سے آپ کی صحت اور خوشیوں پر خاطر خواہ اثر پڑتا ہے۔ 

مسکرانے سے ناصرف آپ کے جسم کو آرام ملتا ہے بلکہ اس سے آپ کے دل کی دھڑکن بہتر ہوتی ہے اور آپ کا  فشار خون بھی مناسب ہوجاتا ہے۔

مسکراہٹ کے اور بھی کئی فائدے ہیں۔جسمانی اورذہنی طورپربہترمحسوس کرتےہیں۔ چاہے آپ خوشی محسوس نہ بھی کررہے ہوں،تب بھی مزاج یاموڈپرخوشگواراثرات مرتب  ہوتے ہیں۔ اینڈورفنز  (دافع درد) وہ کیمیائی مرکبات ہیں جو ہمیں مسرت کااحساس دلاتےہیں۔یہ کیمیائی مرکبات بعض سرگرمیوں مثلاً  دوڑنا، ورزش کرنا  اور کھیل کود کے دوران خارج  ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ محض مسکرانے سے بھی ان مرکبات کے اخراج میں مدد ملتی ہے جو انسانی جسم میں تناؤکوکم  کرتے ہیں۔

مسکراہٹ فاصلوں کو کم کرکے ماحول کو پر لطف اور دوستانہ بناتی ہے۔   ایک مسکراہٹ کسی  اجنبی فضا میں  مانوس سی روشنی پھیلا دیتی ہے۔  مسکراہٹ کی لالی ہونٹوں پر سج جائے تو بڑے سے بڑا دکھ جھیلنا آسان ہوجاتا ہے، مسکراہٹ نہ صرف انسان کے چہرے کو جگمگادیتی ہے بلکہ پورے ماحول میں اُجالا اور شگفتگی بکھیر دیتی ہے۔ مسکرانے کے لیے گوکچھ خرچ نہیں کرنا پڑتا ۔ اس کے لیے صرف زندہ دلی اور حاضر جوابی کی ضرورت ہوتی ہے۔

مسکراہٹ  کی عادت سے آپ کی عمر بڑھ جاتی ہے۔   زیادہ مسکرانےوالےافرادکی اوسط عمر ذیادہ ہوتی ہے  جبکہ مسکراہٹ سےدوررہنےوالوں کی اوسط عمرقدرے کم۔ایک اورتحقیق کےمطابق مسکراہٹ دل کی صحت کو بھی بہتربناتی ہے۔

آپ  ایک شخص کی مسکراہٹ سے  نہ صرف اُس کے احساسات کا اندازہ لگا سکتے ہیں بلکہ یہ بھی سمجھ سکتے ہیں کہ  آپ کو   اُس شخص کے ساتھ کیسے پیش آنا چاہیے۔‏

اگر مریض کی دیکھ بھال کرنے والے دل سے مریض کی فکر کریں اور مریض کی تکلیف کو محسوس کرتے ہوئے ان  کا علاج کریں تو مریض اطمینان محسوس کرتا ہے ۔ اور اُس کی جسمانی اور ذہنی صحت میں بہتری آتی ہے۔ ‏ لیکن جب دیکھ‌بھال کرنے والے شخص کے  چہرے کے تاثرات  تلخ ہوں تو اس کی  وجہ سے اُس میں اور مریض میں دُوری پیدا ہوجاتی ہے  اور  مریض کی صحت بگڑ جاتی ہے۔ ‏

‏ مسکرانے سے اِنسان زیادہ پُراعتماد ہوتا ہے،‏ خوش رہتا ہے اور اُس کا ذہنی تناؤ بھی کم ہوتا ہے جبکہ اگر ایک شخص ہر وقت مُنہ بنا کر رکھتا ہے تو اُسے نقصان ہوتا ہے۔

گھر میں ہمیشہ اچھا ماحول رکھیں۔  ایک دوسرے کو دیکھ کر مسکراتے رہیے؛  اس سے آپ کا حوصلہ بلند ہوگا اور ثابت قدم رہنے کا عزم اور مضبوط ہوجائے گا۔

بہت سے لوگ یہ شکایت کرتے ہیں کہ   زندگی میں اِتنی پریشانیاں ہیں کہ مسکرانے کی کوئی وجہ نظر نہیں آتی۔‏ لیکن یاد رکھیں کہ عموماً  ہماری سوچ  کا  ہمارے احساسات پر گہرا اثر ہوتا ہے۔‏ ‏ لہٰذا چاہے آپ کو ایسا کرنا مشکل ہی کیوں نہ لگے،‏ کوشش کریں کہ آپ اچھی اور خوش‌گوار  باتوں کے بارے میں سوچتے رہیں۔ ‏ اِس سلسلے میں   کوشش کریں کہ فضولیات سے دور رہیں،  خود کو وقت دیں، کچھ دیر تنہائی میں گزاریں، ناگوارماحول سے دور رہیں ،   نمازوں اور وضو کا اہتمام کریں، اللہ کو یاد کریں اور دُعا کریں۔‏  ‏

اِس بات کا اِنتظار نہ کریں کہ دوسرے آپ کو دیکھ کر مسکرائیں۔‏ اِس کی بجائے دوسروں کو دیکھ کر مسکرانے میں پہل کریں۔‏ ہو سکتا ہے کہ آپ کی مسکراہٹ سے کسی کا دن خوش‌گوار ہو جائے۔‏ آپ کی مسکراہٹ خدا کی طرف سے ایک تحفہ ہے جس سے نہ صرف آپ کو فائدہ ہوتا ہے بلکہ اُن لوگوں کو بھی جو اِسے دیکھتے ہیں۔‏

کسی دوست، رشتے دار بلکہ کسی اجنبی کے چہرے پر مسکراہٹ دیکھنے سے بھی ہمارے دل اور دماغ میں ایسی خوشی کی لہر پیدا ہوتی ہے جو چاکلیٹ کھانے یا رقم کےحصول وغیرہ سےبھی زیادہ طاقتورہوتی ہے۔خاص طورپر کسی بچے کی مسکراہٹ کو دیکھنا زیادہ فائدہ مند ثابت ہوتا ہے۔

مسکراہٹ روشنی کا ایسا منبع  اور انمول تحفہ ہے  جس سے پھوٹنے والی کرنیں سب کو منور کردیتی ہیں۔  جو لوگ زیادہ ہنستے مسکراتے ہیں ان کی شادیاں بھی زیادہ کامیاب ہوتی ہیں۔

مسکراہٹ انسانی جسم میں سفید خونی خلیے تیار کرنے میں مدد دیتی ہے جو بیماریوں کے خلاف مزاحمت کی ذمے داری انجام دیتے ہیں ۔ اس طرح جسم کا مدافعتی نظام مضبوط ہوتا ہے۔

مسکراہٹ دائمی کیفیت کا نام ہے، (اسے ہلکی پھلکی ہنسی کا نام بھی دیا جاسکتا ہے)جبکہ ہنسی عارضی حالت ہوتی ہے۔اور بلا وجہ کی ہنسی کے بعد دل مرجھا جاتا ہے۔

مسکراہٹ ، خوشی پر فطری ردعمل کا دوسرا نام ہے جبکہ ہنسی بسا اوقات دردناک حادثے پر رد عمل کا بھی نتیجہ ہوتی ہے۔

مسکراہٹ اندرونی خوشی اور سکون کی علامت ہوتی ہے جبکہ ہنسی کسی ہنگامی ناگہانی حالت کا نتیجہ ہوتی ہے۔

مسکراہٹ کا اثر دیر تک باقی رہتا ہے جبکہ ہنسی کا اثر جلد زائل ہوجاتا ہے۔

مسکراہٹ تواضع و انکساری کی دلیل ہے جبکہ ہنسی اگر قہقہے کے ساتھ ہو تو غرور کی نشانی مانی جاتی ہے۔

مسکراہٹ ہنسی سے زیادہ مشکل کام ہے۔مسکراہٹ مختلف قسم کے لوگوں ،مختلف طبیعتوں اور مختلف المزاج افراد سے میل ملاپ کے وقت آتی ہے۔ جبکہ ہنسی انتہائی بے تکلف قسم کے لوگوں کے ساتھ ہی نمودار ہوتی ہے۔

مسکراہٹ میں ایک ادب شامل ہوتا ہے جبکہ ہنسی ادب کے دائرے سے خارج  ہوتی ہے۔ اچھی مسکراہٹ صحت بخش ہوتی ہے۔ یہ انسان کی ذہنی، جسمانی اوراعصابی صحت کی حفاظت کرتی ہے۔
  • صحت بخش مسکراہٹ ، بلڈ پریشر کم کرنے میں معاون بنتی ہے۔
  • مسکراہٹ ،ذہنی و سماجی دباؤ کیخلاف جسم میں مدافعتی نظام کو تقویت پہنچاتی ہے۔
  • مسکراہٹ کی بدولت دل ، دماغ اور جسم کی کارکردگی پر خوشگوار اثر پڑتے ہیں۔
  • مسکرانے والے انسان کی نبض متوازن شکل میں چلتی ہے۔
  • مسکراہٹ ، انسان کے لاشعور تک سکون اور اطمینان کی لہر پہنچا دیتی ہے۔
  • مسکراہٹ ، چہرے کو خوبصورت اور پررونق بنا دیتی ہے۔
  • مسکراہٹ ایک طرح سے عصری امراض سے بچاؤ کا بہترین علاج ہے۔
  • مسکراہٹ، بے چینی اور ڈپریشن سے تحفظ دیتی ہے۔
  • مسکراہٹ، مختلف قسم کے درد کا علاج ہے۔
  • مسکراہٹ، بے خوابی اور بے چینی پر قابوپالیتی ہے۔
مسکراہٹ اور ہلکی پھلکی ہنسی ،صنفی صلاحیت کو بہتر بناتی ہے۔ شریانوں کے تناؤ کو ہلکا کرتی ہے، نبض کی رفتار کودرست کردیتی ہے۔ عضلات کو آرام دہ حالت میں لے آتی ہے۔

چہرے پر خفگی اور غصہ طاری کرنے سے جھریاں موثر شکل میں پیدا ہوجاتی ہیں۔ آنکھوں کے اطراف حلقے پڑجاتے ہیں ۔

 مسکراہٹ جھریوں پر قابو پانے کا موثر ہتھیار ہے۔ مسکراہٹ سے جھریاں جلد نہیں ظاہر ہوتیں، مسکراہٹ کی وجہ سے جھریوں کے ظہور کا عمل کمزور پڑجاتا ہے۔ مردوں  کو بالعموم اور خواتین  کو  بالخصوص مشورہ ہے کہ  وہ مسکراہٹ کو اپنی پہچان بنائیں۔مستقل مسکرانے والی خواتین ذہنی سکون میں رہتی ہیں۔

انسان کے چہرے میں تقریباً  80 عضلات ہوتے ہیں جب وہ ناراض ہوتا ہے تو اس کے چہرے پر ناراضگی کی علامتیں خود بخود ظاہر  ہوجاتی ہیں ، چہرے کے اکثر عضلات غصے کی کیفیت سے متاثر ہوتے ہیں۔

 توجہ طلب امر یہ ہے کہ جب انسان مسکراتا ہے تو اس کے چہرے کے عضلات پر کوئی خاص اثر نہیں پڑتا، اس کے چہرے کے عضلات کسی زحمت یا مشقت میں نہیں پڑتے کیونکہ مسکراہٹ کے دوران بہت کم عضلات کو محنت کرنا پڑتی ہے۔

 بار بار مسکرانے سے انسان کو آرام ملتا ہے اور اس کو ذہنی قرار حاصل ہوتا ہے۔بعض اطباء تو یہ بھی کہتے ہیں کہ مسکراہٹ سے انسان کو بسا اوقات ڈپریشن سے بھی نجات ملتی ہے۔

کامیابی کا انتہائی سستا طریقہ مسکراہٹ ہے ۔   جو انسان اپنے اطراف  میں موجود لوگوں کے ساتھ میل جول میں مسکراتا رہتا ہے، اس سے اس کے احباب اور ملنے جلنے والے اطمینان محسوس کرتے ہیں۔

 مسکرانے والے شخص اور اس کے اطراف میں  موجود لوگوں کے درمیان انجانی  دیواریں زمین بوس ہوجاتی ہیں۔ دوسرے الفاظ میں یوں کہہ لیجئے کہ بار بار مسکراہٹ اعتماد پیدا کرتی ہے۔

مسکراہٹ، جادو جیسی ہوتی ہے۔ اس سے انسان کے دل میں امید کے دیئے روشن ہوتے ہیں۔ دماغ سے وحشت دور ہوتی ہے۔ دل کو نئی زندگی مل جاتی ہے، مسکراہٹ کے اتنے ڈھیر سارے فائدے معلوم ہوجانے کے باوجود ہم نہ جانے کیوں اپنے ہونٹوں پر مسکراہٹ بکھیرنے   میں بخل سے کام لیتے ہیں۔

مسکراہٹ بند دلوں کی پہلی کلید ہے۔ مسکراہٹ ، روحانی روشنی ہے، یہ دل کے بند دریچوں کو کھولنے والا طبعی آلہ ہے۔

مسکراہٹ ،درد میں مبتلا انسان کے زخم پر مرہم اور غم زدہ انسان کیلئے موثر دوا ہے۔

مسکراہٹ دلوں کو قابو کرنے والاہتھیار ہے۔

خوبصورت مسکراہٹ ، دل ، دماغ اور روح کو اپنے قبضے میں کرنیوالا طاقتور ترین قانون ہے۔

مسکراہٹ سے انسانوں کے دل آپ اپنی مٹھی میں کرسکتے ہیں ، ذہنوں پر قبضہ کرسکتے ہیں ۔ 

مسکرانے والے لوگ سب سے زیادہ خوش مزاج اور سب سے زیادہ پاکیزہ طبیعت کے مالک ہوتے ہیں۔ یہ اپنی زندگی میں سب سے زیادہ سکون سے رہتے ہیں۔   

حقیقی مسکراہٹ میں کوئی ملاوٹ نہیں کی جاسکتی ۔جس طرح خالص سونے میں ملاوٹ فوری طور پر سامنے آجاتی ہے اسی طرح حقیقی مسکراہٹ اور مصنوعی مسکراہٹ کا فرق لمحوں میں سامنے آجاتا ہے۔

خوشی کا احساس انسان کو دل کے دورے، دل کے امراض ،ہارٹ اٹیک اور ذیابیطس کی تکلیف سے بچاتا ہے۔ خوشی کا احساس ، مٹاپے اور عقل کے مختلف امراض سے محفوظ رکھتا ہے۔ خوشی کا احساس عام طور پر عمر میں اضافہ کردیتا ہے۔ اس کا سبب معمولی ہے ، سبب یہ ہے کہ خوش رہنے والے لوگ کشیدگی پیدا کرنے والے اہم ہارمونز کم مقدار میں خارج کرتے ہیں ۔

اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی شخصیت دیدہ زیب اور پر کشش نظر آئے تو آپ اپنے چہرے پر پھولوں کی طرح مہکتی، موتیوں کی طرح دمکتی اور ستاروں کی طرح جگمگاتی مسکراہٹ سجائیے۔

نبی کریم ﷺ نے فرمایا کہ اپنے بھائی کے سامنے تمہارا مسکرانا صدقہ ہے (ترمذی)۔

نبی کریمﷺ کا ایک ارشاد یہ بھی ہے کہ تم لوگوں کے دل اپنی دولت سے ہرگز نہیں جیت سکتے، تمہیں لوگوں کے دل جیتنے کیلئے خندہ پیشانی اور حسن اخلاق کا مظاہرہ کرنا چاہئے (بیہقی) ۔

یقین کیجئے کہ پیار بھری مسکراہٹ انمول ہوتی ہے۔  یہ کشش کا راز ہے، یہ دلوں کو جوڑنے والا مختصرترین راستہ ہے۔

مسکراہٹ صالح صحت کی علامت ہے۔

ہمارے لئے مسکراہٹ کا اصل ہدف تقرب الی اللہ مقرر کیا ہے۔ یہ ہدف دنیاوی اہداف سے مختلف ہے۔ اس کے نتائج پائدارقسم کے ہیں۔

چینی کہاوت ہے: جو شخص عمدہ طریقے سے مسکرانا نہیں جانتا اسے دکان نہیں کھولنی چاہئے۔

اس سے پتہ چلتا ہے کہ سچی مسکراہٹ دل کی گہرائی سے اٹھتی ہے ، یہ مسکراہٹ جادو جیسا اثر کرتی ہے اور ملنے والے کو اپنی طرف مقناطیس کی طرح کھینچ لیتی ہے۔ سچی مسکراہٹ چہرے کو رونق اور چمک دمک دیتی ہے ۔ مصنوعی مسکراہٹ کے پیچھے مکروفریب کی ظلمتیں چھائی ہوتی ہیں۔

ہمیں یہ جان لینا کافی ہے کہ جب انسان مسکراتا ہے تو اس کے چہرے کے کئی عضلات حرکت میں آتے ہیں اور جب انسان غصے یا کبیدگی یا پریشانی کی حالت میں ہوتا ہے تو اس کے چہرے کے کئی گنا عضلات متحرک ہوتے ہیں۔

ہمیں ذیابیطس ، بلڈ پریشر، تناؤ، بے چینی اور بحران پیدا کرنیوالے یومیہ مسائل پر قابو پانے کیلئے مسکرانا چاہئے۔

 ہمیں اپنے آپ اور اپنے اطراف  میں موجود لوگوں کو خوشیاں دینے کیلئے مسکرانا چاہئے۔ تاکہ ہماری  زندگی میں موجود تلخیاں، پریشانیاں اور کدورتیں زائل ہوسکیں۔  اور ہماری ذہنی و جسمانی توانائیاں جو منفی رویوں، منفی سوچ اور منفی کرداروں  سے نبرد آزما ہیں، انھیں تقویت ملے اور ہم دنیا میں خوشیاں بانٹ سکیں تاکہ یہ دنیا گلشن و گلزار بن سکے۔

مسکراہٹ دنیا کی سب سے خوبصورت زبان ہے۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت