چھینک


چھینک کے معنی ہیں روک ٹوک، چھینکنا اور وہ آواز جو ناک میں سوزش ہونے  کی وجہ سے نکلتی ہے۔

چھینک کیا ہے:

اللہ تعالی نے انسانی جسم میں بے پناہ آٹومیٹک حفاظتی نظام  بنا رکھے ہیں۔  جو ہماری صحت اور بقاء کے لئے ناگزیر ہیں۔ جبکہ اپنی کم علمی کی وجہ سے ہم   بہت سی نعمتوں سے نا صرف ناواقف ہیں بلکہ ہم ان کی قدر بھی نہیں کرتے۔  چھینک بھی ان آٹومیٹک نظاموں میں سے ایک ہے جو ہمیں ایک قسم کی حیات نو دیتی ہے۔  ہمارا دماغ جو پورے جسم کو کنٹرول کرتاہے اس کا بیشتر حصہ پانی (مائع)  ہے۔ 

کچھ بیکٹیریا اور وائرس  جو ہمارے دماغ کو متاثر کرسکتے ہوں انھیں خارج کرنے کے لئے اللہ تعالی نے چھینک  عطا کی ہے جو انتہائی قوت سے ان  بیکٹریا اور وائرس کو ناک کے راستے خارج کردیتی ہے۔ چھینک کے عمل میں نہایت کم  وقت کے لئے ہمارا  اعصابی نظام مفلوج ہوجاتا ہے اور انسان کے اختیار میں  اس کا کوئی عضو  بھی اس کے قابو میں نہیں رہتا۔

چھینک انسانی نظام ِ اعصاب  کی بحالی کا ایک بہترین وسیلہ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ دین اسلام میں چھینک آنے  پر الحمد للہ کہا جاتا ہے کہ اس نے ہماری سانس کو دوبارہ جاری کیا ۔ نہ صرف مسلمان بلکہ دنیاکے دیگر ممالک کے افراد بھی چھینک آنے پر  اپنے پیدا کرنے والے کا شکر دعائیہ کلمات سے کرتے ہیں۔  اور یقین جانیئے کہ  الحمد اللہ ،  ایک تعریفی اور توصیفی کلمہ ہے جو اللہ تعالی کے انعامات اور احسانات  کے موقع   پر شکرانے کے طور پر ادا کیا جاتاہے۔ 

چھینک کی حقیقت:

گرد و غبار، ٹھنڈی ہوا،  اور پسی ہوئی  سیاہ مرچ وغیرہ  چھینک کا باعث ہوتے ہیں۔   جب آپ کو زکام ہوتا ہے تو  ایک قسم کا وائرس آپ کے ناک کے اندر   اپنا عارضی گھر بنا لیتاہے۔ جو بہت ذیادہ سوجن اور ہیجان پیدا کرتا ہے۔  کچھ لوگوں کو اس سے الرجی ہوتی ہےاور وہ چھینکتے ہیں۔  

میں نے اس بارے میں بہت غور کیا  اور جہاں تک مجھے سمجھ آئی وہ یہ ہے کہ کسی بھی وجہ سے ناک کے ذریعے داخل ہونے والے وائرس  جب  آپ کے دماغ تک پہنچتے ہیں تو وہ آپ کے اعصابی نظام پر حملہ آور ہوتے ہیں اور انسانی دماغ   ایک طرح کا کمپیوٹر ہے۔ اور کمپیوٹر استعمال کرنے والے اچھی طرح جانتے  ہیں کہ جب کمپیوٹر کسی وجہ سے کام کرنا  بند کردے اور کوئی بھی بٹن  کام نہ کرے تو ایسے میں  کمپیوٹر  رک جاتا ہے، گرفتہ ہوجاتا ہے اور بے سُدھ ہوجاتا ہے۔ اسے بحال کرنے کے لئے ہم کنٹرول، آلٹ اور ڈیلیٹ تینوں بٹنوں کو اکٹھا دباتے ہیں تاکہ کمپیوٹر ریبوٹ ہوجائے اور پھر سے  تازہ دم ہوجائے۔

ہماری چھینک بھی ایک طرح سے انسانی  نظام کا  ریبوٹ   (یعنی واپس  کرنے والا، لوٹانے والا )  ہے جو ہمارے نظام کو بحال کرکے ہمیں تازہ دم کردیتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہمیں کہا گیا ہے کہ اس نعمت اور بحالی کے موقع پہ الحمد للہ کہیں۔

یاد رکھئے ہمیں نیند کی حالت میں چھینک نہیں آتی۔ اس کی وجہ یہ ہے  نیند میں اعصاب  انسانی اختیار میں  نہیں ہوتے۔ اور چھینکنے کے لئے درکار ہوا کا زور اور  انھیں بروئے کار  لانے والے پٹھے  نیند کی پوزیشن میں  اس قابل نہیں ہوتے کہ ایک بھرپور چھینک آسکے۔

چھینک کے آداب:

اگر کسی شخص کو چھینک آئے تو اسے الحمد للہ کہنا چاہیے۔ اور اس کے قریب بیٹھنے والا بھائی یا ساتھی ہرحمک اللہ کہے۔

جب کوئی ہرحمک اللہ  کہے تو چھینکنے والا  اس کے جواب میں  کہے کہ:
 

(یعنی اللہ تعالیٰ تمہیں ہدایت کرے اور تمہارے دل کی اصلاح کرے) کہے۔

کسی شخص کی پہلی چھینک پر یرحمک اللہ کہنا چاہیے اور اگر اس کے بعد چھینک آئے تو جواب نہ دیں۔ کیونکہ بقیہ چھینکیں زکام کی نشانی ہیں۔

اور اگر کوئی شخص اپنی چھینک پہ الحمد للہ نہ کہے تو ایسے موقع پہ یرحمک اللہ کہنے کی ضرورت نہیں۔

اگر کوئی غیر مسلم آپ کے سامنے چھینکے تو اس موقع پہ یہ کہیے کہ :-
 

  (کہ اللہ تمہیں راہ راست پر رکھے اور تمہارے مال کو درست فرمائے)۔

اگر کسی کو نماز کے دوران چھینک آئے تو اسے الحمد للہ کہنا چاہیے اور قریب والے الحمد للہ سن لیں تو وہ جواباً   ہرحمک اللہ کہہ سکتے ہیں۔

چھینک کے لئے احتیاطی تدابیر:

چھینک کو روکنے کی کوشش مت کیجئے۔ کیونکہ یہ انتہائی نقصان دہ ہے۔اور جس قدر زور سے چھینک آئے، بہتر ہے۔

 آپ کو کبھی ایسا احساس ہوا کہ آپ کو چھینک آ رہی تھی مگر پھر رک گئی۔  اگلی بار اگر ایسا ہوا تو کوشش کریں کہ تیز روشنی میں غور سے دیکھیں  (سورج کو براہ راست آنکھ سے نہ دیکھیں) اور پھر دیکھیں کہ رکی ہوئی چھینک آتی ہے کہ نہیں۔

چھینک آئے تو ٹشو یا دونوں ہاتھ سے منہ کے قریب لائیں تاکہ جراثیم دوسروں تک نہ جائیں   اور کوشش کریں کے ہاتھ، منہ اور ناک  پانی سے دھو لیں۔ 

چھینک جب آئے تو کوشش کریں کہ گاڑی کو آہستہ کرلیں ، آپ کسی مشین پہ کام کررہے ہیں تو دو ر ہٹ جائیں،  کسی جانور کے قریب ہیں تو دور ہوجائیں، کیونکہ چھینک کےدوران انسان کے اوسان خطا ہوجاتے ہیں ، آنکھیں بند ہوجاتی ہیں، سانس رک جاتی ہے اور جسم پہ کوئی کنٹرول نہیں رہتا۔ اگرچہ چھینک کا دورانیہ چند ثانیے کا ہوتاہے لیکن انسانی دماغ،  اور دیگر اعضاء انسان کے کنٹرول سے باہر ہوجاتے ہیں۔

اگر ایسے وقت میں چھینک آئے  جب آپ کسی خطرناک کام میں مشغول ہوں تو  ناک کا بیرونی  (تکونی ) کونا ہلکا سا دبائیں تاکہ چھینک  متاخر ہوسکے۔

چھینک کو روکنا خطرناک ہے:
  • چھینک  کی رفتار تقریبا   150 میل فی گھنٹہ ہوتی ہے۔ اس لئے اسے  روکنا بہت خطرناک ہوسکتاہے۔ 
  • چھنیک روکنے سے انسان کا حلق سب سے زیادہ متاثر ہوسکتاہے۔
  • چھینک  روکنے یا  چھینک کی  ہو ا کی طاقت کو دبانے کے نتیجے میں کان کا پردہ اور ان چھوٹی ہڈیوں پر برے  اثرات مرتب ہوسکتے ہیں جو آواز کو سننے میں مدد دیتی ہیں۔
  • چھینک روکنے سے آپ کا موڈ  اور مزاج دونوں بگڑ سکتے ہیں۔
 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت