تذکیۂ نفس
اس کے معنی ہیں نفس کا پاک ہونا، اپنے نفس کو اچھی حالت میں رکھنا، نفس پاک کرنا، نفس صاف کرنا، بڑھانا، پاکیزگی، صفائی، طہارت وغیرہ۔
اس لفظ کا مادّہ ہے ذ ک ی۔ صاف کرنا، نشو و نما دینا، پروان چڑھانا اور بڑھانا۔ تذکیۂ نفس ایک اصطلاح ہے۔ جس سے مراد نفس کو آلائشوں سے پاک صاف اور نشوو نما کرنا ہے۔ تذکیۂ نفس اپنی ذات کو گناہوں سے پاک کرنا ہے۔
تذکیۂ کے دو پہلو ہیں۔ گناہوں سے دور ہونا اور نیکیوں کی نشوونما کرنا۔ یعنی برائیوں سے جان چھڑانا اور اچھائیوں کو پھیلانا۔
نفس کی اقسام:
نفس کی سات اقسام ہیں جنکے نام درج ذیل ہیں :
1۔ نفس امّارہ (گناہوں کی طرف راغب کرنے والا نفس)۔
2۔ نفس لوّامہ (کسی گناہ یا برائی کے ارتکاب کی صورت میں ملامت کرنے والا نفس)۔
3۔ نفس مُلہمہ - الہام کی قوت رکھنے والا نفس ۔
جب انسان ملہمہ کے مقام پہ پہنچ جاتا ہے جب نیکی اور تقوی کی رغبت پیدا ہوجاتی ہے۔
4۔ نفس مُطمئنہ - جو انسان کو اطاعت الہی اور اللہ کے ذکر فکر میں مطمئن رکھتا ہے اور خواہشات کی کشمش اور گناہوں کے خطراب سے دور رکھتا ہے ۔ (جب انسان اللہ تعالی کی رضا پہ راضی ہوجاتا ہے تو یہ نفس بطور انعام ملتا ہے)۔
5۔ نفس راضیہ
6۔ نفس مرضِیہ
7۔ نفس کاملہ
نفس مطمئنہ کے بعد کی منازل راضیہ، مرضیہ اور کاملہ ہیں جب انسان ہر حال میں رب سے راضی رہتا ہے۔
انسان اور نفس:
انسانی جسم کی تخلیق مٹی سے ہوئی ہے جس میں اللہ تعالی نے اپنی روح (نور) پھونک دی ہے۔ خاک میں پستی و گھٹیا پن، ضلالت، گمراہی، حیوانیت و بہیمت، شیطانیت، ہوس پرستی، حرص، طمع ، حق تلفی، برائی اور سرکشی جیسے خواص پائے جاتے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ نفس انسانی فطری طور پر ہمیں برائیوں کی طرف رغبت دلاتا ہے۔ گناہوں کی آلودگیاں اور حق سچ سے انحراف نفس انسانی کی فطرت میں ازل سے شامل ہے۔ جبکہ روح کی صورت میں انسان کے اندر ایک لطیف و نورانی صلاحیت ودیعت کردی گئی ہے۔ جس کے تقاضے بدی و نیکی کی تمیز کرنا، حق پرستی پر قائم رہنا، صداقت و امانت سے معاملات طے کرنا اور نفس کی تہذیب و تطہیر کرنا ہے۔
اس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ انسان کے اندر اچھائی اور برائی، نیکی و بدی ، خیر و شر دونوں طرح کے میلانات انسان کی ولادت سے شامل کردیئے جاتے ہیں۔ ان دونوں کے درمیان تضاد، تصادم اور ٹکراؤ کی صورت قائم رہتی ہے اور یہ کشمکش جب تک جاری ہے انسان کی زندگی تضادات اور بگاڑ کا شکار رہتی ہے۔ اسی بگاڑ سے بےراہ روی، ظلم و استحصال، فسق و فجور ، لڑائی جھگڑے اور حسد جیسے سنگین جذبات جنم لیتے ہیں۔ جس کے باعث انسان اپنے اندر انتشار کی وجہ سے بے سکونی اور بے اطمینانی محسوس کرتا ہے۔ تذکیۂ نفس اسی خرابی اور کشمکش سے نجات کا ذریعہ ہے۔
نفس کے امراض:
ریاکاری، نفاق، حُبِّ دنیا ، حُبُّ الشَہوات، بغض ، کینہ ، حسد، غصہ، شہوتِ معدہ، شہوتِ عزوجاہِ دنیا، زنا، مال، دولت اور زر پرستی،طمع، حرص، لالچ، جھوٹ، بہتان، گلہ گوئی، غفلت، تکبر، انانیّت، عُجب یعنی خود پسندی،فخرو غرور، بُخل، غیبت، عصبیّت، قوم پرستی، قبیلہ پرستی ،مسلک یا فرقہ پرستی، ظلم و تشدد، اپنے اپنے علاقہ، قبیلہ اور قوم کی محبت، اپنے مذہبی، سیاسی رہنماؤں کی محبت، خواہ شیطان کے چیلے ہوں۔
تذکیۂ کیا ہے:
تذکیۂ انسانی نفس کے امراض کا علاج ہے۔ جس میں انسان، ایمان اور شعور کے ساتھ، ایمان اور یقین کے ساتھ، نفس انسانی کو گناہ کی غلاظت اور گندگی سے نکال کر نیکی اور بھلائی کے راستے پر ڈالنے کی کوشش کرتا ہے تاکہ اس کا نفس انسانی انتہاء درجہ کے کمال کوپہنچ سکے۔
تذکیۂ کا فائدہ:
تزکیۂ نفس کا آغاز اسی لمحے ہو جاتا ہے، جب انسان برائیوں کی راہ چھوڑ کر نیکیوں کا راستہ اختیار کرلیتا ہے ۔اس کا ذوق اس معاملے میں اتنا بلند ہو جاتا ہے کہ ذرا سی لغزش بھی اسے کھٹکتی ہے۔
تزکیۂ نفس کا عمل جب اپنے نقطۂ کمال کو پہنچتا ہے تو بندۂ مومن دنیا میں نفس مطمئنہ کی منزل پا لیتا اور آخرت میں وہ بادشاہی اس کا نصیب بن جاتی، جسے قرآن مجید نے ’راضیۃ مرضیۃ‘ کے الفاظ سے تعبیر کیا ہے۔
تزکیۂ کیوں ضروری ہے:
جس طرح ہم اپنی موٹر بائیک یا گاڑی وغیرہ کی ریگولر Maintenance کرتے ہیں اسی طرح ہمیں اپنے نفس کی بار بار دیکھ بھال کرنا چاہیے تاکہ ہم بہتر انسان بن کے زندگی گزار سکیں اور اللہ تعالی کے بہترین انعام (جنّت) کے مستحق بنیں۔
آج کے نوجوان اسے اس طرح بھی آسانی سے سمجھ سکتے ہیں کہ جب کوئی وائرس یا ایسا سافٹ ویئر جو آپ کے موبائیل کی Specification سے مطابقت نہ رکھتا ہوتو اس سے جان چھڑانے میں ہی عافیت ہوتی ہے۔ ایسے ہی جب موٹر بائیک چلتی ہے تو انجن آئل ، انجن کو روانی سے چلنے میں مدد دیتا ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ ، مٹی و گرد اور بار بار جلنے سے انجن آئل گاڑھا ہوجاتا ہے جو انجن کی روانی کے لئے خطرناک ہوسکتا ہے۔ اسے تبدیل کرنا ہی انجن کی بقاء اور روانی کی ضمانت ہے۔ اسی طرح بائیک کے بریک شوز بھی بار بار بریک لگانے سے گھس کر ناکارہ ہوجاتے ہیں بلکہ آپ کی بائیک کے پہیوں کے ڈرم کو خراب کرنے لگتے ہیں۔ انھیں تبدیل کرنا ناگزیر ہوتا ہے۔
بعینہ انسانی نفس جو معاشرے کی برائیوں اور بداخلاقیوں سے آلودہ ہوجاتا ہے تو اس کا تذکیۂ نفس اس لئے ضروری ہوتا ہے کہ آپ اپنے معاملات خیر و خوبی سے انجام دیں سکیں اور راہ راست پر قائم رہ سکیں۔ تذکیۂ نفس آپ کی زندگی کی بقاء اور دوام (لمبی عمر ) کا ضامن ہوتا ہے۔
تزکیۂ کی ضرورت سبھی کو ہے:
ہمارے نوجوان دین کو صرف دین دار لوگوں کے لئے مختص سمجھتے ہیں جبکہ دین ہر ایک انسان کی بہتری ، اس کے سکون، اس کی اچھی صحت اور اس کی دنیاوی زندگی کو کامیابی سے گزارنے کے بہترین طریقے بتا تا ہے جو ہمیں ناصرف سکون دیتے ہیں بلکہ ہمیں ہمارے مقاصد میں بھی کامیاب کرنے میں ممد و معاون ثابت ہوتے ہیں۔
یاد رکھیئے دنیا کے تمام مذاہب اور تمام نفسیاتی علوم جو مشقیں اور ذاتی خواص کی تطہیر بیان کرتے ہیں وہ سبھی کے سبھی ہمارے دین اسلام میں ہر جگہ موجود ہیں۔ دنیا کی کوئی قوم مسلمانوں کی طرح مکمل روزہ نہیں رکھ سکتی۔ دین میں ہماری ذاتی شخصیت کی ناصرف تعلیم و تربیت شامل ہے بلکہ ہمارے نفس اور روح کو پاکیزہ رکھنے کی تعلیمات شامل ہیں جو ناصرف ہمیں بہترین انسان بناتی ہیں بلکہ اعلی صفات سے متصف بھی کرتی ہیں۔ تاکہ ہم باوقار اور باعزت طور پر اس دنیا میں اپنی زندگی گزار کر آخرت میں جنت کے لئے اپنی جگہ بنا سکیں۔
تزکیۂ نفس میں ہمارا اپنا فائدہ ہے:
تذکیۂ نفس ہر انسان کے اپنے فائدے کے لئے ہے اور اس کے لئے اسے خود ہی کوشش کرنا چاہیے تاکہ برائی مغلوب اور نیکی کی حیثیت ایک غالب قوت کی ہو، یہاں تک کہ خیر و شر کی اس کشمکش میں شر شکست کھا جائے اور خیر کو فتح حاصل ہو۔
تزکیۂ کا انتہائے مقصد یہ ہے کہ ہمارا نفس ٹھیک راہ پہ استوار ہو، ہمارا نفس خدا اور اس کی صفات کی درست معرفت حاصل کرلے، ہماری عادات و اطوار اس حد تک سنور جائیں کہ ہم تمام مکارم الاخلاق کے پیکر مجسم بن جائیں، ہمارے جذبات کے اندر رقت و لطافت ، سوز و گداز کی شیرینی شامل ہوجائےاور ہم خدا کی اس طرح بندگی کریں گویا ہم اسے اپنی آنکھوں سے دیکھ رہے ہیں۔
جب تک انسان کے جسم میں سانس ہے تزکیۂ کرتے رہیے۔ اس عمل میں کوئی ٹھہراؤ یا وقفہ نہیں اور انسان کسی مرحلے پہ بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ اب منزل آگئی ہے۔ تذکیۂ ایک جہد مسلسل ہے اور جیسے جیسے اعمال ، اخلاق اور ظاہر و باطن میں جِلا پیدا ہوتا ہے اسی قدر مذاق کی لطافت، حِسّ کی ذکاوت اور آنکھوں کی بصارت میں اضافہ ہوجاتاہے۔
تزکیۂ نفس کیسے کریں:
تزکیۂ نفس کے نتائج ایک دم نہیں ظاہر ہوتے بلکہ آہستہ آہستہ یہ ہماری زندگی کا حصہ بن جاتے ہیں اور ایک مرحلے پر جب اس کے نتائج نکلنا شروع ہوتے ہیں تو یہ نہایت مستحکم اور دیرپا ہوتے ہیں۔
تزکیۂ نفس کے لئے درج اصول اپنائیں:-
1۔ اللہ تعالی کے احکامات پر مکمل ایمان کے ساتھ عمل کریں۔
2۔ اللہ کے نبی حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تعلیمات پر عمل کریں اور آپ کی سیرت طیبہ اپنائیں۔
3۔ قرآن پاک کی تلاوت کریں اور ترجمہ کے ساتھ پڑھیں۔
4۔ نماز خشوع و خضوع سے قائم کریں اور مسجد سے اپنا رشتہ قائم کریں۔
5۔ اللہ تعالی کے نیک بندوں کی صحبت اختیار کریں اور دینی و علمی محافل میں شرکت کرتے رہیں۔
6۔ ہمیشہ پاک صاف رہیں۔ اپنا لباس ، اپنی نظریں اور اپنی سوچ کو پاکیزہ بنائیں۔
7۔ والدین سے نہایت ادب و احترام سے ملیں، ان کی ضروریات پوری کریں اور ان کی مرضی و منشاء کو اہمیت دیں۔ انھیں اپنے مقاصد کے لئے مجبور نہ کریں۔ کوشش کریں تمام معاملات اپنے والدین کی خواہش کے مطابق طے کریں۔
8۔ ہمیشہ رزق حلال کمائیں اور حرام سے دور بھاگیں تاکہ آپ کے گھر اور آپ کے دل کا سکون برقرار رہے۔
9۔ برائی کو جہاں دیکھیں اسے سختی سے روکیں اور اچھائی کی ترغیب دیں۔
10۔ اپنے خیال، اپنی سوچ، اپنے عمل اور اپنے کردار کو اللہ تعالی کے احکامات اور حضور کی تعلیمات کے مطابق ڈھالیں۔ برائی سے دور رہیں۔ لوگوں کی خیر اور فلاح کی فکر کریں۔ اور اپنے غصے، اپنے مفادات اور اپنی حرص پر کڑی نظر رکھیں۔ برداشت اور صبر کے پیمانے کو لبریز نہ ہونےدیں۔ اللہ کا شکر ادا کرتے رہیں۔
11۔ اپنی عائلی ذمہ داریوں سے فرار نہ حاصل کریں اور اپنے گھر میں شفقت اور شائستگی کا ماحول بناکر رکھیں۔
12۔ برائی سے بچیں اور اچھائی کے فروغ کے لئے اپنا تن من اور دھن لگا دیں مگر نیت رضائے الہی ہو۔
قَدْ اَفْلَحَ مَنْ تَزَكّـٰى
فلاح پا گیا وہ جس نے اپنے نفس کا تزکیہ کیا۔
(سورۃ اعلی آیت نمبر 14)
٭ ٭ ٭ ٭ ٭
علم کے موتی:
- دل بادشاہ ہے اور بقیہ جسم اورتمام اعضاء اس کے لشکری ہیں۔
- انسان کا دل تذکیۂ سے دور ہوجائے تو وہ ظالم ہوجاتا ہے۔
- شیطان ہمیں برائی پہ مجبور نہیں کرسکتا بلکہ وہ صرف وسوسہ ڈالتا ہے عمل انسان خود کرتا ہے۔
- عقلمند وہ انسان ہے جو اپنے نفس کا محاسبہ کرتا ہے۔ محاسبہ سے غلطی کا اندازہ ہوجاتا ہے اور توبہ کی توفیق مل جاتی ہے۔
- آخرت کا خوف، موت کی یاد، انسان کے اندر دنیا کی تمام لذتوں اور آرائش سے بے اعتناء کردیتی ہے۔
- علم کے زیور سے خود کو آراستہ کیجئے تاکہ آپ اپنے نفس کا تذکیہ کرسکیں۔
- دل کو اللہ کے ذکر سے منور کیجئے تاکہ شیطان وہاں سے کھسک سکے۔
- جب دل میں اللہ آباد ہوجائیں تو انسان ہر غصے کو پی جاتا ہے اور طیش سے باز آجاتاہے۔
- غریب وہ انسان ہے جو اپنے نفس کی اصلاح نہ کرسکے۔
- یتیم کے سر پر ہاتھ رکھا کرو، اللہ کے راستے میں خرچہ کیا کرو ؛ تمہارے دل میں نرمی پیدا ہوجائے گی۔
- بندۂ مومن چن چن کر اپنے دامن سے کوتاہیاں اور خامیاں دور کرتااور ان کی جگہ محاسن اورمکارم سجاتا ہے۔

تبصرے