بھروسہ


اس کے معنی ہیں اعتماد، اعتبار، توکل،  آسرا، امید، توقع۔ کسی پر کسی معاملہ میں بھروسہ کرنا۔ کسی سے سکون اور اطمینان حاصل  کرنا۔

بھروسہ کسی شخص ،  کسی مشین، کسی صلاحیت اور کسی ذات  کے غیر متزلزل اعتماد اور توکل کی بنیاد فراہم کرتا ہے۔ بھروسہ ہمارے توہمات، ہمارے خوف اور ہمارے ڈر کے تدارک کے لئے  ایک ہمدرد، ہمدم اور مہربان بن کر ہمارا ساتھ دیتا ہے۔  بھروسہ ایک ایسا اندھا اعتبارہے جس میں کسی شک کی کوئی گنجائش نہیں ہوتی اور اس بھروسے کی بنیاد پر ایک ممولہ شاہین سے ٹکرانے کی   ہمت پید ا کرلیتا ہے۔  بھروسہ انسان کو چٹان کی طرح مضبوط بنا دیتاہے اور اگر یہی بھروسہ ٹوٹ جائےتو انسان شیشے کی طرح کرچی کرچی ہوجاتا ہے اور اوندھے منہ گر جاتا ہے۔ 

بھروسہ  ایک ایسی قوت ہے جو انسان کو مشکلات کا سامنا کرنے کی طاقت بہم پہنچاتی ہے۔اور بڑے سے بڑے دشمن کے مقابل کھڑا کرنے کی صلاحیت رکھتی ہے۔ 

بھروسہ میں یہ اہلیت ہے کہ یہ ایک ٹوٹے ہوئے انسان کو ایسی  جِلا بخشتی ہے کہ وہ تندرست و توانا ہوجاتا ہے۔  

بھروسہ اُمید کی ایسی کرن ہے جو بجھے ہوئے دلوں  کو مُنّور کردیتی ہے۔

بھروسہ دوست پہ بھی ہوتا ہے، بھروسہ ماں باپ پہ بھی ہوتا ہے، بھروسہ انسان کو اپنی خود اعتمادی او ر اپنے ایمان پہ بھی ہوتا ہے اور سب سے بڑھ کر بھروسہ اللہ تعالی کی ذات پہ ہوتا ہے۔

جس پہ بھروسہ کیا جائے یہ اس کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے بھروسے کو متزلزل نہ ہونے دے۔ اور اپنی ہمیت اور اخلاص  میں کھوٹ نہ آنے دے۔  

بھروسہ ہمیشہ دو طرفہ ہوتا ہے ایک وہ جو اپنے کردار میں اتنا باکردار ، مخلص اور شفاف ہوتا ہے کہ اس پہ بلاشک و شبہ بھروسہ کرلیا جاتاہے اور دوسرا وہ جسے اپنے بھروسے پہ ناصرف ناز ہوتا ہے بلکہ اندھا اعتماد بھی ہوتا ہے کہ مشکل میں وہ اسے کبھی اکیلا نہیں چھوڑے گا۔

یہی انسان کی عظمت ہے کہ وہ  ناصرف اپنی بقاء کے لئے جدوجہد کرتا ہے بلکہ وہ ہمیشہ دوسروں کی مشکلات میں آگے بڑھ کر ان کا ہاتھ تھام لیتا ہے۔ 

کسی معاشرے کی یہی  خوبی ہے کہ وہا ں کے باسی آپس میں ایک دوسرے کے ہمنوا، غمگسار اور بھروسے کو برقرار رکھیں۔

اور سب سے ذیادہ مضبوط اور قوی بھروسہ اللہ تعالی کی ذات گرامی ہے۔ کیونکہ اللہ تعالی سب سے زیادہ طاقت ور ہیں ، اللہ تعالی سب سے زیادہ غیرت مند ہیں اور اللہ تعالی  اپنی مخلوق سے بہت پیار کرنے والے ہیں۔ 

انسان کو اپنی شخصیت اس قدر پاک صاف ،  آلائشوں سے مُبّرا   رکھنی چاہیے اور اوصاف حمیدہ سے مزین کرنی چاہیے کہ ہرکوئی آپ  کے لئے کھڑا ہوسکے اور اللہ تعالی آپ کو ایمان کی ایسی اہلیت عطا فرمائیں کہ آپ اللہ تعالی کے ہاتھ بن جائیں۔ اور لوگ آپ پہ مکمل بھروسہ کرسکیں۔

یاد رکھئے کہ جس پہ آپ بھروسہ کریں ، پورے اعتماد اور یقین سے بھروسہ کیجئے اور اسے کبھی بھی متزلزل نہ ہونے دیں۔  کبھی کبھی ہم کسی سے کچھ ایسی بات یا ایسی چیز کی توقع کررہے ہوتے ہیں  جو ہماری   طرف داری کرے لیکن نتیجہ اس کے برعکس آجائے تو فوری طور پر یہ مت سمجھ لیں کہ ہمارے بھروسے نے ہم سے آنکھیں پھیر لیں۔  بلکہ یہ بھی ہوسکتا ہے کہ جس نتیجے کو ہم اپنے حق میں نہیں سمجھ پارہے، وہی ہمارے حق میں بہتر ہو۔ 

یقین جانئیے جو آپ پہ مہربان ہوتے ہیں ان کے اخلاص اور محبت کو شک کی  نگاہ سے مت دیکھیں بلکہ کچھ معاملات  اور واقعات آپ کے لئے اپنی سوچ اور خواہش پہ  غور و فکر اور سوچ بچار کے لئے ہوتے ہیں۔ یہ ہمیشہ ضروری نہیں نتائج آپ کی منشاء اور مرضی کے عین مطابق ہوں۔ حکمت یہ ہے کہ ہم جس شے یا کام کے اہل ہیں وہی ہمارے لئے بہتر ہے۔ 

کوشش کیجئے کہ کچھ بھی ہوجائے لیکن  وہ  مان  نہ ٹوٹے جو کسی بہت اپنے نے خود سے زیادہ آپ پر کیا ہو۔

تم اگر کسی کو فریب دینے میں کامیاب ہوجاؤ تو یہ مت خیال کرنا کہ وہ کتنا بدھو ہے، بلکہ ذرا غور سے سوچنا کہ اس  شخص کو تم پر کتنا بھروسہ تھا۔

بھروسہ رب کی ذات پہ ہوتو طاقت بن جاتی ہے، بھروسہ اپنی ذات پہ ہو تو خود انحصاری  بن جاتی ہے اور بھروسہ دوسروں کی ذات پہ ہو تو مجبوری  بن جاتی ہے۔ 

اچھی زندگی بسر کرنا  مقصود ہوتو اپنی حاجتوں کی  تکمیل کے لئے اللہ تعالی کے سوا کسی دوسرے پہ بھروسہ کرنا ترک کردیں۔

جہاں بھروسے کا فقدان ہو، اس چارہ گر کی  رَتّی بھر  نوازشوں سے  کنارہ کشی اختیار کرلو۔ کیونکہ ایسے مہربان درد میں کمی کی بجائے اضافے کا باعث ہوتے ہیں۔

دولت کی خواہش اچھی ہے مگر  مال و زر  سے دل کو قرار نہیں ملتا۔ اس لئے دعا  مانگو تو ایسی ہستی کے ساتھ کی  دعا کیجئے جسے  حال دل بیان کرنے کے لئے الفاظ کی ضرورت نہ پڑے۔

بھروسے کی عمارت کی تعمیر ہوجائے تو پھر اس میں  کسی اصلاح یا تغیر کی گنجائش نہیں  باقی رہتی ۔ کوئی آفت، کوئی آندھی، کوئی زلزلہ اس کی بنیادیں نہیں ہلا سکتا۔ اور جہاں کھوٹ شامل ہوجائے،   وہاں بھروسہ نہیں کیا جاسکتا۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت