روا داری


روا داری کے معنی ہیں  وضعداری سے ملنا، ہر کسی  سے یکساں برتاؤ رکھنا، نرمی سے پیش آنا ، دوسروں کی آذادی رائے کا احترام کرنا  ، ہر ایک کی حدود کا خیال رکھنا اور برداشت کرنا۔

رواداری سے مراد یہ  ہےکہ انسان فکری و اعتقادی ، رنگ و نسل اور وطن و زبان کی بنیاد پر کسی عصبیت  یا جانب داری کا شکار ہوئے بغیر تحمل و بردباری سے ایک دوسرے کو برداشت کرے۔  کوئی انسان، گروہ ، پارٹی  یا حکومت، دوسروں کے ان افکار و خیالات کو خواہ وہ غلط کیوں نہ ہوں صرف دوسروں کے جذبات و احساسات کا لحاظ کرتے ہوئے برداشت کریں۔   دیگر مذاہب اور نظریات کے ماننے والوں سے نفرت نہ کرے اور ان کے حقوق تسلیم کریں۔ 

رواداری تہذیت یافتہ لوگوں کی  اور مہذب معاشرے کی بہترین صفت ہے۔ وہ اقوام جو جنگ و جدل اور خون خرابے سے دور رہتے ہیں ان کے ہاں تمام مکاتب فکر کے لوگ ایک دوسرے کو آنکھوں پہ بٹھاتے ہیں اور انفرادی  طور پر ایسے بات کرتے ہیں کہ انسان کا دل موہ لیتے ہیں۔   آج  2019 کے دور میں کینیڈا کا ملک ایسی زندہ مثال ہے کہ وہاں آپ کو نہایت عزت و احترام سے مخاطب کرتے ہیں اور آپ کی خیریت ، آپ کی ترقی، آپ کے بہتر مستقبل کے لئے جو بہتر ہو؛ وہی آپ کو آفر کرتے ہیں۔  اور آپ کے انسانی حقوق کی پاسداری کرتے ہیں۔

وہ لوگ  جن کے مزاج اور شخصیت میں روا داری راسخ ہوجائے وہ لوگوں سے میل ملاقات  اور معاملات میں شائستگی اور لطف  و عنایت سے پیش آتے ہیں۔  

رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی  اخلاقی صفات میں  نرم دلی اور رواداری  سب سے نمایاں ہیں۔ آپ بدو عربوں کی  سخت مزاجی، بے ادبی اور جایلت پر نرمی اور رواداری سے پیش آتے تھے۔ آپ کی اس صفت نے بے شمار لوگوں کو اسلام کی طرف مائل کرنے کے ساتھ ساتھ آپ کا گرویدہ بھی بنا دیا۔

اسلام مذہبی روایات پر مبنی عبادات و رسوم کا مجموعہ نہیں اور نہ ہی یہ میراث میں ملنے والی پہچان ہے۔ بلکہ یہ  اللہ تعالی  کی طرف  سے انسان کو دنیا میں زندگی گزارنے کے لئے  ایک ضابطہ حیات کے طور پر ودیعت کیا گیا دین ہے۔ قرآنی تعلیمات پر من و عن عمل کرنے سے ایسا معاشرہ تشکیل پاسکتا ہے جس میں انسانی مساوات،  معاشی ترقی، امن و آتشی،  قوم یا نسل کی تفریق کے بغیر باہمی اخوت و بھائی چارے پر مبنی معاشرے کی  بنیاد پڑتی ہے۔ اور  ہر قسم کے منفی تعصبات کے خاتمے کا عمل شروع ہوتا ہے  اور اس کے رواج سے معاشرے میں  مثبت اثرات مرتب ہوتے ہیں۔

اگر ہم لوگ اپنے رویوں میں مثبت تبدیلی لانا چاہتے ہیں تو ہمیں چاہیے کہ دوسروں کو پوری طرح بات کرنے کا موقع دیں اور آخر تک ان کی بات سنیں۔ اور کوشش کریں  کہ اسے بیچ میں نہ کاٹیں بلکہ اسے پوری بات کہنے کا موقع دیں۔  اس سے یہ فائدہ ہو گا کہ سامنے والا اپنا بیان مکمل کرنے کے بعد نارمل حالت میں آجاتا ہے اور آپ کی ہر معقول بات سننے اور سمجھنے  کو تیار ہوجاتا  ہے۔ 

کیونکہ جب انسان دل کی بات باہر نکال دیتا ہے تو اندر سے ہلکا محسوس کرتا ہے اور شدت یا غصے کی حالت سے باہر نکل آتا ہے۔

انسانی فطرت ہے کہ اس کی بات نہایت غور اور توجہ سے سنی جائے اور اسے اہمیت دی جائے۔   اس لئے   کوشش کریں کہ  چہرے پہ مسکراہٹ لائیں اور شائستگی سے بولیں کہ  کھل کر بات بیان  کی جائے۔  

اگر سامنے والی کی باتیں سچ پر مبنی ہوں تو اس کی تعریف کریں اور من و عن اس کی مانگوں کو پورا کریں اور  اس کا شکریہ ادا کریں تاکہ اس کا  دل صاف ہوجائے اور آپ کے نفس کی تربیت ہوجائے۔

اسی طرح اپنے قرب و جوار میں رہنے والے دیگر مسلک کے لوگوں سے مذہبی نازک معاملات نہ چھیڑیں بلکہ عمومی باتیں کریں اور ان سے میل ملاپ کو بلاتفریق بڑھائیں۔ اخلاقی مدد کرتے رہیں اور دنیاوی ضرورت کے امور میں باہمی مشاورت بھی کرتے رہیں تاکہ وہ آپ کو اپنا خیر خواہ سمجھیں۔

اگر کرکٹ کھیلتے ہوئے بچوں نے غلطی سے آپ کے گھر بال پھینک دی ہو اور کوئی نقصان بھی نہ ہوا ہو تو انھیں خوشی سے ان کی بال واپس کریں اور انھیں پیار سے کہیں کہ گھروں سے دور کھیلیں اور محتاط رہیں۔  اور اگر کوئی نقصان ہوجائے یا چوٹ لگ جائے تو نہایت شیریں انداز میں سمجھائیں اور  صبر کا مظاہرہ کریں۔ اس سے آ پ کی بات ان تک پوری طرح پہنچ جائے گی اور آپ کو نقصان  کے بارے میں ذیادہ تفتیش بھی نہیں رہے گی۔

مسلمان وہ ہے جس کی زبان اور ہاتھ سے دوسرے مسلمان محفوظ ہیں۔


تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت