خام خیالی


خام خیالی کے معنی ہیں  بیہودہ مزاجی، جھوٹا خیال، غلط خیالی، غلط گمان، فضول خیالات، لغو مزاجی، وہم پرستی  ، ناممکن آرزو،   ایک غیر حقیقت پسندانہ خواہش اور کم درجے کے خیالات۔ 

خام خیالی ایک ایسا رویہ ہے جو منطق سے کوئی میل نہیں کھاتا بلکہ یہ ناپختہ لوگوں کی ایسی سوچ ہے  جو ان کے ذہنوں میں براجمان ہوجاتی ہے کہ وہ بڑے فنکار اور سب سے زیادہ عقل مند ہیں۔  

عملی زندگی میں بھول و چوک کی گنجائش نہیں ہوتی۔کیونکہ یہ دنیا دوطرفہ معاملات کی بنیاد پر چل رہی ہے۔  ایک شخص کو کوئی کام کروانا ہوتا ہے  ، اسے گاہک کہتے ہیں۔  اور دوسرا شخص  جو   کام  سرانجام دیتا ہے۔ اسے کاریگر کہتے ہیں۔ کاریگر کتنا ہی بڑا آرٹسٹ ہو یا کس قدر بھی قابل ہو، اسے گاہک کی خواہش  کے مطابق ہی اس کی ضرورت کی شے تیار کرنا ہوگی ۔ اگر وہ اپنی سوچ کے مطابق کچھ اور طریقے سے کوئی بہتر چیز بنا دے جو گاہک کے کسی کام کی نہ ہو تو اسے اجرت نہیں ملے گی۔ بلکہ الٹا گاہک اس کی سرزنش کرنے کا حق رکھتا ہے۔

خام خیالی ایسی سوچ کو کہتے ہیں جس کے پاؤں زمیں پر نہیں ہوتے۔  بلکہ ہواؤں میں بلند پروازی میں محو ہوتے ہیں۔   جیسے ایک انسان جس کے پاس نہ کوئی اعلی تعلیم ہو اور نہ ہی  سرمایہ ہو اور وہ جب بھی ملے یہ کہے کہ میں تو پلاسٹک مولڈنگ مشین لگاؤں گا کیونکہ اس میں سرمایہ کاری کم ہے اور منافع بہت زیادہ۔ یا کوئی مکان بنانے والا مستری یہ کہے کہ میں اب مکان تعمیر نہیں کروں گا۔  کیونکہ اب مجھے بہت تجربہ حاصل ہوگیا ہے ۔ اب میں ٹھیکے داری کروں گا۔

خام خیالی کا شوق انھیں ہوتا ہے جو فارغ دماغ ہوں۔ پست حوصلہ ہوں، ناتجربہ کار ہوں اور محض دل پشاوری کرنے سے ہی خوشیاں حاصل کرلیتے ہوں۔

جبکہ کسی بھی کاروبار کے لئے سب سے پہلے سرمایہ کا ہونا ضروری ہے، اس کے بعد اس کاروبار سے متعلق جانکاری اور پختہ ارادہ ضروری ہے۔ اور اس کے علاوہ کاروبار کرنے کا حوصلہ اور عمدہ   خیالات اور مشکلات سے نبٹنے کا حوصلہ درکار ہوتے ہیں۔

ایسے لوگ جو نئے نئے ملازمت میں آئے ہوں  اور ایک دو سال نوکری کرنے کے  بعد سے خود کو بہت  تجربہ کار سمجھنے لگتے ہیں۔ ابھی وہ اپنی ہی جاب میں ایکسپرٹ نہیں ہوتے کہ انھیں بڑے بڑے خیال ستانے لگتے ہیں۔  ان کے شب و روز نئے سے نئے آئیڈیاز کو تشکیل دینے میں گزرتے ہیں۔  جبکہ حقیقت یہ ہوتی ہے کہ انھیں اپنی روزانہ کی ذمہ داریوں کو سرانجام دینے میں اپنے آفسر بالا کی راہنمائی کی ضرورت پڑتی رہتی ہے۔  کیا ایسے لوگ کسی نئے کام کو کامیابی سے شروع کرسکتے ہیں؟

وہ لوگ جو زینہ بہ زینہ چڑھنے کی بجائے چھلانگ اور پھلانگ کے ذریعے بلندیوں کو حاصل کرنا چاہیں وہی خام خیالی  کے نئے نئے پلان بنُتے رہتے ہیں اور خود ہی انھیں ادھیڑ کے ایک طرف پھینک دیتے ہیں یا پھر ان کے غیر عمل پذیر خام خیالات خود ہی ان کے ذہنوں میں دم توڑ دیتے ہیں۔

انسان کو حققیت پسند ہونا چاہیے اور وہی کام کرنا چاہیے جو ممکنات میں سے ہوں۔ یاد رکھئے   دینا میں کچھ بھی شارٹ کٹ نہیں ہوتا۔  آپ  اپنے ارادے  مضبوط رکھئے  اور جو کام بھی کرنا ہو اسے عقل و شعور کے میزان پہ تول کر پورے یقین سے شروع کیجئے۔  انشاءاللہ  تعالی آپ کو کامیابی ضرور ملے گی مگر آپ کو مسلسل جدوجہد کو جاری رکھنا ہوگا اور صبر کا دامن تھام کررکھنا ہوگا۔کیونکہ راتوں رات چوری ضرور ہوجاتی ہے لیکن ترقی کے زینے طے کرنے کے لئے ایک مدت درکار ہوتی ہے۔

اپنی محنت اور اللہ کی رحمت پہ یقین  ہو تو منزل کا نشاں بھی مل جاتا ہے۔



تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت