بچت
بچت کے معنی ہیں ، بچا ہوا، بقایا، باقی، جو خرچ سے بچا ہو، پس انداز کی ہوئی رقم، باقی ماندہ ، حفاظت (بچنا سے) اور صرف کرنے سے جو کچھ رہ گیا ہو۔
بچت ایسے سرمائے کو کہتے ہیں جو ضروری اخراجات کے بعد محفوظ رہے، یا اپنے عمومی اخراجات کو کم کرنے سے جو رقم بچ جائے وہ بچت کہلاتی ہے۔
بلند طرز زندگی، ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی دوڑ ، بڑھتی ہوئی مہنگائی اور روز افزوں افراطِ زر کی وجہ سے بچت کرنا محال ہوگیا ہے۔ لیکن پیسہ بچانا ضروری ہے۔ یہ آپ کے مستقبل میں برے وقت میں کام آسکتا ہے۔
بچت کی اہمیت :
انسانی جسم میں سب سے اہم شے خون ہے۔ اگر جسم کے کسی حصے تک خون نہ پہنچے تو وہ عضو بے جان سا ہوجاتا ہے۔ خون کی کمی کی وجہ سے بے شمار جسمانی مسائل پیدا ہوتے ہیں۔
اسی طرح انسان کی معاشی زندگی کو رواں دواں رکھنے کے لئے سرمایے کی ضرورت ہوتی ہے۔ پیسے کے بغیر ہم اپنا گھر نہیں چلا سکتے بلکہ معاشرے میں سر اٹھاکر جینا محال ہوجاتا ہے۔
پیسہ نہ آسمان سے اترتا ہے اور نا ہی والدین کی طرف سے ہدیہ کے طور پر ہمیشہ ملتا ہے۔ ایک نہ ایک دن انسان کو اپنا ذریعہ معاش تلاش کرنا پڑتا ہے۔ اور پھر آٹے دال کا بھاؤ معلوم ہوتا ہے۔
پروفیشنل تعلیم کے بعد اچھی نوکری کے چانس روشن ہوتے ہیں اور کاروبار کرنے والے بھی بہتر مستقبل کے حصول میں کامیاب ہوجاتے ہیں۔ لیکن ادھوری تعلیم اور واجبی تعلیم کی بنیاد پر نوکری حاصل کرنے والوں کے لئے زندگی ایک چیلنج سے کم نہیں ہوتی۔
بچت کس طرح کریں:
ہم لوگ اپنے ماہانہ اخراجات اور تنخواہ کو ایک نظر دیکھ کر بچت کو ناکافی سمجھتے ہیں۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ ایسی سوچ رکھنے والوں کی یہی پہلی غلطی ہے۔ پیسوں کی بچت کے لئے یہ ہرگز ضروری نہیں کہ آپ کے پاس ہزاروں روپے موجود ہوں، بلکہ بچت کے حوالے سے تو بہترین طریقہ یہ ہے کہ ہر مہینے ایک چھوٹی سی رقم الگ کردی جائے جو وقت کے ساتھ بڑھ کر غیرمعمولی ہوتی جائے گی۔
بچت کے لئے ایک عامیانہ طریقہ یہ ہے کہ آپ اپنی ماہانہ آمدنی کا 25% حصہ علیحدہ کردیں جو آپ کے مستقبل کی سرمایہ کاری ہے۔ اور کوشش کیجئے کہ گھر میں آپسی رضامندی سے پورے مہینے کا گزارہ 75% آمدنی میں سے پورا کریں۔ اگر یہ عادت ہمیشہ قائم رہے تو یقیناً آپ کا مستقبل بہت حد تک محفوظ ہے۔
٪75 آمدنی میں گزارہ کرنا مشکل ضرور ہے لیکن ناممکن نہیں۔ بس ذرا سی قربانی دینا ہوگی، کچھ اخراجات پر نظر رکھنا ہوگی اور اعتدال پسندی اختیار کرنا ہوگی۔
ایسے میں آپ کو چاہیے کہ جب بھی آپ کوئی چیز خریدیں تو اپنے آپ سے سوال کریں کہ کیا یہ ایسی ناگزیر چیز ہے جس کو پانا بہت ضروری ہے اور اس کو حاصل کرنے کے لیے میں دن رات محنت کرتا ہوں؟ اگر آپ کا جواب نفی میں ہے تو اس چیز کو مت خریدیں اور آگے بڑھ جائیں۔
اسی طرح روز مرہ زندگی میں چھوٹی موٹی چیزوں پر آنے والے خرچوں کی بچت کرکے بڑی رقم جمع کرلی جائے۔ جیسے کافی، پانی کی ڈسپوزیبل بوتل، فاسٹ فوڈ، سگریٹ، میگزین اور اِسی طرح کی دیگر چیزیں شامل ہیں۔
بچت سے گنجائش:
آپ کی بچت میں جتنی زیادہ رقم جمع ہوگی، اتنا ہی زیادہ آپ کو اپنی زندگی کے معاملات قابو کرنے میں آسانی ہوگی۔ اگر ملازمت کے باعث آپ شدید نفسیاتی دباؤ اور تھکن کا شکار ہورہے ہیں تو پھر بچت کے باعث آپ ملازمت چھوڑ بھی سکتے ہیں اور نئی ملازمت ڈھونڈنے کی بجائے کچھ آرام کرکے اپنی توانائی بحال کریں اور پھر ملازمت کی تلاش شروع کریں۔ اگرچہ یہ کوئی محفوظ طریقہ نہیں ہے، لیکن کیونکہ بیشتر لوگوں کے پاس مناسب مقدار میں بچت نہیں ہوتی تو وہ ذہنی دباؤ سے نجات اور تھکن اتارنے کے لئے اس طرح کا فیصلہ نہیں کرپاتے۔ یہ بات یقینی ہے کہ نئی ملازمت حاصل کرنا اگرچہ آسان کام نہیں لیکن جتنی زیادہ بچت ہوگی، اتنی زیادہ مدت تک آپ پر اپنی پسند کی ملازمت کے حصول میں دباؤ نہیں ہوگا۔
خواہشات کم کریں:
آمدن بمقابلہ خرچ کے نتیجے میں اگر رقم پس انداز ہوجاتی ہے تو یقینا ً آپ بہت خوش قسمت ہیں اور بہتر زندگی گزارنے کے حقدار بھی ہیں۔ اور اگر آمدن سے زیادہ اخراجات ہیں تو آپ کو اپنے گھر میں معاشی ایمرجنسی لگانا پڑے گی۔ فالتو کے تمام اخراجات ختم کرنا ہوں گے۔
آج کل ہم میں سے اکثریت ، خصوصاً خواتین اس کوشش میں ہوتی ہیں کہ وہ گھر اور طرزِ زندگی میں اپنے حلقۂ احباب میں سب سے ممتاز ہوں۔ اس منفی رویے نے گرانی کا احساس بہت حد تک بڑھا دیا ہے۔ دکھاوے کے شوق میں گھر کے بجٹ کا بیشتر حصہ خرچ کردیا جاتا ہے۔
یہ بھی دیکھنے میں آتا ہے کہ بیشتر مائیں مختلف محافل میں اپنے بچوں کی فضول خرچیوں کو بڑے کَرّوفر سے بیان کرتی ہیں کہ ان کے بچے فلاں فلاں برانڈ کے علاوہ کچھ نہیں خریدتے۔ دراصل وہ اس بڑائی سے دوسروں کو متاثر کرنا چاہتی ہیں کہ گویا ان کا تعلق کسی بڑے ریئس گھرانے سے ہے۔ حالانکہ اس بات میں کوئی بڑائی نہیں بلکہ یہ ایک بگڑی ہوئی عادت ہے جس کا خمیازہ مستقبل میں بگھتنا پڑتا ہے۔
اگر آپ اپنی تمام خواہشات کو پورا کرتے ہیں تو آپ کبھی پیسہ نہیں بچا سکتے۔ اس کا مطلب یہ نہیں کہ آپ اپنی خواہشات سے دستبردار ہوجائیں اور زندگی سے لطف اندوز نہ ہوں۔ صرف ان کو کم کردیں۔
یہ سچ ہے کہ زندگی میں تبدیلی انسانی فطرت ہے۔ خواتین چاہیں تو گھر میں موجود اشیاء کو بھی ذرا سے رد و بدل کے ذریعے ایک نئی اور خوبصورت شکل دے سکتی ہیں۔ ماں کو چاہیے کہ خریداری کے دوران اپنی بیٹیوں کو اپنے ساتھ رکھیں اور ان سے رائے طلب کریں تاکہ انھیں خرید و فروخت بھاؤ تاؤ کرنا آئے اور بچت کرنے کی عادت پختہ ہوسکے۔
اس کے علاوہ اگر آپ اچھا کھانے کے شوقین ہیں تو ہر ویک اینڈ پر کسی مہنگی جگہ کھانا کھانے کے بجائے مہینے میں ایک یا دو بار باہر جائیں۔ اگر آپ کو شاپنگ کا شوق ہے تو ہر ہفتے خریداری کے بجائے مہینے میں ایک یا دو بار شاپنگ کریں۔
اضافی کام نہ ٹھکرائیں:
اگر آفس میں کام کی زیادتی کی وجہ سے آپ کو اوور ٹائم کی پیشکش کی جارہی ہے تو اسے کبھی مت ٹھکرائیں۔ گھر جا کر اپنے پسندیدہ ٹی وی شو دیکھنے یا نیند کو اوور ٹائم پر ترجیح مت دیں۔
محلے میں یا آفس کے کسی آفیسر کے بچے کو پڑھانے کا موقع ملے تو ضرور اس موقع سے فائدہ اٹھائیں۔ اسی طرح اگر کہیں پارٹ ٹائم نوکری مل جائے تو قطعی انکار نہ کریں بلکہ اپنے آفس کے بعد پابندی سے کام پر جائیں اور حلال رزق کمائیں۔
آمدنی اور بچت کے بارے میں نظریہ:
آپ اپنی آمدنی میں سے جو رقم بھی پس انداز کرکے بچاتے ہیں۔ وہ بھی آپ کی آمدنی کا حصہ ہے۔ آپ کی آمدنی اور آپ کی بچت دونوں آپ کی کمائی ہیں۔
آمدنی اور بچت میں کوئی فرق نہ پیدا کریں۔ بلکہ یوں سمجھئے کہ آپ اپنی آمدنی میں سے جو رقم بچا کر جمع کررہے ہیں وہ آپ کی آمدنی کا مستقبل یا برے حالات میں کام آنے والا سرمایہ ہے۔
اسی طرح آپ کو ملنے والا بونس یا اضافی تنخواہ بھی بچت کی مد میں رکھ دیں۔ اور بچت کو اس طرح محفوظ کریں کہ اسے خرچ کرنے کی نوبت نہ آئے۔
پیسے کا استعمال ضروری ہے:
پیسہ اس وقت تک بے معنی ہے جب تک آپ اس سے کوئی بامعنی چیز نہ خرید لیں۔ اس بات کو سمجھنے کی ضرورت ہے کہ پیسہ کو کہاں خرچ کرنا چاہیئے۔
فیملی کے ساتھ باہر کھانا کھانا فضول خرچی نہیں ہے کیونکہ یہ آپ اور آپ کے بچوں کو خوشگوار یادیں دے گا اور آپ ان لمحات سے ایک عرصہ تک لطف اندوز ہوں گے۔
آپ کی بچت ہنگامی صورت حال میں نعمت مترقبہ سے کم نہیں:
بعض اوقات غیر متوقع اخراجات کی صورت میں بچت شدہ رقم کسی رحمت سے کم ثابت نہیں ہوتی۔ اِس طرح کے کاموں کی عام طور پر توقع بھی نہیں ہوتی اور آپ کو اندازہ بھی نہیں ہوتا کہ آپ کو اضافی پیسوں کی ضرورت ہوگی۔ بدترین حالات کے لئے تیار رہنا بظاہر مایوس کن سوچ ہے لیکن جب آپ کے پاس بچت کی رقم ہوگی تو مالی طور پر آپ کی پریشانی گھٹ جائے گی اور آپ اپنا وقت دیگر تفریحی کاموں میں بھی صرف کرسکتے ہیں۔ اپنی ایمرجنسی بچت کو اپنی آمدنی کے آغاز سے ہی اولین ترجیح بنائیں۔
ریٹائرمنٹ:
ہم میں سے اکثر ملازم پیشہ افراد برسوں نوکری کرنے کے بعد بھی اپنی ریٹائرمنٹ کے بارے میں ذرا سا بھی نہیں سوچتے۔ اسی طرح دیار غیر میں سالانہ کنٹریکٹ پہ کام کرنے والے ملازمین بھی نوکری سے فارغ ہونے کے بعد کے حالات کے بارے میں نہیں خیال کرتے اور عین نوکری سے برخواست ہونے پر انھیں خیال آتا ہے جب بہت دیر ہوچکی ہوتی ہے۔
نوکری ایک نہ ایک دن ختم ہوکر رہنی ہے ، اگر ہم شروع سے ہی ایسے انجام کی تیاری کا آغاز کردیں تو ہمارے مستقبل میں بہتر آمدنی کا ذریعہ بن سکتا ہے اور یقینا ًآپ کے ریٹائرمنٹ کے ایام زیادہ آرام دہ ہو سکتے ہیں۔
بچت کی رقم کا استعمال:
بچت کی بے شمار وجوہات ہیں لیکن بنیادی بات یہ ہے کہ کچھ پیسوں کو الگ کرکے جمع کرنا انتہائی ضروری ہے۔ نہ صرف اِس سے آپ کو بعد میں مزید دیگر سرمایہ کاری کے مواقع کا موقع ملتا ہے بلکہ طویل المیعاد بنیادوں پر اپنا معیار زندگی بہتر بنانے میں مدد ملتی ہے۔ ایک اہم بات یہ ہے کہ بچت ایسے انداز سے کی جائے کہ اِس میں اضافہ ہو۔ اِس ضمن میں مختلف سکیمیں ہیں جیسے میوچل فنڈز، سیونگ اکاؤنٹس، اسٹاکس، پرائز بانڈز اور پراپرٹی وغیرہ۔
کہا جاتا ہے کہ پیسہ بچانے کا سب سے بہترین طریقہ سرمایہ کاری ہے لیکن یاد رکھیں کہ سرمایہ کاری میں لگایا جانے والا پیسہ آپ کے ہاتھ میں نہیں ہوتا نہ ہی وہ کسی ایمرجنسی میں آپ کے کام آسکتا ہے۔ لہٰذا ہر وقت ایک مناسب رقم کو قابل رسائی جگہ پر ضرور رکھیں تاکہ کسی ایمرجنسی صورت میں اسے استعمال کیا جاسکے۔ مثلاً کچھ رقم کسی ایک سکیم میں سرمایہ کاری کردیں اور کچھ رقم سے پرائز بانڈز لے لیں، جو بوقت ضرورت فوری کیش کئے جاسکتے ہیں۔
آپ جس شعبے میں اپنی بچت کے ذریعے سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تو پہلے تفصیلی طور پر اُس کی منفی و مثبت معلومات حاصل کرنے کے بعد اپنی ترجیح کے مطابق فیصلہ کریں۔

تبصرے