حقوق العباد


حقوق العباد کا لفظی معنی ہے بندوں کے حقوق۔ ان حقوق میں والدین، اولاد،  بیوی،  رشتہ دار،  یتیم،  مسکین،  مسافر،  اہل حاجت،  ہمسایہ،  سائل،  قیدی کے حقوق اور اجتماعی و معاشرتی حقوق کا وسیع تصور شامل ہے۔ 

اسلام   انسانیت کے لئے پانچ چیزوں کے تحفظ او رنگہداشت کی ضمانت فراہم کرتا ہے۔ جان کی حفاظت، مال کی حفاظت،  عزت کی حفاظت،  مذہب کی حفاظت اور آل اولاد کی حفاظت۔    ان پر غور کرنے سے معلوم ہوگا کہ اسلام انسان کی جان، اس کے مال، اس کی عزت، اس کے دین اور اس کی نسل کی حفاظت کا  اہتمام کرتا ہے۔ 

آج کے دور میں کوئی ایسا بھی ہے جسے کسی دوسرے سے گلہ نہ ہو، کوئی رنجش  یا شکایت نہ ہو۔ ان شکووں سے رشتوں کی مضبوط دیواروں میں دراڑیں پڑ رہی  ہیں۔باہمی تعلق کے گلستان اجڑ رہے ہیں، بندھن کمزور ہو رہے ہیں۔ رویوں میں سرد مہری کی برف جمتی جارہی ہے۔ پیشانیوں پہ شکنیں آباد ہونے  لگی ہیں۔  کیا کسی نے کبھی یہ جاننے کی کوشش کی کہ آخر ان ساری کیفیات کا سبب کیا ہے؟  محبت کی مٹھاس کی جگہ تلخی کا زہر کیوں رگوں میں اتر رہا ہے؟  خوشیاں بانٹنے والے اب دکھ کا  سامان کیوں اٹھائے ہوئے ہیں۔  اگر معاشرے پر غور کریں تو ایسے تمام معاملات کی ایک ہی بڑی وجہ سامنے آتی ہے۔اور وہ  ہے کہ کسی  کے حق کی ادئیگی نہ کرنا  یا کسی کا حق چھین لینا۔کیونکہ آج کے دور میں یہ فلسفہ ہر کسی کےذہن میں سرایت کرچکا ہے  کہ دوسروں کو  حق دینا نہیں اور اپنا حق چھوڑنا نہیں۔یہی رویہ سارے فساد کی جڑ ہے۔

اسلامی تعلیمات کی روسے بندوں کے حقوق کی ادائیگی اسلامی نظام   کا لازمی جزو ہے اور ان حقوق سے اعراض و پہلو تہی ایک طرف تو معاشرے کے بگاڑ کا سبب بن سکتا ہے اور دوسری طرف اللہ کی ناراضگی کا سبب ہے۔ 

اسلام دنیا کا واحد مذہب ہے جس نے انفرادی طور پر معاشرے میں ہر اک کا حق مقرر کیا ہے تاکہ حقوق و فرائض کے ذریعے ہر انسان کی تربیت کی جائے۔ ہمیں کسی بھی انسان کا حق نہیں مارنا چاہیے کیونکہ حقوق العباد کے گناہ نمازیں پڑھنے حج کرنے یا روزہ رکھ لینے سے بھی معاف نہیں ہوتے۔

کچھ  کام  نہ  آئیں  گی   نمازیں  بھی  سر  محشر
انسان نہ چاہے تو خدا بھی معاف کر نہیں سکتا

حقوق العباد ادا کرنا   نیک لوگوں  کی صفت ہے۔ قیامت کے روز  نہ صرف اللہ کے حقوق جیسا کہ روزہ، نماز، زکوٰۃ، حج وغیرہ کا حساب ہوگا بلکہ بندے کے حقوق کا بھی حساب ہوگا۔ اللہ کا مجرم ہونا اس قدر خطرناک نہیں جس قدر بندوں کے حقوق مارنے میں خطرہ ہے۔ 

انسانی معاشرت میں سب سے زیادہ اہم رکن خاندان ہے اور خاندان میں سب سے زیادہ اہمیت والدین کی ہے۔ والدین کے بعد ان سے متعلق اعزہ اقربا کے حقو ق کا درجہ آتا ہے ۔ اس کے بعد جیسے جیسے انسانی معاشرے کے تعلقات وسیع ہوتے جاتے ہیں ، ویسے ویسے انسان آفاقی ہوجاتا ہے اور کائنات میں موجود تمام مخلوقات سے اس کے خوشگوار تعلقات کی ابتدا ہوتی ہے۔ ہر ایک کے لئے جو کم سے کم حق ہے وہ میٹھا بول ہے۔ 

تمام طبقات میں سے ہر ایک کے حقوق کی طویل فہرست تیار ہوسکتی ہے لیکن سب سے زیادہ جس بات پر زور دیا گیا ہے وہ قول کریم اور قول معروف ہے۔ اللہ رب العزت نے والدین کے ساتھ حسن سلوک اور احسان کے ساتھ جس تفصیل کا ذکر کیا ہے اس میں زبان کو بنیادی حیثیت حاصل ہے چنانچہ ارشاد فرمایا ہے : '' ان دونوں (والدین ) میں سے کسی کو بھی اُف تک نہ کہو ۔ بلکہ ان سے اچھی بات کہو۔''ان آیات کی تعلیمات پر غور فرمائیں۔

پہلے جن دو باتوں سے منع کیا گیا ہے ان کا تعلق زبان ہی سے ہے۔ زبان سے والدین کو اُف تک نہ کہو ۔  بلکہ ان کے ساتھ نرمی سے گفتگو کرو۔۔ نرمی بھی ایسی جس سے رحمت وشفقت ،محبت اور رحم وکرم ٹپکتا ہو۔ یہ اس لئے کہا گیا کہ بوڑھے والدین کو اس بڑھاپے میں سب سے زیادہ شیریں کلامی کی ضرورت ہے۔ جہاں تک ان کی مادّی ضروریات کا تعلق ہے، وہ اگر اولاد پورا نہ بھی کرے تو رب کائنات اُن کی ربوبیت اس وقت تک کرتا رہے گا جب تک انہیں اس دُنیا میں قیام کرنا ہے۔ 

اولاد کے لئے والدین کے بارے میں  سب سے اہم کام یہ ہے کہ وہ صبر وتحمل سے کام لے، ان سے تنگ نہ آئے اور ان کے بڑھاپے کے عوارض سے پریشان نہ ہوجائے بلکہ ان سے شیریں کلامی کے ذریعہ  ان کا دل بہلائے ، اُن میں اعتماد  قائم کرے، اُمید کی کرن  جگائے اور اُن کی دل بستگی کا سامان کرے۔ پروردگار عالم نے اپنے بندوں کو یہ عمومی تعلیم دی۔ ارشاد فرمایا : '' اور لوگوں کے ساتھ بھلے طریق سے بات کرو''۔ 
 
بندوں کے حقوق کی ادائیگی سے انسان کی محرومیاں دور ہوجاتی ہیں اور باہمی محبت ویگا نگت کی فضا پیدا ہوجاتی ہے ۔ اس طرح بغض وعداوت کا خاتمہ ہوجاتا ہے ۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ ہر آدمی صرف اپنے حقوق کی بات نہ کرے بلکہ فرائض کو بھی پہچانے ۔ اس طرح حقوق و فرائض کے درمیان ایک مناسب توازن برقرار رکھے تاکہ کسی کا حق غصب نہ ہو اور کوئی فرد محرومیوں کا شکار ہوکر انتہا پسند ی کی جانب مائل نہ ہو۔ 

حقوق العباد میں مالی حق بھی ہے اور اخلاقی حق بھی۔ قرآن پاک نے جا بجااس کی حدود بیان کی ہیں اور اس کو ایمان کا جزو قرار دیا ہے۔

حقوق العباد کی ادائیگی میں غفلت ، کوتاہی  یا کسی قسم کی کمی بیشی رہ گئی تواللہ تعالی بندے کواس وقت تک معاف نہیں کریں گے جب تک کہ بندہ خود معاف نہ کردے۔
 
بحیثیت مسلمان ہمیں حقوق العباد کی طرف زیادہ توجہ دینی چاہئے۔


 

تبصرے

اس بلاگ سے مقبول پوسٹس

موج مستی

تدبیر

وقت